3

میتھی کی افادیت جدید تحقیقات کی روشنی میں

میتھی کا عربی نام حلبہ ہے جو عموماً ہر گھر میں مسالے کے طور پر یا دوسرے اغراض سے استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے پودے کی کاشت برصغیر کے ہر حصے میں کی جاتی ہے۔ اس کے پتے بہ طور سبزی بہ کثرت مستعمل ہیں۔ یہ عموماً سردیوں میں اگتا ہے۔ اس میں تقریباً دو سینی میٹر کی لمبی پھلیاں لگتی ہیں۔ جب پھلیاں خشک ہوجاتی ہیں تو زردی مائل خشک رنگ کے بیج نکل آتے ہیں۔ یہی بیج تخم حلبہ کے نام سے استعمال ہیں۔یہ خوشبودار اور پانی بھگونے سے لعاب پیدا کرتے ہیں۔ اس کی تاثیر گرم خشک ہوجاتی ہے۔ مکہ معظمہ کی فتح کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بیمار ہوئے تو حارث بن کلدو حکیم نے ان کے لیے ’’فریقہ‘‘ تیار کرایا جس میں کھجور، جو کا دلیا اور میتھی کو پانی میں ابال کر شہد ملا کر مریض کو نہار منہ استعمال کرایا۔ یہ نسخہ حضور ﷺ کی خدمت میں جب پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اسے پسند فرمایا۔

جدید مشاہدات

میتھی کا جوشاندہ حلق کی سوزش، ورم اور درد کے لیے بہت مفید ہے۔ سانس کی گھٹن کم کرتا ہے۔ کھانسی کی شدت دور ہوتی ہے اور معدے کی جلن جاتی رہتی ہے۔ چونکہ پرانی کھانسی کے مریضوں کو معدے میں جلن اور بدہضمی کی شکایت رہتی ہے، اس لیے طب نبویؐ میں میتھی اور سفر جل ایسی دوائیں ہیں جو کھانسی کو ٹھیک کرنے کے ساتھ ساتھ معدے کی طبی اصلاح کرتی ہیں۔

— پانچ گرام میتھی کا سفوف پانی کے ہمراہ استعمال کرائیں۔ اسہال وپیچش میں مفید ہے۔

— ۵ گرام میتھی کا سفوف شہد میں ملاکر کھلائیں، کھانسی، سینے اور حلق کی خشکی اور تقطیر البول (قطرہ قطرہ پیشاب آنا) میں مفید پایا گیا۔

— میتھی کا استعمال ضعف اشتہا (بھوک نہ لگنے کی صورت میں) اور ضعف معدہ میں کریں۔

جدید تحقیقات

جن عورتوں کو حیض کا خون بار بار آتا ہو یا ماہواری میں بے ترتیبی ہو، ان کے لیے ۵ گرام میتھی کے سفوف کا استعمال مفید ہوتا ہے۔ عورتوں کے دودھ کی مقدار میں اضافہ بھی کرتی ہے۔ میتھی جسمانی کمزوری کو دور کرتی ہے۔ میتھی کے مسلسل استعمال سے بواسیر کا خون بند ہوجاتا ہے اور اکثر اوقات مسے گرجاتے ہیں اس میں انجیر کو بھی شامل کریں۔ میتھی کھانے سے ذیابیطس کی شدت میں کمی آتی ہے۔ تجربات سے معلوم ہوا کہ میتھی استعمال کرنے والے شکر کے مریضوں کے پیشاب میں برائے نام شکر رہ گئی۔

ذیابیطس کا نسخہ

کلونجی ۱۰ گرام، تخم کاسنی ۵ گرام، تخم میتھی ۵ گرام ان تینوں کا سفوف بناکر صبح و شام ۳ گرام کھلائیں۔ میتھی میں بعض اجزاء تاثیر کے لحاظ سے مچھلی کے تیل (کا ڈلیور آئل) جیسے ہوتے ہیں۔ یعنی ان سے جسم کی قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے۔ میتھی میں سکون بخش صلاحیت بھی پائی جاتی ہے۔ اس کے لعاب میں جھائیوں کی سوزش، ورم اور گردوں کی سوزش (انفیکشن) دور کرنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
جاویداختر خاں

تبصرہ کیجیے