4

اتفاق

اف اللہ میں نے کیا غلطی کی تھی جو اس کی اتنی بڑی سزا۔ وہ پتھر کی مورتی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر سوچ رہی تھی۔ چاروں طرف پھیلی اگر بتیوں کی مہک میں اسے بڑی گھٹن محسوس ہورہی تھی اور مندر میں بجنے والے گھنٹے کی آواز اس کے دماغ پر ہتھوڑے کی چوٹ کی مانند لگ رہی تھی۔

’’ارچنا بیٹی میں پوجا کرچکی ہوں!‘‘ ممی کی آواز پر وہ چونک گئی۔ ممی نے ایک بار پھر گھنٹا بجایا۔ مگر اس نے جان بوجھ کر اس مرتبہ ایسا کرنے سے خود کو روک لیا۔ مندرکے دروازے پر گیروے رنگ کے کپڑوں میںملبوس لمبے بالوں والے سادھو نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر آشیرواد دیا اور کچھ میٹھی کھیلیں اس کے ہاتھ پر رکھ دیں۔ جنھیں وہ بادل ناخواستہ لے کر گھر آگئی۔

گھر میں داخل ہوتے ہی اس نے اپنا وہی پرانا شلوار سوٹ نکالا اور باتھ روم میں چلی گئی۔

’’کتنی بار اس لڑکی سے کہا ہے۔ صبح میں جلدی نہا لیا کر! یہ مندر سے آنے کے بعد نہانے کی ضرورت کیا رہتی ہے۔‘‘ اس کی ماں نے اسے باتھ روم سے نکلتے دیکھ کر کہا۔

’’ماں مجھے بڑی شدت کی نیند آرہی ہے اور میں اپنے کمرے میں سونے جارہی ہوں، ہاں بائی سے کہہ دیں کہ وہ میری نیند میں خلل نہ ڈالے۔‘‘

کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے اندر سے دروازہ بند کرلیا اور سکون کی سانس لی۔ ’’یا اللہ! پتہ نہیں یہ کب تک مجھے سہنا پڑے گا؟‘‘ اس نے خود ہی سوال کیا اور الماری کی طرف بڑھ گئی۔

الماری سے ایک کپڑا نکال کر بچھایا اور دوپٹے کو پھیلا کر سر پر اوڑھا اور نماز پڑھنے کھڑی ہوگئی۔ میرے اللہ میرا یہ امتحان کب ختم ہوگا۔ اس نے دعا کے لیے اپنے ہاتھوں کو بلند کیا۔

’’بیٹا جب دل پریشان ہو تو کلام پاک کی تلاوت کرلیا کرو اللہ کے کلام میں بڑی طاقت ہے۔‘‘ اس کے کان میں عادل کی امی کے الفاظ گونجے۔ اس نے الماری کے کونے میں رکھا انگریزی میں لکھا قرآن نکالا اور پڑھنے لگی۔ اف کتنا سکون ملا اس کو پڑھ کر اس نے قرآن بند کرتے ہوئے سوچا۔ اچانک ایک آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ’’ارچنا! ارچنا!! بیٹی دروازہ کھولو۔‘‘

اس نے قرآن جلدی سے الماری میں رکھا اور دروازہ کھولا۔ ’’بیٹا! تمہارے ڈیڈی ناشتے کی ٹیبل پر تمہارا انتظار کررہے ہیں۔‘‘

’’ممی میری طبیعت کچھ بھی کھانے کے لیے آمادہ نہیں۔‘‘

’’ارچنا! تم نے اپنے پاپا کی حالت نہیں دیکھی کیا ہوگئی ہے۔گھُلا دیا ہے تم نے ان کو۔‘‘ ماں کے یہ الفاظ اس کا کلیجہ چیرتے ہوئے نکل گئے۔ اور مجبوراً وہ اٹھ کر ان کے ساتھ چلی گئی۔

’’دیکھو ارچنا! اس طرح خود کو کیوں گھلا رہی ہو، جانے والا کبھی واپس نہیں آتا۔ عادل کو مرے ہوئے پورے دو مہینے گزر گئے ہیں۔ دیکھو اب تم اس بات کو بھول جاؤ۔ یہاں ہمیں کوئی نہیں جانتا۔ صرف تمہاری ہی وجہ سے ہمیں ٹرانسفر لے کر یہاں آنا پڑا ہے۔ اور ہم سوچ رہے ہیں کہ کوئی اچھا سا لڑکا دیکھ کر تمہاری شادی کرادیں۔‘‘ پانڈے صاحب کا لہجہ نرم تھا۔

وہ ناشتہ کرکے خاموشی سے وہاں سے چلی آئی۔ ایک پل کے لیے اس کے ذہن میں خیال آیا بھی کہ ڈیڈی ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ ’’لیکن کیا مجھے اپنی زندگی اور اپنا یہ نیا دین جسے بڑی محنت سے حاصل کیا ہے چھوڑنا پڑے گا؟‘‘ وہ سوچنے لگی۔ ’’نہیں ، نہیں یہ نہیں ہوسکتا۔ میں نہیں چھوڑسکتی اسے۔‘‘ اس کا دل انجانے خوف سے کانپ اٹھا۔ اور پھر وہ اس سفر کی یادوں میں کھو گئی جس کے دوران اسے اپنی منزل مل گئی تھی۔ کتنے خوبصورت تھے وہ دن جب اس کی ملاقات طوبیٰ سے ہوئی تھی۔ طوبیٰ اسے پہلی ہی نظر میں اچھی لگی تھی۔ ’’آپ کا کیا نام ہے؟‘‘اس نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس سے کہا تھا۔

’’میرا نام طوبیٰ حسن خان ہے‘‘ اس کا یہ جواب اب بھی اس کے کانوں میں رس گھولتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

’’اور میں ارچنا پانڈے‘‘ اس نے خوش ہوکر کہا تھا۔ اس طرح یہ چھوٹی سی ملاقات گہری دوستی میں بدل گئی۔ طوبیٰ کا گھر کالج کے قریب ہی تھا۔ ارچنا دیکھتی کہ دوپہر کی کلاس ختم ہوتے ہی طوبیٰ کو گھر جانے کی عجیب سی بیچینی ہوتی ہے۔ روز کی طرح اس دن بھی طوبیٰ نے ارچنا سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا:’’اچھا ارچنا اب چلتی ہوں۔ تین بجے کی کلاس میں ملاقات ہوگی۔‘‘

’’ارے طوبیٰ تمہیں ہمیشہ لنچ کی اتنی جلدی رہتی ہے۔ آج ہمارے ساتھ ہی کینٹین میں کچھ کھالو۔‘‘

’’نہیں ارچنا مجھے کھانے کی نہیں نماز کی جلدی ہوتی ہے۔ اب میں چلتی ہوں! نہیں تو میری نماز چھوٹ جائے گی۔‘‘ ’’اچھا تو تم ابھی سے ہی اتنی پابندی سے نماز پڑھتی ہو۔‘‘ اس نے حیرت سے کہا۔ آخر ایک روز اس نے طوبیٰ سے کہہ ہی دیا کہ ’’اگر تمہیں برا نہ لگے تو میں تمہارے گھر چلوں؟‘‘

’’ہاں ہاں کیوں نہیں ویلکم۔‘‘ اس طرح ارچنا طوبیٰ کے گھر آنے لگی۔

اس دن بھی ارچنا طوبیٰ کے گھر پرآئی ہوئی تھی۔ طوبیٰ نماز میں مشغول تھی اور وہ اسے بڑے ہی غور سے دیکھ رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ طوبیٰ کتنی پاکیزہ نظر آرہی ہے۔ ’’ارچنا کیا سوچ رہی ہو۔‘‘ دادی کے کہنے پر وہ چونک پڑی۔ ’’دادی میں سوچ رہی ہوں کہ اگر آپ مجھے بھی نماز پڑھنا سکھا دیں تو کیا اچھا ہو۔ مجھے نماز پڑھنا بہت اچھا لگتا ہے۔‘‘

اور اس نے پوری نماز کب سیکھ لی اسے پتہ ہی نہیں چلا۔ پہلے تو وہ صرف ظہر ہی کی نماز پڑھتی تھی۔ لیکن آہستہ آہستہ وہ پانچوں وقت پابندی سے پڑھنے لگی۔ اس نے اس راز کو کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیا تھا۔

اکثر وہ چھٹی کے دن بھی طوبیٰ کے گھر آجاتی اور دادی سے اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرتی۔ جیسے جیسے اس کی معلومات میں اضافہ ہوتا جاتا اسے ایک عجیب و غریب روشنی کا احساس ہوتا جو اس کے دل و دماغ اور اس کی روح کو روشن کیے دیتی ہے۔ وہ اپنی زندگی کے حسین ترین دور سے گذر رہی تھی جہاں ہر روز اس پر نئی حقیقتیں روشن ہوتیں اور ذہن و دماغ کو غوروفکر کے نئے راستے معلوم ہوتے۔

زندگی معمول کے مطابق گزر رہی تھی۔ طوبیٰ کے گھر آنا جانا اس کا معمول تھا کہ ایک دن ا س گھر میں ایک نوجوان پر نظر پڑی۔ اس کی پیشانی پر ہلکا سا ایک نشان تھا جس نے اس کی شخصیت کو غضب کی جاذبیت دے دی تھی۔ یہ طوبیٰ کا ماموں زاد بھائی عادل تھا۔ اور پھر وہ اس سیاہ نشان پر ایسی فریفتہ ہوئی کہ آج تک خود کواس سے چھٹکارا نہ دلاسکی۔ اور واقعی اس کے لیے یہ ممکن نہ تھا اگر قدرت خود اس کی راہ میں نہ آتی۔ اور پھر اس کی آنکھوں سے پانی کے قطرے ٹپکنے لگے۔

وہ اپنی ڈگری کے بعد پروجیکٹ کے لیے یہاں آیا تھا اور اپنی پھوپھی کے گھر ہی رہتا تھا۔ اعلیٰ اخلاق، بہترین طرزِ گفتگو، وسیع معلومات اور اس کے باوجود کم گوئی اس کی خاص خوبیاں تھیں۔ خود اس نے کئی بار اس سے معلومات کے لیے سوالات کیے تھے۔ اور جوابات ایسے تھے کہ دل میں اترنے کے ساتھ ساتھ ذہن و دماغ کو بھی روشن کرتے جاتے۔ مگر آہ — اب وہ اس دنیا میں نہیں ہے۔ وہ ایک سڑک حادثہ کا شکار ہوکر اپنے رب سے جاملا ہے۔ اس کی آنکھوں سے گرتے آنسو اس کا چہرا بھگورہے تھے کہ اس کے ذہن میں عادل کی دادی کے الفاظ گونجے: ’’کل نفس ذائقۃ الموت‘‘ اس کو کسی طرح قرار نہیں آرہا تھا اور وہ روئے جارہی تھی۔ اس گھر سے عادل کی ہر یاد وابستہ تھی۔ لیکن پتہ نہیں کیوں ممی ڈیڈی نے اسے ان یادوں کے ساتھ بھی نہیں رہنے دیا۔

ارچنا! ارچنا!! کھانا کھالو ممی کی آواز پر اس نے اپنے چہرے کو صاف کیا اور باہر نکلی ہی تھی کہ پانڈے صاحب کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ ارچنا شام کو تمہیں دیکھنے والے آرہے ہیں۔ تیار رہنا اور پھر اس کے ذہن میں ایک دھماکہ ہوا اور وہ صرف ’’لیکن ڈیڈ……‘‘ ہی کہہ پائی۔

میں کچھ سننا نہیں چاہتا آخر کب تک اس کا سوگ مناؤگی؟ انھوں نے قدرے تلخی سے کہا۔

ڈیڈی کے یہ تیور دیکھ کر وہ سمجھ گئی کہ ان کے آمرانہ انداز میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں چنانچہ وہ نئے عزم کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنے کی تیاری کرنے لگی۔ اور پھر اس شام چند عورتیں آئیں اور اسے ایک انگوٹھی پہنا کر چلی گئیں۔ اب وہ گوتم کی منگیتر بن گئی تھی۔

اس نے سوچا کہ وہ کم از کم گوتم کے بارے میں کچھ معلومات ضرور حاصل کرے گی۔ مگر نیا شہر اور سہیلیوں کی غیر موجودگی اس راہ کی رکاوٹ تھیں۔ سخت محنت کے بعد اسے صرف اتنا معلوم ہوسکا کہ مسٹر گوتم نے حال ہی میں ایم بی اے کیا ہے اور وہ بہ حیثیت اسسٹنٹ مینیجر پانڈے صاحب کے آفس میں کام پر آیا ہے۔

پھر ایک دن سادہ سی تقریب میں وہ رخصت ہوکر گوتم کے گھر آگئی۔ گوتم کے گھر والے ارچنا کو پاکر بہت خوش ہوئے اور سب نے بڑی گرم جوشی سے اس کا استقبال کیا۔

رات کو کوئی دس بجے اسے اس کے کمرے میں پہنچادیا گیا اور اب وہ وہاں تنہا تھی۔ اس نے کمرے کا جائزہ لینا شروع کیا۔ بیڈ کے سرہانے کی جانب دیوار میں ایک خوبصورت اور بڑا شوکیس تھا جس میں مینجمنٹ، بزنس اور ٹیکس سے متعلق بہت سی کتابیں بڑے سلیقے سے لگی تھیں۔ اچانک وہ ٹھٹک کر رہ گئی۔ اس کے جسم کا خون سرد اور حرکت قلب بند سی ہونے لگی ہو۔ اس نے دیکھا کہ اس شوکیس میں سیاہ جلد والی ایک موٹی سی کتاب رکھی ہے جس پر انگریزی میں قرآن لکھا ہے۔ وہ کھسک کر اور قریب ہوگئی اور اسے غور سے دیکھنے لگی۔ ایک لمحے کے لیے اس نے سوچا اور پھر اٹھ کر اسے کھولنے لگی۔ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ اس میں جا بجا نیلے قلم سے اور کہیں پنسل سے نشانات لگے ہیں اور کہیں کچھ لکھا بھی ہے۔

اب اس کے ذہن میں خیالات کا ہجوم تھا اور وہ سوچ رہی تھی کہ کیا کرے۔ یکایک اس نے منصوبہ بنالیا اور اس پر ڈٹنے کی تیاری کرنے لگی۔

رات میں کسی وقت گوتم کمرے میںداخل ہوا اور اس کے پاس بڑے ادب کے ساتھ بیٹھ گیا اور بات چیت کی کوشش کرنے لگا۔ ارچنا نے نہایت غصہ اور نفرت کے ساتھ اس کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ کیا ہے؟

گوتم ٹھٹک گیا۔اسے اندازہ نہیں تھا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ اس نے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کے انداز میں کہا ’’ یہ مسلمانوں کا ہولی قرآن ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اور اس میں زندگی گزارنے کا خدائی طریقہ درج ہے۔‘‘ ارچنا نے اسی غصہ کے انداز میںپھر پوچھا: ’’کیا تم اسے پڑھتے ہو؟‘‘ مگر گوتم کے انکار کی خواہش کے باوجود ایسا نہ کرسکا اور صرف اتنا کہہ سکا ’’ ہاں یہ بڑی اچھی کتاب ہے۔‘‘ اور — اور پھر چند ہی منٹ کے بعد اس نے اقرار کرلیا کہ وہ اس کتاب کو نہ صرف پڑھتا ہے بلکہ اپنی زندگی کو بھی اس کی روشنی میں گذارنے کے لیے کوشاں ہے۔

پس اس رات سے اسے عادل مل گیا تھا۔ بالکل اسی کی خوبیوں والا اور اسی انداز کا عادل۔

آخر وہ بھی تو عادل کا کلاس میٹ ہی تھا۔ اور اب تو اس نے اپنا نام بھی عادل ہی منتخب کرلیا تھا۔ ارچنا بے اختیار سجدے میں گر پڑی۔

شیئر کیجیے
Default image
نشاں خاتون سیتھلی

تبصرہ کیجیے