5

بلا عنوان

ڈاکٹر اکبر کے امریکہ سے آنے میں ابھی چوبیس گھنٹہ باقی تھے ان کو کل شام چار بجے ایئر پورٹ پر اترنا تھا ادھر گھر میں چاروں طرف سامان پھیلا تھا۔انور، چھوٹی بہن فوزیہ اوران کی بھابی شگفتہ اپنے نئے مکان میںدودن سے سامان لگانے میں مصروف تھے۔ ڈرائنگ روم بہت اچھی طرح سج چکا تھا۔بڑے ہال میں صوفے وغیرہ قرینہ سے لگادئے گئے تھے۔ ڈائننگ ٹیبل چھوٹی بڑی ڈریسنگ ٹیبل، فرج، ٹی وی کے دونوں سیٹ سب الگ الگ کمروں میں سیٹ کردئے گئے۔ بس ایک مسئلہ کچھ دینی کتب اور قرآن شریف وغیرہ کی الماری کا باقی تھا۔ یہ الماری ابھی تک صحن میں پڑی تھی اور کل رات کی بارش سے بہت سی کتابیں بھیگ بھی گئی تھیں۔ اسی میں ڈاکٹر اکبر کا وہ کلام پاک بھی تھا جو اس نے بچپن میں پڑھا تھا۔ اور پھر اسی سے حفظ بھی کیا تھا۔

یہ بات گھر کے سب ہی لوگ جانتے تھے کہ اکبر کو حفظِ قرآن پاک سے کتنا فائدہ پہنچا تھا۔ اپنے کلاس میں اکبر کو اسی سے عزت ملی۔ اسی کی وجہ سے اکبر کو علی گڑھ میں رہنے کا ٹھکانہ اور ایک مسجد میں امامت حاصل ہوئی اور اسی کے ذریعہ اس کی رسائی یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام تک ہوسکی تھی۔ شگفتہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ الماری کہاں رکھے۔ اس لیے کہ گھر کی ہر چیز ہی نئی نہیں تھی گھر تک نیا تھا۔ انور میاں سب سامان ٹھیک سے لگا کر صوفے پر ایسے گر پڑے جیسے کوئی پکا پھل زمین پر گرتا ہے۔ بھابی اب جلدی کرو، کہاں رکھیں اس الماری کو۔ شگفتہ کی بھی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ کبھی اس کا دل چاہتا کہ اس الماری کو اپنے کمرے میں لے جائے کیونکہ وہ اکبر سے جدائی کے دن اکبر کی کتابوں، خاص کر قرآن و حدیث کی کتابوں سے ہی دل بہلاتی تھی۔ لیکن اب تو انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے جارہی تھیں لمحہ لمحہ اکبر کی آمد کا وقت قریب آرہا تھا۔ اب ان کتابوں کی کوئی خاص افادیت نظر نہیں آتی تھی۔ اسی شش و پنج میں اس نے پھر انور میاں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا بھیا اس کو بھی جلد کہیں سیٹ کردو۔ دیکھو وقت بہت تیزی سے قریب آرہا ہے۔ انور میاں اچھل پڑے بھابی مسئلہ حل ہوگیا۔ اس الماری کو مسجد میں رکھ دیا جائے اس سے پہلے کہ بھابی کچھ کہتیں انور میاں نے فوراً دو مزدور بلا کر وہ ’’الماری‘‘ مسجد میں رکھوادی اور شگفتہ دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی کیونکہ انور میاں کے نزدیک اس نئے گھر میں ان کتابوں کی نہ کوئی ضرورت تھی اور نہ افادیت۔ ان پاک کتابوں کی جگہ تو مسجد میں ہی ہوسکتی تھی۔ سو انہیں وہیں رکھوادیا گیا۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد داؤد ، نگینہ

تبصرہ کیجیے