2

عزم و حوصلے سے بھرا عائشہ کا تعلیمی سفر

’’اللہ سے دعاؤں کا نتیجہ ہے میری کامیابی‘‘

عائشہ فاطمہ کا نام یوں تو ان تین طلبہ میں شامل ہوچکا تھا جن میں سے ہر ایک نے برابر نمبر حاصل کیے تھے اور آندھرا پردیش ٹاپر کے لیے تینوں کو مشترک حقدار قرار دیا جارہا تھا۔ لیکن عائشہ فاطمہ کو984/1000نمبرات کے بعد بھی لگ رہا تھا کہ انہیں ریاست کی ٹاپر ہونا چاہیے۔ چنانچہ عائشہ نے خطرہ مول لیا اور دوبارہ کاپی چیک کرنے کی درخواست دے دی۔ حالانکہ اس درخواست کے بعد نمبرات کم ہونے کے بھی اتنے ہی زیادہ امکانات تھے جتنے بڑھنے کے۔ لیکن عائشہ نے اللہ کا نام لے کر کاپی دوبارہ چیک کرائی اور عائشہ کو اس کا صحیح مقام یعنی ریاست ٹاپر کا ایوارڈ مل گیا۔ اور عائشہ کے نمبر984 سے بڑھ کر 985ہوگئے۔

زندگی میں خطرہ مول لینے کا یہ واقعہ عائشہ کی زندگی کا یادگار واقعہ ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ کو اپنا رول ماڈل ماننے والی عائشہ نہ صرف پنج وقتہ نمازی ہیں بلکہ اپنی تعلیمی مصروفیات میں شرعی پردے کی پابند بھی ہیں۔ حالانکہ عائشہ کا خاندان ایک اوسط خاندان ہے۔ لیکن گھر میں والدین کا مثالی رویہ عائشہ کی کامیابی کا بڑا سبب ہے۔ عائشہ کی والدہ نے اپنی بیٹی کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لے گھر کی ساری مصروفیات اپنے ذمہ کرلیں اور اپنی ساری توجہ بیٹی کے خواب کوپورا کرنے میں لگادی۔

عائشہ کی کامیابی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس نے ایک ایسے اسکول میں تعلیم حاصل کی جہاں تعلیم کے ساتھ اسلامی تربیت کا عملی نصاب شامل تھا۔ کالج میں ہفتہ وار اجتماع سے عائشہ کو ایسا دینی جذبہ ملا کہ ان کے اندر فرائض اور سنتوں کے ساتھ شب بیداری اور تہجد کا شوق بھی پیدا ہوگیا۔ سائنس کے کسی ٹاپر پر طالب علم کے لیے دینی مصروفیات وقت کی تنگی کے بہانوں میں ٹالی جاسکتی ہیں۔ لیکن عائشہ کو ایسا لگتا ہے کہ اس کی کامیابیوں میں تعلیم کے ساتھ سب سے زیادہ اہم آہ سحر گاہی اور یادخداوندی ہے۔

عائشہ فاطمہ ایم ایس ایجوکیشن سنٹر کی طالبہ ہیں اور جناب لطیف خان صاحب ایم ایس ایجوکیشن سنٹر کے ڈائریکٹر ہیں۔ اسکول کی کل عمر دو سال ہے۔ لیکن عائشہ کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ ان کے ذہن میں اپنے سینٹر کو ایک مثالی تعلیمی ادارہ ثابت کرنے کی صلاحیت ہے۔

ہم نے جب عائشہ سے تفصیل سے بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ عائشہ اپنی ذاتی زندگی کو غیر معمولی حد تک اپنے عزائم کے مطابق چلا رہی ہیں۔صبح سویرے اٹھنا تہجد کی پابندی، درسی کتابوں میں بے انتہا توجہ، سہیلیوں کے درمیان اور گھر میں معتدل رویہ، جذباتیت اور اتاولا پن کی جگہ سنجیدگی، تمناؤں کی جگہ عملی کوششیں یہ سب عائشہ کی زندگی کا حصہ ہیں۔

اخبارات میں جب عائشہ کی تصاویر شائع ہوئیں تو بہت سے لوگوں کو یہ اندازہ ہوگیا کہ مسلم لڑکی اگرچہ گھر کی زینت ہے لیکن عزم و حوصلے، محنت اور لگن میں کسی سے پیچھے نہیں۔ عائشہ نے یہ بھی ثابت کیا کہ دیندار اور نقاب پوش لڑکی بھی میدان عمل میں ہزاروں ہی نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں پر اپنی برتری ثابت کرسکتی ہے۔

ایسے وقت میں جب مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر ملت کو غیروں کے طعنے سننے پڑرہے ہیں اور ہمارے معاشرے کی طالبات مقابلہ کی اس دوڑ میں بہت پیچھے ہیں تو عائشہ فاطمہ اور ان کے جیسی دوسری طالبات ایک مثال اور امت کی بیٹیوں اور بیٹوں کے لیے ایک رول ماڈل نظر آتی ہیں۔

کامیابی کا تعلق جتنا محنت اور جذبے سے ہے اس سے کہیں زیادہ عقیدے سے ہے۔ یہ رائے نہیں بلکہ ایمان ہے آندھرا پردیش کی اس طالبہ کا جس نے پورے آندھرا پردیش میں اول پوزیشن حاصل کرکے مسلم ملت کا نام روشن کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ملت اسلامیہ پر لڑکیوں کی تعلیم کے سلسلے میں لگ رہے الزام کو بھی صاف کیا ہے۔ عائشہ فاطمہ کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم لڑکیاں بھی کامیابی کی بلندیوں کو چھونے کے حوصلے رکھتی ہیں۔ بس ضرورت ہے عائشہ کی طرح محنت لگن کے ساتھ ان سبھی باتوں کی جسے انھوں نے دو سال کی سخت محنت میں دیکھا، سنا اور محسوس کیا اور عمل کیا۔ ماہانہ حجاب اسلامی سے عائشہ کی خصوصی گفتگو قارئین حجاب کے لیے پیش خدمت ہے۔

س: آپ کی کامیابی پر سب سے پہلے ادارے اور قارئین کی طرف سے مبارکباد، کامیابی کے اس سفر کی مختصر روداد سننا چاہیں گے۔

ج: میں نے ہائی اسکول روزرکانونٹ اسکول سے کیا اور ۹۰ فیصد نمبرات حاصل کرکے اسکول ٹاپ کیا۔ اس کے بعد میرا داخلہ ایم ایس ایجوکیشن سنٹر میں کرادیا گیا۔ کالج میں آنے کے بعد میں نے صرف ایک ہدف طے کرلیا تھا کہ مجھے کسی طرح ریاست بھر میں اول مقام حاصل کرنا ہے۔ اس مہم میں دو سال کب گذر گئے پتہ نہیں چلا۔ گھر کی معمول کی سرگرمیاں، سہیلیوں کے ساتھ گپ شپ اور سب سے بڑی لعنت ٹی وی سے خود کو کاٹ کر رکھا۔ فضول سرگرمیوں سے وقت بچا کر پڑھائی میں لگادیا۔ دن کی شروعات صبح دو بجے سے ہوتی اور خدا کی عبادت کرنے کے بعد فجر تک کورس کی کتابیں پڑھتی۔ اشراق کی نماز کے بعد تھوڑا آرام کرتی اور اس کے بعد کالج۔ میں نے ہمیشہ ٹائم ٹیبل کی پابندی کی۔

س: آپ کی کامیابی کو یقینی بنانے میں کس کس کا رول ہے؟

ج: اساتذہ اور والدین کے تعاون کے بغیر یہ سب ممکن نہیں تھا۔ والدہ نے جس طرح میری تعلیم کے لیے میری ایک ایک چیز کا خیال رکھا اسے فراموش کرنا ناممکن ہے۔ لیکن میرا ماننا یہ ہے کہ خدا پر یقین اور دعاؤں کا اثر اس سے کہیں زیادہ ہے۔ میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے اپنے مقصد کے لیے دعا کرتی رہتی تھی۔

س: تعلیمی کیریر میں سب سے بڑا ہدف کیا ہے؟

ج: فی الحال مجھے فرسٹ آنے کی وجہ سے برلا انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹکنالوجی میں کمپیوٹر سائنس سے انجینئرنگ کا داخلہ مل گیا ہے۔ اگست میں میں پلانی راجستھان چلی جاؤں گی۔ لیکن گریجویشن کے بعد صرف اور صرف آئی اے ایس مقصد ہے۔ جس کے لیے اپنی تعلیم کو اسی طرح ترتیب دینے میں لگی ہوں۔

س: شوق اور عادتوں کے بارے میں بتائیں، اپنی روز مرہ کی مصروفیات کو آپ نے کیسے ترتیب دیا؟

ج: یہ صحیح ہے کہ مجھے عام لڑکیوں کی طرح کڑھائی بنائی اور لذیذ کھانے تیار کرنے کا ہنر زیادہ نہیں آتا۔ شوق ضرور ہے لیکن میری زندگی کا ہدف اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ اس لیے میں نے اپنے بہت سے شوق پوری طرح دبا رکھے ہیں۔ اب جب کہ دو مہینوں کا خالی وقت ملا ہے تو قرآن مجید کو معانی و مطالب سے پڑھنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ عام دنوں میں میرا ٹائم ٹیبل ہے جس پر تقریباً سو فیصد عمل کو یقینی بناتی ہوں۔

س: آج ہر لڑکی نے ایک رول ماڈل کو اپنے سامنے رکھا ہے۔ آپ کا رول ماڈل کون ہے؟

ج: میں نے کسی کو اپنا رول ماڈل نہیں بنایا ہے۔ ہاں حضرت عائشہؓ ام المومنین سے نام کی مشابہت کی وجہ سے خاصی دلچسپی ہے۔ اور دعا کرتی ہوں کہ ان کے نقش قدم پر چلوں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ مختلف لوگوں کی اچھی باتوں کو اختیار کرتی ہوں۔ کسی ایک کو معیار بنانے سے بات محدود ہوجائے گی۔

س: آپ پردہ کرتی ہیں نمازوں کی اتنی زیادہ پابندی کرتی ہیں، اس دینی رجحان کی تربیت اور تحریک کہاں سے ملی؟

ج: میں ہائی اسکول میں نمازوں کی زیادہ پابند نہیں تھی لیکن انٹر میں آنے کے بعد میرے اسکول کے ہفتہ وار اجتماع نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ ہمارے ڈائریکٹر لطیف صاحب اس معاملے میں بہت سنجیدہ ہیں۔ نمازوں کی پابندی کا اہتمام کراتے ہیں۔ بلکہ انھوں نے ہماری تعلیم میں دینی سرگرمیوں کو ضروری کررکھا ہے۔

س: خالی اوقات میں کیا کرتی ہیں؟

ج: پچھلے دو سالوں سے خالی وقت کب ملا مجھے نہیں معلوم۔ البتہ کبھی کبھی انگریزی کہانیاں اور کمپٹیشن سکسیز ریویو پڑھتی ہوں۔

س: قارئین حجاب اور تمام مسلم طالبات کے لیے کیا پیغام دینا چاہیں گی؟

ج: دو سالوں میں میرا احساس یہ ہے کہ مسلم طالبات تعلیم تو حاصل کررہی ہیں، لیکن ان کے سامنے کوئی واضح ہدف نہیں ہے۔ بس یہ سوچ کر کہ جلدی ہی شادی کردی جائے گی اپنا سارا وقت فضول سرگرمیوں میں گزار دیتی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ محنت اور لگن کے ساتھ منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔ اور سب سے زیادہ ضروری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے۔ اور یہی میرا پیغام ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
عمیر انس