BOOST

گھر کی تعمیر میں عورت مرد کا کردار

جب انسانی معاشرہ ظہور میں آیا تو انسان نے اپنا گھر بنا کر اپنے آپ کو محفوظ کرلیا۔ تنکا تنکا چُن کر آشیانہ بنانا انسان نے جانوروں سے سیکھا ہے۔ گھر بنانا اس میں اپنی سہولت کے مطابق اپنی آسائش کے سامان مہیا کرنا انسانی فطرت ہے۔ زمانے کے بدلتے ہوئے اطوار کے ساتھ گھر اور اس کی تعمیر بھی بدلتی جارہی ہے مگر گھر کی بنیاد وہ عورت مرد ہی ہیں جو صدیوں پہلے تھے۔ مرد عورت کے خوبصورت اور پائیدار گھر کی بنیاد خلوص و محبت اور وفاء پر ہونی چاہیے۔ اگر وفا کے تقاضے پورے نہ کیے جائیں تو دونوں کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں نہ بیوی خاوند سے وفادار رہتی ہے نہ خاوند بیوی سے وفادار رہتا ہے۔ میاں بیوی کو چاہیے کہ صدق وسچائی پر گھر کی بنیاد رکھ کر اسے تکمیل تک پہنچائیں، اس کے لیے عزم و حوصلہ کی از حد ضرورت ہے اور مستقل مزاجی شرط ہے۔ میاں بیوی دعاؤں کا دامن تھام کر اپنا حوصلہ اور عزم برقرار رکھیں اور زندگی کو چیلنج سمجھ کر گزاریں، تو زندگی خوشگوار ہوسکتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’وہ (عورتیں) تمہارے لیے لباس ہیں اور (مرد) عورتوں کا لباس ہو۔‘‘ (البقرہ:۱۸۸)

اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کا لباس فرما کر اس طرف توجہ دلائی کہ میاں بیوی کے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں۔ اب دیکھتے ہیں لباس کس کام آتاہے؟ لباس انسان کے ننگ چھپاتا ہے، لہٰذا میوی بیوی ایک دوسرے کے عیبوں اور کمزوریوں کا دوسروں سے ذکر نہ کریں۔ جس طرح لباس ستر پوشی کا کام کرتا ہے وہ بھی ایک دوسرے کی کمزوریوں کی پردہ پوشی کریں۔ لباس زینت کا باعث بنتا ہے لہٰذا میاں بیوی کا آپس کا تعلق اور خوشگوار ماحول نہ صرف ایک دوسرے کے لیے خوبصورتی کا باعث ہو بلکہ دوسروں کو بھی بھلا محسوس ہو۔ جس طرح لباس سردی گرمی کے ضرر سے انسانی جسم کو محفوظ رکھتا ہے اسی طرح مرد اور عورت سکھ اور دکھ کی گھڑیوں میں ایک دوسرے کے کام آئیں۔ اور پریشانی کے عالم میں ایک دوسرے کی دلجمعی اور سکون کا باعث بنیں۔ گھرمیں جہاں خوشگوار رشتے اور محبت کا ماحول ہو، جنت نظیر معاشرہ یا خاندان کا نام دیا جاسکتا ہے۔ مگر اس کی راحت و آرام اور سکون کا انحصار مردعورت کی باہمی رضا مندی اور اتفاق و پیارپر ہے۔ سب سے پہلی بات میاں بیوی کا ایک دوسرے کا احترام کرنا ہے جس سے گھر کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں اور گھر محبتوں کا گہوارہ اور جنت کا نمونہ بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زوج کے لفظ سے انہیں یاد کیا ہے اس لیے یہ دونوں دوست ہیں۔ اور دوست کو زیب نہیں دیتا کہ اپنی انا اور برتری کے ذریعہ ایک دوسرے پر مسلط ہونے کی کوشش کریں۔ ایسا کرنے سے آپس میں نباہ میں بہت سی مشکلیں اور قباحتیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اس لیے دونوں میں ہر فریق Give and takeکے اصول کو اپناتے ہوئے اپنے ساتھی کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرے۔ ایسا کرنے سے اس کے اپنے حقوق خود بخود پیروی کریں گے۔

ہم اس دنیا میں دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے ہر کوئی دوسرے کی محبت کا طلب گار ہوتا ہے۔ مگر اس محبت کو حاصل کرنے کے لیے محبت ہی کے دیپ جلانے پڑتے ہیں، پیار و اخوت کے پھول نچھاور کرنے پڑتے ہیں، اپنائیت کے رستے کو اپنانا پڑتا ہے، دوسروں کے لیے وہی چاہو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو کے رہنما اصول کو حرز جان بنانا پڑتا ہے۔

سورہ النساء آیت ۲ میں رحمی رشتوں کا مضمون بیان ہوا ہے بیاہ شادی کے موقعہ پر خطبہ نکاح میں اس آیت کا انتخاب غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور گھروں کی تعمیر میں یہ آیت ایک بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس آیت میں یاد دلاتا ہے کہ تم ایک جان سے پیدا ہوئے تھے، اگرچہ تعداد میں بڑھ رہے ہو اور پھیلتے جارہے ہو۔ یہ اہل ایمان کی زبردست وحدت ہے اور یہی مطلوب بھی ہے، مگر یہ تبھی نصیب ہوگا جب گھر کے تعلقات کو مضبوط کیا جائے اور رحمی رشتوں کو استوار کیا جائے۔ ان رشتوں کا لحاظ و احترام اور حقوق کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ گھر اور خاندان ان رشتوں کی بدولت تعمیر ہوتے ہیں۔ کیونکہ جس قوم کے گھر منتشر ہوجائیں وہ قوم اکٹھی نہیں رہ سکتی۔ اس کے مفادات بکھر جاتے ہیں۔ اس لیے ان رشتوں کی مضبوطی کے لیے اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کو روز مرہ زندگی میں قول سدید اختیار کرنے کا سورہ احزاب آیت ۷۱ میں حکم دیا۔ خطبہ نکاح کے موقعہ پر تلاوت کی جانے والی اس آیت میں قول سدید کی اہمیت واضح فرمائی ’’فرمایا اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سیدھی بات کہو۔ سیدھی بات سچی بات سے زیادہ اعلیٰ درجہ کی بات ہے۔‘‘ کیونکہ بعض دفعہ سچی بات کہنے سے بھی بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہونے کے احتمالات ہوتے ہیں اور معاشرے میں قول سدید اختیار کرنے سے میاں بیوی کے درمیان غلط فہمی اور بدگمانی پیدا نہیں ہوگی اور رشتوں میں ناچاقی اور کشیدگی پیدا نہیں ہوسکتی۔ اور اگر میاں بیوی قول سدید کو اختیار نہیں کرتے تو ان کے رشتہ کا اعتماد مجروح ہوجائے گا۔

روز مرہ زندگی میں سچائی اور کھری بات اختیار نہ کرنے سے انسانی رشتے کمزور ہوسکتے ہیں۔ رشتوں کی مضبوطی کے بغیر نہ ازدواجی زندگی خوشگوار ہوسکتی ہے اور نہ حسن معاشرت پیدا ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھروں میں امن پیدا کرنے کے لیے قول سدید کے ساتھ خدا ہمیں یہ بھی تعلیم دے رہا ہے کہ ’’ہم نے تمہیں ایک جان سے ہی پیدا کرکے بے شمار جانیں پیدا کی ہیں، مگر اس لیے نہیں کہ یہ رشتے ٹوٹ جائیں بلکہ اس لیے کہ رشتے قائم ہوں۔ اور بڑے احترام کے ساتھ قائم ہوں اس لیے ہمیںاللہ کی تعلیم کی روشنی میں ان رحمی رشتوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔

اللہ تعالیٰ کے رحمن ہونے کی صفت ہی ’’رحم‘‘ کی بنیاد ہے تو اگر تم رحمی رشتوں کو کاٹو گے تو خدا کی رحمانیت سے کاٹ دئے جاؤ گے۔ اور ایسے معاشرے کا رحمانیت سے کاٹے جانے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اس معاشرے میں محبت نہیں پل سکتی بلکہ نفرتیں ہی پیدا ہوں گی۔

مغرب میں انفرادی آزادی اور اپنی لذت یابی یعنی خود غرضی کی وجہ سے رحمی رشتوں کی ذمہ داری کو قبول نہیں کیا جاتا حتیٰ کہ ماں باپ کی ذمہ داری اور ان کی خدمت کو بھی یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے کیونکہ ان کی وجہ سے ان کی لذت کوشی اور انفرادی آزادی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ لیکن جہاں تک خود غرضی کا تعلق ہے تو یہ مشرقی معاشرہ میں بھی پائی جاتی ہے لیکن اس خود غرضی کی وہ انتہا نہیں جو مغربی معاشرہ میں ہے لیکن مشرق میں رحمی رشتوں کو خود غرضی سے بہت زیادہ انا پرستی، اپنی ذاتی اور خاندانی برتری اور نفرتوں کی بنیاد پر ان رشتوں کو ایسا کاٹ دیا جاتا ہے کہ شائد ہی اسے کوئی دوبارہ جوڑ سکے۔ لیکن ایسی معاشرتی خرابی آپ کو مغربی معاشرہ میں نظر نہیں آئے گی۔ مشرقی معاشرہ کی خرابیاں نفرتیں پیدا کرتی ہیں اور مغربی معاشرہ کی لذت کوشی کی برائی رشتوں کو اہمیت ہی نہیں دیتی۔ مشرق میں انا پرستی، خاندانی برتری اور نفرتوں کی وجہ سے اگر رشتے ٹوٹ رہے ہیں تو مغرب میں انفرادی آزادی اور لذت یابی کے شوق میں رشتوں کی پرواہ نہیں کی جاتی۔ حتی کہ میاں بیوی کے رشتے بھی اپنی اپنی لذت یابی کے شوق کی وجہ سے جھوٹے اور گندے ہوجاتے ہیں اور رشتوں میں وفا کے فقدان کی وجہ سے اہل مغرب کے گھر ٹوٹ رہے ہیں۔ جس قوم کے گھروں میں امن نہیں اس قوم کی گلیاں بھی ہمیشہ امن سے محروم رہیں گی۔

حقیقی جنت گھر کی تعمیر میں ہے۔ حقیقی جنت رحمی رشتوں کو مضبوط کرنے میں ہے۔ آج کی دنیا میں امن کی ضمانت ناممکن ہے۔ جب تک گھروں کے سکون و اطمینان اور اندرونی امن کی ضمانت نہ دی جائے۔ خاندان امن سے محروم رہیں گے۔ گھر آج مغرب میں بھی ٹوٹ رہے ہیں اور مشرق میں بھی۔ گھروں کو بنانے والا صرف ایک ہی ہے اور وہ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ ؐ ہی کی تعلیم ہے جو مشرق کو بھی سدھار سکتی ہے اور مغرب کو بھی۔ لہٰذا اسی کو رہنما اور اصول حیات بنانا چاہیے۔

شیئر کیجیے
Default image
شیخ عبدالمجید