6

حجاب کا تبصرہ

نام کتاب : ہمیں خدا کیسے ملا؟ (یعنی ۸۰ نو مسلم خواتین کی داستان ایمان)

مصنف : ڈاکٹر عبدالغنی فاروق

قیمت : 120/-روپئے صفحات : 478

ناشر : مدھر سندیش سنگم

ای-۲۰، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی-۱۱۰۰۲۵

تبصرہ : مدیر حجاب

ہم جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں اس وقت حالات کا دھارا اسلام اور مسلمانوں کے مخالف سمت میں بہہ رہا ہے۔ ہر جگہ اور ہر سطح پر اسلام اور اسلامی نظریات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اور ’’عورت اور اسلام‘‘ کے مسئلہ کو لے کر تو پورا میڈیا عالمی سطح پر اسلام کو ہدف تنقید بنائے ہوئے ہے۔

یہ اللہ تعالیٰ کا معجزہ ہی ہے کہ جیسے جیسے اسلام اور مغرب کے درمیان جاری اس نظریاتی کشمکش کا محاذ گرم اور معرکہ سخت ہوتا جارہا ہے اسلام پر پڑی گرد بھی صاف ہوتی جارہی ہے۔ کیونکہ اس کشمکش میں بڑا محاذ اسلام میں عورت کی حیثیت اور اس کے مقام و مرتبہ سے متعلق ہے، اس لیے خواتین اور وہ بھی تعلیم یافتہ اور اعلیٰ طبقہ کی خواتین میں اسلام کے مطالعہ کا شوق پروان چڑھ رہا ہے۔

ان کے مطالعہ کی شروعات اگرچہ بعض اوقات منفی سوچ کے نتیجہ میں ہی ہوتی ہے لیکن اس کا انجام اکثر نہایت مثبت نتائج پر ہوتا ہے۔ اس میں جہاں اسلام کی قوت کشش کارفرما ہے وہیں خواتین کی مغربی طرز زندگی سے بیزاری بھی ہے جس نے انہیں آزادی کے نام پر ایک نئی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے اور وہ محض مردوں کی ہوس پرستی کی غلام ہوکر رہ گئی ہیں۔

اگرچہ مغرب کی خواتین کو سب کچھ حاصل ہے، عیش و آرام، آزادی، دولت اور مساوات مگر ان کی زندگی سے جو چیز رخصت ہوچکی ہے وہ سکون وچین اور عزت نفس ہے۔ چنانچہ ان کی بڑی تعداد اب اس طرف متوجہ ہونے لگی ہے کہ ہم حقیقی سکون چین اور عزت نفس کو کس طرح حاصل کریں۔ اور اب ان کے سامنے اسلام ایک متبادل کے طور پر آتا ہے اور وہ اس کے سائے میں پناہ گزیں ہوجاتی ہیں۔

اس وقت دنیا میں اسلام سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہوگیا ہے۔ اور حیرت انگیز طور پر ان اسلام قبول کرنے والوں میں بڑی تعداد خواتین کی ہے جو اعلیٰ عہدوں پر فائز، اعلیٰ ترین ڈگریوں کی حامل اور خوش حال گھرانوں سے آتی ہیں۔

’’ہمیں خدا کیسے ملا‘‘ نامی کتاب دنیا بھر کی ان ۸۰ خواتین کی قبول اسلام کی روح پرور اور ولولہ انگیز داستان ہے جنھوں نے اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کے اس شدید دور میں یا تو اپنی قوت تلاش حق کے نتیجہ میں یا منفی پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر اسلام کا مطالعہ شروع کیا اور ایک مقام پر پہنچ کر وہ اشہد ان لا الہ الا اللہ پکار اٹھیں۔

اس کتاب کی اہم ترین خصوصیت ان کے قبول اسلام کی داستان بیان کرنا ہی نہیں ہے بلکہ زیادہ تر ان خواتین کی دعوت حق کے لیے جاری زبردست جدوجہد کا بھی بیان ہے۔ جو نہایت حوصلہ افزاء، ولولہ انگیز اور ذہن و دماغ کو تحریک دینے والا ہے۔

چنانچہ پہلی داستان شکاگو کی ایک معذور صحافی لڑکی کی ہے جو وہیل چئیر پر زندگی گزارتی ہے۔ اس نے امریکہ کے بڑے منشیات کے مافیا برنارڈو کو اپنی قوت تاثیر سے اس پیشے سے تائب ہونے پر مجبور کردیا۔ امریکی صدر فورڈ کے زمانے میں برنارڈو کے عمل سے تہلکہ مچ گیا۔ برنارڈو نے پریس کانفرنس میں کہا ’’ایک اپاہچ اور چلنے پھرنے سے معذور لڑکی نے مجھے یہ طاقت پرواز بخشی ہے کہ میں نے برائی کی زنجیروں کو توڑ دیا۔‘‘

اسلام قبول کرنے کے لیے ان خواتین کو کن مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ پڑھ کر ایک طرف تو صحابیات رسول کی یاد تازہ ہوجاتی ہے دوسری طرف اس بات پر یقین پیدا ہوجاتا ہے کہ عورت کمزور نہیں بڑی طاقت ور ہے اور خود کو ہی نہیں بلکہ پورے سماج اور معاشرے کو تبدیل کرسکتی ہے اور اس راہ میں کوئی بھی رکاوٹ اس کا راستہ نہیں روک سکتی۔ اس کتاب میں جگہ جگہ داستان صبروعزیمت کے ابواب نظر آتے ہیں جو معلوماتی بھی ہیں اور سبق آموز بھی۔ جن خواتین کی یہ داستان ہے ان میں سے اکثر ہی نہیں بلکہ چند کو چھوڑ کر سبھی یورپی ممالک سے تعلق رکھتی ہیں۔ جبکہ مشہور زمانہ ہمارے ملک کی مصنفہ کملا ثریا اور مصر کی معروف فلم اسٹار سہیر الباہلی کی داستانیں بھی اس کتاب میں موجود ہیں۔

کتاب کے مصنف پروفیسر عبدالغنی فاروق ہیں جو شعبۂ اردو کے پروفیسر ہیں اور گورنمنٹ کالج آف سائنس لاہور سے وابستہ ہیں۔ کتاب کا دیباچہ محترم مریم جمیلہ صاحبہ کا ہے جو کافی فکر انگیز ہے۔ جبکہ معروف ناول نگار بشری رحمن اور سلمیٰ یاسمین نجمی کی تحریریں بھی کتاب کا بہترین تعارف پیش کرتی ہیں۔ کتاب نہایت دلچسپ، معلوماتی، جذبہ اور حوصلے سے بھر دینے والی اور قوت ایمانی کو جلا بخشنے والی ہے۔ حقیقت میں یہ اس لائق ہے کہ خواتین و طالبات ہی نہیں دعوت اسلامی سے وابستہ ہر فرد اس کا مطالعہ کرے۔ اس ضخیم کتاب کی قیمت صفحات کے اعتبار سے نہایت معمولی ہے جسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ناشرین نے تجارتی نقطۂ نظر سے ہٹ کر محض دعوتی مقاصد کے تحت اسے شائع کیا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے