4

اسلام اور خواتین

اسلام سے قبل دور جاہلیت میں عورت کی کوئی حیثیت نہ تھی اسے ذلیل اور حقیر سمجھا جاتا تھا۔ اسے ہر زمانے میں اور ہر قوم میں بدی کا محور اور شیطان کا آلہ کار سمجھا گیا۔ کسی نے شیطان کی ایجنٹ کہا تو کسی نے بد روح اور گناہ کی جڑ قرار دیا۔ یونان روم اور مصرو چین تک میں عورتوں کی حالت بدتر تھی۔ خود ہمارے ملک ہندوستان میں اس کی حالت نہایت خراب تھی۔ سب سے زیادہ خراب حالت تو عرب میں تھی وہاں لڑکی کی پیدائش کو ہی عار کا باعث سمجھا جاتا تھا اور اسے پیدا ہوتے ہی زمین میں زندہ دفن کردیا جاتا تھا۔ قرآن میں فرمایا گیا ہے:

وَإِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمْ بِالاُنْثٰی ظَلَّ وَجْہُہٗ مُسْوَدّاً وَ ہُوَ کَظِیْمٌ یَتَوَارَیٰ مِنَ الْقَوْمِ مَا بُشِّرَ بِہٖ اَیُمْسِکُہٗ عَلٰی ہَوْنٍ اَمْ یَدُسُّہٗ فِیْ التُّرَابِ۔ (النحل:۵۹،۵۸)

’’ان میں سے جب کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خبر دی جاتی تو اس کے چہرے پر سیاہی پھیل جاتی۔ وہ لوگوں سے منھ چھپائے چھپائے پھرتا اور سوچتا کہ آیا ذلت کے ساتھ اس کو لیے رہے یا پھر اسے مٹی میں دفن کردے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کو آخر کار اس مظلوم ہستی پر ترس آیا اور آفتاب رسالت طلوع ہوا۔ حضرت محمدؐ نے جہاں دوسری باتوں کی تعلیم دی وہیں عورتوں کو عزت و احترام سے سرفراز کیا۔ آپؐ نے فرمایا:

’’دنیا ساری کی ساری ایک متاع ہے اور اس کی بہترین متاع ایک نیک عورت ہے۔‘‘

آپؐ نے واضح کردیا کہ دنیا کی ساری متاع ایک طرف اور ایک نیک عورت دوسری طرف ہے اور نیک عورت کا پلڑا دنیا کی کل متاع پر بھاری ہے۔ اسلام نے عورت کو پستی سے نکال کر اوج ثریا پر پہنچادیا۔ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے عورت کو ہر مرحلہ زندگی میں عزت و احترام اور حقوق دئے ہیں۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی کو تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی بہترین تربیت و پرورش کرے تو وہ جنت کا حقدار ہے۔ روایت میں مزید یہ بھی ہے کہ اگر آپؐ سے دو یا ایک بہن یا بیٹی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو بھی آپؐ نے یہی کہا۔

اسی طرح آپؐ نے فرمایا ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ ایک مرتبہ ایک صحابی رسولؐ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں، انھوں نے پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں، انھوں نے پھر پوچھا اس کے بعد آپؐ نے پھر فرمایا: تیری ماں۔ انھوں نے پھر پوچھا کہ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: تیرا باپ۔ سائل کے جواب میں تین مرتبہ ایک ہی جواب کو دہرانا ماں کی عظمت کی دلیل ہے۔ قرآن میں بھی اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: ’’اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسانوں کو اپنے والدین کا حق پہچانتے کی خود تاکید کی۔ اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کو دودھ چھوٹنے میں لگے۔ اس لیے ہم نے نصیحت کی کہ میرا شکر ادا کر اور اپنے والدین کے شکر گزار بنو۔ تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے۔‘‘

بیوی کو رفیقۂ حیات اور غم گسار کہا گیا۔ قرآن میں اسے لباس قرار دیا لہٰذا فرمایا: ’’وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو۔‘‘ (سورئہ بقرہ) یعنی لباس جس طرح ہر موسم میں جسم کو مضرت سے بچاتا ہے اور جسم کے رازوں کی حفاظت کرتا ہے اسی طرح تم بھی کرو۔ فرمایا: وعاشروہن بالمعروف یعنی تم ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آؤ۔

غرض اسلام نے عورت کے ہر روپ کو قبول کیا اور اس کے ہر مقام اور ہر ہر مرتبہ کی اہمیت کا احساس دلایا اور یہاں تک فرمایا کہ اگر وہ نیک عمل کرے گی تو اجر کی اسی طرح مستحق ہوگی ہے جس طرح مرد۔ فرمایا:

مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِنْ ذَکَرٍ أَوْ اُنْثٰی وَہُوَ مُوْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیوٰۃً طَیِّبَۃً وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ اَجْرَہُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔

یعنی: ’’جو کوئی نیک عمل کرے گا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور اس کو اس کے اعمال کا بہترین بدلہ دیں گے۔‘‘

سورہ آل عمران آیت ۱۹۵ میں فرمایا:

إِنِّیْ لَا اُضُیِعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی۔

’’یعنی میں تم سے کسی کے بھی نیک عمل کو ضائع نہیں کروں گا چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔‘‘

اسی طرح سورہ نسا میں اسے وراثث میں حصہ دار بنایا گیا۔ فرمایا:

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِمَّا اکْتَسَبُوْا وَلِلنِّسَائِ نَصِیْبٌ مِمَّا اکْتَسَبْنَ۔

’’یعنی جو کچھ مردوں نے کمایا اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا اس کے مطابق ان کا حصہ ہے۔‘‘

تاریخ اسلام کے مطالعہ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کس طرح دورِ نبویؐ میں اور خلافتِ راشدہ کے دور میں خواتین نے ہر شعبہ میں کارہائے نمایاں انجام دئے۔ نہ وہ تعلیم میں پیچھے تھیں نہ میدان جہاد میں اور نہ آزمائشوں کی گھڑیوں میں۔ لہٰذا حضرت عائشہؓ جو کہ ہم تمام مومنین کی ماں ہیں ان سے تقریباً احادیث کا آدھا حصہ ہم تک پہنچا ہے اسی طرح حضرت شفاءؓ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ لکھنا پڑھنا جانتی تھیں اور آپؐ نے انھیں دوسروں کو اور خود ام المومنین حضرت حفصہؓ کو پڑھانے کے لیے کہا تھا۔ اسی طرح حضرت ام عطیہؓ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ طب (ڈاکٹری) میں ماہر تھیں اور زخمیوں کا علاج و معالجہ کرتی تھیں۔ اسلام کی شہید اول حضرت سمیہؓ جنھوں نے راہِ حق میں اپنی جان دے دی مگر حق سے انحراف پسند نہ کیا۔ اسی طرح کی بے شمار علم و عمل کی مثالیں ہمیں ملتی ہیں جہاں مسلم خواتین مثالی نمونہ کے ساتھ ایک ہمہ جہت رول ادا کرتی نظر آتی ہیں۔

دوسری طرف ہماری حالت یہ ہے کہ ہم نے ان تمام کرداروں کو بھلا دیا اور مغرب کی تقلید کرتے ہوئے اسلامی حدود کو پامال کر ڈالا۔ بے راہ روی کو اپنا کر یہ سمجھنے لگے کہ ہم زمانے کے ساتھ چل رہے ہیں۔ اگر آزادی اور ترقی یہی ہے تو بے شک اسلام ایسی آزادی اور ترقی کا ہر گز قائل نہیں ہے۔ یہ خواتین اسلام کی بدنصیبی ہے کہ جس اسلام نے اسے شعور آزادی دیا اس کے ساتھ ہی بغاوت کا رویہ اپنا رہی ہیں۔ آج مغرب کی عورت خود سب سے زیادہ پریشان ہے اور اسلام کے دامن میں تیزی سے پناہ لے رہی ہے اور آئے دن اخبارات و رسائل میں دیکھئے کہ کس طرح مغربی ممالک کی خواتین کے سامنے یہ حقیقت واضح ہوتی جارہی ہے اور وہ تیزی کے ساتھ اسلام کے دامنِ رحمت میں پناہ لے رہی ہیں۔ جب ان سے اس کی وجہ دریافت کی جاتی ہے تو ان کا جواب یہی رہتا ہے کہ اسلام بہترین مذہب ہے اور عورت کو جو مقام اور مرتبہ اسلام نے دیا ہے وہ کہیں نہیں ملا۔ اٹلی کی نو مسلمہ عائشہ اریکا عام خواتینِ اسلام سے مخاطب ہوکر فرماتی ہیں کہ ’’قرآن کی صورت میں جو چیز تمہارے سامنے ہے اور تمہارے پاس ہے اگر یوروپین عورتیں اور لڑکیاں اس خزانہ سے واقف ہوجائیں تو وہ اس کو لینے کے لیے تم سے جنگ کرنے پر بھی آمادہ ہوجائیں گی۔‘‘ ایک دوسری نو مسلمہ آمنہ جناح کہتی ہیں کہ’’ اس اعزاز کی تو کہیں ادنیٰ سی بھی مثال نہیں ملتی کہ ماں کے قدموں میں جنت قرار دی گئی ہو اور باپ کے مقابلہ میں اسے تین گنا واجب الاحترام قرار دیا گیا ہو۔‘‘ نو مسلمہ لیلیٰ رفن فرماتی ہیں کہ ’’اسلام میری زندگی میں کیا تبدیلیاں لایا ہے؟ جواب بالکل سادہ ہے ہر چیز میں تبدیلی لایا ہے کھانے سے لے کر پوشاک اور دوسروں سے تعلقات تک میں یہ تبدیلی نمایاں ہیں۔ میں پنج وقتہ نماز پڑھتی ہوں رمضان کے روزے رکھتی ہوں، سادہ لباس پہنتی ہوں اور اپنے بال ڈھانکتی ہوں۔‘‘ اور یہ سب عورتیں ترقی یافتہ ممالک کی تعلیم یافتہ خواتین ہیں۔ مسلم معاشرہ کی خواتین و طالبات کو چاہیے کہ وہ سنجیدگی سے سوچیں کہ ان کی بلندیٔ مقام و مرتبہ اسلامی تعلیمات کو اپنانے میں ہے۔ یاد رکھئے کہ ہم نصف بہتر ہیں اور نصف انسانیت ہیں اگر نصف بہتر ہی نصف بدتر ہوجائے تو پھر انسانیت کا تو خدا ہی حافظ ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ذکیہ شیریں ہاشمی

تبصرہ کیجیے