BOOST

خواتین کے فعّال رول کی ضرورت

ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت ہی نہیں بہت بڑی اکثریت دین سے دوری اور جمود و تعطل کی زندگی گزار رہی ہے۔ اس نے معاشرتی، سماجی اور سیاسی سطح پر اسے بے شمار مسائل اور مشکلات میں مبتلا کردیا ہے۔ انفرادی و اجتماعی زندگی میں افراط و تفریط اور بے اعتدالی، جہالت و ناخواندگی، معاشی پسماندگی اور سیاسی بے وزنی اس کی انتہائی صورتیں ہیں جو اس کے ذہنی و فکری اضمحلال کے نتیجہ میں سامنے آئی ہیں۔ اس کے علاوہ بے شمار ایسی برائیاں بھی مسلم معاشرہ میں پیدا ہوگئی ہیں اور پروان بھی چڑھ رہی ہیں جنھیں دیکھ کر یہ سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ ہمارے اور غیر مسلموں کے درمیان کوئی فرق ہے بھی یا نہیں۔ فیشن پرستی اور مغربی تہذیب کی یلغار ہمارے مسلم معاشرہ پر بھی ہے اور ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس کے اختیار کرنے کے نتائج ہم پر اور ہماری آئندہ نسلوں پر کیا مرتب ہوں گے۔ غیر مسلم معاشرے میں جہیز کی بیماری پھیلی ہوئی ہے۔ اور ہم بھی اسے ایک اچھی روایت تصور کرکے پورے فخر کے ساتھ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں دوسروں کے یہاں بھی رنگین محفلیں منعقد ہوتی ہیں اور ہم لوگ بھی اسے معیار تصور کرتے ہیں جبکہ خواتین کے ساتھ ناروا سلوک جاہل اور اندھے معاشروں کی شناخت تھا مگر ہم بھی اس میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ علم کی روشنی جو اصل میں ہماری شناخت تھی اور ہمارا امتیاز ہونا چاہیے تھی اب تبدیل ہوگئی ہے اور جہالت کا شکار و ناخواندہ لوگوں کے گروہ ہم پیش پیش نظر آتے ہیں۔ مسلم آبادیاں گندگی کا ڈھیر اور ’’سوک سینس‘‘ سے عاری نظر آتی ہیں۔ ہماری مردوں اور عورتوں میں صحت کا معیار بہت پست اور حالات اور زمانے کی تبدیلیوں سے واقفیت معدوم ہے۔

اور — اور بالآخر آج کا مسلم معاشرہ دو طبقوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔ ایک طبقہ وہ ہے جو تعلیم یافتہ ہونے یا معاشی و اقتصادی معیار بلند ہوجانے کے سبب اونچا اٹھ گیا ہے۔ اس کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو دین و مذہب کی سطح سے اوپر تصور کرنے لگتا ہے۔ اور ایک طبقہ وہ ہے جو خود کو دین دار تصور کرتا ہے مگر اس کا سماجی، سیاسی اور معاشی وزن مفقود ہے۔ یہ علامت ہے اس بات کی ہم اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں افراط و تفریط کا شکار ہیں۔

آخر ایسا کیوں ہے کہ ہمارے طبقہ کے تعلیم یافتہ (ڈگری ہولڈر) مرد و خواتین اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس قدر ’’روشن خیال‘‘ ہوجاتے ہیں کہ وہ دین کو اپنی زندگی کا اہم حصہ تصور کرنا چھوڑ دیتے ہیں، معاشی اعتبار سے خوش حال لوگوں کا طرز فکروعمل ایسا کیوں ہوجاتا ہے کہ وہ حلال و حرام کی فکر سے آزاد اور ریاء و نمود اور مغرب پرستی کے دلدل میں پھنس جاتے ہیں، سڑکوں پر نقاب پوش ماؤں، دادیوں اور نانیوں کے ساتھ نوجوان لڑکیاں عریاں لباس میں کیوں نظر آتی ہیں اور ہم یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ پردہ ان کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا ماں اور دادی و نانی کے لیے بلکہ ان سے بھی زیادہ ضروری۔ اور ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ خوشحال اور تعلیم یافتہ افراد کی بیٹیاں بھی صرف رسمی تعلیم سے آگے نہیں بڑھ پاتیں اور ان کے شوق کے سامنے ماں باپ کی ضد اور ان کا لڑکیوں کی تعلیم کے سلسلہ میں ناقص اور غلط تصور آڑے آجاتا ہے۔ اور آخر ہمارے سماج میں ایسے دیندار افراد کیوں ہیں جو پردہ اور شرم و حیاء کو آڑبناکر نصف امت کو جہالت کی تاریکیوں ہی میں رکھنے پر مصر ہیں۔ اور کیا یہ بھی دین کا ’’منشا‘‘ ہے کہ نسلوں کی تربیت کرنے والیوں کو دین اور دین کے اہم مراکز اور تعلیم وتربیت کے مراکز سے دور رکھا جائے — نہیں — ایسا نہیں ہے۔ یہ دین جس کے ہم ماننے والے ہیں اور جسے اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے لیے منتخب فرمایا اور رہنما قرار دیا وہ اس افراط و تفریط کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

اس دین کی تو بنیادہی اعتدال اور میانہ روی پر ہے اور یہی اس کا نشان امتیاز بھی ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَکَذَالِکَ جَعَلْنَاکُمْ اُمَّۃً وَّسَطاً لِتَکُوْنُوْا شُہَدَائَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْداً۔

’’اور ہم نے تمہیں اعتدال پسند امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں اللہ کی کتاب، اس کے رسول کی سنت اور آپؐ کے صحابہ کرام کو نمونہ بنانے کے بجائے رسوم و رواج اور خاندانی روایات کو رہنما بناتے ہیں اور اپنی کوتاہیوں، بے عملیوں، ناواقفیتوں کو ’’دین اسلام کے سرتھوپنے‘‘ کی کوشش کرتے ہیں جو سراسر ناانصافی ہے۔ اور اس ناانصافی سے صرف اور صرف اسی صورت میں باز رہا جاسکتا ہے جب ہم اپنی زندگی میں واقعی کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سنت کو رہنما بنائیں۔

جہاں تک سماج کے دولت مند اور تعلیم یافتہ طبقہ کا تعلق ہے تو وہ عن قریب ان راستوں کی تباہی کے مناظر دیکھ لے گا جس راستے پرمغرب کے آقاؤں نے اسے لگایا اور جس پر چلنے کو وہ اپنے لیے باعث فخر اور ترقی کی علامت تصور کرتا ہے۔ اس لیے کہ خود ان خطّوں میں جہاں اس طرز زندگی نے جلا پائی وہ اس کے رہنے والوں کے لیے باعث زحمت بن گیا اور وہ اس سے نکلنے کی راہیں تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

یہ صورت حال جس کا ہم نے تذکرہ کیا اچانک اور راتوں رات پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے ہمارا صدیوں کا جمود اور سالہا سال کی غفلت کار فرما ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر جو فریضہ عائد کیا تھا اس کی عدم انجام دہی کی صورت میںیہی کچھ متوقع تھا جو آج ہورہا ہے اوراس کا تدارک بھی اسی صورت میں ممکن ہے جو اللہ کے رسول نے ہمیں بتائی تھیں۔ آپ نے آگاہ کیا تھا:

واللہ لتأمرن بالمعروف و لتنہون عن المنکر اولیوشکن اللہ ان یرسل علیکم عذاباً من عندہ فتدعونہ فلا یستجاب لکم۔

’’خدا کی قسم تم ضرور لوگوں کو نیکیوں کاحکم دیتے رہو گے اور برائیوں سے روکتے رہوگے یا (بہ صورت دیگر) وہ تم پر عذاب بھیج دے گا پھر تم اسے پکاروگے مگر تمہاری پکار نہیں سنی جائے گی۔‘‘

امت کی یہ مغلوبیت ، یہ بے وزنی اور اس قدر رسوائی کا سامان تاریخ کا انوکھا باب ہے اور اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ امت اپنی اصلاح حال پر متوجہ ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ:

اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِأَنْفُسِہِمْ۔

’’اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک تبدیل نہیں کرتا جب تک وہ اپنی حالت کو، جس پر وہ ہے، تبدیل نہ کرے۔‘‘

ہم اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اس صورتحال کی تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب پورا مسلم

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے