2

زینب الغزالی دور جدید کی عظیم مجاہد اور داعیہ

زینب الغزالی بیسویں صدی کی وہ خاتون ہیں جنھوں نے اپنی زندگی کو اسلام کے لیے وقف کردیا اور اس راہ میں آنے والی ہر مشکل کا عزم و حوصلہ کے ساتھ مقابلہ کرکے حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا جیسی دور اول کی مجاہد خواتین کی یاد تازہ کردی۔ آپ مصر، قاہرہ کے علاقے ہیلیوپولس میں ۱۹۱۷ء میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والدِ محترم کی دلی خواہش تھی کہ آپ دین اسلام کی خدمت کریں اسی لیے آپ شروع سے ہی دین کے کاموں میں حصہ لیتی رہیں۔ آپ جب ۱۸ برس کی تھی تو آپ جماعۃ السیدات والمسلمات (Muslim Women Association) قائم کی۔ اسلام کی تعلیم کو خواتین میں عام کرنے کے لیے آپ نے بطور خاص حصہ لیا۔ آپ نے خواتین اور نوعمر لڑکیوں کے لیے خصوصی پروگرام چلائے۔ آپ کے ہفتہ واری دروس جو کہ قاہرہ کی ایک مسجد میں منعقد ہوتے تھے، میں تقریباً ۳۰۰۰ خواتین شرکت کرتی تھیں۔ آپ نے ان تقاریر کے علاوہ، مصری جریدوں میں بھی لکھنا شروع کیا۔ ابتداء میں آپ نے ایک جریدہ کا اجراء کیا۔ اس کے علاوہ عام بہبود کے لیے ایک یتیم خانہ قائم کیا اور غریب مسلم خاندانوں کی اعانت اور خاندانوں کی باہمی رنجشوں کو دور کرنے کی خاطر ایک پینل قائم کیا۔ علاوہ ازیں آپ نے اس وقت کی موجودہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک میں قرآنی تعلیمات کے مطابق نظام قائم کیا جائے۔ یہ وہ پہلی خاتون تھیں جنھوں نے براہِ راست حکومت سے مطالبہ کیا اور اسی جرات کی پاداش میں آپ کو ۲۵ سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ بعد میں اس سزا میں ترمیم کردی گئی۔ جیل میں جن مشکلات سے آپ کو سابقہ پیش آیا، اور جس طرح آپ کے ساتھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مدد شامل رہی، اس کا تذکرہ آپ نے اپنی کتاب ایام من حیاتی Days from my lifeمیں تفصیل سے کیا ہے۔ آپ نے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں اور اس سے یہ ثابت کیا کہ ایک خاتون اگر عزم و استقلال سے کام لے تو وہ اپنا مقصد حاصل کرسکتی ہے۔ آپ نے اسلام کے دشمنوں کا ہمت اور استقامت سے مقابلہ کیا۔

جناب نعیم صدیقی صاحب کے چند اشعار ہیں جو انھوں نے ایسی ہی مسلمان عورتوں کے لیے کہے ہیں، زینب الغزالی ان اشعار کی عملی تصویر تھیں:

تم ہمت ہو تم قوت ہو

تم طاقت ہو تم جرأت ہو

تم اک پُر جوش جسارت ہو

تم ایک با رعب شجاعت ہو

تم عزت، عصمت، عفت ہو

تم عظمت، شوکت، الفت ہو

آپ دعوتی کاموں میں بے انتہا سرگرم رہتیں اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی پرچوں میں اسلام اور خواتین کے موضوع پر لکھتی رہتیں۔ آپ کے تحریر شدہ کالم اور لکچرز سے نوجوان خواتین بے حد متاثر ہوئیں۔

آپ کے زندگی کے حالات کی کہانی حق و باطل اور انصاف اور ناانصافی کی کشمکش کی کہانی ہے۔ جب بھی مسلم امت کو کسی جابر حکمراں نے نیچا دکھانے کی کوشش کی، زینب الغزالی جیسے لوگوں نے اپنے جان و مال کی قربانیاں پیش کیں۔ جیل میں آپ پر بے انتہا مظالم ڈھائے گئے۔ ۶ دن تک آپ کو بالکل بھوکا اور پیاسا رکھا گیا اور کسی سے ملنے کی اجازت بھی نہ تھی۔ آپ پر اکثر غشی طاری رہتی تھی۔ آپ صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے مدد کی دعائیں کرتیں اور ہمیشہ اللہ کی صفات کو دہراتی رہتیں۔ جس وقت آپ کو سزا دی جاتی، جیل کے حکام کہتے کہ بلاؤ اپنے اللہ کو۔ اور وہ پورے یقین سے جواب دیتیں کہ اللہ ہی بہترین مددگار ہے اور کوئی نہیں۔ یہ عزم و استقامت صرف اس لیے پیدا ہوا کہ آپ کو اللہ کی ذات پر کامل یقین، اس کی ملاقات کا شوق اور دین اسلام سے بے انتہا محبت تھی۔آپ سے مطالبہ کیا جاتا کہ اپنے ساتھیوں کے نام بتاؤ ورنہ تمہیں موت کی آغوش میں پہنچادیا جائے گا۔ انھوں نے جو جواب دیا اس کو غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کاغذ پر لکھ بھیجا کہ ’’میں تو ایک داعی ہوں، میری ہر حرکت اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائی۔ یہ وہی راستہ ہے جس پر اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ گزرے ہیں۔ ہمارا مقصد اللہ کے اس پیغام کو دوسروں تک پہنچانا ہے اور اس کے قانون کی دنیا میں نافذ کرنا ہے۔‘‘ انھوں نے ان لوگوں سے کہا کہ ’’میں تمہیں بھی اللہ کے پاک ناموں کی طرف بلاتی ہوں۔ جہالت کے اندھیروں سے نکل آؤ اور اسلام کے نور سے اپنے دلوں کو روشن کرلو۔‘‘ یہ تھے ان کے الفاظ۔ اتنی تکلیف کے عالم میں بھی انھوں نے دین کی دعوت ان لوگوں تک پہنچائی۔ ایک مومن اور ایک مومنہ کا کردار اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ وہ ماحول کو اپنے سانچے میں ڈھال لے نہ کہ جو بگڑا ہوا ماحول ہو اس میں گم ہوجائے۔ جیسا کہ اقبالؒ نے کیا خوب کہا ہے کہ

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے

مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہے آفاق

اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ اسلام نے عورت کو وہ مقام اور حق دیا ہے جو کسی مذہب نے نہیں دیا۔ مغربی دنیا کے لوگ خواتین کے لیے جس مطلق آزادی کی بات کرتے ہیں۔ وہ ان کے لیے آزادی نہیں بلکہ ان کا استحصال اور ان کی تذلیل و توہین ہے اور پھر وقت نے یہ ثابت کردیا کہ ان کی بات درست ہے۔ چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں آزاد معاشرے کی یہ آزاد عورت چاہتی ہے کہ کس طرح وہ اس آزادی کے جال سے نکلے کہ اسے عزت و احترام حاصل ہو۔ انھوں نے کہا تھا کہ ہر مسلم خاتون کو چاہیے کہ وہ اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کرے تبھی اسے معلوم ہوگا کہ اسلام نے کس طرح سے اس کے حقوق کی پاسبانی کی ہے۔

آپ بار بار اپنے دروس میں نیک بیوی کی خصوصیات اور بچوں کی اسلامی تربیت پر زور دیتی تھیں۔ اور آپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ قرآن اور سنت کی بتائی ہوئی حدود کے مطابق عورت گھر کی چار دیواری سے نکل کر اسلام کی خدمت کرسکتی ہے۔ آپ کے شوہر کے انتقال کے بعد آپ نے پوری طرح اپنی زندگی کو اسلام کی خدمت کے لیے وقف کردیا تھا۔

زینب الغزالی نے دین اسلام کی خاطر ہزارہا مشکلات کا سامنا کیا۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ اسی لیے بے اختیار کہنے کو دل چاہتا ہے کہ

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

شیئر کیجیے
Default image
فوزیہ متین، سعودی عرب

تبصرہ کیجیے