3

حجاب کے نام

حجاب کی خصوصیت
میں حجاب کی قدیم قاری ہوں ہمیشہ حجاب کی خریدار رہی ہوں۔ اب حجاب تیسری تحویل میں آچکا ہے اور آپ کی زیر نگرانی پروان چڑھ رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حجاب اپنی پاکیزہ خصوصیات کے ساتھ اب بھی معاشرہ میں وہی مقام حاصل کیے ہوئے ہے جو اس کو پہلے حاصل تھا۔ حجاب کے مضامین خالص اسلامی ہوتے ہیں یہی خصوصیت میری پسندیدگی کا باعث ہے۔ اس بحرانی دور میں اس طرح کے پاکیزہ اور خالص اسلامی رسالے کم یاب ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ حجاب میں صرف اخلاقی افسانوں کو ہی جگہ دی جائے اور اس کی پاکیزگی کی حفاظت کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔
زینت کوثر صالحاتی
آپ کے تاثرات پر ہم صرف ’’شکریہ‘‘ ہی کہہ سکتے ہیں۔ جہاں تک ’’اخلاقی افسانوں‘‘ اور ’’پاکیزگی‘‘ کی حفاظت کا سوال ہے۔ ہم نے اس پر ہمیشہ توجہ دی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ یہی ہماری شناخت ہے اور انشاء اللہ یہی رہے گی۔ (مدیر)
ایک تاثر
ماہ نومبر کا حجاب دیکھا۔ طبیعت خوش ہوگئی۔ سرورق جاذب نظر تھا۔ ٹائٹل پر جو تبدیلی کی گئی ہے۔ وہ بہت زیادہ پرکشش معلوم نہیں ہوتی۔ ویسے آپ بہتر سمجھتے ہیں کہ ایسا کیا سوچ کر کیا گیا ہے۔
میرا مشورہ ہے حجاب لکھنے کا پرانا اسٹائل زیادہ خوبصورت اور جاذب تھا۔ پھر اس کی ایک پرانی شناخت بھی تھی۔ جس کا باقی رہنا زیادہ مفید مطلب معلوم ہوتا ہے۔
زاہد علی خان، ملکا پور
آپ نے تبدیلی پر اپنی رائے تحریری طور پرارسال فرمائی۔ ہم مشکور ہیں۔ اس پر غور کریں گے۔ آپ اپنے مشورے ہمیں دیتے رہیں۔ (مدیر)
سالنامہ؟
میں رامپور اجتماع ارکان کے موقع پر خریدار بنی۔ حجاب کے گذشتہ شمارے میں نے گھر آکر دیکھے۔ طبیعت خوش ہوگئی۔ اور دل سے شکر ادا کیا کہ کارخیر کا وہ سلسلہ جو مرحوم مائل خیر آبادی نے شروع کیا تھا اور ابن فریدؒ اور ان کی اہلیہ مرحومہ نے اسے دوبارہ قائم کیا تھا ایک وقفہ کے بعد پھر شروع ہوگیا ہے۔
پرانے لوگوں کی روایت رہی ہے کہ وہ سال میں کم از کم ایک خاص نمبر یا سالنامہ ضرور نکالتے تھے۔ مگر آپ نے ابھی تک نہیں نکالا۔ مجھے انتظار ہے۔ دیکھنا ہے کہ سالنامہ کا انتخاب کیسا ہوگا؟
میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ حجاب خوب پھلے پھولے اور اردو داں طبقہ میں مقبول عام ہو۔
ریب النساء فاروقی، باندہ
خصوصی نمبر کے سلسلہ میں غوروخوض ہورہا ہے۔ انشاء اللہ جلد ہی اعلان کردیا جائے گا۔ آپ اپنے مشورے بھیج سکتی ہیں۔ (مدیر)
ایک مشورہ
حجاب کا نیا رنگ قابل ستائش ہے۔ اس میں وہ تمام ضروری چیزیں پڑھنے کو مل جاتی ہیںجو خواتین و طالبات کے کام کی ہوں۔ آپ کے افسانوں کا انتخاب اور اس کے ساتھ ساتھ اصلاحی مضامین یہ بتاتے ہیں کہ رسالہ بلند تعمیری مقاصد رکھتا ہے۔
میرا مشورہ ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر گوشۂ نو بہار کے تحت یا الگ سے ایسے کالم شروع کیے جائیں جو گھر کی نو عمر اور اسکولی طالبات کی تقریری اور تحریری صلاحیت کو پروان چڑھانے میں مدد دیں۔ اس کے لیے آپ آسان زبان میں ’’تقریر کیسے کریں‘‘ اور ’’مضمون کیسے لکھیں‘‘ جیسے عنوانات کے تحت پہلے کچھ رہنمائی کریں۔ اس کے بعد مختلف قسم کے تحریری مقابلے حجاب میں شروع کریں، اس سے بچوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوگی اور عملی تربیت بھی ہوگی۔

تقریر کے سلسلے میں میرا مشورہ ہے کہ ایسے ہلکے پھلکے مضامین شائع کیے جائیں جن کو بچیاں زبانی یاد کرکے بطور تقریر مشق کرسکیں۔ اور اگر ایک دو ماہ کے گیپ سے باقاعدہ مشقی تقریر ہی شائع کردی جائے تو اور بہتر ہے۔ باقی رہنمائی والدین اور اساتذہ کرسکتے ہیں۔ اگر آپ نے یہ سلسلہ شروع کردیا تو ہماری بچیاں لکھنے اور بولنے کی اچھی مشق کرلیں گی۔

حجاب کا موجودہ رخ بہت مفید ہے۔ اسی جہت میں آگے بڑھائیے اللہ نے چاہا تو مفید اور کارآمد ہوگا۔

کوثر نیاز، ہلدوانی

آپ کا مشورہ بہت کارآمد ہے۔ مشقی تقریر کا سلسلہ ہم انشاء اللہ شروع کردیں گے۔ تحریری رہنمائی بھی مضمون کے ذریعہ کی جاسکتی ہے۔ انعامی مقابلہ کی تجویز بھی اچھی ہے۔ انشاء اللہ اس پر غور ہوگا۔ مشورے کے لیے شکریہ۔ (مدیر)

افسانہ ایک بھی پسند نہ آیا

۲؍نومبر کو حجاب نظر نواز ہوا۔ حیرت انگیز طور پر فہرست میں اپنا نام دیکھ کر چونک اٹھی۔ کیونکہ میں سوچ رہی تھی آپ اسے ’’گوشہ نو بہار‘‘ میں شائع کریں گے۔ بہر حال شکریہ۔ کمپوزر صاحب اکثر میرے نام میں گڑ بڑ کردیتے ہیں اب کے بھی سلمیٰ کو ’’سلمی‘‘ بنادیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اب کی بار کے تقریباً تمام ہی مضامین بہترین تھے۔ البتہ افسانہ ایک بھی پسند نہیں آیا۔ محترمہ حور جہاں انجم صاحبہ (اللہ انھیں غریق رحمت کرے) کے انتقال کو پانچ ماہ ہوچکے ہیں مگر اسماء نکہت صاحبہ کی تحریر پڑھ کر دل ایک بار پھر رنج و غم سے بھر گیا۔ مرحومہ ہمارے پڑوسی شہر آکوٹ میں رہتی تھیں اور دورے پر اکثر و بیشتر اکولہ آیا کرتی تھیں۔ ان کے شوہر محترم ابراہیم خان صاحب جماعت اسلامی کے رکن اور اور ہم سب کے پسندیدہ مقرر ہیں۔ پچھلے دنوں GIOاکولہ کے تربیتی اجتماع میں انھوں نے ’’بلا رہی ہے تجھے ممکنات کی دنیا‘‘ پر ہم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’’ایک حور جہاں چلی گئی مگر میں دیکھ رہا ہوں کئی حور جہائیں جنم لے رہی ہیں۔‘‘

’’کیسے تیار ہوں صالح مائیں‘‘ بے شک ایک بہترین مضمون ہے۔ پڑھتے وقت بالکل ایسا لگا (اب بھی اور پچھلے ماہ بھی) جیسے آپ ہی ہم سے مخاطب ہوں۔ خطوط کا کالم تو بعنوان ’’حجاب کے نام‘‘ ہوا کرتا ہے مگر اب کے قارئین کے نام آیا۔ ساجدہ زبیر صاحبہ کا خط بہت پسند آیا۔ باوجود اس کے کہ میں نے انھیں کبھی نہ دیکھا نہ پڑھا ان سے ایک قلبی تعلق محسوس کررہی ہوں پتہ نہیں کیوں؟ ان کا خط کئی بار پڑھ چکی ہوں۔ سوالات کا کالم آپ کب شروع کررہے ہیں۔ ہم منتظر ہیں۔

سلمیٰ نسرین، اکولہ

آپ کا خط ہمارے لیے آئینہ ہے۔ افسانوں کے سلسلہ میں آپ کی رائے ہمارے علم میں آئی۔ اس بار شاید ایسا نہ ہو۔ آپ کے نام میں اس بار تو غلطی نہیں ہے۔ ’’کیسے تیار ہوں صالح مائیں‘‘ کے سلسلہ میں آپ کے اس تاثر کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ میں نے اس میں سخت ایڈیٹنگ کی ہے۔ ویسے بھی تمام مضامین کی ایڈیٹنگ میں اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ زبان و بیان کے اعتبار سے پورے پرچے کا رنگ و آہنگ ایک ہی ہو۔ اس سے تسلسل باقی رہتا ہے۔ خط لکھنے کے لیے شکریہ۔ اور اب لکھنے کا سلسلہ کیوں ٹوٹ رہا ہے۔ پھر اچھے افسانے کہاں سے لائیں گے ہم۔ (مدیر)

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

تبصرہ کیجیے