4

بیوئہ عرب ام المومنین حضرت ام سلمہؓ

ام سلمہ؟ آپ جانتے ہیں یہ ام سلمہ کون ہیں؟ یہ بنو مخزوم کے عزت دار سردار کی بیٹی ہیں جنہیں ’’زادِ کارواں‘‘ کہا جاتا تھا کیوں کہ جب قافلے ان کے گھر کا قصد کرتے یا ان کی رفاقت میں سفر کرتے تو زادِ راہ ساتھ لینے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی کیوں کہ وہ سب کا خرچ خود برداشت کرتے تھے۔ ان کے خاوند حضرت عبداللہ بن عبدالاسد تھے جو اُن دس افراد میں سے ایک تھے جنھوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل کیا تھا۔ ام سلمہؓ کا اصلی نام ہند تھا لیکن ان کے نام پر ان کی کنیت ’’ام سلمہ‘‘ غالب آگئی۔ انھوں نے اپنے شوہر کے ساتھ ہی اسلام قبول کرلیا تھا اور اس طرح ان کا بھی نام اولین مسلم خواتین کے زمرے میں شامل ہے۔

جیسے ہی ام سلمہؓ اور ان کے شوہر کے اسلام قبول کرنے کی خبر پھیلی، قریش کے لوگ بھڑک اٹھے اور ان دونوں کو ایسی سخت سزائیں دیں جن کی شدت سے مضبوط چٹانیں بھی لرزجائیں۔ لیکن ان کے پائے ثبات میں ذرہ برابر لرزش نہ آئی۔ جب مسلمانوں کی جان پر بن آئی اور رسولِ کائنات ﷺ نے اپنے صحابہ کرامؓ کو حبشہ کی طرف ہجرت کرجانے کی اجازت دے دی تو یہ دونوں بھی مہاجرین کے دستہ میں شامل ہوگئے۔

حضرت ام سلمہؓ اور ان کے شوہر اپنے پیچھے مکہ میں عالی شان مکان اور بے پناہ عزت چھوڑ کر دیارِ اجنبی کی طرف کوچ کرگئے۔ اگرچہ ان کو اور ان کے تمام مہاجر ساتھیوں کو بادشاہِ حبش اصحمہ نجاشی کی مکمل حمایت حاصل تھی مگر نبیؐ کے مکہ میں رہ جانے کے سبب ان کے دل آپ کے دیدار کے لیے ہمیشہ تڑپتے رہتے تھے۔ پھر اچانک سرزمینِ حبشہ میں یہ خبر پھیل گئی کہ مکہ میں مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہوگئی ہے اور حمزہ بن عبدالمطلب اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے مسلمان ہوجانے سے مسلمان مضبوط ہوگئے ہیں اور بڑی حد تک قریش کا آتش کدۂ عتاب و عقاب ٹھنڈا پڑگیا ہے۔ یہ سنتے ہی کچھ مہاجروں نے مکہ لوٹ آنے کا فیصلہ کرلیا۔ انہی میں سے یہ دو حضرات بھی تھے جو اپنے وطن کی محبت اور نبی اکرم ﷺ کے دیدار کے شوق میں مکہ واپس آگئے۔

لیکن بہت جلد وطن واپس آنے والے مہاجرین کو یہ معلوم ہوگیا کہ جو خبر ملی تھی وہ مبالغہ آمیز تھی۔ مسلمانوں کو حمزہؓ و عمرؓ کے اسلام لانے سے جو تھوڑی قوت حاصل ہوئی تھی، قریش نے اس کا سخت نوٹس لیا تھا اور مشرکین کی طرف سے مسلمانوں کو ستانے اور انہیں ڈرانے دھمکانے میں بلا کی شدت آگئی تھی۔

یہ دیکھ کر جب حضور اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو مدینہ کی طرف ہجرت کرجانے کا حکم دیا تو ان دونوں سرفروشانِ اسلام نے بھی اپنے دین و ایمان کی حفاظت اور قریش کے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے مدینہ چلے جانے کا عزم کرلیا۔ لیکن اب کی ہجرت اتنی آسان نہیں تھی جتنا ام سلمہؓ اور ان کے شوہر نے سمجھ رکھا تھا۔ اس سفر کی روداد خود ام سلمہ سناتی ہیں۔ وہ فرماتی ہیں:

جب ابو سلمہؓ نے مدینہ جانے کا ارادہ کرلیا تو میرے لیے ایک اونٹ پر ہودج باندھا، مجھے اس پر بٹھا دیا، میری گود میں ننھے سلمہ کو رکھا اور اونٹ کی نکیل پکڑ کر چلنا شروع کردیا۔ ہم نے ابھی مکہ کی حدود کو پار بھی نہ کیا تھا کہ میری قوم بنی مخزوم کے کچھ آدمی آئے اور ہمارا راستہ روک کر ابوسلمہؓ سے کہنے لگے کہ تو نے ہم پر اپنے نفس کو ترجیح دی، ٹھیک ہے، لیکن اس عورت کو کہاں لے جارہے ہو؟ یہ ہماری بیٹی ہے اور ہم تجھے اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتے کہ تو اسے کسی دوسرے ملک میں لے جائے۔ پھر انھوں نے جھپٹ کر مجھے ابوسلمہؓ سے چھین لیا میرے خاوند کے خاندان بنی اسد نے جو یہ ماجرا دیکھا کہ وہ مجھے اور میرے بچے کو ابوسلمہؓ سے چھین کر لیے جارہے ہیں تو غصہ کی آگ میں جل اٹھے اور کہنے لگے: قسم بخدا! ہم اس بچے کو تمہارے پاس ہرگز نہ چھوڑیں گے کیوں کہ تم ہمارے قبیلے کے آدمی سے اس کی بیوی کو زبردستی چھین کر لے جارہے ہو۔ وہ بچہ ہمارا بیٹا ہے اور ہم ہی اس کے حق دار ہیں۔ پھر وہ میرے لختِ جگر سلمہ کو مجھ سے چھین کر لے گئے۔ یہ ایسا لمحہ تھا جب میری آنکھوں کے سامنے میرے ہنستے کھیلتے گھرانے کا شیرازہ بکھر گیا۔ میرے تاجدار اپنے دین و ایمان کے ساتھ مدینہ چلے گئے، میرے سلمہ کو بنو عبدالاسد لے گئے اور مجھ کو میری قوم اپنے ہاں لے گئی۔ پل بھر میں ہم تینوں ایک دوسرے سے جدا ہوگئے۔ میری دنیا ویران ہوگئی۔

میں اس دن کے بعد روزانہ علی الصباح وادی ابطح چلی جاتی اور اپنا غم غلط کرنے کے لیے اس جگہ بیٹھ جاتی جہاں وہ حادثہ میرے ساتھ پیش آیا تھا اور ان لمحات کو یاد کرکے جن کے دوران میرے، میرے بیٹے اور میرے شوہر کے درمیان جدائی کا سمندر حائل ہوگیا تھا غروبِ آفتاب تک بیٹھی روتی رہتی تھی۔

تقریباً ایک سال تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ایک دن میں وہاں بیٹھی تھی کہ میرے ایک چچازاد بھائی کا گذر میرے پاس سے ہوا۔ میرا حال دیکھ کر اسے ترس آگیا۔ اس نے جاکر میری قوم کے با اثر لوگوں سے کہا کہ اس بے چاری کو تم آزاد کیوں نہیں کردیتے؟ کیوں تم نے اسے اس کے بیٹے اور شوہر سے جدا کررکھا ہے؟ میرا وہ بھائی لگاتار ان کے دلوں کو نرم کرتا رہا، آخر وہ نرم ہو ہی گئے اور مجھ سے آکر کہا کہ اگر تم چاہو تو اپنے شوہر کے پاس جاسکتی ہو۔ میں نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں اپنے جگر گوشہ سلمہ کو بنو اسد کے پاس روتا بلکتا چھوڑ کر مدینہ چلی جاؤں؟ ذرا سوچو، میری آتشِ غم کیوں کر بجھے گی اور میری پلکوں کے آنسو کیسے خشک ہوں گے۔ مجھ سے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔

میرے غم و اندوہ کو دیکھ کر کچھ اورلوگوں کے دل بھی نرم پڑگئے۔ انھوں نے بنی اسد سے اس سلسلے میں بات کی اور میرے لیے ان سے رحم کی بھیک مانگی۔ آخر وہ لوگ بھی راضی ہوگئے اور میرا بچہ مجھے واپس کردیا۔ اب میں ایک پل کے لیے بھی مکہ میں ٹھہرنا نہیں چاہتی تھی کیوں کہ مجھے ڈر تھا کہ کہیں کوئی ایسا حادثہ نہ پیش آجائے جو مجھ کو میرے تاجدار سے ملنے سے روک دے۔ میں نے جلدی جلدی سامانِ سفر باندھا، اپنا اونٹ تیار کیا، اپنے بچے کو گود میں رکھا اور مدینہ کا رخ کرکے چل پڑی۔ میرے ساتھ ننھی سی جان سلمہ کے سوا مخلوق خدا میں سے کوئی اور نہ تھا۔

جب میں مقام تنعیم (مکہ سے تین میل کی دوری پر واقع ایک جگہ) پہنچی تو اتفاق سے عثمان بن طلحہ سے ملاقات ہوگئی۔ انھوں نے کہا : ’’زاد مسافر‘‘ کی بیٹی! اس طرح تن تنہا کہاں جارہی ہو؟ میں نے کہا: مدینہ منورہ، اپنے شوہر نامدار کے پاس۔ انھوں نے کہا: کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے۔ میں نے کہا: اللہ اور اس بچے کے سوا کوئی نہیں۔ انھوں نے کہا: قسم اللہ کی! میں تمہیں مدینہ پہنچا کر ہی واپس آؤں گا۔ پھر انھوں نے میرے اونٹ کی نکیل پکڑی اور آگے آگے چل دئیے۔

قسم خدا کی! میں نے پورے عرب میں ان جیسا شرف و کریم انسان نہیں دیکھا۔ جب ایک منزل طے ہوجاتی تو وہ میرے اونٹ کو بٹھا کر دور ہٹ جاتے۔ جب میں اتر جاتی تو وہ اونٹ پر سے ہودج اتار دیتے اور اسے کسی درخت سے باندھ کر مجھ سے دور کسی درخت کے سائے میں سوجاتے تھے۔ جب روانگی کا وقت آتا تو وہ میرے اونٹ کو تیار کرکے میرے قریب لاکر بٹھا دیتے اور مجھ سے دور ہٹ کر کہتے ’’سوار ہوجاؤ۔‘‘ جب میں سوار ہوجاتی تو آتے اور اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل دیتے۔

وہ ہر دن مجھ سے اسی حسنِ سلوک سے پیش آتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے۔ انھوں نے قباء میں واقع بنی عمروبن عوف کی بستی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تمہارا شوہر اسی بستی میں ہے۔ اللہ کی برکت سے اس میں چلی جاؤ۔ یہ کہہ کر وہ مکہ لوٹ گئے۔

جدائی کی لمبی گھڑیاں ختم ہوئیں اور اللہ کے فضل و کرم سے میرا منتشر گھرانہ پھر اکٹھا ہوگیا۔ اپنے خاوند کو دیکھ کر حضرت ام سلمہؓ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوگئیں۔ حضرت ابو سلمہؓ اپنے بیٹے اور اپنی شریکِ حیات کو پاکر خوشیوں سے جھوم اٹھے۔ وقت کی رکی ہوئی سوئیاں تیزی سے چل پڑیں۔

جنگِ بدر میں حضرت ابو سلمہؓ شریک ہوئے اور مسلمانوں کے ساتھ فاتح بن کر لوٹے۔ جنگِ احد میں بھی شرکت کی اور خوب داد شجاعت دی لیکن اب کی بار انہیں ایک گہرا زخم لے کر میدان سے واپس آنا پڑا۔ وہ علاج کرواتے ہیں اور بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ زخم مندمل ہوگیا لیکن وہ اندر سے کچا رہ جاتا ہے۔ تھوڑے عرصے کے بعد وہ ناسور بن جاتا ہے اور اس کی شدتِ تکلیف سے حضرت ابوسلمہؓ صاحبِ فراش ہوجاتے ہیں۔ اسی دوران وہ اپنی بیوی سے کہتے ہیں: ام سلمہ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کسی پر کوئی مصیبت آتی ہے اور وہ صبر کرتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ کلمات ادا کرتا ہے کہ اے اللہ! میں نے اپنی اس مصیبت و الم کو تیرے حوالے کیا، اے اللہ! تو مجھے اس کا نعم البدل عطا فرما، تو اللہ اسے نعم البدل سے ضرور نوازتا ہے۔

حضرت ابوسلمہؓ چند دنوں تک بسترِ مرض پر پڑے رہے۔ ایک دن علی الصباح سرورکائنات ؐ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ آپ ؐ ان کی عیادت کرکے لوٹتے ہوئے گھر کے دروازے تک ہی پہنچے تھے کہ حضرت ابوسلمہؓ نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ نبی اکرمؐ واپس آکر ان کی دونوں آنکھوں کو اپنے دستِ مبارک سے بند کرتے ہیں اور ان کے چہرے کا رخ جانب کعبہ پھیر کر یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! ابوسلمہ کو بخش دے۔ اپنے مقرب بندوں میں اسے اعلیٰ مقام عطا فرما اور اس کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے تو ہمیں اور اس کو اپنی رداء بخشش سے ڈھانپ لے، اس کی قبر کو کشادہ کردے اور اسے نور سے معمور فرما۔

حضرت ام سلمہؓ کی اس مصیبت پر تمام مسلمانوں کو بے حد رنج و غم ہوا اور ہمدردی کے طور پر وہ حضرت ام سلمہ کو ’’ایم العرب‘‘ یعنی عرب کی بیوہ کہنے لگے۔

ان کے حالات کے پیشِ نظر مہاجرین و انصار نے حضرت ام سلمہؓ کی مدد کرنا اپنا دینی فریضہ سمجھا۔ اس لیے ایامِ عدت کے ختم ہوتے ہی حضرت ابوبکرؓ نے حضرت ام سلمہ کو پیغام نکاح دیا لیکن وہ انکار کرگئیں۔ پھر حضرت عمرؓ نے ان کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا لیکن ان کو بھی منع کردیا۔ آخر میں حضور انور ﷺ نے خود ان سے نکاح کرنے کی خواہش ظاہر فرمائی تو حضرت ام سلمہؓ نے کہا: یا رسول اللہ! میری تین معروضات ہیں۔ پہلی یہ کہ میں سخت غیرت مند عورت ہوں اس لیے ڈرتی ہوں کہ آپؐ میرے اندر کوئی ایسی چیز ملاحظہ فرمائیں جو آپؐﷺ کو ناراض کردے اور اس کی وجہ سے مجھے عقابِ الٰہی سے دوچار ہونا پڑے۔ دوسری یہ کہ میں عمر رسیدہ ہوں، تیسری یہ کہ میں عیال دار ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے جواب دیا: جہاں تک تمہاری غیرت کا سوال ہے تو میری اللہ سے دعا ہے کہ وہ اسے تجھے سے دور فرمادے۔ جہاں تک تمہاری عمر کا مسئلہ ہے تو میں بھی اپنی عمر کے اسی مرحلے میں داخل ہوچکا ہوں۔ رہی بات عیال داری کی، تو تمہارے بچے میرے بچے ہیں۔ پھر آپؐ نے ان سے نکاح کرلیا اور اس طرح ان کی دعاء بارگاہِ ایزدی میں قبولیت سے سرفراز ہوئی اور انھیں حضرت ابوسلمہؓ سے بہتر نعم البدل مل گیا۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد ابراہیم سجاد تیمی

تبصرہ کیجیے