3

کیرئر سے متعلق دو سوال

سوال: آرٹس سے بارہویں اور گریجویشن کرنے کے بعد میں کیا کرسکتی ہوں؟

سلمیٰ نسرین، آکولہ

جواب: بارہویں آرٹس کے بعد آپ کے لیے ایک بہت وسیع میدان ہے۔ بارہویں کے بعد اپنی دلچسپی کے مدنظر دو طرح کے کورسس میں داخلہ لیا جاسکتا ہے:

(۱) پروفیشنل (۲) نان پروفیشنل

یہاں چند معروف پروفیشنل کورسس کا ذکر کیا جارہا ہے۔

۱- بیچلر ان فائن آرٹس ( B.F.A.)

۲- ڈپلومہ ان فائن آرٹس (D.F.A.)

۳- ڈپلومہ ان ایجوکیشن (D.Ed.)

۴- بیچلر ان سوشل ورک (B.S.W.)

۵- گریجویٹ ڈپلومہ ان ڈیزائن

۶- بیچلر ان جرنلزم اینڈ ماس کمیونی کیشن (BJMC)

۷- چارٹرڈ اکاؤنٹینسی (C.A.)

۸- کاسٹ ورک اکاؤنٹینسی (C.W.A.)

۹- کمپنی سکریٹری (C.S.)

۱۰- بیچلر ان لیجسلیٹو لاء (L.L.B.)

۱۱- بیچلر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (B.B.A.)

۱۲- بیچلر ان آرٹس اینڈ کمپیوٹر اپلی کیشن (B.A.C.A.)

۱۳- بیچلر ان ٹورزم اسٹڈیز (B.T.S.)

۱۴- ڈپلومہ ان ٹورزم اسٹڈیز (D.T.S.)

۱۵- ڈپلومہ ان جنرل نرسنگ اینڈ مڈ وائفری وغیرہ……

وہیں جن نان پروفیشنل گریجویشن کورسس میں داخلہ لیا جاسکتا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

۱-اردو ۲-ہندی ۳-سیاسیات ۴-نفسیات

۵-معاشیات ۶-عربی ۷-فارسی ۸-انگریزی

۹-فرنچ ۱۰-رشین ۱۱-چائنیز ۱۲-جاپانیز و دیگر غیر ملکی زبانیں

۱۳-تاریخ ۱۴-جغرافیہ ۱۵- ہوم سائنس ۱۶- اسلامیات

۱۷- فلسفہ وغیرہ کے علاوہ مختلف علاقائی زبانوں میں بھی گریجویشن کیا جاسکتا ہے۔

اور جہاں تک آرٹس سے گریجویشن کرنے کے بعد کی بات ہے تو اولاً آپ متعلقہ سبجیکٹ میں (جس میں آپ نے گریجویشن کیا ہے) پوسٹ گریجویشن یعنی ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کرسکتی ہیں۔ آرٹس کے لوگ احساسِ کمتری کے شکار پائے جاتے ہیں اور وہ اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا کیا؟ یا تو ہمیں تدریس کاکام انجام دینا ہوگا یا پھر سول سروسیس یا دیگر سرکاری ملازمت کے لیے تیاری کرنی ہوگی۔ جبکہ حقیقت اس سے کوسوں دور ہے مثلاً اگر کسی نے تاریخ کے مضمون میں گریجویشن یا پوسٹ گریجویشن کیا ہے تو وہ آرکیالوجی (آثارِ قدیمہ) یا میوزیولوجی کے مضمون میں ڈپلومہ کرکے تعلیمی و تحقیقی اداروں، عجائب گھروں آثار قدیمہ کے اداروں و دیگر سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں ملازمت کرسکتا ہے۔ وہیں اگر کسی نے اردو میںگریجویشن یا پوسٹ گریجویشن کیا ہے تو صحافت وغیرہ کے میدان میں جاسکتے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو: ’’رفیق منزل (اردو)اپریل ۲۰۰۴ء‘‘۔

سوال: میں دسویں جماعت کا طالب علم ہوں۔ مجھے الکٹرانکس انجینئرنگ میں بہت دلچسپی ہے۔ اکثر مشینوں کی درستگی کرتا رہتا ہوں، کیا آپ مجھے گائیڈ کریں گے کہ مجھے دسویں کے بعد کیا اور کیسے کرنا چاہیے۔ محمد عمیر، آکولہ

جواب: آپ نے اپنے خط میں یہ واضح نہیں کیا ہے کہ آپ کس طرح کی مشینوں کی درستگی فرماتے رہتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ الکٹرانکس انجینئرنگ میں آپ کی گہری دلچسپی ہے تو میری یہ رائے ہے کہ آپ کو اسی میدان میں مہارت حاصل کرنی چاہیے۔لوگوں کے بارے میں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے جس نے بھی دلچسپی کو اپنا پیشہ بنا لیا جلد کامیاب ہوئے ہیں۔ لیکن یاد رکھئے۔ محض دلچسپی ہی کامیابی کا نسخۂ کیمیا نہیں۔ اس وقت جو آپ کے کرنے کا کام ہے وہ یہ ہے کہ آپ دسویں کی ریاضی اور سائنس مضامین میں مہارت حاصل کریں۔ کیوں کہ یہی بنیاد آپ کو منزلِ مقصود (الکٹرانکس انجینئرنگ) تک پہنچائے گی۔

دسویں کے بعد اس میدان میں جانے کے لیے آپ کے پاس تین راستے ہیں:

۱- دسویں کے بعد انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (ITI) میں داخلہ لے لیں جہاں کے داخلہ عام طور پر دسویں میں حاصل شدہ نمبرات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یہ ادارے ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔

۲- دسویں کے بعد ڈپلومہ ان انجینئرنگ (الکٹرانکس اینڈ کمیونی کیشن) میں داخلہ لیا جاسکتا ہے۔ جس کی مدت تین سال (فل ٹائٹ) یا چار سال (پارٹ ٹائم) ہوتی ہے۔ داخلہ عام طور پر کامن انٹرنس ٹیسٹ اور کہیں کہیں انٹرویو کی بنیاد پر بھی ہوتا ہے۔ جس میں دسویں کے معیار کی ریاضی اور سائنس کے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ یہ امتحانات ریاستی سطح پر بھی ہوتے ہیں اور کچھ یونیورسٹیز اپنی سطح پر بھی کرواتی ہیں، جیسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ و غیرہ۔ فارم فروری سے نکلنا شروع ہوتا ہے اور جمع کرنے کی آخری تاریخ اپریل، مئی تک ہوتی ہے۔ اس سے فراغت کے بعد اسی میدان میں گریجویشن کیا جاسکتا ہے جسے عام طور پر بی۔ ای۔ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

۳- تیسرا راستہ یہ ہے کہ آپ دسویں کے بعد سائنس کے مضمون میں بارہویں (ریاضی کے ساتھ) کریں۔ ساتھ ہی ساتھ انجینئرنگ کی تیاری بھی کریں اور بارہویں کے بعد کمپٹیشن نکال کر راست بی ٹیک / بی ای میں داخلہ لے لیں۔

اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کون سا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن فیصلہ لیتے وقت اپنی استطاعت، گھر کی مالی حالت، دلچسپی وغیرہ کا ضرور خیال رکھیں۔

(مہتاب عالم

شیئر کیجیے
Default image
.....

تبصرہ کیجیے