4

آخرت کی زندگی

ہر مسلمان اس بات پر یقین وایمان رکھتا ہے کہ یہ دنیاوی زندگی چند روزہ ہے۔ اور آخرت کی زندگی ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی اور لازوال زندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار یہ حقیقت بیان فرمائی۔ ارشاد ربانی ہے:

’’کہہ دو (اے محمد! متاع دنیا تھوڑی سی ہے اور آخرت اس کے لیے بہتر ہے جو پرہیزگاری کے ساتھ زندگی بسر کرے۔‘‘ (النساء)

سورہ اعلیٰ میں فرمایا:

’’تم حیات دنیا کو ترجیح دیتے ہو حالاں کہ آخرت زیادہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ انسان سب کچھ جانتے ہوئے بھی دنیا ہی سے دل لگاتا ہے۔ چند روزہ عیش و عشرت اور آرام و راحت کے لیے اللہ کے احکام کو توڑ دیتا ہے۔ حلال و حرام کی پرواہ نہیں کرتا اوریہاں کی چندہ روزہ رنگینیوں اور دلفریبیوں پر مرمٹتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ دنیا حاصل کرنے، مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے، یہاں زیادہ سے زیادہ عزت وشہرت حاصل کرنے کی دھن میں ایسا غافل ہوجاتا ہے کہ وہ پوری طرح دنیا ہی کا ہوکر رہ جاتا ہے اور اس آخرت سے بالکل غافل اور بے پرواہ ہوجاتا ہے جہاں جاکر ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے۔ جہاں کے دکھ درد عذابات بھی ہمیشہ کے ہیں اور عیش و راحت، خوشی و مسرت بھی لازوال ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ ان اسباب تفاخر کی مدت بہت تھوڑی ہے اور آن کی آن میں یہ بہار خزاں میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ دنیا کی زندگی محض دھوکے کی ٹٹّی ہے اصل چیز جو توجہ کرنے کی ہے وہ آخرت کی زندگی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’جان لو کہ دنیا کی یہ زندگی بس کھیل کود ہے اور زینت و آرائش اور باہم ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں آگے بڑھنا ہے۔ بارش کے مانند جس کی پیداوار دیکھ کر کسان پھولے نہیں سماتے، پھر وہ خشک ہوجاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ پیلی پڑجاتی ہے پھر وہ ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے۔ اور آخرت میں سخت عذاب ہے یا اللہ کی طرف سے بخشش اور خوشنودی۔ اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کی ٹٹی ہے۔‘‘

(حدید:۲۵)

آخرت میں اللہ تعالیٰ بندے کے گناہوں کو معاف فرماکر جنت میں داخل کردے یہی سب سے بڑی کامیابی و کامرانی ہے اور یہی ایک سچے مومن کی خواہش و تمنا بھی۔ یہی وہ سب سے بڑی دولت ہے جس کے سامنے دنیا کے تمام عیش و آرام ہیچ و حقیر ہیں اور دراصل یہی مقابلہ کا میدان ہے جس میں اہل ایمان کو ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ چنانچہ اللہ رب العالمین فرماتا ہے:

’’ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرو، اپنے رب کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کی وسعت کے برابر ہے جو تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے اس سے نوازتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘ (آیت:۲۱)

سورۃ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تم کو اپنی اس زندگی کے پورے پورے بدلے قیامت کے دن ملنے والے ہیں۔ جو شخص آگ کے عذاب سے بچ گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہی اصل میں کامیاب ہوا۔ رہی اس دنیا کی بات تو یہ محض دھوکے کا سامان ہے۔‘‘

دنیا دارالعمل ہے، سعی و کوشش کی جگہ ہے اور آخرت کی زندگی دارالجزاء ہے۔ نیکی اور بدی کے پھل اور اعمال کے بدلے کا گھر ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کو اس طرح گزارنا چاہیے کہ ہماری آخرت کامیاب ہو۔ ہم ہر وہ نیکی اور اچھے اعمال کریں جو ہمارے لیے اللہ کی رضا وخوشنودی حاصل کرنے کا موجب بنیں اور ان تمام برے اعمال اور گناہوں سے اپنی زندگی کو پاک رکھیں جو اللہ کی ناراضگی کا موجب بننے والے ہیں۔

احادیث میں بھی بار بار ہمیں دنیا کی حقیقت سمجھائی گئی ہے اور فکر آخرت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) کوئی گھر نہیں ہے اور اس کا مال ہے جس کا (آخرت میں) کوئی مال نہیں ہے اور اسے وہی جمع کرتا ہے جس کے پاس عقل نہیں۔‘‘ (احمد، بیہقی)

یعنی آخرت میں اس شخص کے لیے کوئی ٹھکانا اور سامان راحت نہیں ہے جس نے دنیا ہی کو سب کچھ سمجھا اور دنیا کی زندگی میں آخرت کی طرف سے غافل رہا۔ دنیا بنانے سنوارنے میں ہی اپنی ساری طاقت توانائیاں، وقت مال و دولت سب کچھ لگادیا اور آخرت کے لیے کچھ سامان نہ کیا۔ اس سے بڑھ کر نادان کون ہوسکتا ہے۔ اللہ کے پیارے رسول ؐ نے فرمایا:

’’دانا وہ شخض ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے اور نادان شخص وہ ہے جو اپنی خواہشات نفس کی پیروی اختیار کرے اور اللہ سے غلط آرزوئیں وابستہ رکھے

شیئر کیجیے
Default image
ساجدہ فرزانہ صادق

تبصرہ کیجیے