4

تہذیب

میں مسلم ہائی اسکول ساڈھورہ ضلع انبالہ میں نویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ گھر کی مستورات کسی شادی بیاہ کی تقریب کے بہانے چلی گئی تھیں اور ہم چار لڑکے اپنے محترم بزرگ شوکت علی خاں کی تحویل میں تھے اور تحویل میں کیا تھے ان کے ضابطوں کے شکنجے میں کسے ہوئے تھے۔ انہیں چھوٹے بڑے سب خانصاحب کہتے تھے۔ ہمارے شب و روز مشین کی طرح گزر رہے تھے۔ علی الصباح اٹھتے، وضو کرکے نماز پڑھتے، سیر کو جاتے، واپس آکر غسل کرتے اور ناشتا کرکے اسکول چلے جاتے۔ ناشتے میں صرف دودھ ملتا۔ ہم نے لاکھ احتجاج کیا، بہتیرے عذر پیش کیے کہ ہمیں دو گھنٹے بعد ہی بھوک محسوس ہونے لگتی ہے، اور ہاف ٹائم تک ہماری آنتیں قل ہو اللہ پڑھنے لگتی ہیں، اس لیے دودھ کے ساتھ ایک آدھ پراٹھا یا ٹوسٹ مکھن ضرور ہونا چاہیے، لیکن خانصاحب نے ہماری ایک نہ سنی۔ دوپہر کو گھر آتے آتے بھوک سے نڈھال ہوجاتے، تاہم گرم گرم کھانا تیار ملتا۔ ہفتے میں غالباً دو تین دن پلاؤ بھی پکتا۔ سویٹ ڈش تقریباً روزانہ ہوتی۔ خانصاحب ناشتے کے عادی نہ تھے۔ وہ ہمارے ساتھ صرف کھانا کھاتے۔ اگرچہ ان دنوں خوان بچھا کر کھانے کا رواج تھا لیکن ہمیں کھانا میز پر بیٹھ کر کھانا پڑتا، ہمیں چمچوں اور کانٹوں کا استعمال، ڈونگے سے سالن نکالنے کا طریقہ اور بوٹی کھانے کا ہنر بھی ازبر کرایا گیا۔ ہم ہڈی والی بوٹی صرف اس صورت میں کھا سکتے تھے جب گوشت آسانی سے علیحدہ کیا جاسکتا ہو۔ اگر ہڈی سخت جان ہوتی تو ہمیں یہ ہدایت تھی کہ ہڈی والی بوٹی یونہی چھوڑدیں اور سب کے سامنے گنوار پن کا مظاہرہ نہ کریں۔ ہمارا کیسا کیسا جی مچلتا کہ ہم نلی میں سے مخ نکال کر کھائیں لیکن کبھی اس کی اجازت نہ ملی۔ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے اور کھانے سے فراغت پاکر کلی کرنے اور دانت صاف کرنے کا طریقہ بھی سکھایا گیا اور دونوں وقت باقاعدہ ہم چاروں کا امتحان ہوتا اور غلطی پر سرزنش بھی ہوتی۔

گھر میں اگر پھل ہوتے تو وہ ہم کھانے کے ساتھ نہیں کھا سکتے تھے کیونکہ کسی حکیم نے خانصاحب کو یہ بتارکھا تھا کہ پھل کھانے کا بہترین وقت دو کھانوں کے درمیان ہوتا ہے، چنانچہ ہم سب اس نسخے پر باقاعدگی سے عمل کرتے، وہ زمانہ آموں کا تھا اوران دنوں آم بہت ملتے تھے اور غالب کی شرائط کے مطابق میٹھے بھی تھے اور بکثرت بھی تھے۔ ایک ٹوکرا آموں کی قیمت بلامبالغہ روپے دو روپے تھی۔ یہ آم ہم پانچ بجے کے قریب کھاتے۔ خانصاحب بھی ساتھ دیتے اور کبھی کبھی ترنگ میں آتے تو گٹھلی چھلکا بھی چلتا۔ شام کو ہلکی غذا ہوتی اور سوتے وقت ہم سب کے دودھ پیتے۔ یہ ہمارا معمول تھا اور ہم ایک مشین کی طرح اس پر کاربند تھے، اور ہمارے لیے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ ہم خانصاحب کے کسی ضابطے سے سرمو انحراف کرسکتے۔

بعد میں پتہ چلا کہ ہمیں محاذ جنگ کے لیے تیار کیا جارہا تھا۔ چنانچہ موسم گرما کی تعطیلات میں ہم چاروں لڑکے بوریا بستر باندھ کر تیار ہوگئے اور ہمارا قافلہ خانصاحب کی قیادت میں ایک انجانے سف پر روانہ ہوا۔ ساڈھورہ سے براڑہ ریلوے اسٹیشن تک سولہ میل کا فاصلہ ہم نے بس کے ذریعہ طے کیا اور وہاں سے ٹرین میں سوار ہوگئے۔ ہم اپنی منزل سے بالکل بے خبر تھے۔ ہمیں ان سے استفسار کرنے کی جرأت تھی نہ انہیں کچھ بتانے کی عادت تھی۔ وہ فوجی تو نہیں تھے لیکن فوجی قواعد کے قائل ضرور تھے۔ اکثر کہا کرتے کہ جو سامنے آجائے وہ کھالو، جو پہننے کو مل جائے وہ پہن لو، اور بڑوں کا جو حکم صدار ہو اس کی بے چوں و چرا تعمیل کرو۔ ویسے بھی وہ زمانہ تعمیل ارشاد کا تھا۔ چھوٹے بڑوں کا حکم بھی مانتے اور ادب بھی کرتے تھے۔ خیر صاحب، ہم دوسرے دن ضلع بلند شہر کے ایک قصبہ میں پہنچ گئے، وہاں بتائے بغیر پتہ چل گیا کہ یہ خانصاحب کی سسرال ہے اور اس کے ساتھ ہی ڈرامے کی ساری کڑیاں ملتی چلی گئیں اور یہ راز عیاں ہوگیا کہ خانصاحب اپنی سسرال کو ہم بچوں کے مہذب و مثالی کردار سے متاثر کرکے مرعوب کرنا چاہتے تھے۔ یہ تو ہمیں علم نہ ہوسکا کہ ان کی سسرال والے مرعوب ہوئے یا نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہماری زندگی باقاعدگی کے سانچے میں ڈھل گئی۔ جس کسی نے ہمیں برسرعمل دیکھا اسی نے ہماری تعریف کی۔ جہاں بھی ہم گئے، جن جن خواتین و حضرات سے ملے وہ سب ہمارے مہذب کردار سے متاثر اور مسرور و شادماں ہوئے اور خانصاحب کے جو ضابطے ہمیں ابتدا میں ناگوار معلوم ہوتے تھے ان ہی کی بدولت ہم اپنی زندگی میں ہر جگہ سرخرو ہوئے۔

ہمارا قیام سب سے علیحدہ ان کے مہمان خانے میں تھا جو تھا تو پرانی طرز کا لیکن ضرورت کی ہر چیز اس میں حاضر تھی۔ ہم بدستور خانصاحب کے ٹائم ٹیبل پر عمل کررہے تھے۔ علی الصباح اٹھتے، وضو کرکے نماز پڑھتے، ورزش کرتے، سیر کو جاتے، واپس آکر غسل کرتے، کپڑے بدلتے اور پھر وہی ناشتا کھانا وغیرہ، مگر اب وہ ہم سب کو میزبان کے گھر جاکر کھاناپڑتا تھا، البتہ رات کو سوتے وقت دودھ اب بھی پیتے تھے۔ ہم ہر قسم کا لباس پہنتے، کبھی قمیص پتلون، کبھی قمیص نیکر اور کبھی قمیص یا کرتا اور پاجامہ۔ دن کے وقت ہم آپس کے گھروں میں جاسکتے تھے لیکن ہمیں بھاگ دوڑ والے کھیل کود میں شرکت کی اجازت نہیں تھی، البتہ کیرم اور لوڈو جیسے بے ضرر کھیل کھیل سکتے تھے۔ خانصاحب بس یہ چاہتے تھے کہ ہمارے کپڑے خراب نہ ہوں اور ہم کوئی غیر مہذب حرکت نہ کریں۔ جامع مسجد مہمان خانے کے سامنے تھی۔ جمعہ کی نماز میں وہاں ہم نے اپنا ہم عمر ایک لڑکا دیکھا جس نے چوڑی مہری کا پاجامہ، قمیص اور ترکی ٹوپی پہن رکھی تھی، البتہ سر کے بال قدرے بڑے تھے جو ٹوپی سے باہر نکل رہے تھے۔ ہم نے سمجھا، نائی نہیں ملا ہوگا اس لیے بال بڑھ گئے ہیں۔اس نے ہمیں اور ہم نے اسے غور سے دیکھا۔ میزبان کے لڑکے اسلم نے اس سے ہمارا تعارف کرایا اور نماز کے بعد ہمیں اس کے گھر لے گیا۔ اس کے والد انجینئر تھے اور والدہ گریجویٹ تھیں۔ اس زمانے میں کسی خاتون کا گریجویٹ ہونا بڑی بات تھی۔ وہ لڑکا نہیں ان کی اکلوتی لڑکی تھی اور اس کی تربیت لڑکوں کی طرح ہورہی تھی۔ اس کا نام شہربانو تھا، الف لیلیٰ کی کہانیوں میں یہ نام کسی شہزادی کا تھا۔ اس نام کے سوا ان کے گھر کا سارا ماحول مغربی طرز کا تھا۔ وہی رہن سہن، وہی کھانا پینا، وہی لباس، وہی آداب۔ جب ہم پہلی دفعہ اچانک ان کے گھر گئے تو شہربانو کی والدہ پتلون پہنے بیٹھی تھیں، گھر کے تینوں افراد بہت ہی خلیق، ملنسار اور متواضع تھے۔

وہ شہر کے ساتھی ہی کینال کالونی کی ایک کوٹھی میں رہتے تھے۔ ساتھ ہی ایک اصطبل میں تین گھوڑے بندھے ہوئے تھے۔ ان تینوں کو گھڑسواری کا بڑا شوق تھا۔ ہم نے بھی گھوڑے کی سواری وہیں سیکھی۔ چند روز تو ہم بہت گھبرائے لیکن آہستہ آہستہ ہمارا خوف دور ہوگیا اور پھر تو یہ حالت ہوگئی کہ جب تک سواری نہ کرلیتے، ہمیں چین ہی نہ آتا۔ باری باری ہم چاروں شہر بانو کے ساتھ گھوڑوں پر سوار ہوکر نہر اور کھیتوں کی سیر کرتے۔ ایک مہینے تک روزانہ ہم ان کے گھر جاتے رہے۔ وہاں گھڑ سواری کرتے، کیرم یا بیڈمنٹن کھیلتے، باتیں کرتے، کچھ کھاتے پیتے اور چلے آتے۔ ہم نے شہر بانو کو بھی لڑکیوں کے لباس میں نہ دیکھا۔ وہ ہمیشہ لڑکا بنی رہتی۔وہ تینوں انگریزی زبان و تہذیب کے دلدادہ تھے اور جب بھی ہم نے دیکھا انہیں انگریزی لباس میں ملبوس پایا۔ انھوں نے کئی دفعہ ہماری دعوت کرنا چاہی لیکن ہم نے ہر مرتبہ خانصاحب کے ڈر سے معذرت کرلی، البتہ ہم اکثر بے وقت بھی ان کے ساتھ کھانا کھا لیا کرتے، وہ لوگ کھانا میز پر بیٹھ کر چھری کانٹوں سے کھاتے، ہم بھی ان کا ساتھ دیتے اور پھلوں کا تو کبھی ناغہ نہیں ہوتا تھا۔ ہم شہربانوں کی ممی کو آنٹی اور پاپا کو انکل کہتے تھے۔ آنٹی ہمیں بہت پیار کرتی تھیں، انکل اکثر دورے پر ہوتے یا دفتر میں۔ ہم چاروں لڑکے شہر بانوسے خاصے مانوس ہوگئے تھے اور وہ بھی ہمارا انتظار کیا کرتی۔ وہ دبلی پتلی، گورے رنگ اور نیلی آنکھوں والی تھی۔ وہ بہت خوش مزاج لڑکی تھی۔ تبسم اس کے ہونٹوں پر ہر وقت رقصاں رہتا۔ کبھی کبھی ہم نہر کے کنارے جابیٹھتے، تھوڑی دیر پانی سے کھیلتے اور پھر اپنے اپنے اسکول کی باتیں سناتے۔ دیر ہوجاتی تو آنٹی بھی چلی آتیں اور ہمارے ساتھ شامل ہوجاتیں۔ ہمارے بغیر ان کا دل ہی نہیں لگتا تھا۔ اکثر کہا کرتیں کہے جب تم چلے جاؤ گے تو تمہارے بغیر میرے لیل و نہار کیسے گزریں گے۔ عرصے تک میں تمہیں تلاش کیا کروںگی۔ بہت دن بعد جاکر کہیں یہ احساس ہوگا کہ تم لوگ چلے گئے ہو، انھوں نے اپنے کیمرے سے ہماری بہت ساری تصویریں لیں، اور ان کا ایک پورا البم بن گیا۔

رخصت ہونے سے پہلے ہم نے شہر بانو کو اپنا پتہ لکھایا اور اس نے اپنا پتہ ہمیں دیا۔ آنٹی نے ہمیں ایک البم دیا جس میں ہماری اور ان سب کی ہر موقع کی تصویریں چسپاں تھیں۔ البم دیتے وقت انھوں نے کہا کہ یہ تصویریں دیکھتے رہنا۔ ان میں تمہارا ماضی محفوظ ہوگیا ہے۔ اب تمہارا بچپن گم نہیں ہوگا۔ اس کی یاد تازہ رہے گی۔ جب ہم آخری بار ملنے گئے تو آنٹی نے ہم چاروں کو اپنے سینے سے لگاکر کر بہت پیارکیا۔ ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ دونوں ماں بیٹی نے خیریت کا خط لکھنے کی تاکید کی۔ شہر بانوں بہت افسردہ تھی اور ہم یہ دیکھ کر حیران تھے کہ وہ خلاف معمول شلوار قمیص اور دوپٹے میں ملبوس تھی۔ ہماری مشرقیت نے اسے متاثر کردیا تھا۔ چلتے وقت اس نے ہم سے ہاتھ ملایا اور زار و قطار رونے لگی۔ آنٹی نے اسے اپنے گلے سے لگالیا، سر پر ہاتھ پھیرتی اور تسلی دیتی رہیں۔ ہم نے اس کی نیلی آنکھوں میں پہلی بار آنسوؤں کے قطرے دیکھے۔

چند روز ہم نے دوسرے مقامات پر اپنے عزیزوں سے ملنے میں گزارے اور چھٹیاں ختم ہونے سے تقریباً پندرہ دن پہلے اپنے گاؤں پہنچ گئے اور ہوم ورک مکمل کرنے میں کھوگئے۔ ہمیں شہر بانو یاد ہی نہ رہی، وہ بھی البم کی طرح آہنی صندوق کے کسی گوشے میں چھپ کر بیٹھ گئی۔ اسکول کھلا تو چند روز بعد مجھے ہیڈ ماسٹر صاحب نے طلب فرمایا۔ وہ غصے میں بھرے بیٹھے تھے۔ میں حیران تھا کہ جب میں شرارت کرنے والے لڑکوں میں سے ہوں ہی نہیں تو وہ بلاوجہ کیوں ناراض ہورہے ہیں۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ یکا یک ان کی گرجدار آواز سنائی دی: ’’یہ شہر بانو کون ہے؟‘‘ میں نے تفصیل بیان کردی، لیکن وہ مطمئن نہ ہوئے اور ہمارے گھر چلے آئے۔خانصاحب سے شکایت کی تو وہ بھی حیران ہوگئے کہ یہ شہر بانو کہاں سے ٹپک پڑی۔ انھوں نے بہت یاد کیا، آنکھیں بند کرکے اپنی کشادہ جبیں پر ہاتھ بھی پھیرتے رہے (حافظہ کو اپنی گرفت میں لانے کے لیے یہ ان کا معمول تھا) لیکن انہیں اپنی سسرال میں اس نام کی کوئی لڑکی کہیں نظر نہ آئی، چنانچہ ہم سب کی طلبی ہوئی۔ مجھے از سر نو وہی قصہ دوبارہ سنانا پڑا جس کی سب لڑکوں نے تائید و تصدیق کی۔ فیصلہ پھر بھی میرے خلاف ہوا اور مجھے باقاعدہ ڈانٹ پلائی گئی اور حکم دیا گیا کہ آئندہ کسی لڑکی کا خط نہیں آنا چاہیے۔ خط مجھے پھر بھی نہ ملا، میرے سامنے ہیڈ ماسٹر صاحب نے خانصاحب کے حوالے کردیا۔ پڑھ کر بھی انہیں رحم نہ آیا اور انھوں نے بھی وہ خط مجھے دینا گوارا نہ کیا۔بہر حال میں نے چند روز کی جستجو کے بعد وہ خط ڈھونڈ نکالا اور نقل کرکے وہیں رکھ دیا۔

میں نے شہر بانو کے خط کا جواب ارسال کیا اور نیا پتہ بھی لکھ دیا۔ یہ زندگی میں میرا پہلا خط تھا جو کسی لڑکی کے نام لکھا گیا۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ میں اسے القاب کیا لکھوں۔ پھر میں نے فیصلہ کیا کہ جب اس نے کوئی القاب نہیں لکھا تو میں القاب لکھنے والا کون ہوتا ہوں، چنانچہ میں نے بغیر القاب کے خط لکھ دیا۔رفتہ رفتہ میرے نام کی رعایت سے اس نے صاحب لکھنا شروع کردیا۔ میں بھی اس کی نقل کرکے شہر بانو صاحبہ لکھنے لگا۔ ہمارے خطوط تو علانیہ اس کے گھر کے پتے پر جاتے رہے تھے اور وہ انہیں اپنی ممی اور پاپا کو پڑھ کر سناتی تھی جو سن کر خوش ہوتے اور ادھر ہم تھے کہ خط بھی چوری چوری منگواتے اور انہیں چھپا کر بھی رکھتے۔ خط کتابت کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ ہم خطوط نویسی کے ماہر ہوگئے اور مضمون نگاری بھی کرنے لگے۔ وہ ابتدا میں خط انگریزی میں لکھتی تھی اور میں جواب اردو میں دیتا تھا۔ پھر میری فرمائش پر وہ بھی اردو میں لکھنے لگی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے اردو زبان و ادب کا مطالعہ شروع کردیا۔ اس نے اپنے خطوں میں بتایا: ’’میں بدلتی جارہی ہوں، میں نے انگریزی تہذیب سے یکسر کنارا کرلیا ہ۔ اب کھاتے وقت چھری کانٹے استعمال نہیں کرتی، ٹوپی بھی نہیں پہنتی۔ لڑکوں کا لباس ترک کرکے لڑکیوں کا لباس پہنتی ہوں۔ بالوں میں چوٹی کرتی ہوں، ممی پاپا کی جگہ امی ، ابو کہتی ہوں اور ان سے اردو میں گفتگو کرتی ہوں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب بھی نماز کا وقت ہوا آپ لوگ ہمارے گھر بھی نماز پڑھ لیا کرتے تھے اور مجھے ہمیشہ یہ دیکھ کر ندامت ہوتی تھی کہ مسلمان ہونے کے باوجود ہمارے گھر میں نماز کا سرے سے رواج ہی نہ تھا۔ اب میں نے باقاعدگی کے ساتھ پنچ وقتہ نماز شروع کردی ہے اور اس کوشش میں ہوں کہ کسی طرح امی، ابو بھی نماز پڑھنے لگیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ ضرور مان جائیں گے۔ آپ یہ سن کر حیرت میں ڈوب جائیں گے کہ میں برقع بھی پہننے لگی ہوں اور ایک برقع میں نے امی کے لیے بھی سلوالیا ہے۔ انھوں نے زندگی میں برقع کیا، چادر بھی کبھی نہیں پہنی، لیکن امید ہے کہ وہ مجھے مایوس نہیں کریں گی۔ انھوں نے کبھی میری کوئی خواہش نہیں ٹھکرائی۔ بس میں اس تذبذب میں ہوں کہ کس طرح اپنی خواہش کا اظہار کروں۔ ارادہ کرکے ان کے روبرو ہوجاتی ہوں تو ہمت جواب دے جاتی ہے اور کچھ یہ بات بھی ہے کہ اظہار کے لیے مجھے الفاظ ہی نہیں مل رہے۔ بہرحال جس دن بھی میں نے یہ معرکہ سرکرلیا، وہ میرے لیے کامیابی کا دن ہوگا۔

شہر بانو کا جب بھی کوئی خط آتا میں اسے لاکر سب کے سامنے کھولتا اور سب کو پڑھ کر سناتا، اس کی زندگی میں جو غیر معمولی تغیر رونما ہورہا تھا وہ دراصل ہمارے کردار و عمل کی شاندار فتح کی علامت تھی، لیکن جانے کیا بات تھی کہ ہم چاروں اس تبدیلی پر خوش نہیں تھے۔ جو بھی خط آتا وہ کسی نہ کسی تبدیلی کا مژدہ سناتا لیکن ہم چاروں افسردہ ہوجاتے، ہمارا جی چاہتا کہ وہ انگریزی بولتی رہی، مغربی لباس پہنتی رہی، چھری کانٹوں سے کھانا کھاتی رہے اور برقع کے بجائے برجس پہن کر گھوڑے کے سواری کرتی رہے۔ انگریزی تہذیب کے لوازمات ہمیں خود بھی دل سے پسند تھے۔ اس لیے میں نے کبھی اپنے خط میں اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور نہ کبھی اس کی تبدیلی پر کوئی تبصرہ کیا، البتہ اس کے ہر خط کا جواب لکھنے میں باقاعدگی ضرورقائم رکھی۔

آہستہ آہستہ میرے ساتھیوں میں شہر بانو کے لیے دلچسپی کم ہوتی گئی اور کچھ عرصے کے بعد نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ اس کا خط ہی سننا گوارا نہ کرتے، اور پھر انھوں نے ایک دن مجھ سے کہہ دیا کہ آپ خود ہی اس کے خط کا جواب لکھ دیا کریں۔ اس کے بعد میں خود ہی خط پڑھتا، خود ہی جواب لکھتا اور اس کے خط کا انتظار بھی خود ہی کرتا۔ شہر بانو نے متعدد خطوط میں کچھ اس قسم کے خیالات کا بھی اظہار کیا: ’’آپ آخر میری غیر معمولی تبدیلی پر حیران کیوں نہیں ہوئے۔ مجھے تو یہ توقع تھی کہ آپ اس حیرت انگیز انقلاب پر چونک پڑیں گے، خوشی کا اظہار کریں گے اور اپنی فتح پر پھولے نہ سمائیں گے اور سب کچھ چھوڑ کر مجھے دیکھنے کے لیے بھاگتے چلے آئیں گے۔ آپ کی عادات و اطوار نے میری زندگی کی کایا پلٹ دی۔ میری کائنات کو زیروزبر کردیا لیکن آپ کے دل میں یہ خواہش بھی پیدا نہیں ہوئی کہ مجھے نئے روپ میں ایک نظر دیکھ ہی لیں۔ میں نے بہت انتظار کیا لیکن آپ تو موسم گرما کی تعطیلات میں بھی نہیں آئے۔‘‘

میں نے پھر اپنے خط میں معذرت کا اظہار کیا اور چند رسمی الفاظ تحریر کیے تاکہ اس کی کچھ نہ کچھ ڈھارس بندھ جائے۔ ندامت کا اظہار بھی کیا تاکہ وہ اپنی خوشگوار تبدیلی پر پشیمان نہ ہو اور مجھے بے مروت اور بداخلاق نہ سمجھے۔ میں نے اپنی اولین فرصت میں آنے کا وعدہ بھی کیا تاکہ میں اسے نئے روپ میں دیکھ سکوں۔ جواب آیا کہ وہ میرا بے چینی سے انتظار کررہی ہے۔ اور اگر آمد سے ایک دن پہلے بھی اطلاع مل گئی تو وہ برقع پہن کر ریلوے اسٹیشن پر میرا استقبال کرے گی، لیکن مجھے فرصت ہی نہ مل سکی اور ملی تو خانصاحب نے اجازت نہ دی۔ پھر دسویں کا امتحان دے کر میں علی گڑھ چلا گیا اور باقی تینوں لڑکے رائے پور سدھار گئے جہاں ان کے ابا کا تبادلہ ہوگیا تھا۔ علی گڑھ کے روح پرور ایام اور زندگی بخش ماحول میں کچھ ایسا سحر تھا کہ قلب و ذہن پر طاری ہوکر رہ گیا۔ آہستہ آہستہ میرے حافظے پر ماہ و سال کی گرد اس قدر جمع ہوگئی کہ سارا ماضی ہی دھندلا گیا اور شہر بانو قصہ پارینہ بن گئی۔ میں اسے کوئی خط نہ لکھ سکا اور اس بیچاری کو تو معلوم ہی نہ تھا کہ میں کہاں ہوں۔ اسی دوران پاکستان معرض وجود میں آچکا تھا۔ میں نے علی گڑھ سے ایم اے اور قانون کا امتحان پاس کیا اور پاکستان چلا آیا۔ چند ماہ کراچی میں گزارے، پھر ایک دوسرے کے ہمراہ لاہور آگیا۔

میرے کچھ عزیز و اقارب کراچی میں اور کچھ اندرون سندھ کے اضلاع میں سکونت اختیار کرچکے تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ میں پنجاب کے بجائے سندھ میں آباد ہوجاؤں۔ میں چاہتا تھا کہ وہ سب پنجاب میں آجائیں، چنانچہ وہ سب میرے اصرار پر پنجاب دیکھنے میرے پاس آئے۔ میں نے انہیں متعدد اضلاع کی سیر کرائی، شہروں میں گھمایا، دیہات دکھائے، زمین دکھائی، نہروں کا بچھا ہوا جال دکھایا اور اپنا کیس دلائل کے ساتھ پیش کیا، لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ ان کے دل میں صحرا کی خشک اور کراچی کی مرطوب آب و ہوا بس کے رہ گئی تھی۔ وہ اس کے جال سے نکلنے پر آمادہ ہی نہ تھے۔ میں نے لاکھ زور لگایا لیکن وہ تیار نہ ہوئے۔ سندھ کی سوندھی سوندھی خوشبو والی مٹی انہیں اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ چلتے وقت انھوں نے اصرار کیا کہ پنجاب میں آباد ہونے کی حماقت کرنے سے پہلے میں سندھ کا ایک دورہ ضرور کروں۔ چنانچہ خوشگوار موسم میں، میں سندھ کی طرف نکل گیا۔ میں نے سب سے پہلے شکار کی فرمائش کی۔ وہ بھی مجھے شکار کھلا کر پھانسنا چاہتے تھے، اور واقعی ہر قسم کا شکار وہاں تھا بھی بہت زیادہ۔ میں وہاں کئی ماہ رہا اور شاید ہی کوئی دن شکار کے بغیر گزرا ہو۔

ایک دن شکار کھیلنے گیا تو میں نے ایک لڑکی کی شہرت سنی کہ وہ بہترین شکاری ہے، بہترین نشانہ باز ہے، گھوڑے کی سواری اس شان سے کرتی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اور ایسی شہ سوار ہے کہ مرد بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ قابل تحسین بات یہ کہ ہر وقت پردہ کرتی ہے حتی کہ گھوڑے پر بھی نقاب پہن کر سوار ہوتی ہے اور اسی عالم میں فائر کرتی ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ کبھی اس کا نشانہ خطا ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ جونہی اس کے شکار کھیلنے کی خبر پھیلتی ہے اسے دیکھنے کے لیے لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگ جاتے ہیں۔ سنا ہے برقع اس کے روز مرہ کے معمول میں شامل ہے اورآج تک کسی غیر محرم نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابھی تک اس نے شادی نہیں کی۔ لوگوں نے اسی قسم کی اور بہت سی باتیں سنائیں اور اس کی تعریف کے پل باندھ دئیے۔ مجھے یہ سب کچھ خواب معلوم ہوا، پھر بھی ایک لڑکی کے متعلق محیر العقول لیکن چشم دید زندہ حکایتوں کی فہرست اتنی طویل تھی کہ میں اسے ایک نظر دیکھنے کے لیے بے چین ہوگیا۔ اپنے میزبانوں کی مددحاصل کرکے معلومات کرائی گئیں، رابطہ قائم ہوا اورآخر کار ایک شکار کا پروگرام طے ہوگیا۔ میں نے بھی شکار کی تیاری کی۔ ہفتہ بھر گھوڑے کی سواری کی۔ میں چونکہ یہ سواری چھوڑ چکا تھا، اس لیے پہلے دن تو مجھے کچھ تکلیف محسوس ہوئی لیکن پھر سارا سارا دن مختلف گھوڑوں کی پیٹھ پر رہنے کے باعث خاصی مشق ہوگئی۔

پھر وہ دن آیا جب میں نے اس نقاب پوش لڑکی کے ساتھ شکار کھیلا۔ بہت کوشش کی کہ کسی طرح اس کا چہرہ نظر آجائے، مگر ناکام رہا۔ اس نے مردوں کے ساتھ کھانے میں بھی شرکت نہ کی اور نماز بھی کسی وقت کی قضا نہ ہونے دی۔ ضرورتاً وہ مجھ سے ہم کلام بھی ہوئی، لوگوں کو ہدایات بھی دیتی رہی، لیکن کسی کو بے تکلف نہ ہونے دیا۔ اور جو کچھ میں نے کانوں سے سنا تھا وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیا۔ اس نے فی الحقیقت اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کردیا کہ اسلام کی حدود میں رہ کر بھی سب کچھ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے کردار نے ہم سب کو بہت متاثر کیا اور جو لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے وہ بھی پڑھنے لگے۔ صحبت صالح ترا صالح کند۔

رخصت ہونے سے پہلے اس نے ہم سب شکاریوں کو اپنے گھر کھانے کی دعوت دی۔ میز پر انواع و اقسام کے پرتکلف کھانوں کے علاوہ وہ سویٹ ڈش بھی تھی جو میں نے اکثر شہر بانوں کے گھر کھائی تھی۔ اور یہ اس کے گھرانے کی مخصوص ڈش تھی۔ میں حیران تھا کہ آخر یہ ڈش یہاں کس طرح آگئی۔کھانے سے فراغت پاکر میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اس کی والدہ نے ہم سب کو اندر بلایا، ہم سب چائے پیتے رہے اور وہ ہم سے باتیں کرتی رہیں۔ اس لڑکی کا نام عظمیٰ تھا۔ اس کے والد پاکستان آکر وفات پاچکے تھے۔ اب گھر میں وہ اور اس کی والدہ تھیں۔ وہ ان کی اکلوتی لڑکی تھی۔ ملازم اسے ’’باجی‘‘ اور اس کی والدہ کو ’’بیگم صاحبہ‘‘ کہتے تھے۔ عظمیٰ ہمارے سامنے نہیں آئی۔ اس کی والدہ کو دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں نے انہیں کہیں دیکھا ہے۔ لیکن سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کہاں دیکھا ہے۔ میں نے ان سے دوبارہ ملنے کی خواہش کا اظہار کیا اور میں جب تنہا ان سے ملا تو ان سے کہا: ’’آپ کو دیکھ کر مجھے شہر بانو کی ممی یاد آتی ہیں۔‘‘

انھوں نے استفسار کیا: ’’شہر بانو کون تھی؟‘‘

میںنے انہیں سارا قصہ سنایا۔ انھوں نے غور سے مجھے دیکھا اور دریافت کیا: ’’تمہارا کیا نام ہے؟‘‘

میںنے اپنا نام بتایا تو انھوں نے مجھے بہت پیار کیا اور میری اتنی بلائیں لیں کہ مجھے اپنی والدہ یاد آگئی۔ میں نے دیکھا، ان کی آنکھیں آنسوؤں سے لباب بھری ہوئی تھیں۔ اس اچانک تبدیلی پر مجھے بڑا تعجب ہوا۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ یکایک انھوں نے عظمیٰ کو آواز دی۔ مجھے ساتھ والے کمرے سے کسی کی آہٹ سنائی دی۔ یوں محسوس ہوا جیسے عظمیٰ ہماری باتیں سن رہی تھی۔ ماں نے اسے بلایا تو اس نے میرے سامنے آنے سے گریز کیا اور کہا: ’’میں ان کے سامنے کس طرح آؤں؟‘‘

انھوں نے جواباً کہا: ’’آجاؤ، کوئی بات نہیں ہے۔‘‘

اور جب عظمیٰ شرماتی ہوئی میرے سامنے آئی تو وہ عظمیٰ نہیں، شہربانو تھی۔ شرم و حیا کا پیکر، شلوار قمیص اور دوپٹے میں ملبوس۔ یہ وہ شہر بانو نہیں تھی۔ مغربی طرز حیات کی علمبردار جو میں نے اپنے لڑکپن میں ایک چھوٹے سے قصبے کی کینال کالونی کی ایک کوٹھی میں دیکھی تھی۔ یہ نئے روپ، نئے لباس، نئے مکتب فکر اور نئے ضابطہ حیات کی نمائندہ شہر بانو تھی۔

نیلی آنکھوں میں وہی سرور انگیز چمک اور گہرائی جو کسی جھیل میں ہوتی ہے کہ دل ڈوب جانے کو مچلنے لگے۔ دلکش چہرے کی وہی مانوس، نقوش، دلفریب خدوخال کی وہی ذہانت آمیز معصومیت، وہی پاکیزہ تبسم، نہ لڑکوں کا سا لباس، نہ لڑکوں جیسے بال، نہ لڑکوں والی بیباکی، ساری ہیئت ہی بدل گئی تھی، زندگی نئے روپ میں زیادہ پرکشش ہوگئی تھی۔ میں نے کہا: ’’شہر بانو تم! عظمیٰ کہاں ہے؟‘‘ میری طرف دیکھے بغیر کہنے لگی: ’’میں ہی عظمیٰ ہوں، میں ہی شہر بانو ہوں۔‘‘

میں نے پوچھا: ’’اور وہ تمہاری ٹوپی کہاں چلی گئی؟‘‘

کہنے لگی: ’’ٹوپی نے دوپٹے کی شکل اختیار کرلی۔‘‘

میرے احباب چلے گئے اور میں وہاں رہ گیا، تمام رات ہم ایک دوسرے کو اپنی اپنی داستان سناتہ رہے۔ شہر بانو اور اس کی ممی مشترکہ طور پر اور میں تنہا ’’بلاشرکت غیرے‘‘۔ میری داستان ہی کیا تھی۔ جب تک خط و کتاب رہی، شہر بانو کا تھوڑا بہت خیال رہا۔ علی گڑھ جاکر میں سب کچھ بھول گیا۔ پھر سندھ میں شکار کھیلنے تک اس کے تصور کا ہر نشان میرے ذہن سے محو ہوچکا تھا اور میں گمان بھی نہیں کرسکتا تھا کہ گھوڑے پر سوار ہوکر شکار کھیلنے والی لڑکی شہر بانو ہوسکتی ہے۔ آنٹی اور انکل کی داستان بھی حسرتوں سے بھری ہوئی بے رنگ سی داستان تھی۔ اگر وہ اس کے والدین نہ ہوتے تو اس میں داستان والی کوئی کیفیت ہی نہ ہوتی۔ اصل داستان تو شہر بانو کی تھی جس کا آغاز ہماری ملاقات سے ہوا۔ پھر ہم سب کے اخلاقی اطوار اور مذہبی رجحان سے وہ متاثر ہونے لگی۔ ایک ڈیڑھ سال کی خط و کتابت نے اس کے خیالات و نظریات کو مزید مستحکم کردیا۔ اسی اثناء میں وہ شوریدہ سر جدبات کی سرحد میں داخل ہوگئی اور ساتھ ہی اس کے قلب و ذہن میں رفاقت کا تصور بھی ابھرا اور چونکہ ان نازک لمحات میں وہ مجھ سے خط و کتابت کررہی تھی، اس لیے مجھے ہی اس نے اپنا آئیڈل بنالیا۔ پھر جب شادی کی تجویز سامنے آئی تو وہ ٹالتی رہی اور جب والدین نے اصرار کیا تو اس نے انکار کردیا، کوئی رشتہ اسے شادی پر مائل نہ کرسکا۔ پھر برسوں سب مل کر وہ مجھے تلاش کرتے رہے اور جب پاکستان آکر اس نے کبھی شادی نہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو اس کے والد اس صدمے کی تاب نہ لاکر اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اسلام کی محبت اور احکام الٰہی کی اطاعت اس کا ایمان بن چکی تھی، چنانچہ ان حدود میں رہ کر اس نے شکار کو اپنا مشغلہ بنالیا اور شادی کے تصور سے یکسر کنارا کرلیا۔

تمام رات چائے کا دور چلتا رہا اور ہم داستان سنتے اور سناتے رہے حتی کہ جب نازک مرحلہ آیا تو شہر بانو اٹھ کر چلی گئی۔ آنٹی نے یہ موقع غنیمت جانا اور وہ غبار جو ان کے سینے میں طوفان برپا کررہا تھا یکایک زبان پر آگیا۔ کہنے لگیں: ’’اب تم پوری کہانی سن چکے ہو۔ یہ بتاؤ کہ ہمیں چھوڑ کر چلے تو نہیں جاؤ گے؟ برسوں ہم نے تمہارا انتظار کیا۔ برسوں ہم تمہیں تلاش کرتے رہے۔ نہ جانے تم کیا جادو کرکے چلے گئے کہ ہم تمہیں بھول نہ سکے۔ تمہاری ادائیں کچھ ایسی محسور کن تھیں کہ تم ہمارے دلوں میں بس گئے اور پھر نکل ہی نہ سکے۔ ہم نے برسوں تمہاری باتیں کی ہیں، ہر روز تمہیں یاد کیا، آئیں بھریں، آنسو بہائے، لیکن تم نے پلٹ کر نہیں دیکھا، نہ جانے کہاں چھپے رہے۔ اب چلے جاؤ گے تو وہ زندہ نہیں رہے گی۔‘‘

میں نے سرجھکاتے ہوئے جواب دیا: ’’آنٹی! پہلے میں اس کا آئیڈیل تھا، اب وہ میری آئیڈیل ہے، میں آپ کو چھوڑ کر کہاں جاسکتا ہوں؟‘‘

چند روز بعد میری اور اس کی شادی ہوگئی اور میں سندھ کے جنت نظیر گوشے میں آباد ہوگیا۔ یہی مقصد میرے احباب کا تھ۔ وہ جیت گئے میں ہار گیا، لیکن یہ ہار اگرچہ حقیقت ہے مگر افسانہ معلوم ہوتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
خورشید برنی