3

خلوصِ نیت

مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنثـٰی وَہُوَ مُوْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیَاۃً طَیِّبَۃً وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ اَجْرَہُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔

’’جو کوئی بھی مرد یا عورت نیک عمل کرے گا بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے ضرور ایک پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور ہم انہیں ان کے اچھے کاموں کا ضرور اجر دیں گے۔‘‘

جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے وہ جب کوئی نیک کام کرتا ہے تو اس کی سب سے بڑی آرزو یہی ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو قبول فرمالے۔ اور اللہ تعالیٰ کا بھی یہ فضل ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے بھلے اعمال کو قبول فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے۔ لیکن یہاں پر قبولیت کے لیے ایک اور اہم شرط ایمان کی لگادی ہے۔ ایمان ہی دراصل وہ سوتا ہے جہاں سے نیکی اور صالحیت کے چشمے پھوٹتے ہیں اور انسان کے اندر نیکی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں، لیکن ان جذبات کی تطہیر کے لیے ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کی بھی شرط لگائی ہے۔ فرمایا:

إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ۔

’’ اللہ تقویٰ والوں ہی کے عمل قبول فرماتاہے۔‘‘

یہ تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ یہ ہے کہ آپ جو کام کریں وہ محض اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کریں اور اس طرح کریں جس طرح کرنے کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہو۔

اپنے روزانہ کاموں کی جانچ اس اعتبار سے ضرور کرلیا کریں۔ اس سے اعمال میں خلوص، جذبۂ عمل میں تیزی آئے گی۔ جب کسی عمل پر ابھارنے والی چیز آخرت کی کامیابی کے علاوہ کچھ اور ہو تو اس کو آپ ہرگز اپنے نیک اعمال میں شمار نہ کریں چاہے وہ دیکھنے میں

نماز اور عبادت ہو … ذکر اور تسبیح ہو … تعلیم اور تبلیغ دین ہو … صدقۂ و خیرات ہو … اقامتِ دین کی جدوجہد ہو … یا انتہا یہ کہ اللہ کی راہ میں جان اور مال کی قربانی تک ہی کیوں نہ ہو…

اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت یہی خلوصِ نیت ہے۔ ہر عمل کرنے والے کو اس کی طرف ہر آن متوجہ رہنا چاہیے۔ دل کا یہ چور بڑی مشکل سے پکڑا جاتا ہے۔ اسی لیے اس معاملے پر کبھی سرسری طور سے نہ گزرا جائے اور اپنے دل کے محرکات کو بار بار ٹٹولتے رہا جائے ورنہ بڑے بڑے نیک اعمال کا اکارت ہونا مشکل نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس نعمت سے نوازے۔ آمین۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ