6

ہم سفر

امتحان ختم ہوچکا تھا اور میں گرمی کی لمبی چھٹیوں میں گھر جارہا تھا۔ ایک طرف گھر جانے کی خوشی سے دل مچل رہا تھا تو دوسری طرف دوستوں سے لمبی جدائی کا غم بھی تھا۔ اس کیفیت میں میرا سفر شروع ہوا۔ کچھ دیر تک اور کچھ دور تک جیسے میرے وجود کو علی گڑھ اور کشن گنج دونوں اپنی اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ میں خاموشی کے ساتھ اپنی برتھ پر آکر بیٹھ گیا۔ خیالو ںکا ایک ہجوم تھا اور میں جیسے اس ہجوم میں تنہا سفر پر رواں دواں تھا۔

اچانک انتہائی ناقابلِ برداشت بدبو سے میں تلملا اٹھا، جیسے سڑا ہوا گوشت میرے پاس لاکر رکھ دیا گیا ہو۔ دم گھٹنے لگا، ضبط کے باوجود الٹی ہوگئی۔ دراصل میرے بغل میں بیٹھے ہوئے ایک جانور نما آدمی کے جسم سے ایسی بدبو پھیل رہی تھی کہ کیبن کی پوری فضا متعفن ہوگئی تھی۔ وہ آدمی اپنے پورے خاندان کے ساتھ میرے پاس بیٹھا تھا۔ وہ، اس کی بیوی، دو بچے اور دو بچیاں۔ ایسا لگتا تھا جیسے برسوں سے نہایا نہ ہو۔ بکھرے ہوئے غلاظت آمیز بال، بڑھے ہوئے میلے ناخن اور کپڑے جیسے کوئلے کی کان سے نکالے ہوئے۔ میرا جی متلانے لگا۔ ’’تمہارا ریزرویشن ہے کیا؟‘‘ میں نے غصے میں پوچھا۔

’’ہاں!‘‘ اس نے بڑے سکون سے جواب دیا۔ طبیعت اچاٹ ہوگئی، سفر جہنم زار بن گیا، دم گھٹنے لگا، جیسے اب جان نکل جائے گی۔گاڑی کان پور میں آکر رک گئی۔ باہر پلیٹ فارم پر لوگوں کی ہمہ ہمی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد چند لوگ ہمارے کیبن میں آئے۔ وہ دیکھنے میں پڑھے لکھے معلوم ہوئے۔ صاف ستھرے، ہشاش بشاش، اسمارٹ اور مہذب انداز ان کی چال ڈھال سے نمایاں تھا۔ ’’ہاں بھئی! چلو برتھ جلدی سے خالی کردو۔‘‘ ان کے لہجے میں کڑک تھی۔ لیکن ان کی باتوں کا اجڈ لوگوں پر کوئی ردعمل نہ ہوا۔ ’’ابے خالی کر!‘‘ وہ گرج کر بولے۔ پھر وہ گندے اور بدبودار لوگ کسمساتے ہوئے سیٹ چھوڑ کر نیچے جگہ بنا کر بیٹھ گئے۔’’کتّے! … نالائق! جب تمہارا ریزرویشن نہیں تھا تو تم نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا:‘‘ میں تقریباً چیخ پڑا۔ آنکھوں سے انگارے برسنے لگے۔

ٹرین اپنی معتدل رفتار سے چل رہی تھی۔ میرے آس پاس کی کیبنوں میں کہیں سے سیاسی موضوع پر گل چھرے سنائی پڑتے تھے تو کہیں فلم اور کرکٹ پر خوش گپیوں کے غلغلے۔ لیکن میں یہاں بیٹھا اب تک ان وحشیوں کو جھیل رہا تھا۔ اسی دوران میرے پاس سے ایک چھولے والا گزرنے لگا۔ ’’گرم گرم ، چٹپٹے چھولے کھاؤ۔‘‘ وہ لہک لہک کر آواز لگا رہا تھا۔ چھولے والے کی آواز پر اس گندے آدمی کے بچے لپک پڑے۔ ’’باپو ہو! کھلائیونا‘‘، ’’باپو مجھے بھی چھولے کھلائے دیو نا!‘‘

جیسے کبھی چھولے نہ کھائے ہوں۔ لیکن وہ اجڈ آدمی ایک دم ڈھیٹ بنا پڑا رہا، جیسے وہ کچھ سن ہی نہ رہا ہو۔ ’’ابے، چھولے کیوں نہیں کھلا دیتے ہو، ان لونڈے لونڈیوں کو۔‘‘ میں نے نفرت بھری نگاہ سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔’’بابو ساب! چھولے کیسے کھلاؤں!! ہم تین دن سے کچھ نہیں کھائے ہیں۔ میرے پاس ایک بھی پیسے کوڑی نہیں ہیں۔‘‘ وہ بولتے بولتے رو پڑا۔

اس کی اندر کو دھنستی ہوئی آنکھوں سے آنسوکے قطرے جھرّی دار گالوں پر پڑے۔ یہ منظر دیکھ کر میرا وجود سرتا پا کانپ اٹھا۔ جیسے خوابوں، خیالوں میں پریوں کے گلستان سے جھنجھوڑ کر کسی نے مجھے حقیقت کی سنگلاخ زمین پر لاکر پٹخ دیا ہو اور میری آنکھیں کھل گئی ہوں۔ پھر جیسے اس گندے آدمی کی آدمیت سینے کے اندر داخل ہوکر میرے دل میں اپنے لیے ہمدردی کے جذبات ابھار رہی ہو۔ بے ساختہ میرا ہاتھ اپنی جیب کی طرف بڑھنے لگا… چھولے والے نے تمام بچوں کو چھولے دے کر مجھ سے قیمت وصول کرلی۔ وہ ننھے منھے، بھولے بھالے اور معصوم بچے ہمک ہمک کر چھولوں پر جھپٹ رہے تھے اور ان کی ننھی آنکھوں سے ایک انجانی خوشی کی ننھی ننھی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔اب وہ گندا آدمی دھیرے، دھیرے، ڈرتے ڈرتے اور جھجھکتے ہوئے میرے قریب … اور قریب … اور قریب آنے کی کوشش کررہا تھا۔ شاید اس گندے آدمی کو زندگی میں پہلی بار کسی نے ہمدردی کی نگاہوں سے دیکھا تھا۔ اس کو جیسے کسی ویران و سنسان اور بے یار و مددگار بیابان میں کوئی سہارا مل گیا تھا۔ لیکن میں اپنی نفیس فطرت کا کیا کرتا۔ اس گندے آدمی کے لیے ہمدردی کا ایک جذبہ میرے گوشۂ دل میں ہونے کے باوجود اس سے نفرت پوری طرح ختم نہ ہوسکی۔ ’’کیا یار! تم نہاتے نہیں ہو کیا؟‘‘ میں نے جھڑک کر کہا۔

’’تم امیر لوگوں کے پاس کھسبو والا سابن ہوتا ہے، تب نا بابو ساب! ہم بھی نہاتے ہیں مگر مٹی کے سابن سے۔ اور کپڑے ایک ہی جوڑے ہیں، جس کو دھوکر ہم ننگے ہوجائیں گے۔ لیکن بابو ساب! ہم بھی آدمی ہیں۔ ہمارے بھی دو ہاتھ اور دو پیر ہیں۔‘‘ اس کے لہجے میں بلا کا اعتماد تھا۔

گاڑی نے سیٹی بجائی، پھر چل پڑی۔ یہ الہٰ آباد جنکشن تھا۔ یہیں پر وہ گندے لوگ، اپنا سفر ختم کرچکے تھے۔ وہ اب میرے بغل میں نہیں بیٹھے تھے۔ وہ اب اتر چکے تھے۔ اب کوئی گندگی میری آنکھوں کے سامنے نہ تھی اور کوئی بدبو میری ناک میں دم نہیں کررہی تھی۔ آس پاس اچھے اچھے لوگ تھے۔ باہر پُر فریب، دلکش اور جاں فزاں نظارے تھے، لیکن نہ جانے کیوں میں خوش نہ تھا۔ ’’ہم بھی آدمی ہیں‘‘ ’’ہم بھی آدمی ہیں۔…‘‘ میرے ضمیر کے دریچوں سے بار بار یہی آواز ٹکرا کر گونجنے لگی۔ میں پریشان ہو اٹھا۔ انجانی بے چینی و بے قراری بڑھتی جارہی تھی۔ میں سفر پر تھا، مسافر تھا۔ لیکن میرا ہم سفر مجھ سے جدا ہوچکا تھا۔

شیئر کیجیے
Default image
خالد مبشر، نئی دہلی