3

نئی روشنی کا اندھیرا

افــــــــراد

۱-تسنیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاشم کی نوجوان بیوی

۲-ہاشم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک خوشحال نوجوان

۳-ڈاکٹر قادری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاشم کا دوست، کلب کا ممبر

۴- ایک حاذق طبیب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک اسلام پسند حکیم

۵- جمال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاشم کا دوست، کلب کا ممبر

۶- بیگم شیخ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مغرب زدہ خاتون، کلب کی ممبر

۷-بیرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاشم کا ملازم

۸-ڈاکٹر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معالج

۹-نرس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۰-کمسن بچہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاشم کا لڑکا

…………………………………………

(پہلا منظر)

ایک متمول گھر کا آراستہ کمرہ جس میں تسنیم بیٹھی ہے ہاشم کھڑا ہے۔ اور نوکر ٹرے لاکر میز پر رکھ رہا ہے جس میں چائے کے برتن اور بسکٹ وغیرہ ہیں۔ ہاشم کھڑا ہوا ہے۔

(نوکر برتن رکھ کر جاتا ہے)

ہاشم: بیگم جلدی کرو۔ یہ چائے بھی وہیں ڈرائنگ روم میں بھجوادو۔

تسنیم: جی نہیں۔ میں نہیں جاؤں گی۔ چائے وہاں بھجوائے دیتی ہوں۔

ہاشم: نہیں بھئی میرا مطلب ہے تم اور چائے دونوں وہیں۔

تسنیم: میں جانے کو تیار ہوں میں کلب کی ممبر نہیں بنوں گی۔

ہاشم: تسنیم یہ نہ کہو وہ لوگ آج یہ طے کرکے آئیں ہیں کہ تمہیں ممبر بنا کر چھوڑیں گے۔

تسنیم: اور میں آپ سے کہہ چکی ہوں کہ مجھے اپنے گھر کے کاموں سے فرصت نہیں کہ کلب جاتی پھروں اور آپ کے دوستوں کے ساتھ جلسوں اور پارٹیوں میں شرکت کروں۔

ہاشم: تسنیم خدا کے لیے آہستہ بولو،وہ سب سنیں گے کہ تم ایک جاہل عورت ہو۔ مجھ جیسے اپٹوڈیٹ سوشل آدمی کی بیوی اور ایسی وقیانوسی!

نوکر: (آکر) صاحب، وہ صاحب لوگ اور بیگم صاحب بولتے ہیں، آپ آئیے نہیں تو ہم اندر آتے ہیں۔

ہاشم: (گھبرا کر) دیکھا نا! میں نہ کہتا تھا، یہ سب کے سب بڑے آزاد خیال اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ اور بیگم شیخ تو کمال کی عورت ہیں۔

تسنیم: ہوا کریں۔ انہیں یہ کمال مبارک ہو۔ مجھے میری حالت پر رہنے دیجئے۔

قادری: (دور سے آواز) مسٹر ہاشم! آپ لوگ یہاں آتے ہیں یا ہم آجائیں۔ یہ کیا واہیات ہے کہ اندرجا بیٹھے۔

ہاشم: میں کہتا تھا نا تسنیم یہ نہیں مانیں گے تم ممبر بننا منظور کرلو۔ اور چلو ڈرائنگ روم میں، ورنہ وہ سب یہاں آجائیں گے۔

تسنیم: یہ اچھی زبردستی ہے۔

ہاشم: (ہاتھ پکڑ کر) بس آجاؤ، اب مان جاؤ۔ ورنہ میری دو کوڑی کی ہوجائے گی۔ سارے کلب میں بے عزتی ہوجائے گی۔ چلو آؤ۔

تسنیم: جائیے آپ، میں آتی ہوں۔

ہاشم: اوہ زندہ باد! (نوکر کو آواز دے کر) بیرا، بیرا!

بیرا: (آکر) جی صاحب!

ہاشم: دیکھو چائے باہر ڈرائنگ روم میں لگاؤ۔

بیرا: بہت اچھا صاحب (ٹرے اٹھا کر چلا جاتا ہے)

(پردہ)

دوسرا منظر

(ڈرائنگ روم میں)

(ہاشم کے دوست قادری، جمال اور بیگم شیخ بیٹھے قہقہے لگا رہے ہیں۔ پہلے ہاشم داخل ہوتا ہے)

قادری: یعنی کے ہار گئے نا بیگم سے۔ وہ نہیں مانیں؟

(بیرا چائے کی ٹرے اور پیچھے پیچھے بیگم آتی نظر آرہی ہیں) قادری (ایک دم گھبرا کر) اوہ معاف کرنا بھابی سلام علیکم۔

تسنیم: تسلیم

بیگم: ہیلو بھابی کیسے مزاج ہیں؟

تسنیم: (شرماتے ہوئے) خیریت ہے تشریف رکھئے۔

ہاشم: (گھبرا کر) ڈاکٹر قادری۔

قادری: بھابی ہم چائے پی سکتے ہیں؟ یہ گرم گرم چاہے اور پیسٹری دیکھ کر ہم چپ چاپ نہیں بیٹھ سکتے۔

ہاشم: تسنیم دیکھا تم نے کیسے شریف آدمی ہیں یہ لوگ اور بیگم شیخ تو جس قدر دیکھنے میں خوبصورت ہیں اس سے کہیں زیادہ ان کا دل خوبصورت ہے کتنی پرخلوص اور بے تکلف۔

تسنیم: (میز کے قریب آکر) آپ کیوں تکلیف فرماتی ہیں۔ بیگم شیخ! میں چائے بناتی ہوں۔

بیگم شیخ: نہیں نہیں۔ آپ باتیں کیجیے۔ ہم لوگ خود اپنی خاطر کرنا جانتے ہیں۔

بیرا: سرکار

تسنیم: کیا ہے بیرا۔

بیرا: ننھے میاں کو لے آؤں کیا؟

بیگم شیخ: یہ ننھے میاں کس جانور کا نام ہے بھابی؟

تسنیم: ہم اپنے بچے کو اسی نام سے پکارا کرتے ہیں؟

بیگم شیخ: (حیرت سے) بچہ! آپ کا بچہ!! مگر ڈرائنگ روم میں بچوں کا کیا کام؟ یہ بیرا آپ کا کوئی بد تمیز آدمی معلوم ہوتا ہے؟

تسنیم: ہاشم دفتر سے آتے ہیں تو بچہ ان کے ساتھ ہی چائے پیتا ہے۔ اس کی کچھ ایسی عادت سی ہوگئی ہے۔

بیگم شیخ: یہ عادت تو بالکل بے ہودہ ہے۔ میرے تین بچے ہیں، وہ مہینوں تک ماں باپ کی شکل نہیں دیکھتے۔ یہ نوکر ہیں آخر کس مرض کی دوا۔ بیرا جاؤ تم بچوں کی چوں چوں سننے کے لیے نہیں آئے۔ ایسا ہی ہے تو ایک پیالی چائے کی لے جاؤ بیرا۔

تسنیم: آپ چائے پیجئے میں بچے کو جاکر خود ہی چائے پلاتی ہوں۔ (چلنے لگتی ہے ہاشم اٹھ کر کر اس کے ساتھ جاکر علیحدہ بات کرتا ہے)

ہاشم: (روکتے ہوئے) نہیں نہیں ایسا ستم نہ ڈھانا تسنیم! اگر تم مہمانوں کو چھوڑ کر چلی گئیں تو سارا کلب مجھ پر ہنسے گا۔

بیگم شیخ: ہاہا ہا۔ مرد کا حکم ماننا عورت ذات کی ذلت ہے۔ ان مردوں نے ہم عورتوں کو ایک کھلونا بنا رکھا ہے اور کھلونوں سے بھی کھیلنے کا ایک وقت ہوتا ہے یہ مرد عورتوں کی کمزوری سے ہر وقت کھیلتے رہتے ہیں گھر کا انتظام، بچوں کی نگہداشت، مہمانوں کی خاطر سب کچھ عورت کرے آخر یہ مرد بھی کوئی کام کرنا جانتے ہیں یا نہیں۔ ہاشم نے بھائی کو جو حکم دیا بے چاری مجبور ہوگئیں!

جمال: (ہنس کر) دراصل بچوں کی نگہداشت مردوں کا کام ہے۔

قادری: (اور زور سے) کیونکہ مرد ہی بچوں کے باپ ہیں سوشل موریلیٹی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جو مرد اپنا گھر آباد کرتا ہے اس کا فرض ہے کہ اس گھر کا انتظام خود کرے، اس کے سازوسامان کا خود کفیل ہو، عورت خود زبردستی کسی مرد کے گھر میں نہیں گھس جاتی۔

تسنیم: (انتہائی غصے میں) تو جناب اس دنیا میں عورت کا بھی کوئی فرض ہے یا نہیں؟

قادری: (زور دے کر) ہے کیوں نہیں۔ مگر پرانی تہذیب اور نئی تہذیب میں فرق ہے، آج کی تہذیب کا تقاضا کچھ اور ہے۔

ہاشم: (خوش ہوکر) کاش آپ لوگ تسنیم کو کلب کا ممبر بننے پر رضا مند کرلیں۔ تاکہ میرا گھر بھی تہذیب اور تمدن کے نور سے منور ہوجائے۔

تسنیم: (غصے سے) میں آگ میں جھونکتی ہوں تمہارے کلب کو اور جہنم میں ڈالتی ہوں ایسی تہذیب کو۔

بیگم شیخ: ہائیں ہمارے کلب کی یہ انسلٹ، کل کا اخبار تمہاری بیگم کی جہالت اور بد تہذیبی کی داستان سے سیاہ ہوگا ہاشم!

ہاشم: (ڈرتے ہوئے) نہیں بیگم شیخ، خدا کے واسطے کہیں ایسا نہ کربیٹھنا۔ میں یہ توہین برداشت نہ کرسکوں گا۔ یہ میری بیوی کچھ ہے ہی ایسی۔

تسنیم: (غصے سے) ہاں آپ کی بیوی جاہل ہے۔ کیونکہ وہ صبح پانچ بجے اٹھ کر آپ کی چائے آپ کے غسل آپ کے لباس، آپ کے کھانے کا انتظام کرتی ہے۔ آپ کی بیوی جاہل ہے۔ کیونکہ دس بجے سے چار بجے تک وہ آپ کے گھر کی آرائش، آپ کے گھر کے کام کاج، آپ کے بچے کی تربیت اور حفاظت میں صرف کرتی ہے۔ آپ کی بیوی جاہل ہے کیونکہ پھر چار بجے سے رات کے گیارہ بجے تک جب تک آپ اپنے کلب سے واپس نہیں آتے، وہ آپ کے آرام و آرائش کی فکر میں مبتلا آپ کے گھر کو شادوآباد رکھنے کے غم میں سرگرداں رہتی ہے آپ کی بیوی جاہل ہے کیونکہ آپ کے گھر کو اپنی دنیا اور آپ کی خوشی کو اپنا مقصد حیات سمجھتی ہے۔ (بدل کر) بہت اچھا میں بھی اب مہذب بنوں گی۔ بیگم شیخ میں آپ سے معافی چاہتی ہوں، جو کچھ میں نے کہا وہ میری جہالت تھی۔ میری بد تہذیبی تھی۔ آج سے میں آپ کی شاگرد ہوں، چلئے میں کلب کی ممبر بننے کو تیار ہوں۔ آئیے مجھے اپنی مہذب دنیا میں لے چلئے۔ اور ایک جاہل عورت کو مہذب اور شائستہ بنائیے۔

قادری: (خوش ہوکر) بسم اللہ ! بسم اللہ!

جمال: (خوش ہوکر) اس کو کہتے ہیں صحیح اخلاقی جرات بیٹر بیٹر!

بیگم شخ: (خوش ہوکر) شاباش! مجھ کو آپ جیسی عقل مند اور شریف خاتون سے یہی امید تھی۔ میں آپ کو معاف کرتی ہوں۔ (قہقہے)

قادری: بیگم ہاشم!

سب: زندہ باد!

(پردہ)

شیئر کیجیے
Default image
عشرت رحمانی

تبصرہ کیجیے