6

انتقام

میرا نام احمد عبدالفتاح منفلوطی ہے، سابق وکیل، اب لیمان جیل کا قیدی نمبر۳۶۱۷۔ مجھے قید بامشقت کی طویل سزا دی گئی تھی۔ اب تک تین چوتھائی مدت کاٹ چکا ہوں۔ کچھ دنوں کے بعد رہائی مل جائے گی…… قید خانے کے دروازے کھول دئے جائیں گے، کہا جائے گا جاؤ اور اپنی زندگی سنوارو!

ان کو یہ کہاں معلوم کہ میری زندگی مجھ سے چھین لی گئی ہے …… ان کو نہیں معلوم کہ مجھ کو عمر قید کی سزا مل چکی ہے!

عدالت نے چند برس قید بامشقت کا حکم سنایا تھا، لیکن ہمارا ماحول اور خاندان اس فیصلہ پر راضی نہیں، میرے لیمان جیل میں داخل ہوتے ہی اس نے عمر قید کا فیصلہ صادر کردیا تھا۔ ہاں اس کے نفاذ میں قدرے تاخیر ہوجائے یہ اور بات ہے۔

میں جیل سے باہر نکلوں گا۔ زندگی سنوارنے کے لیے نہیں، اس کو خیر باد کہنے کے لیے۔ میری داستان سننے کے قابل ہے، کہ لوگ عبرت حاصل کریں۔

میں بالائی مصر کے ایک ایسے گاؤں کا باشندہ ہوں جہاں علم کی جھلک تک نہیں پہنچی، ایسا تاریک خطہ جہاں تہذیب و تمدن کا اثر تک نہیں، اجڈ گنواروں کا گاؤں، جہاں ایک فرد بھی تعلیم یافتہ نہیں، جہاں رواج و روایات کو قانون کا درجہ حاصل ہے، جو ہوتا آیا ہے، بس وہی قانون ہے۔

ہم ایک باپ کی تین اولاد تھے، دو لڑکے ایک لڑکی۔ بوڑھا باپ بے چارہ اس غیر مہذب گاؤں کا ایک فرد ضرور تھا، لیکن خدا اس کی مغفرت فرمائے نہایت نیک تھا۔ اس کا قلب منور تھا۔

یہ اس نور کا اثر تھا کہ والد نے مجھ کو اور میرے چھوٹے بھائی کو بچپن ہی میں شہر منفلوط کے ایک ابتدائی مدرسہ میں داخل کردیا۔ مدرسہ اس قدر دور تھا کہ ہم دونوں صبح سویرے چل پڑتے اور یہ مسافت کہیں دوپہر تک طے کرپاتے۔ چھوٹے بھائی سے راستہ کی مشقت برداشت نہ ہوسکی اور والد نے اس کو اپنے ساتھ کاشت کاری میں لگالیا۔

میں نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ تاآنکہ وکالت کی ڈگری حاصل کرلی۔ اور منفلوط ہی میں اپنا دفتر کھول لیا۔

وکالت پاس کرنے کے بعد میں پہلی مرتبہ اپنے گاؤں آیا تو دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو علم کی دولت سے سرفراز کیا ہے، میں بھی اپنے گاؤں والوں کے کسی کام آؤں، یہ لوگ جو جہالت کی تاریکی میں گم ہیں، ان کے لیے مشعل بنوں، ان میں علم کا شوق پیدا کیا جائے۔ لیکن قبل اس کے کہ میں اس منزل پر گامزن ہوتا ہمارے خاندان میں وہ انقلاب واقع ہوا جس کا وہم و گمان بھی نہ تھا۔

میری بہن ہانم سن شباب کو پہنچ چکی تھی۔ یہ ہانم بچپن ہی سے بے حد شرمیلی اور نرم خو لڑکی تھی۔ بالائی مصر کی قساوت اور درشتی اس میں نام کو نہ تھی۔ میں اس سے کہا کرتا تھا ’’ہانم! تیری مثال اس معطر نامہ کی سی ہے جسے آسمان نے قاہرہ کی طرف بھیجا لیکن نامہ بر نے غلطی سے بالائی مصر کی گھاٹیوں میں ڈال دیا۔‘‘

والد کے نور میں ہانم کا بھی حصہ تھا۔ جب وہ چھوٹی سی ہی تھی تو کہا کرتی ’’کاش میں لڑکا ہوتی تو تمہارے ساتھ مدرسہ جایا کرتی۔‘‘ ہانم مدرسہ تو نہ جاسکی۔ البتہ میں جو سبق ابتدائی مدرسہ میں حاصل کرتا وہ روزانہ ہانم کو بھی پڑھا دیا کرتا۔ ابا جان ہم دونوں کو پڑھتا دیکھتے تو خوشی سے پھولے نہ سماتے اور دعائیں دیتے۔

ہانم اب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی تھی۔ قاہرہ کی سیر تو اس نے کیا کی ہوتی، وہاں کی تعلیم گاہوں اور سوسائٹی کے دوسرے ماحول کا تو ذکر ہی کیا وہ تو منفلوط تک بھی نہ جاسکی جہاں ہمارے بعض اقرباء مقیم تھے۔ قاہرہ اور منفلوط، وہاں کی تعلیم گاہوں، اور دیگر مقامات کا اس کا علم اسی قدر علم جتنا میری زبانی وہ سن لیا کرتی تھی یا جو رسائل اور کتابیں میں اس کے لیے بھیجا کرتا تھا ان سے کچھ حاصل کرلیتی تھی۔

ایک ہمارا چچا بھی تھا …

یہ شخص غربت کے ساتھ ساتھ کچھ ایسا سنکی اور بداطوار تھا کہ ہر شریف انسان پہلی ہی نظر میں، کچھ کہنے سننے سے قبل ہی اس سے نفرت کرنے لگتا تھا۔

اس کا اکلوتا لڑکا تھا، بدمزاجی میں اپنے باپ کا صحیح وارث اور جہالت میں گاؤں بھر میں سب سے اجڈ اور پھر اللہ کی شان، نام کا بھی غراب (کوا) تھا۔ اس کے باپ کے ہاں اولاد پیدا ہونے سے قبل بطن ہی میں مرجایا کرتی تھی۔ خدا خدا کرکے یہ زندہ پیدا ہوا تو اپنے عقیدہ کے مطابق اس نے لڑکے کا نام غراب رکھا کہ زندہ رہے۔

غراب اور میں ہم عمر تھے۔ جب وہ سترہ برس کا ہوا تو باپ نے اس کی شادی کردی تاکہ بال بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی کے دن گزارے، میں نے وکالت کا کام شروع کیا تو ہم دونوں کی عمر تیئس برس کی ہوںگی۔ میرا چھوٹا بھائی مہدی دو سال چھوٹا تھا … اور ہانم مہدی سے تقریباً دو برس چھوٹی تھی۔

ایک روز میں گاؤں آیا، گھر میں داخل ہوا تو دیکھا ہانم پانی کے گھڑے پر جھکی ہوئی ہے، اس کی آنکھیں اشک بار ہیں۔

’’ہانم! تجھے کیا ہوا؟‘‘

اتنا سننا تھا کہ وہ بے چاری زاروقطار رونے لگی۔ مجھے بیٹھک کے کمرے میں سے دو آدمیوں کی گفتگو کی آواز سنائی دی۔ ایک آواز ابا جان کی تھی، اور دوسری چچا کے بیٹے غراب کی۔ اب میں سمجھ گیا کہ ماجرا کیا ہے …

غراب اباجان کے پاس ہانم سے نکاح کی درخواست کرنے آیا ہوا تھا۔ ہانم نے میری طرف دیکھا اور امداد طلب نگاہوں سے بولی: ’’کیا آپ بھی میرے اس انجام پر راضی ہیں؟‘‘

میں نے اس کا شانہ نرمی سے تھپکا اور بیٹھک کے دروازے کے قریب کھڑا ہوکر گفتگو سننے لگا۔

بالآخر ابا جان نے اس سے کہا ’’بیٹا! ذرا ٹھہرو … میں اس معاملہ میںماسٹر جی سے مشورہ کرلوں۔‘‘ ان کا یہ اشارہ میری طرف تھا۔ ابا جان یہ کہہ کر اٹھے،غراب کو بیٹھک کے کمرہ میں چھوڑا اور بیٹھک کا دروازہ بند کرکے ہماری طرف آئے۔ کچھ دیر ہمارے پاس بیٹھے۔ بے چارے عجیب کشمکش میں مبتلا تھے۔چند لمحہ ہر طرف خموشی طاری رہی، آخر کار میں نے مہر سکوت توڑنے میں پیش قدمی کی۔ ’’ابا جان ! مجھے سب معلوم ہوگیا ہے۔‘‘

’’میرے بیٹے! تو اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے، تم ہم سب میں علم کے لحاظ سے بڑے ہو اور فیصلہ تمہارے ہی اختیار میں ہے۔‘‘

میں نے ابا جان کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے کر چوما اور کہا: ’’استغفراللہ! …… میں تو صرف رائے دے سکتا ہوں، فیصلے کا اختیار آپ کو ہے۔‘‘

میں نے ہانم کو ایک طرف چلے جانے کے لیے اشارہ کرتے ہوئے کہا : ’’میں تجھ سے نہ کہتا تھا کہ نامہ بر کو پتہ میں غلطی لگی۔‘‘

ابا جان کے چہرے سے حیرت و تعجب کے آثار نمایاں تھے۔ میں نے ان سے کہا:

’’ابا جان! اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلب کو ایک خاص نور سے منور کیا ہے، آپ بخوبی جانتے ہیں کہ اس نکاح سے نہ ہانم کا کچھ بھلا ہوگا اور نہ غراب کسی مطلب کو پہنچے گا۔‘‘

’’بیٹا! یہ تو مجھے معلوم ہے لیکن …… میں اس سے آخر کیا کہوں، وہ میرا بھتیجہ ہے؟ …… اور اپنے بھائی کو کیا جواب دوں؟‘‘

میں ابا جان کو کمرے کے ایک طرف لے گیا اور کہا: ’’اچھا میں ہی سب کچھ کہہ دوں گا۔‘‘

اب میں بیٹھک میں داخل ہوا، جہاں غراب بیٹھا تھا۔ علیک سلیک ہوئی اور اس کے سامنے بیٹھ کر ایسا انداز اختیار کیا گویا میں گفتگو میں پہل کروں گا۔

اب میں سوچ رہا تھا کہ انکار کس طریق پر کیا جائے۔ کن مناسب الفاظ میں اس سے کیا کہا جائے کہ یہ تلخ گھونٹ اس کے حلق سے اتر جائے۔ کیا میں یہ کہوں کہ تم اکھڑ اور اجڈ ہو …… حیوان ہو …… جاہل ہو …… اور میری بہن شریف، مہذب اور تعلیم یافتہ ہے۔

کچھ لمحہ اسی شش و پنج میں مبتلا رہنے کے بعد میں نے سلسلۂ کلام جاری کیا۔

’’بھائی غراب! ہانم کو تم سے بہتر شوہر بھلا کون مل سکتا ہے۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ چند روز کی مہلت مل جائے کہ یہ بات ہانم کے گوش گزار کردوں اور اس سلسلہ میں اس کا مشورہ بھی لے لوں۔‘‘

میرا یہ کہنا تھا کہ غراب کی تیوری پر بل آگئے منھ پھیلا کر اپنے باپ کی طرف ناک میں بولنے لگا: ’’بھائی صاحب! یہ ہم لوگوں میں مردوں کے ہوتے ساتے عورت سے صلاح کب سے لی جانے لگی ہے؟‘‘

میں نے حتی الامکان نرمی برتتے ہوئے گفتگو جاری رکھی: ’’بھئی غراب! مجھے تو تم پر کوئی اعتراض نہیں … لیکن تم بھی جانتے ہو کہ تم … شادی شدہ ہو… اور تمہاری اولاد بھی ہے ……

’’شادی شدہ؟ شرع نے ہم کو چار شادی کی اجازت دی ہے …… ماسٹر جی! کیا تمہارے مدرسہ میں شرع نہیں پڑھائی جاتی ہے؟‘‘

درست ہے … لیکن ہانم تو ابھی کم عمر ہے … ابھی پڑھائی میں لگی ہوئی ہے … تمہیں معلوم ہی ہے۔‘‘

’’بس یہی تو سب سے بڑا عیب ہے… میں تو ہرگزاسے لکھنے پڑھنے نہ دوں گا۔‘‘

’’ہاں ہاں، لیکن جبھی کہ شادی ہوجائے۔‘‘

’’یعنی تمہارامطلب ہے کہ ……‘‘

’’بھئی میرا کوئی مطلب وطلب نہیں۔ بات یہ ہے کہ یہ سب باتیں قسمت کے ہاتھ ہیں۔ جو قسمت میں لکھا ہے وہی تو ہوگا۔‘‘

’’ماسٹر جی! دراصل تم نے لکھا پڑھا کر لڑکی کو بگاڑ دیا ہے۔‘‘

اتنا کہہ کر غراب کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اپنی جگہ سے اٹھا۔ غصہ کے مارے اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ ’’اچھا خیر کچھ بھی ہو …… میں ایک ہفتہ کے بعد پھر آؤں گا۔‘‘

اب گویا سات روز کے لیے تو چھٹکارا ملا۔ خاندان کی بڑی بوڑھیاں، ادھر ادھر آتی جاتی رہیں۔ ادھر کی باتیں اُدھر اور اُدھر کی اِدھر نقل ہونے لگیں۔ اُدھر یہ کہا جانے لگا کہ ہانم کو رونے پیٹنے سے فرصت نہیں، اس کے ماسٹر جی یعنی میں اس کو انکار پر اکسانے سے باز نہیں آتے۔ اس کا باپ تو بوڑھا بے چارہ کبھی کا راضی ہے۔

ہفتہ گزرتے ہی وہ اپنے وعدہ کے مطابق آدھمکا۔ اس دفعہ ماحول کچھ اور تھا۔ اس کے کریہ المنظر چہرے پردرشتی کے آثار نمایاں تھے۔ علیک سلیک کے بغیر ہی بول اٹھا: ’’کیوں؟‘‘

میں نے کوئی جواب نہ دیا تو پھر نفرت آمیز لہجے میں گویا ہوا:

’’کیوں جی! …… سب ٹھیک ٹھاک ہے نا!‘‘

’’جو اللہ کو منظور ہو۔‘‘

یہ جواب پاکر اس نے شرارت آمیز ٹھٹھا لگایا اور غضبناک ہوکر کہنے لگا:

’’سنو ماسٹر جی! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے گھر کے مرد اب عورت کی رائے پر چلنے لگے ہیں …سمجھے … جب تک یہ لڑکی لکھائی پڑھائی میں لگی رہے گی …… لوگوں کی زبان بھی نہیں پکڑی جاسکتی۔‘‘

’’لوگوں کی زبان سے تمہارا کیا مطلب ہے؟‘‘

’’تم بھی طالب علم رہ چکے ہو، مشہور ہے کہ جس کو لکھنا آتا ہے، اس کو لکھا بھی جاتا ہے۔‘‘

’’ذرا صاف صاف بیان کرو۔‘‘

’’صاف صاف ہی سننا چاہتے ہو؟ تو سنو …… تمہاری بہن نے میرے ساتھ نکاح سے انکار کیا …… معلوم ہوتا ہے ضرور اس نے کسی غیر مرد سے تعلق پیدا کرلیا ہے۔‘‘

بس اس قدر سننا تھا، میری نرمی نے میرا ساتھ چھوڑ دیا۔ اپنی جگہ سے اٹھ کر میں نے پھر اس سے سوال کیا:’’تو کیا کہتا ہے ……؟‘‘

میرا حلق غیظ و غضب سے خشک ہوکر رہ گیا۔ غراب بے شرمی کے ساتھ مسکرایا اور اٹھ کر کہنے لگا:

’’میں نے کہا، ضرور تیری بہن کا تعلق غیر مرد سے ہوگیا ہے۔ لکھانے پڑھانے کا یہی نتیجہ ہوا کرتا ہے۔‘‘ میری بہن! …… اس کا تعلق غیر مرد سے ہے؟‘‘

یہاں …… بس اب یہاں…… مجھ کو معلوم ہوگیا کہ روایاتی جراثیم انسانی خون میں وہ مقام رکھتے ہیں جن کو نہ تعلیم و تہذیب ختم کرسکتی ہے نہ فہم و منصب ان کو فنا کرسکتے ہیں۔

مجھے یاد نہیں میں نے کچھ غور بھی کیا … نہ اس قدر ہوش کہ میں کیا کررہا ہوں … البتہ صرف میرے ہاتھ نے حرکت کی …… فوراً اپنی جیب سے ریوالور نکالا اور اس کے سر پر خالی کردیا۔

میں کچھ عرصہ روپوش رہا۔ بعد ازاں ایک روز عدالت کے سامنے حاضر تھا۔غراب کے قتل کے الزام میں ماخوذ۔!

ابا جان بے چارے عدالت کے سامنے بیان دے رہے تھے۔ نور ایمان سے سرشار، انھوں نے جو حق بات تھی وہ کہہ دی۔

’’خدا گواہ ہے، جو حق بات ہے وہ میں کہتا ہوں …… میرا لڑکااحمد میرے بھائی کے لڑکے غراب کا قاتل ہے۔‘‘

عدالت نے مجھ کو طویل قید بامشقت کا حکم سنادیا۔

لیکن کینہ و انتقام کی آگ نہ بجھی۔

میرا چچا میرے والد کے مکان پر چڑھ آیا:’’او بزدل! اپنے بیٹے کی گواہی میں گیا تھا۔‘‘

رہی سہی انسانیت جیسے بالکل مفقود ہوچکی تھی۔ شر اپنے عروج پر تھا۔ یہ اجڈ اپنی شرارت سے ذرا باز نہ آیا، پھر چیخ کر پکارا۔

’’او بزدل! تو نے گواہی اس لیے دی کہ اپنے لڑکے کو عدالت کی حفظ و امان میں پہنچادے… اس کو میرے پنجے سے بچالے …… اس کو اس خون کے انتقام سے پناہ میں رکھے جو میرے اور تیرے درمیان بہہ چکا ہے …… ہم بالائی مصر والے ہیں …… ہم کسی حاکم کا حکم ماننے پر تیار نہیں … قانون ہمارے ہاتھ میں ہے … ہمارا قانون ہے، خون کا بدلہ خون!‘‘

میرے والد جن کا سینہ نور اور ایمان سے معمور تھا، کہنے لگے: ’’نہیں، میرے بھائی! خدا گواہ ہے میں نے اپنے لڑکے کو بچانے کے لیے ہرگز شہادت نہیں دی … بلکہ محض اس سزا کے اجرا کے لیے شہادت دی جس کا وہ مستحق ہے … اور تم اگر انتقام ہی لینا چاہتے ہو تو یہ میرادوسرا بیٹا موجود ہے۔‘‘

یہ کہتے ہوئے ابا جان نے میری بھائی مہدی کی طرف اشارہ کیا …

ایک اندھیری رات … بالائی مصر کا قانون نافذ ہوا … میرا بھائی مہدی بیدردی سے ذبح کردیا گیا۔ بے چارے بوڑھے باپ کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ اس کے دوہی بیٹے تھے۔ ایک بیٹا لیمان میں نظر بند اور دوسرا انتقام کا شکار … اس کے لیے دنیا تنگ و تاریک ہوگئی … آسمان کی طرف نظر اٹھا کر ایک آہ کھینچی اور دم توڑ دیا۔

میری بہن ہانم باقی رہ گئی۔ چھتیس برس کی عمر میں اب تک کنواری ہے۔ اس نے اپنی جوانی اپنے بھائی کے انتظار میں گزار دی …… میرے انتظار میں …… کہ لیمان سے باہر نکلوں اور مہدی کے خون کا انتقام لوں ……

یہاں سے ایک روز مجھ کو نکلنا ہے …… زندگی بنانے کے لیے نہیں، بلکہ اسی واقعہ کو دہرانے کے لیے …… ایک رات میں مہدی کا انتقام لوں گا ……

دوسرے روز مجھ سے انتقام لیا جائے گا …… میں قاتل بھی ہوں اور مقتول بھی …میری ہلاکت یقینی ہے … گویا مجھے عمر قید کا حکم سنتے ہوئے سترہ برس گزر چکے ہیں، آج نہیں کل، اس کا نفاذ ہوکر رہے گا!

یہ تھی میری داستان، میری تمنا یہی ہے کہ آپ میرے لیے اور میرے ہم وطنوں کے لیے ہدایت کے طلب گار ہوں۔ (عربی سے ترجمہ)

شیئر کیجیے
Default image
بشیر احمد (ریسرچ اسکالر شعبہ عربی)

تبصرہ کیجیے