2

زندگی جہدوعمل کا نام ہے

مسلسل جدوجہد ہی زندگی ہے اور زندہ دلی کی علامت بھی۔ مسلسل کوششوں سے ہی زندگی سنورتی ہے۔ جو تھک کر بیٹھ جاتے ہیں وہ منزل نہیں پاتے اور مشہور عربی شاعر ابوتمام نے کہا ہے:

لو لا الساعی لم تکن المساعی

(اگر کوششیں کرنے والا ہی نہ ہو تو نتائج کہاں سے آئیں)

یہ سچ ہے کہ زندگی کی راہیں پھولوں کی سیج اور مخمل و دیبا کابستر نہیں لیکن ایسا بھی تو نہیں کہ یہاں صرف اور صرف کانٹے ہی ہوں بلکہ راہوں کاہموار و ناہموار ہونا بہت کچھ انسان کی اولوالعزمی وبلند حوصلگی پر منحصر ہے جو کامیابی کی شاہ کلید (Master Key)ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے لکھا ہے کہ ’’سعی و عمل کا جو درخت پھل پھول لاتاہے اس کی رکھوالی کی جاتی ہے۔‘‘ تو معلوم ہوا کہ

کرو کچھ کہ کچھ کرنا ہی کیمیا ہے

علامہ اقبالؒ بھی امت مسلمہ کو ساکن اور جامد دیکھنے کے روادار نہیں ہیں وہ صاف دعوت عمل دیتے ہیں، ان کے نزدیک حیات نام ہے عمل اور اقدام کا۔

زندگی در جستجو پوشیدہ است

اصل او در آرزو پوشیدہ است

(زندگی کا راز تلاش و جستجو میں ہے اور اس کی بنیاد آرزوؤں اور امیدوں پر ہے۔)

کہتے ہیں وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا ہے یہ تو برق رفتاری سے گزرتا چلا جاتا ہے، اور اپنے پیچھے صرف یادیں چھوڑ جاتا ہے۔ جو کسی کے لیے مایوسی کی شکل میں ہوتی ہیں تو کسی کے لیے حسین وخوبصورت لمحات کی شکل میں۔ یعنی جس نے وقت کا صحیح اور مناسب استعمال کیا وہ کامیاب و کامران رہا، ماضی کی یادیں اس کے لیے یقینا سوغات کی طرح ہوتی ہیں ۔ اور جنھوںنے وقت کو ضائع اور برباد کیا ان کے لیے مایوسی ومحرومی کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ اس لیے نکما بن کر اس کی ناقدری حسرت و یاس کے سوا اور کچھ نہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ زندگی کا کوئی شعبہ ہو بغیر جانفشانی، عرق ریزی، ہمت و حوصلہ اور صبرو استقلال کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہاں پر مجھے کلیم احمد عاجزؔ کا ایک شعر یاد آتا ہے جو انھوں نے غزل میں سلیقہ برتنے سے متعلق کہا ہے اور برمحل ہے ؎

غزل میں یہ سلیقہ گفتگو کا سہل مت جانو

یہاں تک ہم جو آئے ہیں بڑی مشکل سے آئے ہیں

اس لیے مشکلات اور آزمائشوں سے گھبرانا دانشمندی نہیں ہے بلکہ بھر پور عزم سے اس کا مقابلہ کرتے ہوئے ہر دم رواں ہر پل جواں آگے بڑھتے رہنا ہی عقلمندی ہے یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب آزمائشوں کی بھی آزمائش ہوجاتی ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز سرگرم عمل ہے، لیل و نہار گردش میں ہیں اس لیے وقت رہتے اگر سستی اور کاہلی کو اپنی زندگی میں ہم نے راہ دی تو غالب کے انداز میں کہنا پڑے گا ؎

مضمحل ہوگئے قویٰ غالب

اب عناصر میں اعتدال کہاں

عناصر میں بھرپور اعتدال مضبوط و طاقتور قویٰ کے زمانے کی عبادت و ریاضت بھی عنداللہ زیادہ مقبول ہے، اسی کے ساتھ اس گرم خون اور جذبات کی حرارت والی قیمتی عمر کی محنت و مشقت عناصر میں بے اعتدالی کے ایام میں کام آئے گی۔ اور وقت کا صحیح اور برمحل استعمال جہاں ہماری زندگی کو تعمیری رخ اور روشن و تابناک مستقبل دے گا اور ہم صحیح سمت میں ترقی کی راہ پر گامزن ہوں گے وہیں یہ ہمیں ایک مکمل اور اچھا انسان بھی بنا ئے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
ابوحبیبہ ندوی، سیتاپور

تبصرہ کیجیے