BOOST

امت کی مائیں اور اعلیٰ تعلیم

قرآن و سنت کی تعلیمات نے جس طرح مردوں کے اندر علی شغف اور علمی مذاق پیدا کیا تھا اسی طرح عورتوں کے اندر بھی پیدا کیا۔ حصول علم کے معاملہ میں اسلام نے عورتوں و مردوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں برتی۔ دونوں پر علم کا حصول فرض قرار دیا۔ دونوں کے لیے حصولِ علم کے یکساں مواقع فراہم کیے۔ انفس و آفاق پر غوروتدبر سے متعلق وہ ساری قرآنی آیات جنہیں سائنسی تحقیقات کے لیے مہمیز اور عہدِ وسطیٰ کے مسلمانوں کے علمی مذاق و مزاج کا سبب اول قرار دیا جاتا ہے، ان کے مخاطب مرد و خواتین دونوں ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام کے اولین ادوار میں سے ہر دور میں ہمیں ایسی باکمال خواتین ملتی ہیں جنھوں نے علوم و فنون کے مختلف شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ حضرت عائشہؓ ان چار راویانِ حدیث میں سے ایک ہیں جن سے سے سب سے زیادہ احادیث مروی ہیں۔ دوسرے راویوں سے مروی احادیث کی جو تصحیحات آپ نے فرمائی ہیں ان پر ایک مستقل کتاب لکھی گئی ہے جو علم حدیث کی اہم کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ (امام زرقشی کی کتاب العجابہ لاراد مع استدراکات عائشہ علی الصحابہ)حضرت عائشہؓ کے علم و فن کے اس پہلو سے کم ہی لوگ واقف ہیں کہ وہ حدیث کے ساتھ ساتھ شعروادب، تاریخ، قانون طب، فلکیات اور ریاضی جیسے علوم کی بھی ماہر تھیں۔ حضرت احمد بن حنبلؒ کے اساتذہ میں ایک خاتون تابعی عمرہ بنت عبدالرحمن کا بھی ذکر ملتا ہے۔

ان کے علاوہ بھی دوسری اور تیسری صدی ہجری کے کئی نامور علماء خاتون اساتذہ کے شاگرد رہے ہیں۔ ابن حجر عسقلانیؒ نے لمبے عرصہ تک جویریہ بنت احمد سے اور کچھ عرصہ کے لیے عائشہ بنت عبدالہادی سے حدیث کے درس لیے۔ ابن عساکرؒ کے اساتذہ میں تو تقریباً ۸۰ خواتین کے نام ملتے ہیں، حتی کہ انھوں نے موطا کی سند (اجازہ) بھی ایک خاتون محدث زینب بنت عبدالرحمان سے حاصل کی۔ ابن بطوطہ نے زینب بنت احمد سے، جلال الدین سیوطیؒ(مصنف تفسیر جلالین) نے ہاجرہ بنت محمد سے اور امام شافعیؒ نے سعیدہ نفسیہ سے علم حاصل کیا۔

قرطبہ اور غرناطہ کے سائنسدانوں، ریاضی دانوں، ماہرین فلکیات اور کیمیا دانوں میں ہمیں کئی خواتین کے نام بھی ملتے ہیں (مثلاً: عجلیہ عسطرلبی) خاتون اطباء (مثلاً صحابیہ حضرت شفاءؓ یا صوفی طبیب ابوسعید نیشاپوری کی شاگرد) تو ہر دور میں اسلامی تمدن کا لازمی جز رہی ہیں۔ جامعہ قرطبہ (جسے بجاطور پر عہدِ وسطیٰ کی ہارورڈ یونیورسٹی کہا جاسکتا ہے) میں مستقل درس دینے والوں میں ہمیں کئی خواتین کے نام ملتے ہیں جن میں سے بعض کے دروس میں شرکاء کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ جاتی تھی۔

زوال و گراوٹ کی اس سے بہتر کیا مثال ہوسکتی ہے کہ ان درخشندہ روایات کی امین ملت آج اس مقام پر ہے کہ اس کی اکثریت کے نزدیک خواتین کی تعلیم نہ صرف غیر ضروری بلکہ ناپسندیدہ اور معیوب ہے۔ گذشتہ صدی کے نصف کے اختتام تک ہمارے ہاں یہ بحثیں عام تھیں کہ خواتین کو پڑھنا لکھنا سیکھانا چاہیے یا نہیں؟ آج بھی دین دار باشعور سمجھے جانے والے لوگوں میں بھی، ایسے لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو خواتین کو بنیادی اسکول اور خانہ داری کی بنیادی تعلیم کافی سمجھتے ہیں۔

۲۰۰۱ء کی مردم شماری کے مطابق نصف سے زائد مسلمان خواتین دستخط بھی نہیں کرسکتیں۔ مسلمان مردوں اور خواتین کے درمیان تناسب خواندگی میں 17.5فیصد کا فرق ہے۔ شمالی ہندوستان کے دیہی علاقوں میں 88فیصد مسلم خواتین ناخواندہ ہیں۔ (دیکھئے مردم شماری ۲۰۰۱ء کی رپورٹ)

ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش، یوپی، بہار، گجرات، راجستھان، پنجاب، ہریانہ وغیرہ جیسی ریاستوں میں نہ صرف مسلم خواتین تعلیمی اعتبار سے دیگر خواتین سے کافی پیچھے ہیں بلکہ یہ فاصلہ مستقل بڑھتا جارہا ہے۔ (دیکھئے ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ شائع کردہ ICAERنئی دہلی) محترمہ زویا حسن صاحبہ کے ذریعہ کرائے گئے سروے کے مطابق صرف 17فیصد مسلم خواتین مڈل اسکول تک پڑھ پاتی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کا تناسب 3فیصد سے بھی کم ہے۔

ان سب سرویز کے مطابق مسلم خواتین کی تعلیمی صورتحال چند ریاستوں (تمل ناڈو، اے پی، مہاراشٹر وغیرہ) کے ماسوا ، درج فہرست ذاتوں اور طبقات کی خواتین سے بھی پست تر ہے۔

گذشتہ ایک صدی میں ہندوستان میں کوئی اسلام پسند خاتون علم و فن کے کسی بھی شعبہ میں کسی اجتہادی کارنامہ کو انجام نہیں دے سکی۔ شبلیؒ، فراہیؒ، مودودیؒ، آزادؒ، اقبالؒ، تھانویؒ وغیرہم کی سطح کی کوئی خاتون امت پیدا نہ کرسکی، نہ کسی خاتون کو ان میں سے کسی کی استاذ ہونے کا شرف حاصل ہوسکا۔ کوئی بلند پایہ تصنیف کسی خاتون کے ذریعہ نہیں لکھی گئی۔ بے شک بعض مسلم خواتین نے شعروادب اور بعض دیگر شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کارنامے انجام دئے ہیں لیکن یہ سب وہ خواتین ہیں جنھوں نے اسلام اور اسلامی اقدار سے بغاوت کی روش اختیار کی۔ بات اسلام پسند خواتین کی چل رہی ہے۔ اور اس معاملہ میں یقینا ایک بڑی مثال پیش کرنے سے بھی ہم قاصر رہے ہیں۔ حتی کہ تحریک اسلامی کے حلقہ میںبھی، کوئی خاتون، نجات اللہ صدیقی اور فضل الرحمن فریدی وغیرہم کے معیار کو نہیں پہنچ سکی۔ برصغیر کی خواتین میں مریم جمیلہ کا نام لیا جاسکتا ہے جن کے کارنامے علمی دنیا میں قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ اس نومسلم امریکی خاتون کا علمی ڈیولپمنٹ اسلامی معاشرہ میں نہیں ہوا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ پاکستان منتقل ہوئیں۔

آخر اس کا سبب کیا ہے؟ کیا خواتین کے اندر ذہانت کی کمی ہے؟ ہندوستان میں مسلم طالبات کی تعداد، اسکولز میں مسلم طلبہ کی تعداد کے مقابلہ میں کم سے کم ۳۰ فیصد کم ہے۔ لیکن ٹاپ کرنے والوں میں ہمیشہ طالبات آگے ہیں۔ گذشتہ چھ برسوں میں دسویں جماعت میں مختلف ریاستوں میں گیارہ مسلمان بچوں نے ٹاپ کیا ہے۔ ان میں ۹ طالبات ہیں۔ مختلف ریاستوں میں ایس آئی او کے زیر اہتمام جلسہ ہائے تقسیم انعامات، مختلف مقابلوں اور مسابقوں کے انعامات کی تقسیم وغیرہ کے تجربہ کی بنیاد پر میرا اندازہ یہ ہے کہ ٹاپ کرنے والے دس اسکولی بچوں میں اوسطاً سات طالبات ہوتی ہیں۔

گویا اعلیٰ صلاحیتوں کے حصول کا امکان لڑکوں کے مقابلہ میں لڑکیوں میں زیادہ ہے۔ اس کے باوجود علمی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ اس کے اسباب کیا ہیں؟ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

پہلا سبب اسلام میں خواتین کے رول سے متعلق پیدا کردہ الجھنیں ہیں۔ بدقسمتی سے صدیوں کے زوال اور بیرونی اثرات نے بہت سے ایسے مسائل میں بھی مسلمانوں کو ذہنی الجھنوں کا کا شکار کردیا ہے جن پر اس طرح کی الجھنوں کا کوئی جواز ہی نہیں ہے۔اسی طرح کے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ خواتین کے سماجی رول کا مسئلہ ہے۔ ایک طرف وہ قدامت پسند طبقہ ہے جس نے تہذیبی روایات کو اصول کا درجہ دے دیا ہے۔ جس کے نزدیک عورت کا رول اس کے سوا کچھ اور نہیںہے کہ وہ بس گھر میں اپنے شوہر اور بچوں کی خدمت میں لگی رہے۔ یہ گروہ خواتین کو نئی نسل کی مربی اور افراد ساز کا رول بھی دینے کے لیے عملاً تیار نہیں ہے۔ مسلمان خواتین کی پسماندگی کے لیے بڑی حد تک یہی طبقہ ذمہ دار ہے۔ آج بھی ایسے تعلیم یافتہ دیندار گھرانوں کی کمی نہیں ہے جہاں لڑکے اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور لڑکیوں کو ہائی اسکول تک مکمل کرنے نہیں دیا جاتا۔

اگر خواتین کے رول کو گھر تک ہی محدود مانا جائے اور کم سے کم نئی نسل کی تربیت اور افراد سازی کے کام کا مجاز مانا جائے، تب بھی اس صورتحال کے لیے کوئی جواز نہیں ہے۔ مڈل پاس ماں کے ذریعہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نسل کی تربیت کا کیا مطلب ہوسکتا ہے؟ اگر یہ مانا جائے کہ بچے کو سب کچھ اسکول یا بیرونی ماحول میں نہیں پڑھنا ہے بلکہ علم و شعور اور تہذیب و شائستگی کے بنیادی اسباق اپنی ماں سے سیکھنے ہیں تو ظاہر ہے کہ ماں کے لیے بھی علم و شعور کی ایک سطح چاہیے۔

دوسری طرف وہ طبقہ ہے، جو نسوانی آزادی کے مغربی تصورات سے مرعوب ہے اور ان حقائق سے قطع نظر کہ ان تصورات نے مغربی سماج میں کیا غضب ڈھایا ہے، اسلام کو مغربی تصورات سے ہم آہنگ کرنا چاہتا ہے۔ اس طبقہ نے فکری اور عملی سطحوں پر جو مثالیں پیش کی ہیں اس نے روایتی دیندار طبقہ کو اور زیادہ محتاط بنادیا ہے۔ اس طرح یہ طبقہ بھی پسماندگی کے لیے یکساں ذمہ دار ہے۔ اس تماشہ میں اسلام کا اصل مبنی پر اعتدال تصور گم ہوچکا ہے۔ یہ کیفیت، خصوصت کے ساتھ شمالی ہندوستان میں زیادہ شدید ہے۔ جہاں یا تو عورتوں کو ناخواندہ رہنا ہے یا کسی دینی مدرسے میں پڑھنا ہے، اور اگر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنی ہے تو پہلے ساری اسلامی اقدار سے ناطہ توڑنا ہے۔

جنوبی ہند میں جہاں نسبتاً متوسط طبقات میں، اس معاملہمیں توازن پایا جاتا ہے، مسلمان، عورتوں کی تعلیمی صورتحال بہتر ہے۔ گرلس کالجز کی کثرت، چھوٹے سے چھوٹے قصبہ میں گرلس کالج، مخلوط تعلیمی اداروں میں بھی لڑکوں لڑکیوں کے درمیان مناسب فاصلہ، اور کالجوں ویونیورسٹیوں حتی کہ میڈیکل وانجینئرنگ کالجوں میں بھی برقع پوش طالبات کی کثرت، ان مناظر سے شمالی ہند کے بیشتر شہر محروم ہیں اور یہ محرومی وہاں تعلیمی پسماندگی کا اولین سبب ہے۔

دوسرا سبب، مسلم عوام کی یہ روایتی سوچ ہے کہ تعلیم کا واحد مقصد روزگار ہے۔ عام تعلیم یافتہ مسلمانوں میں بھی سوچ کی سطح ابھی اتنی بلند نہیں ہوئی ہے کہ وہ تعلیم کو معاشی ضرورتوں سے الگ کرکے دیکھیں۔ چنانچہ اگر لڑکیوں کو کمانا نہیں ہے تو پڑھنا کیوں ہے؟ اور جب پڑھ لیا ہے تو کمائے گی نہیں تو ڈگری کا فائدہ؟ تعلیم شخصیت کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ اور اگر کوئی خاتون اپنی خاندانی و گھریلو ذمہ داریوں کے پیشِ نظر کسی مستقل معاشی مصروفیت کی پابند نہیں ہونا چاہتی تب بھی اپنی تعلیم اور صلاحیتوں کے بل پر، اپنے فارغ اوقات میں، سوسائٹی کو مستفید کرنے کے بہت سے طریقے اختیار کرسکتی ہے۔ یہ تصور ہمارے ہاں مفقود ہے۔ زوال اور ذہنی پسماندگی کے نتیجہ میں مسلمانوں میں رضاکارانہ خدمات کا تصور سب سے کم ہے۔ بلکہ ایک طرح سے ان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ وعظ و نصیحت کی محفلوں کے لیے تعلیم ضروری نہیں ہے۔ اور ان کے علاوہ رضاکارانہ سرگرمیوں کا نہ کوئی ماڈل ہے اور نہ اس طرح کے حوصلے اور جذبے ہمارے معاشرہ پیدا کرپاتا ہے۔ چنانچہ تعلیم یا تو نمائشی ٹائٹل کے لیے ہے یا نوکری کے لیے۔ ان دونوں کی ضرورت نہیں تو تعلیم کی بھی ضرورت نہیں۔ اس صورتحال کا نتیجہ ہے کہ تعلیم یافتہ مسلم خواتین میں بھی علمی کاوشوں اور جستجو کا داعیہ نہیں پیدا ہوپاتا۔ وہ اگر نوکری کرتی ہیں تو دہری ذمہ داریوں کا بوجھ انہیں کسی اور جانب توجہ دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اور اگر نوکری نہیں کرتیں، تو اپنے علمی مذاق کو بھی برقرار نہیں رکھ پاتیں۔ اور ویسی ہی عام گھریلو خاتون بن جاتی ہیں جیسی کوئی دوسری کم تعلیم یافتہ گھریلو خاتون۔ تعلیم کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ اور یہ صورتحال بھی تعلیم کی عدم افادیت کے تصور کو پختہ کرتی ہے۔

ضرورت مسلم سوسائٹی میں ایسے ماڈل کے ارتقاء کی ہے، جن کے ذریعہ تعلیم کی خصوصاً نسوانی تعلیم کی سماجی افادیت اجاگر ہو۔ یہ ماڈلز ہمارے اطراف موجود ہیں۔ ایشیائی ممالک میں بالخصوص اور ساری دنیا میں بالعموم غیر حکومتی سرگرمی (Non Governmental Activities) زیادہ تر تعلیم یافتہ خواتین کی مرہون منت ہے۔ خصوصاً گجرات اور مغربی مہاراشٹر میں گذشتہ چند دہوں میں این جی اوز کا جو ماڈل ابھرا ہے اس میں تعلیم یافتہ گھریلو خواتین Housewivesکا رول بڑا اہم اور کلیدی ہے۔ یہ ماڈل اسلام کے مزاج اور ترجیحات سے قریب تر ہے، اس کے نتیجے میں سماجی سرگرمی کے لیے بڑے پیمانے پر افرادی قوت اور صلاحیتیں میسر آرہی ہیں۔ خواتین کی صلاحیتوں کا کارآمد استعمال ہورہا ہے۔ اور چونکہ خواتین رضاکارانہ خدمات انجام دے رہی ہیں، اس لیے ان کے لیے ممکن ہے کہ وہ اپنا اصل فوکس گھر اور خاندان سے متعلق اپنی بنیادی ذمے داری کو بنائیں۔ اور اپنی گھریلو ذمہ داریوں پر بھر پور توجہ دیتے ہوئے سماجی مقاصد کے لیے صلاحیتیں استعمال کریں۔ سماجی خدمات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ ہر شعبۂ علم اور ہر فن کی ماہر خواتین، اپنی دلچسپی کا میدان ڈھونڈ سکتی ہیں۔

رضاکارانہ خدمات کے علاوہ خود علمی تحقیق و جستجو، خواتین کا اہم میدان بن سکتی ہے۔ گلوبلائزیشن اور جدید دور کی مادہ پرستی کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ پروفیشنل و تکنیکی علوم و فنون ہی ذہین نوجوانوں کو متوجہ کرپارہے ہیں۔ انسانی علوم اور خالص تحقیق(Pure Research) کا رجحان کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے۔

خود اسلامی اور تحریکی حلقوں میں صورتحال یہ ہے کہ کیرئر اور معاشی ضرورتوں کا دباؤ ہمارے ذہین نوجوانوں کو ایسے علوم کی طرف توجہ دینے پر مجبور کررہا ہے جو ان کی مارکیٹ ویلیو بڑھائیں۔ نتیجتاً ایسی علمی تحقیقات، جو ہماری بڑی بنیادی ضرورت ہیں، مردانِ کار کی قلت کی شکار ہیں۔

خواتین اس خلاء کو بھی پاٹ سکتی ہیں۔ معاشی مصروفیت ہمارے معاشرہ میں اکثر خواتین کی ترجیح نہیں ہے۔ اس لیے ڈگری کی’مارکیٹ ویلیو‘ ان کے لیے اہم نہیں ہے۔ وہ اگر توجہ دیں تو اسلامی تحقیق کے مختلف میدانوں میں آگے بڑھ سکتی ہیں۔ سوشالوجی، سائنس، معاشیات، نفسیات، تاریخ، مذہبیات وغیرہ علوم میں دسترس پیدا کرکے ہماری کئی بڑی علمی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان کرسکتی ہیں۔

تعلیم اور انتظام خاندان (Home Management) اور تربیت اطفال کے رشتہ کو بھی ابھی اجاگر ہونا باقی ہے۔ مثالی اسلامی نظام تعلیم میں خواتین کو ہر میدان میں تخصص کے پورے مو اقع حاصل رہیں گے لیکن اس کے ساتھ ساتھ لازمی مضامین میں ایسے مضامین ضرور شامل رہیں گے جن کا تعلق ان کی بنیادی ذمہ داریوں سے ہے۔ لیکن فی الحال صورتحال یہ ہے کہ یہ تصور واضح ہی نہیں ہے کہ ایک تعلیم یافتہ خاتون اپنے گھر اور خاندان کے حسن انتظام اور بچوں کی تربیت میں اپنے علم و صلاحیت کا کیسے استعمال کرسکتی ہے۔ اگر بچوں کی بنیادی تعلیم اور ہوم ورک میں مدد ہی مقصد ہے تو یہ ہائی اسکول کی سطح کی تعلیم سے بھی حاصل ہوجاتا ہے، اعلیٰ تعلیم کی ضرورت کیا ہے؟

اعلیٰ تعلیم کامن سنس کو بڑھاتی ہے۔ ہر مسئلہ کا بہتر سے بہتر حل ڈھونڈنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ کتابوں اور علم کے سرچشموں سے رشتہ مضبوط کرتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ خاتون اپنے بچہ کی صحت کے مسائل میں مکمل طور پر ڈاکٹر پر منحصر نہیں رہے گی۔ ڈاکٹر کے پاس جانے سے قبل اور علاج کے دوران وہ خود مطالعہ اور تحقیق کے ذریعہ بہت سے مسائل سے واقف ہوگی۔ اس کی واقفیت ڈاکٹرپر ایک مثبت دباؤ پیدا کرے گی۔ اسکول کی پرنسپل، گھر کے آرکٹیکٹ، وغیرہ سے وہ بااعتماد و باعزت طریقہ سے مکالمات کرنے کے لائق ہوگی۔ اس کا بچہ چاہے کسی دوسرے فیلڈ میں تعلیم حاصل کررہا ہو، وہ اسے مشورہ دینے کے لائق ہوگی۔ پختہ سیاسی، سماجی اور معاشی شعور کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کی الجھنوں کو اس طرح رفع کرسکے گی کہ ان کا تیز رفتار ذہنی ارتقاء ہوسکے اور وہ ترقی یافتہ شعوروفہم کے مالک بن سکیں۔

ہماری تعلیمی یافتہ بہنوں میں بھی بہت کم ایسی ہیں جو اپنے علم و صلاحیت کو اس انداز سے برتتی ہیں۔ تعلیم یافتہ خواتین کو اس کے لیے تربیت دینی ہوگی۔ اس کے لیے خصوصی لٹریچر تیار کرنا ہوگا۔جدید دور میں ایک ماں کا رول کس طرح کی قابلیتوں، مطالعہ و مشاہدہ، اور کامن سنس کا تقاضہ کرتا ہے، اس کی وضاحت کرنی ہوگی۔

ہمارے تابناک دور کی مائیں، بچوں کو بتلایا کرتی تھیں کہ آج صلاح الدین ایوبی نے فلاں معرکہ سر کیا ہے۔ انفارمیشن ٹکنالوجی کے اس دور میں کتنی مائیں ایسی ہیں جو اپنے بچوں کو ڈاکٹر ترابی، پروفیسر اربکان، اور راشد الغنوشی کے تازہ ترین واقعات سنا سکیں؟ اعلیٰ تعلیم اور صحیح اسلامی شعور کے امتزاج ہی سے یہ ممکن ہے کہ ماں بچے کو اپنی گود میں ایک نئی دنیا کا خواب دکھائے۔ چاہے مشنری اسکولوں ہی میں بچے تعلیم حاصل کریں، لیکن مغربی آقاؤں کے بے زبان اور بے دفاع خادمین کی حیثیت سے تیار نہ ہوں بلکہ ایک نئے تمدن کی معماری کا وژن اور صلاحیت حاصل کریں۔ یہ بآسانی ثابت کیا جاسکتا ہے کہ پچاس سال پہلے اگر صحیح صلاحیت و جذبہ کی حامل ماؤں کی ایک تعداد موجود ہوتی تو آج ملک کا نقشہ مختلف ہوتا۔ ہمارے عہد کے بہت سے مسائل پیدا ہونے سے پہلے ہی حل کرلیے جاتے۔

اس بیدار مغزی کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان خواتین کی دلچسپیاں بیرونی دنیا سے بھی ہوں۔ بے شک ان کی ذمہ داری کا اولین محاذ ان کا گھر ہو لیکن بیرونی دنیا سے ایسا ترک تعلق بھی نہ ہو کہ سیاست، معیشت، تہذیب، تمدن وغیرہ کے ذکر ہی پر وہ ’اوئی ماں‘ کا نعرہ بلند کریں۔ خواتین کی سماجی سطح پر حرکیت سے متعلق اوپر کی سطروں میں جو باتیں بتلائی گئیں ہیں ان کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے خواتین کے اندر وہ بیدار مغزی پیدا ہوگی جو اس رول کے لیے ضروری ہے۔

ہر دور کی طرح ہمارے دور میں بھی بعض علوم و فنون کا حصول مسلمان عورتوں پر فرض کفایہ ہے۔ ہمارے بعض فقہا نے ’’دائی‘‘ کے علم کو عورتوں کے لیے فرض کفایہ قرار دیا ہے۔ اب جب کہ ’دائی‘ کا رول پرفیشنل ڈاکٹروں کو شفٹ ہوچکا ہے ، یہ کہا جاسکتا ہے کہ میڈیکل سائنس اور گائناکولوجی کا علم مسلمان عورتوں کے لیے فرض کفایہ ہے۔ اسی طرح مسلمان خواتین اگر اپنی فطری شرم و حیاء کی وجہ سے دیگر طبی مسائل کے لیے بھی لیڈی ڈاکٹروں کی تلاش میں رہتی ہیں تو گائنا کولوجی کے ساتھ ساتھ جنرل سرجری، ریڈیولوجی، یورولوجی وغیرہ جیسے فنون بھی فرض کفایہ قرار پائیں گے۔ ان کے علاوہ یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ فن تدریس، کمپیوٹر سائنس، بائیو ٹکنالوجی، قانون، سائیکالوجی، جرنلزم، سوشالوجی وغیرہ جیسے فنون کو بھی یہی حیثیت حاصل ہے۔ فرض کفایہ کا مطلب یہ ہے کہ درکار تعداد میں لوگ اس فرض کو ادا نہیں کررہے ہیں تو پوری امت گناہ گارہے۔ اگر ہم یہ مان کر چلیں کہ ہندوستان کے چند ہی شہروں میں مطلوب تعداد میں ان علوم و فنون کی ماہرین موجود ہیں تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کی تمام مسلمان خواتین اس کے لیے جواب دہ ہیں اور ان کی جانب سے ابھی ان فریضوں کی ادائیگی باقی ہے۔

یہ ہمارے نظام تعلیم کا المیہ ہے کہ وہ ہماری ضروریات کی تکمیل نہیں کرتا۔ وہ محض سرمایہ دارانہ تہذیب کے ایسے وفادار خادموں کو ڈھالتا ہے جو تنخواہ کے ٹکڑے کے بدلے میں اس کی خدمت کے لیے ہمہ دم تیار رہتے ہیں۔ اس نظام تعلیم سے اسلامی معاشرہ کے مخلص خادموں کو نکالنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ نہ تو اس نظام تعلیم سے مکمل طور پر ترک تعلق ممکن ہے کہ علوم و فنون کی ترسیل و اشاعت وسیع انفرااسٹرکچر کی متقاضی ہے۔ اور ہم ایک مکمل متبادل نظام تعلیم کھڑا کرنے کے متحمل نہیں ہیں۔ نہ ہی اس نظام تعلیم پر اکتفا یا عربی و دینی تعلیم کی مختصر پیوند کاری کرکے مطمئن ہوجانا ہمارے لیے ممکن ہے۔ ہماری ضرورت شعوری طور پر ایسے نظام تربیت کی تشکیل ہے جو نظام تعلیم کے نقائص کو دور کرسکے۔ مردوں میں یہ کام طلبہ تنظیموں کا اور خواتین میں طالبات کی تنظیموں کا ہے۔

طالبات و خواتین کی تنظیموں کی ذمہ داری بنیادی دینی علوم اور اخلاقی قدروں کی اشاعت تک محدود نہیں ہے۔ انہیں مسلمان خواتین میں اعلیٰـ تعلیم کے فروغ کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔ اعلیٰ تعلیم سے مراد محض ڈگریوں کا فروغ نہیںہے بلکہ حقیقی علمی مزاج کا فروغ ہے۔ ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ امت کو تعلیم یافتہ، باشعور، بیدار مغز اور باصلاحیت مائیں عطا کریں۔ خواتین کو وہ محاذ بتلائیں جن پر کام کرکے وہ اپنے علم و صلاحیتوں کو استعمال میں لاسکیں۔ تعلیم یافتہ خاتون کا حقیقی رول اس طرح اجاگر کرائیں کہ امت تعلیم کی اہمیت کی قائل ہوجائے۔

شیئر کیجیے
Default image
سید سعادت حسینی

تبصرہ کیجیے