6

اصلاح معاشرہ کا مختصر خاکہ

ہندوستانی مسلمان ملک کے مختلف حصوں میں رہ رہے ہیں جہاں ان کا سابقہ برادران وطن کی مختلف ذاتوں اور برادریوں سے ہوتا رہتا ہے۔ علاقائی اعتبار سے الگ الگ مقامات میں رہنے کے باعث مسلمانانِ ہند بھی ثقافتی اعتبار سے مختلف النوع ہیں۔ کیرلہ اور اترپردیش کے مسلمانوں میں بنگال اور دہلی کے مسلمانوں میں فرق محسوس کیا جاسکتا ہے۔

یہ تفریق کہیں شرعی دائروں میں ہے کہیں حد سے آگے بڑھی نظر آتی ہے۔ جس کی وجہ سے دینی تشخص مجروح ہوجاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اصلاح معاشرہ کی تحریک کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی ہے۔

جب ہم معاشرہ کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے ہم معاشرے کو ایک اکائی کی شکل میں دیکھتے ہیں لیکن اصلاح کے لیے اسی معاشرے کو الگ الگ اکائیوں میں دیکھنے کی ضرورت شدت سے پیش آتی ہے۔ مسلمانانِ ہند کو حسب ذیل طبقوں میں تقسیم کرسکتے ہیں:

۱- دولت مند طبقہ

۲- متوسط اور غریب طبقہ

۳- سلم میں رہنے والا پسماندہ طبقہ

۴- تعلیمی اعتبار سے پسماندہ طبقہ

اس کے بعد جب ہم اصلاح کی بات کرتے ہیں تو اصلاح کے دائرے میں کیا کیا کام شامل کرتے ہیں۔ یہ بھی اہم ہے۔ عام طور پر اصلاح سے مراد عقائد و اعمال لیے جاتے ہیں۔ لیکن ہمارا تصور اصلاح اسی قدر ہمہ گیر ہے جس قدر ہمہ گیر ہمارا یہ دین اسلام ہے۔ یہ انسان کے عقائد و اعمال، افکار و خیالات، بودوباش، معیشت و معاشرت اور اخلاق عادات تمام کو تبدیل کردیتا ہے۔ لہٰذا اصلاح معاشرہ کی بات کرتے وقت ہمیں اپنی سوچ کو محض عقائد اور چند اعمال تک محدود نہیں کرلینا چاہیے کیونکہ ملت کے مجموعی ارتقا کے لیے عقائد اور روایات کی اصلاح کافی نہیں۔ بے روزگار، غربت زدہ بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی و معاشرتی صورتحال کھاتے پیتے اصلاح پسند حضرات سے بہت مختلف ہے۔ لہٰذا اصلاح کے میدان میں جہاں ہمیں ان کے عقائد و اعمال اور افکار و خیالات کی اصلاح کرکے ایک صالح اور تعمیری رخ دینا ہے وہیں ان کے ان مسائل پر بھی توجہ کرنی ہے جن سے موجودہ دور کا مسلم معاشرہ یا ہمارے مخاطب افراد برسرپیکار ہیں۔ اس اعتبار سے مسائل کی ایک ترجیحی فہرست بنانے کی ضرورت ہے۔ مثلاً:

۱- دین سے متعلق مسائل

۲- تعلیمی مسائل

۳- سماجی مسائل

۴- معاشی مسائل

دین سے متعلق مسائل

اصلاح کے لیے اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ سماج کے کس طبقہ میں کون کون سے غلط اور فاسد عقائد و اعمال رائج ہوکر دین کا درجہ پاگئے ہیں۔ تاکہ ان پر چوٹ کی جائے اور کتاب اللہ و سنت رسول سے براہ راست ان کا تعلق جوڑا جائے۔ نیز تیز رفتار دعوتی جدوجہد کے ذریعہ سماج کے ہر طبقہ تک اسلامی لٹریچر پہنچایا جائے۔

تعلیمی مسائل

موجودہ معاشرہ کی اصلاح میں تعلیم کا کردار بڑا اہم اور کلیدی ہے۔ جب تک معاشرہ تعلیم یافتہ نہیں ہوجاتا اس وقت تک ہم صالح اور مستحکم معاشرہ کا خواب نہیں دیکھ سکتے۔ اگرچہ اس میدان میں کافی کوششیں ہورہی ہیں لیکن وہ کافی نہیں۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان کوششوں سے ابھی تک مسلم سماج کے اس طبقہ کو فائدہ نہیں ہوپایا ہے جو انتہائی پسماندہ ہے۔ جس طبقہ کے بچے کوڑا گھروں سے اپنا رزق جمع کرتے ہیں اور جن کی نوجوان بوڑھی اور کم عمر عورتیں بلڈنگ بنانے میں گارا مٹی کا کام کرتی ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس طبقے کے لیے خصوصی پروگرام تیار کیا جائے۔ اس کے لیے مختلف ادارے تنظیمیں اور اہل خیر حضرات کو آگے آنا چاہیے اور درج ذیل خطوط پر کام کرنا چاہیے:

۱- ان غریب بچوں کے والدین کو اس بات کے لیے آمادہ کرنا کہ وہ بچوں کو اسکول بھیجیں اور اس سلسلہ کی ضروری رہنمائی۔

۲- تعلیمی اخراجات اور بعض اوقات ماں باپ کو مالی تعاون فراہم کرنا۔

۳-تعلیم بالغان و بالغات کے سنٹر قائم کرنا تاکہ ناخواندگی کو ختم کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ موجودہ تعلیمی اداروں کے بارے میں درج ذیل باتوں پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔

۱- اس بات کا اندازہ اجتماعی طور پر کیا جائے کہ مسلمانوں کو کتنے مدرسوں کی ضرورت ہے۔ نیز رائج مدرسہ نظام جس میں ملت کا گراں قدر سرمایہ لگ رہا ہے اس ضرورت کی تکمیل کتنی کرپا رہا ہے۔ کیا یہ مدارس اتنے ہی مالی وسائل میں بعض اور مسائل کو حل کرنے میں معاون ہوسکتے ہیں۔

۲- اس کے مقابلے میں کتنے جدید تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے اور کتنے کھل رہے ہیں۔ نئے جدید اداروں میں کوالٹی اور معیار تعلیم کا عملی طور پر کتنا خیال رکھا جارہا ہے۔ سرکاری اعانت کے باوجود ان کا رزلٹ شرمناک کیوں ہے۔ کیا یہ کالج دینی ضرورت کی تکمیل کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں تاکہ مدارس کے بوجھ کو کچھ ہلکا کیا جاسکے۔

کالج اسٹاف کس قدر تعلیمی تحریک کے سلسلے میں سنجیدہ ہے۔ مفاد پرستی اور پروموشن کی مہم جوئی میں وہ کیا کر رہے ہیں۔

۳- تعلیمی ادارے کھولنے کے علاوہ ایک تیسرا محاذ تعلیمی رہنمائی کا بھی ہے۔ اعلیٰ تعلیم، پروفیشنل تعلیم کے مراکز، فنی تعلیم کے مراکز کی طرف بروقت رہنمائی، تعلیم کے دوران ایک طالب علم کی نفسیاتی ضرورت، اور اس کی رہنمائی کے لیے کوششیں بھی اس سلسلے میں تعلیمی رہنمائی مراکز کا صوبائی ضلعی سطح پر قیام بہتر ہوگا جہاں تعلیمی مسائل سے متعلق رہنمائی فراہم کی جائے۔

سماجی مسائل

سماجی مسائل میں الگ الگ حصے ہیں:

۱- عورتوں اور لڑکیوں سے وابستہ مسائل

۲- نوجوانوں سے وابستہ مسائل

۳- بچوں کے مسائل

سماج کے ان تینوں طبقوں کے مسائل کا باشعور افراد اچھی طرح جائزہ لیں اور ان کے حل کے لیے کمر بستہ ہوں۔ عورتوں اور لڑکیوں کے مسائل میں صحت عامہ، لڑکیوں کی تعلیم، شادی بیاہ کے مسائل اور جہیز، نکاح و طلاق وغیرہ کا مسئلہ خاص ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کو صرف بیداری پیدا کرکے حل کیا جاسکتا ہے۔ اور نوجوانوں و بچوں کے مسائل کے حل کے لیے مالی وسائل اور ضروری رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اصلاح معاشرہ کے اس عمل میں سماجی اعتبار سے ان تینوں ہی طبقوں پر بہت توجہ صرف کرنے کی ضرورت ہے۔

معاشی مسائل

ہندوستان میں مسلمان ہی نہیں بلکہ ملک کی اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ عالمی سطح پر حکومتوں کی معاشی پالیسیاں غریب و امیر کے درمیان کی خلیج کو بڑھا رہی ہیں۔ ایسے میں حکومتی سطح کی نوکریوں کا تصور مفقود ہوتا جارہا ہے۔ اس لیے کوشش کی جائے کہ:

٭ تعلیم یافتہ نوجوان مقابلہ کی دنیا میں آکر پرائیویٹ سیکٹر میں نوکریاں حاصل کریں۔

٭ سیلف امپلائمنٹ کو فروغ دیا جائے۔

٭ بلا سودی قرض کے نظام کو مضبوط اور فعال بنایا جائے۔

یہ بات ہرگز ذہن سے محو نہ ہو کہ ان تمام مسائل کے حل میں ہم جائز اور حلال راستہ ہی اختیار کریں اور قوم و ملت کے افراد کے اندر اسلام سے واقفیت اور مسلمانوں کے اندر مومنانہ زندگی گزارنے کا جذبہ پیدا کریں۔ اگر ہم اس چیز سے غافل ہوئے تو ممکن ہے کہ مسلمانوں میں تعلیم کا تناسب بڑھ جائے، معاشی ترقی ہوجائے اور بعض سماجی مسائل کا حل بھی نکل آئے مگر ایک صحت مند اسلامی معاشرہ کی تشکیل ممکن نہ ہوگی۔

معاشی مسائل

ضرورت اس بات کی ہے کہ ملت کے معاشی مسائل کا سروے کیا جائے۔ ہماری معلومات میں یہ بات ہو کہ اس ملت میں کتنا بڑا طبقہ بے روزگار ہے اور بے روزگار نوجوانوں کی ضلعی سطح پر فہرست سازی۔

(۱) معاشی وسائل کا سروے مثلاً چھوٹی صنعتوں سے وابستہ مسلمانوں کی تعداد و علاقے بڑی صنعتوں، سرکاری نوکری اور پرائیویٹ اداروں سے وابستہ برسرروزگار طبقہ۔

(۲) وہ میدان جس میں مسلم نوجوان آسانی سے اپنے معاشی مسائل حل کرسکتے ہیں۔

(۳) ضلعی سطح پر یا صوبائی سطح پر روزگار رہنمائی مراکز کا قیام۔

(۴) پسماندہ اور ناخواندہ مسلمانوں کے ذرائع معاش اور ان کے لیے بہتر روزگار کے متبادل۔

کون کرے؟

اس پورے خاکہ میں رنگ بھرنے کے لیے درج ذیل لوگوں کو آگے آنا چاہیے:

۱- ائمہ مساجد اور علمائے کرام — زبردست دینی بیدار اور مسائل کا شعور مسلمانوں میں بیدار کریں۔

۲- تعلیمی ادارے — تعلیمی بیداری اور تعلیم کے فروغ کو مشن بنا کر اپنے اپنے علاقے میں زبردست مہم کے طور کام کریں۔

۳- مسلم تنظیمیں — اپنے وسائل اور موجود نظام کو استعمال کرتے ہوئے مختلف میدانوں میں منصوبہ بند کام کریں۔ زکوٰۃ کا موثر اور مفید استعمال ہو اور نتیجہ خیز کوششوں میں صرف کیا جائے۔

۴- اہل ثروت و تاجرین— امت کے بزنس مین لوگ معاشرہ کی ان ضرورتوں اور مسائل کو سمجھیں اور فعال افراد، کام کررہی تنظیموں اور اداروں کے درمیان ایک رابطہ کی شکل پیدا کی جائے۔ بزنس مین طبقہ اس بات پر بھی نظر رکھے کہ ان کے ذریعہ فراہم کردہ مالی وسائل کس حد تک نتیجہ خیز کاموں میں صرف ہورہے ہیں۔

اصلاح معاشرہ کا عمل نہ تو ایسا عمل ہے جسے راتوں رات انجام دے کر صبح کو نتائج دیکھے جائیں اور نہ ہی یہ ایسا عمل ہے جسے چند افراد، ادارے اور تنظیمیں تکمیل تک پہنچا سکتے ہوں۔ یہ صبر آزما، محنت طلب اور چیلنجنگ کام ہے جس کے لیے بلند حوصلوں، جواں عزم افراد کار اور بلند نصب العین رکھنے والے کارکنان مطلوب ہیں۔ اور یہ عمل اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک سماج اور معاشرہ کا ہر فرد اپنی جگہ اپنی انفرادی ذمہ داری کو محسوس کرکے اسے ادا کرنے کے لیے سنجیدہ کوششوں کے لیے آمادہ نہ ہو۔ اس لیے سماج کے ہر فرد کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر کے انسان کو اس مشن پر لگانے کے لیے آمادہ کرے کیونکہ یہی واحد راستہ ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
عمیر انس ندوی

تبصرہ کیجیے