6

نئے دور کی ادبیت

دکان تھی ایک خوشبو فروش کی۔ جس کے سامنے ہم حواس باختہ سے کھڑے اس کے شوکیس کا معاینہ کررہے تھے تاکہ ہمیں کسی عطر کی ’’خوبصورت‘‘ سی شیشی پسند آجائے اور ہم اسے گردن اکڑا کر اپنی پسندیدہ خوشبو کہہ سکیں۔ دکان دار نے ہمیں اس طرح شش و پنج میں پڑے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ’’صاحب! کس ’’چھ اور پانچ‘‘ میں پڑے ہیں۔ فرمائیے کون سا عطر چاہیے۔‘‘ اتنا کہہ کر دکاندار ہماری طرف جواب طلب نظروں کے بجائے داد طلب نظروں سے دیکھنے لگا۔ غالباً وہ ہم سے شش و پنج کے اس فصیح ترجمہ پر داد حاصل کرنا چاہتا تھا۔ لیکن بھلا ہمیں اس سے کیا سروکار … مگر اس کا کیا کیا جائے کہ ہم شکل ہی سے ’’محب ادب شخصیت‘‘ نظر آتے ہیں … لیجیے! … آپ کا بھی منہ بن گیا۔ سامنے ہوتے تو یہی سوال داغتے کہ ’’وہ کیسے‘‘ تو جناب! وہ ایسے کہ ہم اپنے سر پر… استرا پھروا کر ناریل کے تیل کی مالش کرتے ہیں… بس بس!! یہ نہ پوچھئے گا کہ اس میں ادبیت کا کونسا پہلو نظر آرہا ہے؟ کیونکہ بہت سی باتوں کی وجوہ خود ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ پتہ نہیں کیوں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ادب کی بہت بڑی خدمت ہے۔ بس دل کہتا ہے۔ اور دل تو یہ بھی کہتا ہے کہ بھلا ادب کی اس سے بڑی خدمت اور کیا ہوگی کہ لوگ ہم کو دیکھ کر قہقہے لگائیں اور ہم بڑی ’’خندہ پیشانی‘‘ سے نہایت ’’فخر‘‘ کے ساتھ سر پر ہاتھ پھیر کر مسکراتے ہوئے گزر جائیں۔…… کیوں؟ …… بس یہ نہ پوچھئے…… لیکن یہ حقیقت ہے کہ اب ادب کا معیار یہی ہوگیا ہے کہ لوگ بہت بڑی بڑی بے ادبیوں کو ادب کہتے ہیں اور بہت بدتمیزی کے ساتھ بے حد گندے پن سے ادب کی خدمت کرتے ہیں۔ لیجیے! جواب سن لیجیے! … ایک صاحب فرماتے ہیں کہ بھلا اس سے بڑا گندا پن اور کیا ہوگا کہ ہماری ’’ہینڈ رائٹنگ‘‘ بہت گندی ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ ہمارا خط الید بے حد گندا ہے کہ ہمارے ایک استاذ اسے جناتی رائٹنگ فرماتے ہیں۔ ہاں تو ہم ادب کے بارے میں اپنے مذکورہ بالا خیالات ایک محفل میں بیان فرما رہے تھے۔ تو ایک صاحب نے کہا: ’’واقعی ان لوگوں کی ذہنیت بہت گندی ہے۔ ان کے ذہن کو کسی ذریعہ سے صاف کیا جانا چاہیے۔‘‘

ہائے افسوس! اس ادبی محفل میں ہماری ذہنی رو بہک گئی اور ہم نے جھٹ کہہ دیا: ’’جی ہاں! جی ہاں! فنائل سے اچھی طرح صاف کیا جانا چاہیے۔‘‘

پتہ نہیں اسے ذہنی رو بہکنا کہیں گے۔ یا کچھ اور … بہرحال ہمارے ساتھ ایسا ہوتا رہتا ہے۔ اب کل ہی کے قصے کو لے لیجیے۔ ہوا یوں کہ بازار سے گھر کے لیے رفائنڈ آئل آرہا تھا۔ راستہ میں پالیتھین پھٹ گئی اور تیل کے دونوں پیکٹ نیچے گر پڑے۔ اس سے پہلے کہ وہ اٹھائے جاتے۔ ایک (سہ سوار) تیز رفتار موٹر سائیکل آئی اور ادب کی خدمت کی ناکام کوشش کرتے ہوئے چلی گئی۔ یعنی کہ تیل کے ایک پیکٹ کو اپنے پہیوں تلے کچل گئی۔ ادب کی خدمت ناکام یوں ہوئی کہ تیل کے پیکٹ کو پھاڑتے وقت وہ پھسل نہیں سکی ورنہ اردو، ہندی اور انگریزی اخبار والوں کو خاصا میٹر مل جاتا اور ایک آدھ تصویر بھی چھپ جاتی۔ اسپتال والوں کی بھی تھوڑی بہت کمائی ہوجاتی۔ اور تو اور آٹو ورکس والوں کی بھی جیب گرم ہونے کے امکانات تھے۔ پھر اس کے علاوہ بچوں کے لیے اچھا خاص تماشہ ہوجاتا۔ بچوں کے علاوہ بڑوں کے لیے بھی تماشہ ہوتا۔ مگر وہ ہنس نہیں سکتے تھے۔ کیونکہ اگر کوئی تھوڑا بہت سلپ ہوجائے تو آدمی کھل کر قہقہے بھی لگا سکتا ہے۔ مگر اگر اس طرح کے حادثے میں کسی کا سر پھٹ جائے یا کوئی مر مرا جائے تو آدمی کو مجبوراً چچ چچ چچ کرنا ہی پڑتا ہے۔ ہاں تو خیر بچی کچھی ایک لیٹر کی ایک تھیلی گھر پہنچی۔ اس وقت تو کچھ نہیں ہوا۔ مگر تھوڑی دیر بعد ابو ازراہ مزاق امی سے کہہ رہے تھے کہ ’’اور منگاؤ فارچیون کا تیل پچاس روپئے لیٹر۔ اب یہ ایک لیٹر سو روپئے کا پڑا۔ اب کھانے میں آدھا تیل ڈالنا…‘‘

ہماری بے دریغ چلنے والی ڈھائی گز کی بے ہودہ زبان پھسل ہی گئی:

’’جی ہاں! اور باقی گھی۔‘‘

ارے دیکھئے! بات کہاں کی کہاں چلی گئی۔ اسی کو تو کہتے ہیں ذہنی رو بہکنا۔ یا ممکن ہے کہ شاید ادب کی خدمت اسی کو کہتے ہوں۔ خیر تو ہم عرض کررہے تھے قصہ خوشبو فروش کا… بہر حال ہم نے اس کے جملے پر برا سا منہ بنایا۔ دکان دار کو اپنے اس نہایت ’’ادبی‘‘ جملے کی ناقدری پر افسوس ہوا۔ جبھی تو …… اس شخص نے منہ بگاڑ کر ترش لہجے میں اپنے سوال کو مختصراً یوں دہرایا جیسے لٹھ کھینچ مارا ہو ’’کیا چاہیے؟‘‘

’’ہوں‘‘ ہم نے کچھ سوچتے ہوئے نہایت فلسفیانہ انداز میں کہا ’’ہمیں کوئی ایسی خوشبو دو یعنی کہ اتنی تیز خوشبو کہ جو لوگ خوشبو سے الرجک ہوں یا ہلکی خوشبو پسند کرتے ہوں وہ ہم سے دہشت زدہ ہوجائیں۔ یعنی کہ اگر ہم ان کے قریب جائیں تو وہ گھبرا کر بھاگ کھڑے ہوں۔‘‘

دکاندار نے ہمیں نیچے سے اوپر تک طنزیہ انداز میں دیکھتے ہوئے پوچھا ’’کہاں رہتے ہیں جناب؟‘‘

ہمیں اس جملے کا طنز تو بعد میں سمجھ میں آیا مگر ہم نے اس کی بات کے جواب میں آسمان کی طرف دیکھا۔ اور اپنی آنکھوں کو مزید سوچ میں ڈبا لیا۔ پھر اپنے فلسفیانہ انداز کو برقرار رکھتے ہوئے گویا ہوئے ’’خلا کے اس پار‘‘ پھر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا ’’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔‘‘

اتنی ذرا سی بات پر دوکان دار نے بڑے راز دارانہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا ’’بہت گہرے ہو۔‘‘

ہم نے گھبرا کر اپنا جسم ٹٹولا اور بوکھلاہٹ ظاہر کرتے ہوئے پوچھا: ’’کہاں؟‘‘

دکاندار نے ایک چھت شگاف قہقہہ لگایا۔ ہم نے ہکا بکا رہ جانے کی کوشش کر ڈالی۔ یہ الگ بات ہے کہ ’’ہکیّت بکیت‘‘ طاری کرنے میں ہم نے اپنا چہرا ہونقوں کی طرح کرلیا۔

دکاندار نے ہمارے چہرے کے تاثرات کو نظر انداز کرتے ہوئے مسکرا کر کہا

’’دلچسپ! بہت دلچسپ‘‘

اتنی دیر کی بکواس میں ہم بھی اور وہ بھی شاید یہ بھول گئے تھے کہ ہم خوشبو کی ایک دکان میں کھڑے ہیں۔ ہم گاہک ہیں اور وہ دکاندار ہے۔

خیر ہم نے اپنا کھلا ہوا منہ سختی سے بند کیا۔ مگر یہ بھول گئے کہ ابھی زبان دانتوں کے درمیان ہی ہے۔ پھر جلد ہی بلبلا کر منہ کھول دیا۔ (کہیں آپ رک کر تجربہ کرنے مت بیٹھ جائیے گا کہ ہمارے ساتھ یہ حادثہ کیسے پیش آیا) بہر حال! اب جھینپ مٹانا ضروری ہوگیا۔ اس لیے ہم نے فوراً کہا : ’’کیا پئیں گے؟‘‘

دکاندار نے بوکھلا کر کہا : ’’جج جی…… کک کچھ نہیں۔‘‘

’’ارے یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ آج زندگی میں پہلی بار کچھ پینے کو کہا اور آپ انکار کردیں۔ نہیں کچھ تو پینا ہی پڑے گا۔‘‘

’’ارے نہیں کچھ نہیں۔‘‘

’’ارے کچھ تو۔‘‘

’’نہیں نہیں کچھ نہیں۔‘‘

’’ٹھنڈا پئیں گے؟‘‘

’’ارے نہیں۔‘‘

’’کافی‘‘

’’بالکل نہیں۔‘‘

’’اچھا تو چائے لیں گے؟‘‘

’’نہیں، نہیں‘‘

’’اچھا چلئے پیپسی ہی پی لیں؟‘‘

پیپسی کا نام سنتے ہی اس بوڑھے نما بچے کی باچھیں کھل گئیں اور کہا ’’چلئے… ٹھیک ہے۔‘‘

ہم نے بھنا کر کہا ’’تو جائیں پھر آپ ہی پی کر آئیں۔ ہم یہیں ہیں۔‘‘

ہم نے بڑے اطمینان سے صوفے پر دراز ہوتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔

شیئر کیجیے
Default image
مرزا احمد وسیم بیگ

تبصرہ کیجیے