BOOST

آئینہ

حج کرنے کے بعد نذیر صاحب مکمل طور پر بدل گئے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ پہلے کے اور اب کے نذیرصاحب میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ حج سے پہلے وہ صفا چٹ چہرہ لیے، سر پر قرینے سے بال جمائے، منہ میں پان دبائے، ہاتھوں میں سگریٹ تھامے اور نماز روزے سے دور دوستوں، یاروں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف رہتے تھے۔ انھیں دیکھ کر لگتا کہ انھوں نے اپنی زندگی میں جمعہ یا عید کی نماز کے علاوہ کوئی اور نماز نہیں پڑھی۔ روزہ وہ بمشکل رکھ لیتے لیکن معمولی برائیوں سے اجتناب انہیں ہرگز منظور نہیں تھا۔ جب وہ حج کرکے آئے تو جو انھیں اور ان کے اعمال دیکھتا، حیران رہ جاتا۔

حج کرنے کے بعد جب نذیر صاحب واپس آئے تو ان کے چہرے پر داڑھی اور سر پر ٹوپی تھی، ہاتھ میں لمبی تسبیح اور جیب میں دعاؤں کی ایک دو چھوٹی چھوٹی کتابیں، پائجامہ ٹخنوں سے اوپر، منہ سے پان اور ہاتھوں سے سگریٹ مکمل طور پر غائب، ان کی جگہ زبان اللہ کے ذکر میں لگی رہتی اور ہاتھوں کی انگلیاں تسبیح کے دانوں کو آگے پیچھے کرنے میں مصروف رہتیں۔ وہ ہمہ وقت باوضو رہتے اور جونہی اذان شروع ہوتی فوراً مسجد میں پہنچ جاتے۔ اپنے ساتھیوں اور ملنے جلنے والوں کو بھی باجماعت نماز ادا کرنے کی تلقین کرتے اور اگر نماز کے وقت کوئی مل جاتا تو تلقین کرتے کرتے مسجد لے جاتے۔

حج سے نہ صرف نذیر صاحب بدل گئے بلکہ ان کے ذریعہ ہمارے دفتر کا ماحول بھی بدل گیا۔ تقریباً سب مسلمان افراد ظہر اور عصر کی نمازوں میں مسجد میں موجود ہوتے۔ ہنسی مذاق اگرچہ پہلے جیسا ہی ہوتا لیکن اب اس میں نازیبا الفاظ گالیوں یا اس قسم کی دوسری واہیات کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ دفتر کا ماحول ایک طرح سے سنجیدہ ہوگیا۔

نذیر صاحب چونکہ میرے محلے دار بھی تھے اس لیے اکثر ان کے ساتھ گپ شپ رہتی۔ ایک دن میں ان کے ساتھ بیٹھا کام کررہا تھا کہ مجھے کہنے لگے ’’وہ اپنے محلے کے احمد صاحب ہیں نا، بڑی حویلی والے!‘‘

’’کیوں کیا ہوا ان کو؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’کل شام کو وہ مجھے ملے۔ میں مغرب کی نماز پڑھ کر آرہا تھا۔ مجھے تو ان کی شکل دیکھ کر کراہت سی ہونے لگی۔ ڈاڑھی مونچھ سے خالی چہرہ، عورتوں کی طرح لمبے لمبے بال، پتلون کی کھلے پائچوں نے جوتوں کو چھپا رکھا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نماز کیوں نہیں پڑھتے۔ کہنے لگے کہ بھئی مصروفیت بہت زیادہ ہوتی ہے، وقت نہیں ملتا۔‘‘

’’لیکن نماز پڑھنے کے لیے تو وقت نکالنا پڑتا ہے۔‘‘ میں نے لقمہ دیا۔

’’ہاں تم ٹھیک کہتے ہو۔‘‘

عشاء کی نماز کے بعد مجھے کسی کام سے ان کے گھر جانا ہوا، تو دیکھا کہ ٹی وی کے آگے بیٹھے ہندی فلم دیکھ رہے ہیں۔ مجھے دیکھ کر شرمندہ ہوئے لیکن بہانہ بناکر جان بچا گئے۔

مجھے نذیر صاحب کی ان حالیہ تبدیلیوں سے بے پنا ہ خوشی ہوئی کیونکہ ان کے ساتھ رہ کر مجھے بھی عبادت کرنے اور برائیوں سے بچنے کا شوق پیدا ہوگیا۔ میں اگرچہ پہلے بھی نماز پڑھتا تھا لیکن اب نذیر صاحب نے مجھے پکا نمازی بنادیا۔

٭٭

نذیر صاحب ایک ہفتہ کی چھٹی لے کر اپنے برادر نسبتی کی شادی میں شرکت کے لیے چلے گئے۔ جب واپس آئے، تو میں انہیں پہچاننے سے قاصر رہا کیونکہ داڑھی غائب تھی۔ میری نظریں بدستور ان کے چہرے پر گڑی رہیں، تو انھوں نے میری حیرت بھانپ لی اور بولے: ’’یار بیگم نے مجبور کردیا تھا۔ لہٰذا داڑھی منڈوانی پڑی۔‘‘

٭٭

رفتہ رفتہ چھ ماہ بیت گئے … ایک دن مسجد میں اذان ہوتے ہی میں نے جلدی جلدی بقیہ کام نمٹایا اور نذیر صاحب کا انتظار کرنے لگا، لیکن وہ کام میں کھوئے ہوئے تھے۔ نماز کھڑی ہونے میں چند منٹ رہ گئے تھے۔ میں نے نذیر صاحب سے کہا: ’’جماعت کھڑی ہونے میں چند منٹ باقی ہیں۔‘‘

انھوں نے میری طرف دیکھے بغیر جواب دیا: ’’تم پڑھ لو۔ میں ذرا کام نمٹا لوں۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
انعام الحسن، کشمیر

تبصرہ کیجیے