2

حجاب کے نام

مسلم خواتین کے انٹرویوز

ماہنامہ حجاب اسلامی پوری آب و تاب کے ساتھ ملا۔ ٹائٹل پسند آیا۔ میرے خیال میں اب سلمیٰ نسرین صاحبہ کی شکایت دور ہوگئی ہوگی۔تمام ہی مضامین پسند آئے۔ خواتین کا جہاد، پرسنل لا بورڈ کا نکاح نامہ بہت اچھے لگے۔ ایس امین الحسن صاحب کا مضمون بڑا معلوماتی اورکارآمد ہے۔ آپ اس طرح کا ایک سلسلہ شروع کیجیے جو معاشرتی مسائل میں برابر رہنمائی دے۔

میں ایک مشورہ دینا چاہتی ہوں۔ وہ یہ ہے کہ اس وقت ہمارے ملک میں بھی اور دنیا کے دیگر حصوں میں بھی بہت سی خواتین دینی فکر کے ساتھ سماجی، معاشرتی، معاشی اور تعلیمی مسائل میں فعال رول ادا کررہی ہیں۔ان کی کوششوں کے نتائج بھی بہت اچھے سامنے آرہے ہیں۔ ایسی خواتین سے مل کر ان کے انٹرویو لیے جائیں اور ان کی سرگرمیوں کا تعارف بھی حجاب کے ذریعہ سامنے آئے تو اچھا ہوگا۔ اس طرح حجاب پڑھنے والی خواتین کے اندر بھی کام کرنے کاجذبہ اور حوصلہ پیدا ہوگا۔

ویسے حجاب اچھا رسالہ ہے اور اس لائق ہے کہ ہر گھر کی خواتین اور نو عمر لڑکیاں اس کا پابندی سے مطالعہ کریں۔

عفت کمال، رام نگر ،نینی تال

]آپ کے قیمتی مشورے کے لیے ہم شکرگزار ہیں اور اللہ تعالیٰ سے آپ کے لیے جزائے خیر کی دعا کرتے ہیں۔ آپ کا مشورہ اچھا ہے۔ ہم اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ آپ اس سلسلے میں اگر کوئی تعاون دے سکتی ہیں تو ضرور دیں، یہ ہمارے لیے آسانیو ںکا ذریعہ ہوگا۔ایڈیٹر[

مضامین اچھے رہے

جون ۲۰۰۵ء کا شمارہ اپنے وقت پر ملا۔ حجاب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ شائع ہورہا ہے دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی ہے۔ یوں تو سارے مضامین اچھے رہے۔ خاص کر محمد سلیم صاحب کی کہانی ’’عظیم نابینا‘‘ اور محترمہ فوزیہ صاحبہ کا ’’خواتین کا جہاد‘‘ بہت پسند آئے۔ اللہ تعالیٰ سے میری دعا ہے کہ یہ رسالہ ہمیشہ کامیابی و کامرانی کی طرف گامزن رہے۔ آمین

خورشیدہ خاتون، سیتاپور

سوال و جواب کا کالم

میں مسلسل ۵ مہینوں سے شوق و رغبت کے ساتھ ماہ نامہ حجاب کا مطالعہ کررہا ہوں اس کا ہر صفحہ بلکہ ہر سطر زندگی اور مقصدیت سے بھر پور ہے۔ میں دوسرے دوستوں کو بھی اس کے مطالعے کی ترغیب دیتا ہوں اور صمیم قلب سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس رسالے کو مقبولیت نصیب فرمائے۔ مئی کا شمارہ پیش نظر ہے۔ اداریہ، سو کا نوٹ،ضمیر زندہ ہے بہت پسند آئے بس ہر ماہ بے صبری سے رسالے کا انتظار کرتا ہوں۔ میرا مشورہ ہے کہ سوال وجواب کا کالم کھولیں۔

محمد عباس لون، کپواڑہ

]سوال وجواب کا کالم جلد شروع ہوگا۔ ہم مختلف میدانوں کے ماہرین سے رابطہ کرنے اور ان کی منظوری لینے میں لگے ہیں۔ بس ایک مہینہ اور انتظار کریں۔ ایڈیٹر[

حجاب شوق سے پڑھتی ہوں

لکھنا یہ ہے کہ آپ نے میرا بھیجا ہوا مضمون چھاپا۔ بہت بہت شکریہ ۔ جب ہم نے حجاب کو دیکھا اور اس میں اپنی بھیجی ہوئی تحریر دیکھی تو بہت خوشی ہوئی۔ میں حجاب کو بہت شوق سے پڑھتی ہوں اس میں بڑی اچھی اچھی کہانیاں رہتی ہیں۔ لطیفے بھی پڑھنے میں بہت مزہ آتا ہے۔ میں اور مضامین لکھ کر بھیجوں گی۔

غفرانہ خاتون، شاہ پور بگھونی

حجاب انگریزی میں بھی شائع ہو

گذشتہ پانچ مہینوں سے حجاب اسلامی پابندی سے موصول ہورہا ہے۔ میرے گھر کے افراد ہی نہیں دیگر کئی احباب جن کو میں پڑھنے کے لیے دیتی ہوں اسے وہ بھی بے حد پسند کرتے ہیں۔ حجاب اسلامی کے تعارف کے دوران کئی ایسے افراد سے ملاقات ہوئی جو یہ کہتے ہیں کہ اس طرح کا رسالہ انگریزی میں بھی نکالا جانا چاہیے تاکہ وہ لوگ جو اردو سے ناواقف ہیں مگر دینی لٹریچر پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں انہیں بھی فکری غذا فراہم ہوسکے۔

میری ذاتی رائے بھی یہی ہے کہ اس طرح کے رسالے کی انگریزی زبان میں بھی شدید ضرورت ہے۔ خود ہمارے ملک ہندوستان میں اب ایک بڑے طبقے کی، جو خیر سے خوشحال اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہے، زبان انگریزی ہوتی جارہی ہے۔ اس طبقہ کی دو خصوصیات ہیں۔ ایک یہ کہ وہ جدیدیت میں ایسا گرفتار ہے کہ خود کو دین اور اس کے تقاضوں سے الگ کربیٹھا ہے۔ تو پھر اس طبقہ میں دعوت دین اوردینی فکر کیسے پہنچائی جائے یہ ایک بڑا سوال ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ انگریزی تعلیم یافتہ طبقہ بھی دین سے قریب ہونے کی دبی دبی خواہش رکھتا ہے۔ اور اگر کوشش کی جائے تو دینی فکر کا فروغ اس کے درمیان بھی ممکن ہے۔ اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب حجاب جیسے ٹھوس دینی فکر رکھنے والے رسالہ ان کی زبان میں شائع ہوکر ان کے گھروں تک پہنچیں۔

اردو بہ ہرحال اب ایک محدود طبقہ کی زبان ہوگئی ہے۔ اگر اپنی فکر کو وسیع پیمانے پر پہنچانا ہے تو انگریزی زبان کو اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔

سعدیہ اقبال، لیسٹر، یوکے(بذریعہ ای -میل)

]آپ نے ہمیں خط لکھا اس کے لیے ہم شکر گزار ہیں، آپ کے خیالات ناقابل انکار حد تک بجا ہیں۔ لیکن ہماری مجبوریاں ہیں اور خواہش کے باوجود فی الحال ہم انگریزی حجاب نہیں نکال سکتے۔ البتہ ہمارے منصوبہ میں اس کی اشاعت شامل ہے۔ آپ دعا کیجیے اور وقت ضرورت تعاون کے لیے تیار رہیے۔ ایڈیٹر[

چند کام کرنے کے

جون ۲۰۰۵ء کا شمارہ ملا۔ عادت کے مطابق گھر کے لوگوں کے حوالے کردیا۔ میرا شمارہ گھر کے علاوہ دیگر افراد بھی شوق سے پڑھتے ہیں اور پورے مہینے گھومتا رہتا ہے۔

اس ماہ کے تمام مستقل کالم معلوماتی تھے۔ بحث و نظر، سرورق، خوش گوار رشتے، مستحکم خاندان، مسائل پرسنل لا بورڈ کا نکاح نامہ … وغیرہ وقت اور ضرورت کے مطابق ہیں۔

دعوتِ دین کی اہمیت پر مستقل مضامین کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حجاب کا ایک صفحہ لازماً تعمیر معاشرہ اور اصلاح معاشرے کے لیے خاص کیا جائے اور کچھ عملی چیزوں کی طرف رہنمائی کی جائے۔ معاشرہ کی اصلاحمیں ہماری مسجدیں کلیدی رول ادا کرسکتی ہیں۔ اگر سماج کے سنجیدہ افراد اس بات کی کوشش کریں کہ ہر مسلم آبادی میں لازماً ایک مسجد ہو جہاں معقول تنخواہ پر با صلاحیت امام ہو اور مسجد میں اسلامی کتابوں کا ایک ذخیرہ لائبریری کی شکل میں جمع کیا جائے۔ یہاں ترجمۂ قرآن، حدیث، سیرت اور دینی کتب کے ساتھ ساتھ عام معلوماتی لٹریچر بھی ہو، نیز ان مسجدوں میں بچوں کو قرآن، دینیات اور اردو زبان سکھانے کے ساتھ ساتھ معاشرہ کے ناخواندہ لوگوں کو بھی پڑھالکھا بنانے کی کوشش ہو۔ یا کم از کم ناخواندہ افراد کو دین سکھانے کا زبانی ہی سہی، انتظام ہو۔

حجاب اب ہر گھر کی ضرورت بن گیا ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ اللہ تعالیٰ اسے استحکام نصیب فرمائے۔

مستحق الزماں خاں، محی الدین نگر

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے