6

مسلم معاشرہ کو تعلیم یافتہ کیجیے

موجودہ دور کو علوم و فنون کا دور کہا جاتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جس میں ایکسپلوزن آف نالج ہوا، علم کا دائرہ وسیع ہوا اور معلومات پر اجارہ داری ختم ہوگئی۔ اب لمحوں کے اندر مطلوبہ معلومات دستیاب ہیں اور انہیں دنیا کے کسی بھی کونے تک پہنچایا اوروہاں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انفارمیشن ٹکنالوجی نے معلومات کے دریا بہادئے اور اب معمولی معمولی موضوعات پر سیکڑوں نہیں ہزاروں لاکھوں صفحات کی وقیع معلومات ہماری انگلیوں کی گرفت میں ہیں۔

علوم و فنون کی اس ترقی نے دنیا کو جہاں غیر معمولی آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں بڑے اہم مسائل اور زبردست چیلنجز بھی اس کے سامنے کھڑے کیے ہیں۔ یہ مسائل اور چیلنجز ٹکنالوجی، اس کے استعمال اور سماج و معاشرہ پر اس کے اثرات اور اس کے پھیلاؤ اور عوام الناس تک اس کی رسائی سے متعلق ہیں۔

ہمارے سماج میں اس وقت ایک طبقہ تو وہ ہے جو اس انفارمیشن ٹکنالوجی سے مستفید ہونے کی مکمل پوزیشن میں ہے اور اس کے اس قدر بھر پور استعمال کر رہا ہے کہ اس کے عادات و اطوار، ذہن و فکر، افکار و خیالات یہاں تک کہ اس کے جذبات و احساسات تک کو اس نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ اور اس ٹکنالوجی کے ذریعہ بڑے پیمانے پر پھیلائی جارہی اباحیت پسندی، اخلاق باختگی اور عریانیت و ننگے پن کا سماج شکار ہورہا ہے۔

اس کے برعکس ایک طبقہ وہ ہے جو حرف شناسی اور بالکل بنیادی تعلیم سے بھی بے بہرہ ہے۔ وہ نہ تو لکھ پڑھ سکتا ہے اور نہ ہی اپنی اقدار و روایات کی وکالت کرسکتا ہے۔ اور حقیقت میں دونوں ہی طبقے جہالت کا شکار ہیں۔ ایک طبقہ علوم و فنون اور سائنس و ٹکنالوجی کی تیز روشنی میں چندھیا کر اندھا ہوگیا ہے، دوسرا جہالت کے اندھیروں میں گم ہوکر اپنی بصارت کھو بیٹھا ہے۔

امت مسلمہ کی صورت حال اس پہلو سے ہمارے لیے زیادہ قابل توجہ اور قابل تشویش ہے۔ اس لیے کہ یہ گروہ انسانوں کی رہنمائی کے منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ اور اگر رہنما خود گمراہ ہوجائے اور راستہ بھٹک جائے تو کارواں کے بھیانک انجام کا صرف تصور ہی کیا جاسکتا ہے۔ اس پر مزید تکلیف دہ بات یہ ہے کہ خواتین جو سماج اور معاشرہ کی معمار ہیں اور جن کی گودوں میں ملک و ملت کا مستقبل پرورش پاتا ہے، اس اعتبار سے نہایت دگرگوں صورتحال سے دوچار ہیں۔ اعداد و شمار جو تصویر ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں اس سے ہٹ کر ہم صرف اپنے پاس پڑوس کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ ہمارا مستقبل ابھی روشنی و تابناکی سے کتنا دور ہے۔

ہر چند مسلمانوں کے اندر لڑکیوں کی تعلیم کا رجحان بڑھا ہے لیکن ان کے درمیان پائی جانے والی جہالت و ناخواندگی کے تناسب سے نہ صرف یہ بہت معمولی ہے بلکہ تشویشناک ہے اور ہم چند اہل ثروت اور شہری آبادی کی لڑکیوں کو دیکھ کر اطمینان کی سانس لے رہے ہیں۔

ملک کی عظیم یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے آس پاس کے اس علاقے میں جہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً پانچ لاکھ کے قریب ہے عین اونچی اونچی عمارتوں کے نیچے جھگی نما گھروں میں سیکڑوں بچے بچیاں ابھی تک علم کی روشنی سے محروم ہیں۔ یہ صورت حال صرف یہیں کی نہیں ملک کی کئی ریاستوں کی راجدھانیوں میں دیکھی گئی ہے۔ دیہی علاقوں اور قصبات میں تو ایسی صورتحال پر کسی خاص تشویش کا اظہار ہی نہیں کیا جاتا۔

ہمیں اس بات پر حیرت بھی ہے اور افسوس بھی کہ امت مسلمہ کے تعلیم یافتہ اور اہل ثروت کیا اتنے خود غرض اور اپنی ذاتی دنیا میں اس قدر گم ہوگئے ہیں کہ انہیں عین اپنی اونچی اور شاندار بلڈنگوں کے آس پاس جہالت و تنگدستی کے جمگھٹے نظر نہیں آتے اور اگر نظر آتے ہیں تو وہ ان کے مستقبل کو بدلنے کے لیے فکر مند کیوں نہیں ہوتے — اور — آخر ان افراد کو کیا ہوگیا ہے جو لوگوں کو حقیقت آشنا کرانا چاہتے ہیں اور انہیں اپنے گھر، خاندان،اپنے آس پاس اور گاؤں اور محلے کی جہالت کی کیچڑ نظر نہیں آتی۔

وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں تعلیمی بیداری پیدا کی جائے اور یہ سوچ پیدا ہو کہ لڑکے اور لڑکیوں کی تعلیم یکساں اعتبار سے لازمی اور ضروری ہے۔ اور اس سلسلہ میں ہر سنجیدہ آدمی کو غوروفکر کرنا چاہیے کہ وہ خود کس طرح امت کے مستقبل کو جہالت کے اندھیروں سے بچانے میں کوئی رول ادا کرسکتا ہے۔

اس صورت حال کو ختم کرنے کے لیے ہم محلہ اور شہر کے چند افراد کو متوجہ کرکے ہم خیال لوگوں کا ایک گروپ تشکیل دے سکتے ہیں جو مقامی سطح پر لوگوں کو اس بات پر آمادہ کرسکتا ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو لازماً سرکاری یا غیر سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے لیے بھیجیں اور اس معاملہ میں لڑکے اور لڑکی کے درمیان کسی قسم کی تفریق نہ برتی جائے۔ اس طرح کے گروپ کی یہ بھی ذمہ داری ہوگی کہ وہ واقعی غریب افراد تک پہنچیں اور ان مسائل کو بھی حل کریں جو واقعی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

ہمارے معاشرہ کا ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ اپنی سماجی سطح بلند ہوجانے پر ان لوگوں اور افراد کو یکسر بھول جاتے ہیں جن کے درمیان سے وہ اٹھ کر آئے ہیں۔ حالانکہ یہ طرز عمل مناسب نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں علم و مرتبہ اور خوشحالی سے سرفراز کیا ہے تو ہمارا یہ فرض ہے کہ ان لوگوں کو بھی اس مقام تک لانے کی فکر کریں جنھیں ہم پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ ایسا ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے رشتہ دار ایک دو غریب طلبہ وطالبات کی تعلیم کے اخراجات اور ان کی رہنمائی کی ذمہ داری قبول کرلیں جو اپنے رشتہ داروں اور اہل خاندان کی بہترین خدمت ہوگی۔ ایسا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہمارے حسن سلوک کے سب سے زیادہ مستحق ہمارے قریبی لوگ ہیں۔

کاش! ایسا ہو کہ ہمارے اندر دوسروں کو بھی اس مقام تک پہنچانے کی تڑپ پیدا ہوجائے جہاں ہم پہنچ گئے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو ایک سلسلہ شروع ہوجائے گا اور چراغ سے چراغ جلتے جلتے اندھیروں پر فتح حاصل ہوجائے گی۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے