2

اسلام کو مکمل طور پر اختیار کرنا چاہیے!

س: آپ نے انٹرنیٹ کے توسط سے اسلام کیسے قبول کیا؟

ج: شروع میں میں اسلام میں خواتین کے حقوق کے متعلق جاننے کی آرزو مند تھی۔ کیونکہ یہ موضوع اکثر مغربی میڈیا میں تنقید کا موضوع بنا ہوا تھا۔ میں نے اسلام، عیسائیت اور یہودیت میں دئے گئے عورت کے حقوق کے مابین موازنہ کرنا شروع کیا۔ مجھے بہت حیرت ہوئی جب میں اس نتیجے پر پہنچی کہ اسلام نے دیگر مذاہب کے مقابلے میں عورت کو زیادہ حقوق دئے ہیں۔ اس وقت کیونکہ میں یہ سمجھتی تھی کہ میڈیا ہمارے ہی حق میں ہے، اس لیے میں اسلام کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتی تھی۔ میری اس وقت حالت یہ تھی کہ میں ایک ’’اچھے اور بہتر اسلام‘‘ کا تصور بھی قبول نہیں کرسکتی تھی، اس لیے میں یہ کوشش کررہی تھی کہ اسلام میں مجھے کوئی غیر معقول بات مل جائے لیکن میری تمام تر کوشش اکارت ہی گئی۔ مجھے یہ پتہ چلا کہ اسلام کو ایک جزء کے طور پر نہیں بلکہ کل کے طور پر اختیا رکرنا چاہیے۔ اللہ کاشکر ہے کہ انٹرنیٹ پر چند ایس ویب سائٹ تک میری رسائی ہوسکی جو مجھے اسلام کے بارے میں درست معلومات فراہم کرسکتی تھیں۔ اس وقت میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتی ہوں جنھوں نے اسی طرح اسلام قبول کیا ہے۔

س: انٹرنیٹ پر اپنی سائٹ کے متعلق بتائیے؟

ج: مجھے جن مشکلات کا سامنا تھا، اپنی سائٹ پر میں نے ان کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔ تاہم اب میں ان پر گفتگو کرسکتی ہوں۔ مراکش میں ابتداء میں میرے حالات بہت دشوار تھے کیونکہ مراکش آنے سے پہلے میں کبھی کسی مسلمان سے نہیں ملی تھی۔ اسلام کے متعلق میری معلومات کا ذریعہ کتابیں تھیں۔ یہاں آنے کے بعد مجھے ان رسوم و رواج بلکہ عادات کے ساتھ زندگی گزارنی پڑی جو میری فرانس کی زندگی سے بالکل مختلف تھیں۔

دوسری چیز جس کا ذکر میں نے اپنی ویب سائٹ پر نہیں کیا، وہ میری مستقبل کی آرزو اور ارادے تھے۔ سب سے پہلے میں عربی زبان سیکھنا چاہتی ہوں۔ میں نے ابھی صرف آغاز کیا ہے اور ایک لمبا راستہ طے کرنا باقی ہے۔مجھے اپنے نئے مذہب (اسلام) کے متعلق بہت کچھ سیکھنا اور جاننا ہے کیونکہ بہت سے لوگ مجھے کانفرنس اور اجتماعات میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ لیکن میں بغیر معلومات کے لیکچر نہیں دے سکتی۔ دراصل میں انٹرنیٹ پر ایک فرانسیسی جرنل میں کام کرتی ہوں اور اسلام کی خدمت کے لیے میں کمپیوٹر کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا استعمال جاری رکھنا چاہتی ہوں۔ میرے پاس کچھ خاکے ہیں شاید میں عورتوں او ر بچوں کے لیے کچھ پروگرام کرسکوں گی۔ ابھی میں نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ میرے پاس کرنے کی کئی چیزیں ہیںاور بہت سے خیالات پرغور کرنا چاہتی ہوں۔ البتہ ایک پریشانی مجھے یہ درپیش ہے کہ میں یہ سب کام ایک ساتھ نہیں کرسکتی کیونکہ مجھے اپنی زندگی کے لیے بھی کچھ نہ کچھ کرنا ہے۔

س: آپ کا نام (Laila Ravin) لیلا راوِن ہے۔ آپ فرانسیسی یہودی ہیں یا آپ کا تعلق عیسائیت سے ہے؟

ج: نہیں! میں نسلاً یہودی نہیں ہوں۔ بعض اوقات یہودی حضرات میری ویب سائٹ پر آتے ہیں اور میرے پاس خطوط بھیجتے ہیں کہ وہ بھی میری طرح یہودی ہیں۔ وہ میرے نام کی مشابہت کی وجہ سے غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں یہودیت میں واپس کیوں نہیں چلی جاتی۔ میں یہ بات واضح کردینا چاہتی ہوں کہ میں عیسائی تھی یہودی نہیں۔ روزانہ مجھے یہودیوں کے دسیوں ایسے خطوط موصول ہوتے ہیں جن میں مجھے یہودیت میں واپس آجانے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اب تو میں مسلمان ہوں اور ایک مسلم ہونے پر مجھے فخر ہے۔

س: مسلمان ہونے پر آپ کو مبارک باد۔ کیا آپ یہ بتائیں گی کہ اسلام قبول کرتے وقت آپ کے احساسات کیا تھے؟ کیا اسلامی ویب سائٹس آپ کو مذہب اسلام سے متعلق مکمل اور جامع وضاحت فراہم کرتی ہیں؟

ج: پہلی چیز جو اسلام قبول کرتے وقت میں نے محسوس کی وہ ایک طرح کا سکون اور وقار تھا۔ اس کے بعد مجھے مستقبل کے تعلق سے کچھ خوف بھی لاحق ہوا کیونکہ میرا پورا خاندان غیر مسلم تھا۔ شروع میں میرے اہل خانہ نے اس نئی صورت حال کو قبول کرلیا۔ تاہم جب میں نے حجاب کا استعمال شروع کیا تو میرے بعض افراد خانہ خصوصاً میرے والد صاحب نے مجھ سے رشتہ منقطع کرلیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات پر میرے یقین اور اعتماد نے ہر طرح کے خوف کو ختم کردیا۔

جہاں تک اسلامی سائٹس کا تعلق ہے، چار سال پہلے جب میں نے اسلامی سائٹس تلاش کرنی شروع کیں تو اس وقت اتنی زیادہ سائٹس نہیں تھیں۔ آج بہت سی اسلامی ویب سائٹس موجود ہیں جہاں اسلام سے متعلق اچھی معلومات مہیا ہیں لیکن وہ ضرورت کے لحاظ سے اچھی طرح ڈیزائن نہیں کی گئیں ہیں۔ میرا خیال ہے اب اسلامی سائٹس کافی بہتر ہوگئی ہیں اور کوئی شخص جو حق کی تلاش میں ہو اسے ان سائٹس پر جاکر حق مل جائے گا۔ میں ان سائٹس کی بات کررہی ہوں جو انگریزی زبان میں ہیں کیونکہ میں عربی سائٹس تک نہیں پہنچ سکتی۔ جہاں تک فرانسیسی اسلامی سائٹس کا تعلق ہے، ابھی بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ ایسی سائٹس بھی ہیں جو اچھی ہیں لیکن تسلی بخش نہیں ہیں۔ بعض سائٹس تو محض سرسری سی معلومات فراہم کرتی ہیں۔

س: آپ کی زندگی کے اہم ترین مراحل کیا ہیں؟

ج: اولاً، مجھے اپنی آپ بیتی (کہانی) کو عربی میں منتقل کرنا ہے جسے اللہ نے چاہا تو میں بہت جلد کروں گی۔ اب میں آپ کے سامنے عمومی پس منظر میں بات کرتی ہوں۔ میرا تعلق ایک عیسائی خاندان سے رہا ہے۔ تعلیم و تفریح سے متعلق جس چیز کی بھی مجھے ضرورت تھی وہ مجھے مہیا تھی۔ میں اپنے دادا اور دادی کی لاڈلی تھی۔ یہ دونوں میری خواہش پوری کرتے تھے۔ جب میرے دادا کا انتقال ہوا تو میں خود سے عیسائیت کے متعلق سوالات کرنے لگی خاص طور سے ان غیر معقول چیزوں کے بارے میں جو عیسائیت میں داخل ہیں۔ میں اگرچہ عیسائیت کا احترام ایسا ہی کرتی تھی جیسے اس کے پیرو کرتے ہیں لیکن میں اسے ترک کرچکی تھی۔ میں اسے اپنے مذہب کے طور پر پسند نہیں کرتی تھی۔ میں تعلیم کی غرض سے کنیڈا چلی گئی۔ وہاں میری دلچسپی اسلام میں بالخصوص عورت کے مقام کے پہلو سے بڑھی۔ میں جب کنیڈا کے لیے روانہ ہوئی تھی تو مجھے محسوس ہواکہ میں کچھ زیادہ کھلے ذہن کی ہوگئی ہوں۔ جب ایک شخص اپنا وطن چھوڑتا ہے تو اسے دوسری طرح کے لوگوں سے سابقہ پیش آتا ہے جو اس کے اپنے وطن کے لوگوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہاں آکر میں مختلف چیزیں اور الگ الگ طرح کے امور کے سلسلے میں معلومات حاصل کرنا چاہتی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ میں ماس میڈیا پر بھروسہ نہیں کرسکتی۔ اس لیے میں نے اسلام میں عورت کے مقام اور اس کی حالت کے موضوع پر مطالعہ شروع کیا اس کے بعد میں نے علی الاطلاق اسلام کا مطالعہ کیا۔ کنیڈا ہی میں میں نے اسلام قبول کیا۔ اسلام قبول کرنے کے چند ہفتوں بعد ہی فرانس واپس آگئی کیونکہ کنیڈا میں میری تعلیم مکمل ہوچکی تھی۔ تاہم میں فرانس میں رہنا نہیں چاہتی تھی کیونکہ میں نے اندازہ کرلیا تھا کہ میں یہاں رہ کر حجاب کا استعمال نہیں کرسکتی اور پردے کی حالت میں یہاں کام نہیں کرپاؤں گی۔ اس لیے میں نے فرانس کو خیر باد کہا اور مراکش آگئی۔ میں نے مراکش کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ یہاں میری بہت سے مسلم بہنیں رہتی ہیں اور میں اس ملک سے بھی اچھی طرح واقف ہوں اور اس لیے بھی کہ یہاں کے لوگ فرانسیسی زبان بولتے ہیں، مجھے دقت اور پریشانی نہیں ہوگی۔

س: ہر مسلمان اپنے مسلمان ہونے پر فخر کرتا ہے۔ اس سلسلے میں آپ کا نقطۂ نظر کیا ہے؟

ج: میں ایک مسلمان ہونے پر بہت فخر محسوس کرتی ہوں۔ یہ ایک بہت ہی خوبصورت مذہب ہے۔ یہ ایک خدائی شریعت، اچھے اور اعلیٰ اخلاق و کردار اوربہترین اصول و اقدار کا مذہب ہے۔ یہ ایک معقول اور سب سے بڑی بات سمجھ میں آنے والا مذہب ہے۔ میں اپنے اندرون میں ایک اطمینان اور سکون کی کیفیت محسوس کرتی ہوں۔ میںجب لوگوں کو دیکھتی ہوں کہ وہ مادی اشیاء کے دیوانے ہیں تو محسوس کرتی ہوں کہ یہ لوگ اندر سے خوش نہیں ہیں۔ میں پہلے سے زیادہ یہ بات محسوس کرتی ہوں کہ یہ لوگ اللہ پر ایمان کی دولت سے محروم ہیں۔ یہ لوگ آرام سے سو بھی نہیں سکتے۔ اس وقت میں محسوس کرتی ہوں کہ میں بہت اچھی حالت میں ہوں کیونکہ مجھے یقین ہے اور میرا ایمان ہے کہ اگر دنیا کی اس زمین پر ناانصافی ہوگی تو آخرت میں انصاف ضرور ملے گا۔ اسلام خوب صورت مذہب اس لیے بھی ہے کیونکہ یہ تمام لوگوں کو ایک ساتھ ایک جمعیت بن کررہنے کا اصول دیتا ہے۔ اسلام کی نظر میں ہر شے انسانیت کے مفاد کے لیے ہے۔ اگر ہم اس کے اصول اور ضابطے کی پابندی کریں گے تو ہمارا معاشرہ امن و امان کا گہوارہ بن جائے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ میں کوئی خواب کی باتیں نہیں بتارہی ہوں بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جس میں میں خود جی رہی ہوں۔ میں یہ جانتی ہوں کہ تمام چیزیں مسلمانوں کے درمیان آئیڈیل نہیں ہیں لیکن میں یہ بھی جانتی ہوں کہ یہ زندگی مختصر اور عارضی ہے بہ نسبت آخرت کی حیاتِ دوام کے۔

س: آپ کے خیال میں غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

ج: میرا خیال ہے کہ لوگوں کو اسلام کے تعلق سے مطمئن کرنے کا کوئی ایک طریقہ نہیں ہے۔ ہر انسان فطرتاً دوسرے سے مختلف ہے اور زندگی کے بارے میں ہر ایک کا اپنا تصور اور نظریہ ہے اور ان کے اندر ان تمام چیزوں کو سمجھنے کی صلاحیت بھی الگ الگ ہے۔ بعض لوگ سائنس میں یقین رکھتے ہیں، کچھ لوگ جذبات کے سلسلے میں بہت حساس ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو عمل اور کردار سے متاثر ہوتے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ لوگوں سے اس سلسلے میں گفتگو کرنے سے پہلے ہمیں ان کو سمجھنا اور جاننا چاہیے۔ اسلام کے تعلق سے بہت سی ایسی باتیں ہیں جو ذہن و عقل کو اپیل کرنے والی ہیں لیکن ان میں سے ہر چیز ہر کسی کے ذہن کو اپیل نہیں کرتی یا اس کے ذہن پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ بعض لوگ اسلام کی طرف اسلام میں عورت کے مقام کو دیکھ کر راغب ہوتے ہیں، کوئی نظریہ توحید سے متاثر ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اسلام کے سماجی اور معاشرتی نظام سے متاثر ہوتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو اسلام کا اخلاقی نظام زیادہ پرکشش محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم یہ جانیں کہ اسلام جیسے وسیع مذہب کے تعلق سے معلومات کے سلسلے میں لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے اسلام کا تعارف کس انداز میں پیش کیا جا

شیئر کیجیے
Default image
ترجمہ: تنویر عالم فلاحی