2

فروغ علم کے لیے نبیؐ کی جدوجہد

حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جس قوم میں مبعوث ہوئے اس میں ایک طرف تو تعلیم کا رواج نہ تھا، چند لوگ ہی تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ دوسری طرف اس میں اعلیٰ ذہنی تربیت اور بلند اخلاقی قدروں کا تقریباً فقدان تھا۔ رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تو آپ نے اپنی بعثت کا مقصد یہ بتایا:

إنما بعثت معلماً۔ (میں معلم بناکر بھیجا گیا ہوں۔)

انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق۔

’’میں بھیجا گیا ہوں تاکہ بہترین اخلاق کی تکمیل کروں۔‘‘

آپ کی تعلیم کیا تھی اس کی قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت سے بخوبی وضاحت ہوجاتی ہے:

لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلاً مِنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِم آیَاتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ۔

’’بے شک اللہ نے مومنوں پر احسان کیا جبکہ ان میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اس کی آیات سناتا اور ان کا تزکیہ کرتا ہے۔ اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘

مندرجہ بالا آیت سے رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے چار مقاصد واضح ہوتے ہیں۔پہلا اللہ کی آیات پڑھ کر سنانا، یعنی اللہ کا کلام (پیغام) بعینہٖ لوگوں تک پہنچانا۔ دوسرا اس کلام (پیغام) کی تشریح کرنا، جس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک قولی اور دوسری عملی۔ تیسرا مقصد حکمت کی تعلیم دینا۔ یعنی لوگوں میں یہ صلاحیت پیدا کرنا کہ ان کے اعمال صحیح رخ پر یعنی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوجائیں۔ چوتھا تزکیہ کرنا یعنی انسانوں کی ذہنی تربیت اس انداز سے کرنا کہ ان کے جذبات مناسب حدود میں آجائیں جس کے نتیجے میں ان میں اچھی خصلتیں مثلاً سخاوت، ایثار، صداقت وغیرہ پیدا ہوجائیں اور بری خصلتیں مثلاً بخل، کینہ اور حسد وغیرہ دور ہوجائیں۔ مثال کے طور پر شجاعت ایک جذبہ ہے۔ اس کا اظہار اس طرح بھی ہوسکتا ہے کہ آدمی بلا وجہ کسی کو چیلنج کرے اور اس سے لڑائی مول لے۔ اور اس کااظہار اس طرح بھی ہوسکتا ہے کہ میدانِ جنگ میں حق کے راستے میں دشمنوں سے جنگ کرے۔ موخر الذکر صورت میں جذبۂ شجاعت کا اظہار تزکیہ کی حدود میں آتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ پہلے تین مرتبے تعلیم کے ہیں اور چوتھا یعنی تزکیہ علم کے لازم کی حیثیت سے ہے۔ اگر تزکیہ نہ ہو تو علم بجائے مفید ہونے کے انسان کے لیے مضر ہوسکتا ہے۔

آپؐ کی تعلیم کے دو پہلو

رسول ﷺ دین کی تعلیم دو طریقوں سے دیتے تھے۔ ایک اپنے ارشادات کے ذریعہ اور دوسرے اپنے عمل کے ذریعہ۔ مسلمانوں کو یہ حکم تھا کہ وہ رسول ﷺ کی پیروی کریں۔ یعنی اس طریق پر عمل کریں جس طرح وہ اپنے رسول ﷺ کو کرتے دیکھیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمْ اللّٰہٗ۔

’’آپ کہہ دیجیے کہ اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ تم سے محبت کرے گا۔‘‘

آپؐ کی تعلیم مختلف طریقوں سے ہوتی تھی۔ عام طور پر آپ مجلس میں بیٹھ کر لوگوں سے باتیں کرتے اور اس طرح ان کی تعلیم ہوتی۔ کبھی کوئی سائل سوال کرتا تو آپؐ جواب دیتے۔ کبھی مجمع میں تقریر فرماتے، آپؐ کی تقریر عام طور پر چند منٹ سے زیادہ نہ ہوتی تھی۔ آپؐ نے شاید ہی کبھی کوئی طویل تقریر کی ہو۔ اصحاب صفہ کے نام سے صحابہ کی ایک جماعت خصوصیت سے آپؐ کے زیر تعلیم رہتی تھی۔ جب آپ کوئی بات فرماتے تو اس کو تین بار دہراتے تاکہ لوگوں کی سمجھ میں آجائے۔

حصولِ علم کی فضلیت و فرضیت

علم حاصل کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد نبویؐ ہے۔ طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم مسلمۃ ( علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے۔)

رسول اللہ ﷺ کی بہت سے احادیث سے علم کی فضیلت اور حصولِ علم پر اجر کا ملنا ثابت ہوتا ہے مثلاً مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ ہوں:

(۱) من جاء بہ الموت وہو یطلب العلم لیحیی بہ الاسلام فبینہ و بین النبیین درجۃ واحدۃ فی الجنۃ۔

’’جس کو ایسی حالت میں موت آگئی کہ وہ علم حاصل کررہا تھا تاکہ اس کے ذریعہ اسلام کو زندہ کرے تو اس کے درمیان اور نبیوں کے درمیان جنت میں ایک درجہ کا فرق ہوگا۔‘‘

(۲) ومن سلک طریقا یلتمس فیہ علماً سہل اللہ بہ طریقاً الی الجنۃ۔

’’ اور جو شخص علم کی تلاش میںکسی راستے پر چلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے۔‘‘

(۳)من خرج فی طلب العلم فہو فی سبیل اللہ حتی یرجع۔

’’جو شخص علم کی طلب میں نکلتا ہے تو وہ لوٹنے تک اللہ کے راستے میں ہوتا ہے۔‘‘

اشاعت علم کی تاکید اور فضیلت

رسول اللہ ﷺ نے دینی تعلیمات کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کی تاکید فرمائی ہے۔ ارشاد نبوی ہے:

بلغوا عن ولو آیۃ۔ (میری طرف سے پہنچا دو اگرچہ ایک آیت ہی ہو۔)

کسی اچھائی کی تعلیم دینے والے کا درجہ اس اچھائی کرنے والے کر برابرقرار دیا گیا ہے۔

من دل علی خیر فلہ مثل اجر فاعلہ۔

’’جس نے کسی اچھی بات کی طرف راہنمائی کی تو اس کے لیے اس کے کرنے والے جیسا اجر ہوگا۔‘‘

کسی کو علم سکھانا جس سے کہ سیکھنے والا نفع حاصل کرے ان اعمال میں سے قرار دیا گیا ہے جو انسان کی موت کے بعد بھی جاری رہتے ہیں اور ان پر اجر ملتا رہتا ہے۔

اذا مات الانسان انقطع عنہ عملہ الا من ثلثۃ من صدقۃ جاریۃ او علم ینتفع بہ او ولد صالح یدعولہ۔

’’جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے سوائے تین کے (کہ وہ منقطع نہیں ہوتے) صدقہ جاریہ، وہ علم جس سے کہ نفع حاصل کیا جائے، نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔‘‘

مسلسل حصول علم کی ترغیب

قرآن کریم میں رسول اللہ ﷺ کو اس دعا کی ترغیب کی گئی۔

رب زدنی علماً۔ (اے میرے رب میرے علم میں زیادتی فرما۔)

اس ہدایت سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حصولِ علم میں تسلسل مطلوب ہے۔ کسی بھی مقام پر قناعت کرنا مطلوب نہیں۔ اس کے علاوہ علم کے کسی مرتبہ پر پہنچ کر اس کو آخری حد سمجھ لینا مناسب نہیں۔ ارشاد خداوندی ہے:

وفوق کل ذی علم علیم۔ (اور ہر علم والے سے بڑھ کر ایک علم والا ہے۔)

فروغِ علم کے لیے رسول اللہ کا اہتمام

غزوہ بدر میں قریش کے بعض لوگ قیدی بن کر آئے۔ ان کے متعلقین ان کی رہائی کے لیے مالی فدیہ لے کر آئے۔ اگرچہ اس وقت مسلمانوں کو سخت مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ پھر بھی رسولؐ اللہ نے مالی فدیہ قبول کرنے سے انکار کردیا اور فدیہ کے طور پر ہر قیدی کے ذمہ یہ لگایا کہ وہ دس مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھائے۔ فروغِ علم کے لیے رسول اللہ ﷺ کا یہ انوکھا اقدام تھا جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔

حصولِ علم کے لیے دوسرے اسلامی محرکات

قرآن کریم اور احادیثِ نبویؐ میں براہ راست ہدایات کے علاوہ حصولِ علم کے لیے محرکات بھی ہیں۔ ان میں سے ایک محرک مسلمانوں کے لیے یہ ہدایت ہے کہ وہ دنیا میں سیروسیاحت کر کے ان قوموں کے انجام سے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو جھٹلایا تھا عبرت حاصل کریں۔ ایک محرک مسلمانوں کے لیے یہ حکم ہے کہ اپنے دشمنوں اور اللہ کے دشمنوں کو مرعوب کرنے کے لیے جتنی زیادہ قوت اور سامان جنگ فراہم کرسکیں کریں۔ یہ حکم جنگی صنعتوں اور ان سے متعلقہ سائنسی علوم کے حصول کے لیے ایک اہم محرک ہے۔

آیات قرآنی میں کائنات میں مظاہرِ قدرت کے بار بار حوالے مثلاً چاند کی مختلف منزلوں کا ذکر، ہر چیز کو ایک خاص نسبت سے پیدا کرنے کا بیان،سورج اور چاند کے خاص خاص دائروں میں حرکت کرنے کا ذکر، ہر چیز کے جوڑا جوڑا پیدا کرنے کا بیان، یہ سب چیزیں سائنسی تحقیقات کے لیے محرکات کا کام دیتی ہیں۔ نماز، روزہ، حج اور جہاد وغیرہ کے احکام بھی سائنسی مطالعے کے محرکات کا کام دیتے ہیں۔ نماز کے اوقات اور سمتِ قبلہ معلوم کرنے کے لیے مسلمانوں کو سورج اور ستاروں کا ارتفاع اور اپنے علاقے کا طولِ بلد اور عرض بلد معلوم کرنا پڑتا ہے۔ خراج، عشر اور غنیمت کے سلسلے میں رسولؐ اللہ کی ہدایات بھی حصول علم کے لیے ایک محرک ثابت ہوئیں۔ ان مدوں سے جو آمدنی ہوتی تھی اس کے حساب کتاب کے لیے ریاضی کا علم حاصل کرنا ضروری تھا۔ ورثے کی تقسیم بھی جس کے متعلق قرآن کریم نے واضح احکام دئے ہیں علم الحساب کے لیے ایک محرک ثابت ہوئی۔ اسلام کے قانون وراثت کے مطابق ورثاء میں ان کے حصول کی تقسیم کے لیے بہت سی کتابیں لکھی گئیں۔ طبی معلومات کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے ارشادات مثلاً یہ کہ ہر اس بیماری کے لیے جس میں اللہ تعالیٰ انسانوں کو مبتلا کرتا ہے اس نے ایک مناسب علاج پیدا کیا ہے۔ مسلمانوں کی طبی تحقیقات کا ایک ذریعہ ثابت ہوئے۔ انسانوں کی فلاح و بہبود کے کام کرنے کے لیے اسلامی ہدایات نے مسلمان حکمرانوں اور عام لوگوں کی توجہ ادویات کی تیاری، حفظانِ صحت کی ترقی اور نئے ہسپتالوں کے قیام کے طرف مبذول کرائی۔

اہل علم کا بلند مقام

حدیثِ نبویؐ میں اہل علم کو انبیاء کا وارث قرار دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جب اللہ کسی کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو دین کی فہم عطا کرتا ہے۔ قرآن کریم کی متعدد آیات بھی اہل علم کے بلند مقام پر روشنی ڈالتی ہیں:

(۱) وَمَنْ یُؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْراً کَثِیْراً۔

’’جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دی گئی۔‘‘

(۲) اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہُ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَائُ۔

’’اللہ کے بندوں میں صرف علم رکھنے والوں پر اس کی خشیت طاری ہوتی ہے۔‘‘

قرآن کریم نے اہل علم کو علم نہ رکھنے والوں کے مساوی نہیں قرار دیا۔ اس سے اہل علم کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔

قل ہل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون۔

’’آپ کہہ دیجیے کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے برابر ہیں۔‘‘

اہل علم کو عبادت گزار لوگوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے۔ ارشاد نبویؐ ہے

فضل العالم علی العابد کفضلی علی ادناکم۔

’’عابد پر عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسی میری فضیلت تم میں سے سب سے ادنیٰ پر۔‘‘

رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے نتیجے میں نئے نئے علوم کی بنیاد پڑی۔ مثلاً فقہ اور اصولِ فقہ۔ عربی زبان کی گرامر وغیرہ۔ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد:من کذب علی متعمداً فلیتبوا مقعدہ من النار۔’’جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔‘‘ نے مسلمانوں کو محتاط کردیا کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف کوئی غلط بات منسوب نہ ہونے پائے۔ اس مقصد کے لیے علم الرجال وجود میں آیا تاکہ کسی روایت پر یقین کرنے سے پہلے راوی کو یا کسی خبر کو ماننے سے پہلے مخبر کو پرکھ لیا جائے۔ اس اصولِ نقد و تحقیق سے بے سروپا داستانوں کا اصل تاریخی واقعات سے جدا کرنا آسان ہوگیا۔ اور اس طرح علم تاریخ کو ایک ٹھوس اور مستند شکل حاصل ہوگئی۔

اس طرح مشاہدہ کائنات کے بارے میں قرآن کریم کی ہدایات نے مسلمانوں کو مشاہدات (یا تجربات جو مشاہدات ہی ہیں جو مخصوص حالات میں کیے جاتے ہیں) کی طرف متوجہ کیا اور آگے چل کر مشاہدات و تجربات ہی سائنسی تحقیقات کی بنیاد قرار پائے۔

رسول اللہ ﷺ سے پہلے علم پر عام طور پر مذہبی پیشواؤں کی اجارہ داری تھی جیسے ہندوستان میں پنڈتوں کی اور یورپ میں پادریوں کی۔ یا صرف بعض امراء پڑھنا لکھنا سیکھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے علم کو ہر انسان کے لیے عام کرنے کی ہدایت فرمائی اور اس اہم کام کو خود بھی کرکے دکھایا۔

رسول اللہ ﷺ کی ہدایات و تعلیمات کی بدولت مسلمانوں میں ایک وسیع علمی تحریک پیدا ہوگئی۔ جس کا تفصیل سے ذکر مسلم مورخین نے کیا ہے۔ اور غیر مسلم محققین بھی اس کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے۔ انگلستان کے ایک محقق رابرٹ بریفالٹ لکھتے ہیں کہ اس امر کی نہ کوئی مثال پہلے موجود تھی اور نہ اب تک ہے کہ کسی وسیع سلطنت کے طولِ بلد اور عرضِ بلد میں حکمران طبقے اتنے بڑے پیمانے پر حصولِ علم کی مجنونانہ خواہش سے سرشار ہوگئے ہوں۔ خلفاء اور امرا اپنے محلوں سے اٹھ کر کتب خانوں اور رصدگاہوں میںجا گھستے تھے۔ اہلِ علم کے خطبات کو سننے اور ان سے مسائلِ ریاضی کے متعلق مذاکرات کرنے میں ہرگز کوتاہی نہ کرتے۔ مسودات و مخطوطات اور نباتاتی نمونوں سے لدے ہوئے کارواں بخارا سے دجلہ تک رواں دواں رہتے۔ کتابوں اور معلموں کے حصول کی خاطر قسطنطنیہ اور ہندوستان کو خاص سفیر بھیجے جاتے تھے۔ کسی سلطنت سے تاوانِ جنگ وصول کرنے کے سلسلے میں یونانی مصنفین یا کسی ممتاز ریاضی دان کی تصنیف حاصل کرنے کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔ ہر مسجد کے ساتھ ایک مدرسہ ملحق ہوتا تھا۔ وزرائے سلطنت کتب خانوں کے قیام، مدارس کے لیے اوقاف کے انتظام اور غیرطلبہ کے لیے وظائف کے اہتمام میں اپنے آقاؤں سے بھی بڑھ جانا چاہتے تھے۔ اہلِ علم کو بلا امتیازِ نسل و مذہب دوسرے سب لوگوں پر فوقیت دی جاتی تھی۔ ان پر دولت و ثروت اور اعزازات کی بارش کردی جاتی تھی۔ وہ صوبوں کے گورنر تک مقرر کردئے جاتے۔ جب خلفاء کسی سفر یا مہم پر روانہ ہوتے تو اہلِ علم کا ایک گروہ اور کتابوں سے لدے ہوئے اونٹوں کی ایک قطار ہمراہ ہوتی تھی۔

یہ علمی تحریک بارہویں صدی میں زیادہ تر مسلم اسپین کے ذریعے یورپ میں، جہاں کہ لکھنا پڑھنا خانقاہوں تک محدود تھا اور جہاں تعلیم کے بارے میں گریگوری پادری جیسے شخص کا یہ خیال تھا کہ جہالت پارسائی کی بنیاد ہے، پھیلنا شروع ہوئی اور یہی علمی تحریک سولہویں صدی میں یورپ کی نشاۃ ثانیہ کا سبب بنی۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ مشرق و مغرب میں علم کی روشنی پھیلانے میں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا کتنا عظم حصہ ہے۔

افسوس کے علم کی روشنی کو دنیا تک پہنچانے والی مسلمان قوم آج عام طور پر علم سے محروم ہے اور اپنے دین اور تاریخ اور دوسرے علوم سے ناواقفیت کی وجہ سے دنیا کی بہت سی قوموں کے مقابلے میں پسماندہ ہے۔

ضرورت ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں آج مسلمان پھر سے علم و ہدایت کی شمع روشن کریں اور دنیا کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوں۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد سعود

تبصرہ کیجیے