5

’مہذب قوموں کے ’کارنامے‘

عراق، افغانستان اور گوانتاناموبے کی جیلوں میں امریکی اور برطانوی افواج جن گھناؤنے جنگی جرائم کا ارتکاب کررہی ہیں اور جس سہل انگاری کے ساتھ مغربی اقوام کی قیادتیں، اقوام متحدہ اور جنگی جرائم پر گرفت کرنے والی نام نہاد بین الاقوامی عدالت انھیں نظر انداز کررہی ہے یا جرم ثابت ہونے پر اعلیٰ حکام کے عدم شرکت کے سرٹیفیکیٹ جاری کرکے متعلقہ افراد کو محض معزولی یا جرمانے سے نواز رہے ہیں، وہ ان اقوام کے اخلاقی افلاس کا آئینہ دار ہے اور اس کے ساتھ خود مسلمان اور عرب ممالک کے حکمرانوں اور با اثر طبقات کی بے حسی اور مجرمانہ معاونت (Criminal Complicity) کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دنیا جس منافقت کی گرفت میں ہے اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ امریکی صدر دعوے کررہے ہیں دنیا میں امن، جمہوریت، آزادی اور اعلیٰ انسانی اقدار کی ترویج کے، اور عملاً ہر انسانی قدر کو بے دردی سے پامال کررہے ہیں اور مزید کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ گوانتاناموبے میں جو کچھ کیا جارہا ہے اور صرف ابوغریب ہی نہیں عراق کی ہر جیل میں معصوم انسانوں سے ناکردہ جرائم کا ارتکاب کرانے کے لیے جو کچھ کیا جارہا ہے وہ انسانی ضمیر کے لیے تو چیلنج ہے ہی، لیکن اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ اقوام جنھیں مہذب ہونے کا دعویٰ ہے اور جو روشن خیالی کی پیامبر ہیں ان کا اصل کردار کیا ہے۔ اور یہ آج ہی نہیں بلکہ ان کا مستقل وطیرہ رہا ہے۔ ہر بے خدا اور اخلاق باختہ تہذیب کا تاریخ میں یہی رویہ رہا ہے۔

مئی ۱۹۴۵ء میں دوسری عالمی جنگ اختتام پذیر ہوئی تھی، اور اس ماہ (مئی ۲۰۰۵ء) اس کی ۶۰سالہ تقریبات منعقد کی جارہی ہیں (منعقد ہوچکیں)۔ اس موقع پر جرمنی، اٹلی اور جاپان کی بہیمانہ کارروائیوں کی تفصیل بیان کی جارہی ہے۔ یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ جیسے مظالم جرمنی، اٹلی اور جاپان نے کیے خود امریکی اور برطانوی اور اتحادی افواج کا رویہ اس سے کچھ مختلف نہ تھا۔

اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں — ہاں، اندھے وہ حکمران اور دانشور ہیں جن کو مغربی اقوام کا یہ وحشیانہ کردار نظر نہیں آتا اور جو انھیں’روشن خیالی‘ اور ’اعتدال پسندی‘ کا علم بردار قرار دے کر ان کی خوشنودی حاصل کرنے اور ان کی چاکری کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔

۱۹۴۵ء میں تمام جنگوں کے خاتمے پر، فاتح طاقتوں نے تاریخ کو ایسا رخ دیا کہ اشرافیہ کے مفادات پورے ہوں۔ اس طرح جنگی پروپیگنڈے کو غیر معمولی نئی زندگی مل گئی۔ جیسے ولادی میر پوتن نے ظاہر کیا ہے کہ حُبِّ وطن کے لیے لڑی جانے والی جنگ عظیم روس میں کلیدی سیاسی وسیلہ ہے۔ برطانیہ اور امریکا میں بھی جنگ عظیم دوم کا مخصوص تصور جوش و خروش سے زندہ رکھا جاتا ہے اور کم خوش کُن تعریفی یادداشتوں کو دبا دیا جاتا ہے۔

پانچ سال قبل، ایک ممتاز امریکی ماہر سماجیات رابرٹ للّی نے فوجی دستاویزات کی بنیاد پر ایک کتاب Taken by Forceمرتب کی ہے۔ یہ دراصل ۱۹۴۲ء اور ۱۹۴۵ء کے درمیان یورپ میں امریکی فوجیوں نے بڑے پیمانے پر جو آبروریزی کی، اس کا ایک مطالعہ ہے۔ اس نے اپنا مسودہ ۲۰۰۱ء میں اشاعت کے لیے اپنے ناشر کو دیا تھا مگر نائن الیون کے بعد اس کے امریکی ناشر نے اسے دبا دیا اور ۲۰۰۳ء میں یہ کتاب پہلی مرتبہ فرانسیسی ترجمے کی شکل میں منظر عام پر آئی۔

سرخ فوج کا جنسی تشدد تو انتھونی بیور کے ذریعہ ہمارے علم میں ہے لیکن ہم یہ نہیں جاننا چاہتے ہیں کہ امریکی اور برطانوی فوج نے کس بڑے پیمانے پر آبروریزی کی۔ للّی کے مطابق امریکی فوجیوں کے ہاتھوں عصمت دری کے کم از کم ۱۰ ہزار واقعات پیش آئے۔ دیگر ہم عصروں کا کہنا ہے کہ اس سے زیادہ وسیع پیمانے پر جنسی جرائم کا ارتکاب کیا گیا اور ان پر کوئی سزا نہ دی گئی۔ ٹائم میگزین کی ستمبر ۱۹۴۵ء کی رپورٹ کے مطابق: ہماری اپنی فوج نے اور ہمارے ساتھ ساتھ برطانوی فوج نے لوٹ مار اور آبروریزی میں پورا حصہ لیا … ہم بھی زنا کاروں کی فوج (army of rapists) سمجھے جاتے ہیں۔

برطانوی اور امریکی عوام دوسری جنگ عظیم کے صرف خوشگوار پہلو جانتے ہیں۔ فلمیں، عام تاریخی کتب اور سیاسی تقاریر جنگ کو اینگلو امریکی بہادری کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں مگر سرخ فوج کا مرکزی کردار بھلا دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ جمہوریت کے لیے تھی۔ امریکی یقین رکھتے ہیں کہ انھوں نے دنیا کے بچاؤ کے لیے جنگ لڑی۔ برطانوی سلطنت کے معذرت خواہوں، جیسے نائل فرگوسن کے لیے جنگ ایک ایسا غسل تھا جہاں فتوحات، غلامی اور استحصال کے صدیوں کے گناہ دھو دئے گئے۔ ہم ہمیشہ کے لیے اچھے لوگ قرار دے دئے گئے۔ ہم خوش خوش گاسکتے ہیں: دو عالمی جنگیں اور ایک ورلڈ کپ۔

یہ تمام ایک معصومانہ مذاق لگتا ہے لیکن حب الوطنی کے تخیلات کی دھار بڑی تیز ہوتی ہے۔ ہٹلر کے خلاف جنگ برائے خیر (Good War) نے ۶۰ سال کی جنگ بازی کو جواز عطا کردیا۔ یہ برطانوی اور امریکی طاقتوں کے لیے ایک اخلاقی بلینک چیک ہوگیا ہے۔ ہم فاشزم کے خلاف جنگ کی کھلی اور خفیہ اپیلوں کی بنیاد پر بم باری کرنے، مثلہ بنانے اور بغیر مقدمے کے جیل میں ڈالنے کے حق کا دعویٰ کرتے ہیں۔

جب ہم نوریگا، مائیلوسووچ اور صدام جیسے سفاک دوستوں سے اپنی دوستی ختم کرتے ہیں تو ان کو ’’ہٹلر‘‘ قرار دے دیتے ہیں۔ ان کے خلاف ’’جنگ برائے خیر‘‘ میں تمام قابلِ مذمت کارروائیاں بھلائے جانے کے قابل ضمنی نقصان بن جاتی ہیں۔ سربیا اور عراق میں شہری ٹھکانوں کو تاخت وتاراج کرنا،ابو غریب اور گوانتانا موبے میں تعذیب، فلوجہ میں اجتماعی سزا کا جنگی جرم، سب ’’جمہوریت کی قیمت‘‘ کے نام پر بھولی بسری یادیں قرار دیے جاتے ہیں۔

ہمارا جمہوری استعمار یہ بات بھلانے کو ترجیح دیتا ہے کہ فاشزم کی اہم اینگلو امریکی جڑیں ہیں۔ ہٹلر کے خواب کی بنیاد برطانوی سلطنت تھی۔ نازی مشرقی یورپ میں اپنا امریکا اور آسٹریلیا بنانا چاہتے تھے جہاں نسلی صفائی اور غلاموں کی بے گار نے آبادکاری کے لیے زمین تیار کی۔ اور مغربی یورپ میں انھیں اپنے ہندوستان کی تلاش تھی جہاں سے محاصل، مزدور اور فوجی حاصل کیے جاسکیں۔

جرمنی اور جاپان کے اپنے پڑوسی علاقوں میں بالادستی کے دعووں کو لاطینی امریکہ میں امریکہ کی استعماریت نے واضح مثالیں فراہم کیں۔ امریکی اور برطانوی اصلاحِ نسلِ انسانی کے کلیدی نظریہ ساز تھے اور انھوں نے نسلی تفریق کو قابلِ احترام بنادیا۔ نظر بندی کیمپ ایک برطانوی ایجاد تھے، اور عراق اور افغانستان میں گروہی مزاحمت کو کچلنے کے لیے فضائی طاقت کے استعمال میں پہل کرنے والے برطانوی تھے۔

ہم اس بات کو بھی بھول جاتے ہیں کہ برطانوی اور امریکی اشرافیہ نے فاشسٹوں کو مدد فراہم کی تھی۔ صدر بش کے دادا جن پر ۱۹۴۲ء میں، دشمن سے تجارت کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا، ان طاقتور اینگلو امریکی لوگوں میں سے ایک تھے جو ہٹلر اور مسولینی کو پسند کرتے تھے اور ان کی مدد کے لیے جو کچھ ممکن تھا انھوںنے کیا۔ ان آمریتوں سے مصالحت خواہی کی سرکاری پالیسی تو برفیلے تودے کا محض نظر آنے والا سرا تھا، درحقیقت ان کو دی جانے والی عملی امداد بہت زیادہ تھی۔ فاشسٹ حکمرانوں کو واشنگٹن اور لندن میں انتہائی احترام کا مقام دیا گیا۔ ہنری فورڈ نے ہٹلر کی پیدائش پر ۵۰ ہزار مارک کا تحفہ دیا۔

ہم اس بات کو بہت کم یاد رکھنا چاہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے ۱۹۴۰ء میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔ ڈرس ڈن (Dresden) کی تباہی، ایسا شہر جو عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور زخمیوں سے بھرا ہوا تھا اور جس کی کوئی فوجی اہمیت نہ تھی، شہری آبادیوں پر ہمارے بم باروں کے کیے ہوئے مظالم کی سب سے زیادہ معروف مثال ہے۔ ہم جنگی قیدیوں کے ساتھ جاپانیوں کی بدنام بدسلوکی کو تو جانتے ہیں لیکن قیدی جاپانیوں کے قتل اور تعذیب کو یاد نہیں کرتے۔

جنگی نامہ نگار ایڈگار جونز نے ۱۹۴۶ء میں لکھا: ’’ہم نے قیدیوں کو بے دردی سے گولی مار دی، ہسپتالوں کا صفایا کردیا، لائف بوٹس پر گولے برسائے، دشمن شہریوں کو قتل کیا، زخمی دشمنوں کو ختم کردیا، ہم نے زندہ انسانوں کو مردوں کے ساتھ گڑھوں میں پھینک دیا، اور دشمن کی کھوپڑیوں کو ابالا تاکہ ان سے گوشت نکل جائے اور ان کو میزوں کی زینت بنایا جاسکے۔‘‘

۱۹۴۱ء کے بعد ہم نے بہت سے فاشسٹ طریقے ادھار لیے۔ نورمبرگ میں صرف چند مجرموں کو سزا دی گئی، زیادہ تر ہماری مدد سے بچ نکلے۔ ۱۹۴۶ء میں پراجیکٹ پیپر کلپ کے ذریعہ ایک ہزار سے زائد نازی سائنس دانوں کو خفیہ طور پر امریکہ لایا گیا۔ ان میں کرٹ بلومے بھی شامل تھا جس نے آؤش وٹس میں اعصابی گیس کا تجربہ کیا، اور کانرڈ شیفر بھی شامل تھا جس نے ڈیخاؤ میں ملزموں کے جسم میں زبردستی نمک داخل کیا۔ دواؤں اور سرجری کے ذریعہ ذہنوں پر قابو پانے کے لیے تجربات سی آئی اے کے پراجیکٹ بلیو برڈ کا حصہ تھے۔ جاپان کے ڈاکٹر شیرواشی کو جس نے منچوریا میں جنگی قیدیوں پرتجربات کیے تھے، حیاتیاتی اسلحے پر مشورے دینے کے لیے میری لینڈ لایا گیا۔ بیلسن کو آزاد کروانے کے ایک عشرے کے اندر اندر برطانوی فوجی ماؤ ماؤ کو کچلنے کے لیے کینیا میں اپنے نظر بندی کیمپ چلارہے تھے۔ الجزائر میں فرانسیسیوں نے تعذیب کی تکنیک گسٹاپو سے مستعار لیں، پھر یہ امریکیوں نے لاطینی امریکہ کی آمریتوں کی ۶۰ اور ۷۰ کے عشرے میں پہنچائیں۔ امریکہ کے کیوبا اور ڈیگوگارشیا کیمپوں میں آج ہم ان کو زیر استعمال دیکھتے ہیں۔

جنگ کے نتیجے میں ظلم کو تقویت ملتی ہے اور وہ اپنے زور پر آگے بڑھتا ہے۔ Taken by Forceکا سبق ہے کہ کس طرح امریکی فوجی اپنے جنسی تشدد میں اضافہ کرتے چلے گئے، اور فوجی حکام اس کی گرفت کرنے میں آہستہ آہستہ نرم پڑتے چلے گئے۔ ٹھیک اس وقت، جب کہ ہم نازی ازم کی خرابیوں کو یاد کرتے ہیں اور جنھوں نے ان کو شکست دی ان کے حوصلوں کی تعریف کرتے ہیں، ہمیں دوسری عالمی جنگ پر اپنی خود اطمینانی کی کیفیت میں کمی لانی چاہیے۔ خاص طور پر ہمیں ان لوگوں پر بد اعتمادی کرنا سیکھنا چاہیے جو اس کو حالیہ جنگ کے جواز کے لیے پیش کرتے ہیں۔

(بہ شکریہ ترجمان القرآن)

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر رچرڈ ریگٹن ترجمہ: امجد عباسی

تبصرہ کیجیے