BOOST

اقبال اور مسولینی کی ملاقات

۱۹۳۱ء؁ میں علامہ اقبالؒ اٹلی کی حکومت کی دعوت پر روم گئے۔ مولانا غلام رسول مہر علامہ صاحب کے ساتھ میں تھے۔ معلوم ہوا کہ افغانستان کے بادشاہ امان اللہ خان غازی بھی روم میں مقیم ہیں۔ چنانچہ کوئی تین گھنٹے تک ملاقات ہوئی، جس میں انگلستان اور عالمِ اسلام کا مستقبل خاص طور پر زیر بحث رہا۔

۲۷؍ نومبر کو اٹلی کی فاشسٹ تحریک کے قائد مسولینی کی خواہش پر علامہ اقبال نے اس سے ملاقات کی۔ رسمی مزاج پُرسی کے بعد مسولینی نے علامہ سے پوچھا: ’’میری فاشسٹ تحریک کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘

علامہ اقبال نے جواب دیا: ’’آپ نے ڈسپلن کے اصول کا بڑا حصہ اپنالیا ہے جسے اسلام اپنے نظامِ حیات کے لیے بہت ضرورت سمجھتا ہے، لیکن اگر آپ اسلام کا نظریۂ حیات پوری طرح اپنا لیں تو سارا یورپ آپ کے تابع ہوسکتا ہے۔‘‘

مسولینی نے علامہ سے اٹلی کے قیام کے بارے میں ان کے تاثرات پوچھے۔ آپ نے فرمایا: ’’میں اطالویوں کے متعلق سمجھتا ہوں کہ وہ ایرانیوں سے کافی مشابہت رکھتے ہیں، اور بڑے ذہین و فطین، خوبصورت اور فن پرست ہیں۔ ان کے پیچھے تمدن کی کتنی ہی صدیاں ہیں، مگر ان میں خون نہیں۔‘‘

مسولنی نے اس پر حیرت کا اظہار کیا تو آپ نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’ایرانیوں کو ایک فائدہ میسر رہا ہے جو اطالویوں کو میسر نہیں، اور وہ یہ کہ ان کے ارد گرد مضبوط اور توانا قومیں افغان، کرد اور ترک آباد ہیں جن سے وہ تازہ خون حاصل کرسکتے ہیں۔ آپ اطالوی ایسا نہیں کرسکتے۔‘‘

اس پر مسولینی نے پوچھا: ’’اچھا ہم اہلِ اٹلی کو کیا کرنا چاہیے؟‘‘

علامہ اقبال نے جواب دیا: ’’یورپ کی تقلید سے منہ موڑ کر مشرق کا رخ کرو، اس لیے کہ یورپ کا اخلاق ٹھیک نہیں۔ مشرق کی ہوا تازہ ہے، اس میں سانس لو۔‘‘

مسولینی نے علامہ اقبال سے کوئی اچھوتا مشورہ طلب کیا جو خاص اٹلی کے حالات کے لیے موزوں ہو۔ انھوں نے فرمایا: ’’ہر شہر کی آبادی مقرر کرکے اسے ایک خاص حد سے آگے بڑھنے نہ دیا جائے، اس سے زیادہ آبادی کے لیے نئی بستیاں مہیا کی جائیں۔‘‘

مسولینی نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: ’’شہر کی آبادی جس قدر بڑھتی جاتی ہے، اس کی تہذیبی و اقتصادی توانائی بھی کم ہوتی جاتی ہے اور ثقافتی توانائی کی جگہ محرکاتِ شر لے لیتے ہیں۔‘‘ علامہ اقبال نے مزید کہا:

’’یہ میرا ذاتی نظریہ نہیں ہے بلکہ میرے رسولؐ نے تیرہ سو سال پہلے یہ مصلحت آمیز ہدایت جاری فرمائی تھی کہ جب مدینہ منورہ کی آبادی ایک حد سے تجاوز کرجائے تو مزید لوگوں کو آباد ہونے کی اجازت دینے کی بجائے دوسرا شہرآباد کیا جائے۔‘‘

یہ حدیثِ مبارکہ سنتے ہی مسولینی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا اور دونوں ہاتھ میز پر زور سے مارتے ہوئے کہنا لگا: "What a beutiful Idia” (کتنا خوبصورت خیال ہے!)

علامہ اقبال نے ’’مسولینی ‘‘ کے عنوان سے ایک نظم بھی لکھی تھی، جس کے چند اشعار یہ ہیں ؎

ندرتِ فکر و عمل کیا شے ہے؟ ذوقِ انقلاب

ندرتِ فکر و عمل کیا شے ہے؟ ملت کا شباب

چشم پیرانِ کہن میں زندگانی کا فروغ

نوجواں تیرے ہیں سوزِ آرزو سے سینہ تاب

اس ملاقات کے کچھ عرصہ بعد جب مسولینی نے حبشہ پر چڑھائی کردی تو آپ نے مسولینی کے جوع الارض کی حرص کی سخت مذمت کی۔ ۱۸؍اگست ۱۹۳۵ء کو ایک نظم ’’ابی سینیا‘‘ کے عنوان سے لکھی جو ضرب کلیم میں شامل ہے ؎

یورپ کے کرگسوں کو نہیں ہے ابھی خبر

ہے کتنی زہرناک ابی سینیا کی لاش

ہونے کو ہے یہ مردئہ دیرینہ قاش قاش

تہذیب کا کمال شرافت کا ہے زوال

غارت گری جہاں میں ہے اقوام کی معاش

ہر کرگ کو ہے بّرئہ معصوم کی تلاش!

اے وائے آبروئے کلیسا کا آئینہ

روما نے کردیا سرِ بازار پاش پاش!

پیرِ کلیسیا! یہ حقیقت ہے دل خراش!

ایک دفعہ کسی نے علامہ اقبال کو لکھا کہ آپ نے مسولینی کے متعلق دو نظمیں لکھی ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں، اس کی کیا وجہ ہے! اس پر آپ نے مختصر سا جواب دیا: ’’اگر اس بندئہ خدا میں رحمانی اور شیطانی دونوں صفات موجود ہیں تو اس کا میرے پاس کیا علاج ہے؟‘‘

اٹلی میں دورانِ قیام ایک روز علامہ اقبال مولانا غلام رسول مہر کی معیت میں کولوسیم کے آثار قدیمہ دیکھنے گئے۔ ایک ماہر نے بتایا کہ روم کے ان اکھاڑوں میں پچاس ہزار آدمی بیک وقت تماشا دیکھ سکتے تھے۔ واپس اپنی قیام گاہ پر پہنچنے کے بعد مہر صاحب سے کہنے لگے:

’’ایک طرف قدیم رومی شہنشاہ تھے جنھوں نے ایک عظیم الشان عمارت اس غرض کے لیے بنائی کہ پچاس ہزار انسان بیٹھ کر انسانوں اور درندوں کی لڑائی کا تماشہ دیکھ سکیں۔ دوسری طرف لاہور کی بادشاہی مسجد ہے جو اس غرض سے تعمیر کی گئی ہے کہ ایک لاکھ بندگانِ خدا جمع ہوکر مساوات، اخوت اور محبت کے سچے اور مخلصانہ جذبات کا مظاہرہ کرسکیں۔ اس ایک مثال کو سامنے رکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام کتنی برکات کا سرچشمہ ہے۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے