2

بچوں کی بڑھتی عمر

عموماً بچے لڑکپن تک ماں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، مگر بلوغت کا دور انسانی نشو و نما کا ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے، یہ وہ دور ہے جس میں نشو و نما کی تیز ہوتی رفتار بچوں کے جسم، ذہن ار جذبات پر گہرا اثر ڈالتی ہے، لہٰذا عمر کے اس حصے کو عام طور پر ہیجانی اور طوفانی دور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ نو عمری میں بچے آزادی کی تلاش میںوالدین کی گرفت سے دوری کے خواہش مند رہتے ہیں۔روک ٹوک ناپسند کرتے ہیں، شدید بحث پسند ہوتے ہیں، اپنا ردعمل بعض اوقات انتہائی غیر منظم اور بعض اوقات مضحکہ خیز انداز میں دیتے ہیں، لڑکے عموما باپ یا بھائی سے اور لڑکیاں ماؤں سے تکرار کرنے لگتی ہیں۔ نوجوانوں کی یہ جذباتی تندی بعض اوقات خطرناک ہوجاتی ہے اور بعض اوقات بہت سے مسائل بھی کھڑے کرتی ہے، بہت سے مجرمانہ فعل بھی اسی عمر میں سرزد ہوجاتے ہیں۔

دراصل بلوغت کا دور ہی ایسا ہے، جس میں بچوں کو ان کے والدین مناسب راہ نمائی فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مرحلہ عمر میں وہ ہر معاملے میں بڑوں سے راہ نمائی لینا پسند بھی نہیں کرتے، لہٰذا اس مرحلے میں اپنی اولاد کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ بچے جوانی کے ہیجان میں آنے والے وقت کے تقاضوں کو سمجھتے نہیںہیں اور اپنے علم اور تجربے کی بنا پر ہر وہ کام کرتے ہیں جو ان کے دماغ میں سما جائے۔ جب تک بات سمجھ میں آتی ہے، تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے، لہٰذا یہاں آپ کی بروقت راہ نمائی ہی انہیں بچا سکتی ہے۔

آپ کا بیٹا یا بیٹی ٹی وی پر رومانوی ڈرامے یا فلم میں ہیرو اور ہیروئن کا شادی رچانا اور آخر میں ہونے والے خوش گوار اختتام سے متاثر ہوتا ہے، لہذا اس کے ساتھ بر وقت مکالمے کے ذریعے یہ سمجھایا جائے کہ اس چالیس منٹ کی کہانی کا تعلق ہماری حقیقی زندگی سے قطعاً نہیں۔ یہ صرف ایک کہانی ہے، جب کہ ہماری زندگی میں اس طرح ابدی خوشیاں نہیں ہوتیں۔ یہاں قدم قدم پر دل ٹوٹ جاتے ہیں۔ دوست چھوڑ کر بھی جاسکتے ہیں، لہٰذا ان محرومیوں کو قبول کرنا ہے، سیکھنا ہے اور آگے بڑھنا ہے، یہاں زندگی کا روگ نہیں بنانا۔

آپ اپنی اولاد کو بتائیں کہ مجھے آپ سے کچھ نہیں چاہیے، آپ جو چاہیں کرنے کے لیے آزاد ہیں، لیکن بس اتنا خیال رکھیں کہ ہر چیز کے نتائج ہیں، اس لیے کوئی بھی قدم اٹھاتے ہوئے ہماری رائے اور راہ نمائی ضرور سامنے رکھیں تاکہ اس کے نتائج آپ کے لیے مسائل پیدا نہ کریں۔

آپ اور آپ کی اولاد ایک معاملے میں مختلف رائے رکھ سکتے ہیں، بس یہ سمجھیں کہ مختلف رائے رکھنا جرم نہیں۔ ان کی مثبت رائے کو نہ صرف بطور ماں قبول کریں، بلکہ انہیںپختہ یقین دلانے میں مدد فراہم کریں کہ وہ خود پر اعتماد کرسکتے ہیں کیوں کہ آپ کے پاس بھی دوسروں کی طرح ایک دماغ ہے، جو یقینا اپنے طور پر بہتر فیصلہ کرسکتا ہے۔

ناکام ہونے کی صورت میں انہیں سمجھائیں کہ آپ کے مستقبل کے منصوبے غلط بھی ہوسکتے ہیں، چیزیں ہمیشہ وہی نہیںہوسکتیں، جیسے آپ سوچتے ہیں اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں حوصلہ نہیں ہارنا، بلکہ اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو نئے انداز سے کھوجیں، ڈریں نہیں، بلا جھجک تجربہ کریں اگر غلطیاں ہوتی ہیں تو یہ زندگی کا حصہ ہیں او ریہ غلطیاں بڑے بھی کرسکتے ہیں البتہ ضروری ہے کہ ہر کام کو انجام دینے سے پہلے اس کے نتائج کا اچھی طرح تجزیہ کرلیا جائے اور جب مثبت نتائج کی امید میں کام کیا جائے تو پورے اعتماد اور حسن تدبیر سے کیا جائے۔ بڑھتے ہوئے بچوں کو تلقین کیجیے کہ اگر آپ ہمیشہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، تو صرف ایک ہی چیز ملے گی اور وہ ہے مایوسی۔ اس لیے اس سے بچ کر وہ کریں جو آپ کو آپ کی پہچان اور زندگی میں سکون دے سکے۔

عملی زندگیمیں قدم رکھنے پر انہیںباور کرائیں کہ آپ ہمیشہ ان کے لیے موجود ہیں لیکن وہ ہمارے بھروسے پر زندگی نہ گزاریں۔ ہم آپ کی مشکل وقت میں ہر ممکن مدد کریں گے لیکن اس کا مطلب نہیں ہے کہ آپ ہر چیز کے لیے ہم پر انحصار کرنا شروع کردیں، لہٰذا خود فیصلہ کریں اور نتیجہ جو بھی ہو صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار رہیں۔ آپ بہادر ہیں اور آپ کو آگے بڑھنا ہے۔

جب آپ کی بیٹی یابیٹا بلوغت کے دور سے گزر رہے ہوں، تو یہ نکتہ آپ کے ذہن میں ہونا چاہیے تاکہ مشکل صورت حال میں آپ کے پاس وہ جملے ہوں جن سے ذہن سازی کرنے میں آسانی ہو۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سائرہ فاروق

تبصرہ کیجیے