اسلام نے خواتین کے حالات کیسے بدلے

اسلام کا پیغام بلند ہوا تو عربی عقل بت پرستی کی زنجیروں سے آزاد ہوکر اللہ پر ایمان لے آئی جو ہر چیز کا خالق ہے اور اسے وہم کی غلامی اور ان رسوم کی بندگی سے نجات مل گئی جو اس پر جاہلیت نے فرض کررکھی تھیں۔ اللہ کی طرف سے آیا ہوا پیغام اب اس کی نگاہوں کے سامنے تھا اور وہ اسے اپنانے کے لیے آمادہ تھی۔ عقل کی اس آزادی کا مذہبی زندگی کی طرح اجتماعی زندگی پر بھی بہت گہرا اثر پڑا۔

اجتماعی زندگی پر اس کا سب سے بڑا اثر یہ ہوا کہ عورت کے متعلق مرد کا نقطہ نظر بدل گیا۔ وحی آسمانی نے دونوں صنفوں کو ایک سطح پر لاکر روئے سخن مومن مردوں اور مومن عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کی طرف پھیر دیا۔ عورتوں کے ساتھ نرمی و عزت سے پیش آنے کا ذکر کیا اور ان کے فرائض کی طرح نیکی و احسان کے ساتھ ان کے حقوق بھی مقرر کیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:مومن مرد ہو یا عورت، عمل ضائع نہیں جاتا۔

’’میں کسی شخص کے کام کو جو تم میں سے کرنے والا ہو، اکارت نہیں کرتا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔‘‘ (آل عمران: ۱۹۵)

’’اور جو شخص کوئی نیک کام کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ مومن ہو، سو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا۔‘‘ (النساء:۱۲۴)

’’جوکوئی نیک کام کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ صاحبِ ایمان ہو تو ہم اس شخص کو (دنیا میں) پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور(آخرت میں) ایسے لوگوں کو ان کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے۔‘‘ (نحل : ۹۷)

یہ چند آیات دیکھئے اور غور کیجیے:

’’اور منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے گا، جو اللہ کے ساتھ برے برے گمان رکھتے ہیں۔‘‘ (فتح: ۶)

’’اور تیرے رب نے حکم دیا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور تم (اپنے) ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو۔ اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں کبھی (ہاں سے) ہوں نہ کرنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور ان سے بڑے ادب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت سے انکسار کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار، ان دونوں پر رحمت فرما! جیسا کہ انھوں نے مجھے بچپن میں پرورش کیا ہے۔‘‘ (بنی اسرائیل: ۲۳)

یہ اور اسی قسم کی بہت سی آیتیں گوش جاہلیت کے لیے نیا نغمہ تھیں۔ عورت اور مرد اللہ کے سامنے ایک ہیں۔ عورت کو بھی وہی انعام ملتا ہے جو مرد کو ملتا ہے اور عورت بھی وہی سزا پاتی ہے جو مرد پاتا ہے۔ یہ ایک ایسی بات تھی جو عربوں نے اپنوں سے کبھی سنی تھی نہ اس سے ملتی جلتی کوئی بات اپنے ایرانی اور رومی پڑوسیوں سے۔ اس کے باوجود یہ اس نئے دین کی تعلیم تھی جو نبی عربی علیہ التحیۃ والسلام پر نازل کیا گیا تھا اور ہر مسلمان کے لیے ضروری قرار دیا گیا تھا کہ وہ اس پر ایمان لائے اور اس کی پیروی کرے۔

شریک حیات

میاں اور بیوی، باپ اور بیٹے اور بھائی اور بھائی کے تعلقات پر اس تعلیم کا اثر پڑا۔ بیوی اب چاکر اور غلام نہ رہی تھی بلکہ اپنے شوہر کی شریکِ حیات ہوگئی تھی اور اسے بھی اپنے شوہر پر وہی حقوق حاصل ہوگئے تھے جو ایک شریک کے دوسرے شریک پر ہوتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے واسطے تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تمہیں ان کے پاس آرام ملے اور تم میاں بیوی میں محبت و ہمدردی پیدا کی۔‘‘ (روم: ۲۱)

اب کسی مرد کے لیے یہ گنجائش باقی نہ رہی تھی کہ وہ اپنی لونڈی سے کراہت و نفرت کرے اور اس کے جسم کو اپنی دولت اندوزی کا ذریعہ بنائے۔ اس باب میں اللہ جل شانہ ارشاد فرماتا ہے:

’’اور اپنی (مملوکہ) لونڈی کو زنا کرانے پر مجبور مت کرو (بالخصوص) جب وہ پاک دامن رہنا چاہیں، محض اس لیے کہ دنیوی زندگی کا کچھ فائدہ (مال) تمہیں حاصل ہوجائے گا۔‘‘ (نور: ۳۳)

بیٹی کا قتل گناہ

اب کسی مرد کو اس کی اجازت نہ تھی کہ وہ اپنی بیٹی کو ستائے یا ننگ و افلاس کے ڈر سے اسے زندہ گاڑ دے۔ قرآن اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق اس فعل کو ممنوع قرار دیتا ہے: ’’اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کیا کرو، ہم انہیں اور تمہیں رزق (مقدر) دیں گے۔‘‘ (بنی اسرائیل: ۱۷)

دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے: ’’کیا اللہ نے اپنی مخلوقات میں بیٹیاں پسند کیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ مخصوص کیا، حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس (بیٹی) کے ہونے کی خبر دی جائے جسے رب رحمن کا نمونہ (اولاد) بنا رکھا ہے تو سارا دن اس کا چہرہ بے رونق رہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہے۔‘‘ (زخرف: ۱۶)

اور زندہ گاڑی ہوئی لڑکی کے حق میں فرمایا گیا:

’’اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گنا ہ پر قتل کی گئی تھی۔‘‘ (تکویر: ۸)

اجتماعی انقلاب

آبائی رسم و رواج کے خلاف یہ بغاوت، واقعی اپنے اندر اتنی جان رکھتی تھی کہ عربی زندگی میں اساسی طور پر ایک ایسا اجتماعی انقلاب برپا کردیتی جو بدویت اور مدنیت دونوں پر محیط ہوتا۔ یہ بغاوت چونکہ وحی رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی تھی، اس لیے وہ اللہ کا ایک حکم تھی جس سے بچنے کا کوئی راستہ نہ تھا اور جس کی تعمیل بہرصورت ہونی تھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عربی ذہن پر اس بغاوت کا اثر اس عقلی بغاوت کے اثر سے زیادہ شدید تھا جس نے بتوں کو ڈھا کر اور شرک سے انکار کرکے اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا۔ جب کبھی عقل و دل غلامی کی جکڑبندیوں سے آزاد ہوئے ہیں، آزادی کے نور سے ضیاء اندوز ہونے کے لیے اس کی طرف دوڑے چلے ہیں۔ یہی حال ہمارے فکر اور ہمارے ذاتی عقائد کا ہے لیکن جہاں زندگی پر ہمارے اختیارات اور دوسروں سے ہمارے تعلقات کا سوال اٹھتا ہے، اطاعت و تسلیم کی ڈوری میں تردد اور ہچکچاہٹ کی گرہیں پچی ہونے لگتی ہیں اور عقل کی سپر اندازی کے باوجود چاہتے ہم یہی ہیں کہ ہمارا اقتدار بہرصورت قائم رہے اور جو کچھ اس میں کمی آگئی ہے وہ کسی نہ کسی طرح پوری ہوجائے، اس لیے کہ ہماری خواہشوں کا تقاضا یہی ہے۔ عقل جتنی چاہے خواہش سے بلند ہوجائے اور آزادیٔ فکر جتنی چاہے بلند معانی پر عبور حاصل کرلے، انسان پر حکومت وہی جبلت کرتی ہے جس پر تمام خواہشوں کا مدار ہے۔

بصیرت افروز مکالمہ

ہمارے اس قول کی بہترین تائید خود سیدنا عمرؓ کے ایک بیان سے ہوتی ہے۔ امام مسلمؓ نے اپنی سند سے ایک روایت نقل کی ہے کہ سیدنا عمرؓ نے فرمایا:

’’واللہ! جاہلیت میں ہم عورتوں کی کوئی حیثیت نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے جو چاہا ان کے متعلق نازل کیااور جو چاہا انہیں حصہ دیا۔ ایک دن میں کسی مسئلے میں الجھا ہوا تھا کہ میری بیوی بولی آپ ایسا ایسا کیوں نہیں کرلیتے؟ میں نے اس سے کہا تمہارا اس سے کیا واسطہ؟ تم میرے معاملے میں دخل دینے والی کون ہوتی ہو؟ وہ کہنے لگی تعجب ہے! ابنِ خطاب، تمہیں اپنی بات میں میرا دخل دینا تک گوارا نہیں اور تمہاری بیٹی رسول اللہ ﷺ کو اس طرح جواب دیتی ہے کہ آپؐ دن دن بھر ناراض رہتے ہیں۔ سیدنا عمرؓ فرماتے ہیں میں نے اپنی چادر لی اور اٹھ کر سیدھا حفصہؓ کے پاس پہنچا اور کہا بیٹی! کیا تم رسول اللہ ﷺ کو اس طرح جواب دیتی ہو کہ آپؐ دن دن بھر ناراض رہتے ہیں؟ حفصہؓ نے جواب دیا: ہاں واللہ! ہم آپؐ کو جواب دیتی ہیں۔ میں نے کہا ، دیکھو! میں تمہیں اللہ اور رسولؐ کی عقوبت سے ڈراتا ہوں۔ بیٹی! اس عورت کے نقش قدم پر نہ چلو جسے اپنے حسن اور رسولؐ کی محبت نے مغرور کردیا ہے۔ اس کے بعد میں ام سلمہؓ کے پاس کیا جن سے میری قرابت تھی اور ان سے بھی یہی گفتگو کی۔ ام سلمہؓ نے مجھ سے کہا حیرت ہے ابن خطاب، تم ہر بات میں دخل دیتے دیتے اب رسول اللہؐ اور آپؐ کی ازواج ؓ کے معاملے میں دخل دینے لگے۔ سیدنا عمرؓ فرماتے ہیں: یہ بات میرے دل میں چبھ گئی۔ میں آگے کچھ نہ کہہ سکا اور ان کے پاس سے اٹھ کر چلا آیا۔‘‘

سیدنا عمرؓ اور ام المؤمنین سیدہ حفصہؓ کے درمیان یہ گفتگو ہجرت کے نویں سال اس وقت ہوئی تھی جب اللہ عورتوں کے متعلق اپنے احکام نازل فرما چکا تھا اور جو حیثیت انہیں دینی تھی دے چکا تھا۔ اس وقت جب عمرؓ کا یہ حال تھا جو رسول اللہ ؐسے اتنے قریب اور آپؐ کی تعلیمات کے اتنے اطاعت گزار تھے تو ان عربوں کے متعلق آپ خود اندازہ کرلیجیے جو عرب کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے اور ان کی بیویوں، بیٹیوں اور رشتہ داروں کے درمیان بھی وہی کچھ … یا شاید اس سے بھی زیادہ … پیش آتا ہوگا جو سیدنا عمرؓ اور سیدہ حفصہؓ اور سیدہ ام سلمہؓ کے درمیان پیش آیا اور بلا شبہ عورتیں اس پر اصرار کرتی ہوں گی کہ جو حق اللہ نے انہیں عطا کیا ہے، مرد اس سے انکار یا اس کے متعلق ان سے جھگڑا نہ کریں، کیونکہ وہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسولؐ پر ایمان لاچکے ہیں۔

محبت اور شفقت کا رشتہ

انسانی معاشرے میں عورت اور مرد کی مساوات سے پیدا ہونے والے انقلاب کا ردعمل جب یہ تھا تو اس وقت اسے آپ سے آپ شدید ہوجانا چاہیے تھا جب اسلام نے عورت کو وراثت کا وہ حق دیا جس سے جاہلیت نے اسے محروم کررکھا تھا اور جب تعدد ازواج کی بے لگامی کو چار بیویوں میں محدود کردیا گیا، بلکہ مرد کو ہدایت کی گئی کہ اگر وہ بیویوں میں انصاف نہ کرسکتا ہو تو پھر ایک ہی پر اکتفا کرے۔ پس انسانی مرتبے اور جزائے اعمال میں عورت کی مساوات معنوی اعتبارات سے قریب تر ہے اور اس میں مرد کا کوئی نقصان نہیں کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان محبت و مرحمت کا رشتہ ہو، محبت بیوی کی طرف سے اور مرحمت مرد کی طرف سے۔ اور نہ اس میں کوئی حرج ہے کہ اللہ اسے اس کے والدین کے بارے میں نصیحت کرے: ’’اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھوٹتا ہے کہ تم میری اور اپنے ماں باپ کی شکرگزاری کیا کرو، میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔‘‘ (لقمان: ۱۴)

ورثے کا تعین

رہی یہ بات کہ عورت کو ورثہ کیوں دیا گیا اور اسے ترکے میں مرد کا شریک کیوں ٹھہرایا گیا جب کہ نیزہ بازی، حفاظت وطن و جمع غنیمت جیسے اہم کام صرف مرد کے سپرد ہیں، سو اس کا تعلق عملی طور پر اس چیز سے ہے جسے بعض لوگ آج کل کی اصطلاح میں ’’اکتسابی حقوق‘‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور اس کا اثر مادی منفعتوں کے قلب تک پہنچتا ہے اور بیشتر لوگ مادی منفعتوں سے غیر معمولی تعلق رکھتے ہیں اور باقی تمام چیزوں سے زیادہ ان سے چمٹے رہتے ہیں۔

اور یہی حال تعداد ازواج کو چار عورتوںمیں محدود کرنے اور ایک بیوی کو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق ترجیح دینے کا ہے:

’’تو اور عورتو ںسے جو تم کو پسند ہوں نکاح کرلو، دو دو عورتوں سے، اور تین تین عورتوں سے، اور چار چار عورتوں سے، پس اگر تم کو احتمال ہو کہ عدل نہ رکھ سکوگے تو پھر ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو وہی سہی، بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ زیادہ قرین صواب ہے۔‘‘ (نساء: ۳)

اس آیت میں جو حکم دیا گیا ہے وہ اس انسانی مرتبے کے عین مطابق ہے جو قرآن نے عورت کے لیے مقرر کیا ہے۔ پھر بھی زمانۂ جاہلیت میں جو چیزیں عربوںمیں جائز تھیں ان کی تحدید کردی گئی اور چونکہ یہ حکم اسلام نے دیا تھا اس لیے مسلمانوں کے لیے اس کی تعمیل کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد حسنین ہیکل