BOOST

مومن کا طرز فکر

عَجَباً لِاَمْرِ الْمُؤْمِنِ اِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ لَہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِاَحَدٍ اِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ اِنْ اَصَابَتْہٗ سَرَّائُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْراً لَہٗ وَاِنْ اَصَابَتْہٗ ضَرَّائُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْراً لَہٗ۔ (مسلم)

’’ مومن کا بھی عجب حال ہے، اس کی ہر حالت اس کے لیے خیر ہی خیر ہے اور یہ بات سوائے مومن کے اور کسی کو حاصل نہیں۔ اگر اسے خوشی حاصل ہوتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور اس طرح یہ اس کے لیے خیر کا سبب ہوتا ہے اور اگر اس پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس پر صبر کرتاہے اور اس طرح یہ بھی اس کے لیے خیر ہی کا باعث ہوتا ہے۔‘‘

دنیا میں نرم اور گرم حالات کس پر نہیں آتے۔ کبھی آسانیاں ہوتی ہیں اور کبھی مشکلات کبھی مالداری ہوتی ہے اور کبھی غریبی، کبھی صحت ہوتی ہے اور کبھی بیماری، کبھی خوشی ہوتی اور کبھی غم، اسی اتار چڑھاؤ کا نام زندگی ہے۔

جو لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے اور جن کے نزدیک ہونے والے واقعات کے پیچھے نہ کوئی حکمت ہوتی ہے اور نہ کسی کا فیصلہ، وہ ان واقعات سے ایک خاص انداز میں اثر قبول کرتے ہیں۔ جب ان پر خوشی کی گھڑیاں آتی ہیں اور ان کی دولت میں اضافہ ہوجاتا ہے تو وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ ہمیں جو کچھ ملا ہے یہ سب ہماری عقل اور ہماری محنت کا نتیجہ ہے۔ اس خیال سے ان کے دل میں اپنی بڑائی پیدا ہوجاتی ہے۔ اور وہ خود کوہی سب کچھ سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کی گردنیں اکڑ جاتی ہیں، سینے تن جاتے ہیں۔ ان کے دل سخت ہوجاتے ہیں اور ہمدردی، محبت، اور وہ تمام انسانی خوبیاں جو انسان کو انسان بناتی ہیں ایک ایک کرکے ان کے اندر سے نکل جاتی ہیں۔

اس کے برخلاف جب زندگی میں مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں تو وہ بلبلا اٹھتے ہیں۔ وہ اپنی پریشانی کا سبب دوسروں کو سمجھتے ہیں۔ غریب ہوتے ہیں تو ان کے دل میں امیروں کے خلاف نفرت اور غصہ پیدا ہوتا ہے۔ کسی آفت میں پھنستے ہیں تو ذمے داری دوسروں پر ڈالتے ہیں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو بھی برا بھلا کہنے لگتے ہیں اور اس کی حکمتوں کو نا انصافی قرار دینے لگتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ دونوں ہی حالتوں میں انسانیت کے لیے مضر اور انسانیت سے دور ہوجاتے ہیں۔

اس کے برخلاف اللہ پر ایمان رکھنے والوں کی حالت بالکل مختلف ہوتی ہے۔ ان کا ایمان ہے کہ:

لَنْ یُصِیْبَنَا اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا ہُوَ مَوْلَانَا۔

’’ہم کو جو حالت بھی پیش آتی ہے وہی پیش آتی ہے جو اللہ نے ہمارے لیے مقرر فرمادی ہے۔ وہی ہمارا سرپرست ہے۔‘‘

اس لیے جب ان کے اچھے دن آتے ہیں تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، اللہ کی نعمتوں کو وہ اس کا فضل جانتے ہیں۔ دولت پاکر ان کے اندر گھمنڈ پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے دل نرم ہوجاتے ہیں وہ اپنے مالک کو اور زیادہ خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اگر ان پر کوئی تنگی آتی ہے تو وہ اسے برداشت کرتے ہیں، کوئی مصیبت پڑتی ہے تو سہ لیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ بھی ان کے رب کی طرف سے ہے۔ وہ نہ کسی کے مال کو تکتے ہیں اور نہ کسی کے خلاف غم اور غصے میں مبتلا ہوتے ہیں۔

اس طرح ایک مومن کی ہر حالت اس کے لیے خیر ہی خیر ثابت ہوتی ہے۔ آسانیوں میں وہ شکر ادا کرتا ہے اور مصیبتوں پر صبر کرتا ہے اور اس طرح اپنے مالک کو راضی کرکے اور زیادہ نعمتوں کا حق دار بن جاتا ہے۔ یہ نعمتیں اسے کبھی اس دنیا میں بھی مل جاتی ہیں اور آخرت میں تو وہ نعمتیں اسے ملنا ہی ہیں۔

ایمان کے بعد کسی انسان کے لیے کسی حالت میں بھی کسی نقصان کا اندیشہ نہیں بشرطیکہ وہ اس راہ پر جما رہے اور اس کے تقاضے پورے کرے۔ لیکن ایمان کے بغیر نہ کوئی نعمت نعمت ہے اور نہ کوئی راحت راحت۔ ایمان ہی ساری بھلائیوں کا سرچشمہ ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
مولانا عبدالحیٔؒ

تبصرہ کیجیے