4

پردہ

حجاب کا لفظ قرآن مجید کی اس آیت میں آیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو نبی کریم ﷺ کے گھر میں بے تکلف آنے جانے سے منع فرمایا تھا اور حکم دیا تھا کہ اگر نبی کے گھر کی خواتین سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو اسی حکم سے پردے کے احکام کی ابتداء ہوئی اس کے بعد اس سلسلے کے دیگر احکامات نازل ہوئے۔ پردے کے احکام کے بارے میں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

’’وہ اپنے گھر میں وقار کے ساتھ رہیں اپنے حسن و آرائش کی نمائش نہ کرتی پھریں جس طرح زمانہ جاہلیت میں عورتیں پھرتیں تھیں گھروں سے باہر نکلنا ہو تو اپنے اوپر ایک چادر ڈال کر نکلیں اور غیر محرم مردوں کے درمیان امتیاز کریں محرم مردوں اور گھر کے خادموں اور اپنے میل جول کی عورتوں کے سوا کسی کے سامنے ذہنیت کے ساتھ نہ آئیں۔‘‘

زینت کے معنیٰ ہماری زبان میں آرائش و زیبائش اور بناؤ سنگار کے ہیں۔ اس میں خوشنما لباس زیور میک اپ وغیرہ شامل ہیں۔ حتیٰ کہ محرم کے سامنے بھی عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنے گریبان پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈال کر رکھیں اور اپنا ستر چھپائیں۔ گھر کے مردوں کو ہدایت کی گئی کہ ماں بہنوں کے پاس بھی آئیں تو اجازت طلب کرکے آئیں اس وجہ سے کہ ان کی نگاہ اچانک ایسی حالت میں نہ پڑے جب کہ جسم کا کوئی حصہ کھولے ہوئے ہوں جو کہ چھپانے کا ہوتا ہے اپنے گریبانوں پر دوپٹے ڈال کر رکھیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’اور اپنے پاؤں کو زمین پر نہ ماریں کہ جھنکار کی آواز کانوں تک پہنچ جائے اور ان کاپوشیدہ زیور ظاہر ہوجائے۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ عورت اس انداز سے نہ چلے کہ معلوم ہو کہ وہ پازیب وغیرہ پہنے ہوئے ہے۔ عورت کو زمین پر شدت سے پاؤں مارنے سے منع کردیا گیا ہے کہ غیر محرم مرد اس کے زیور کی جھنکار ہی سے فتنہ میں نہ پڑ جائیں۔

یَا اَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِاَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَنِسَائِ الْمُوْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِہِنَّ ذٰلِکَ اَدْنیٰ اَنْ یُعْرَفْنَ فَلَا یُوْذِیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْراً رَحِیْماً۔ (الاحزاب:۵۹)

’’اے پیغمبر ﷺ اپنی ازواج، بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ جب باہر نکلا کریں تو اپنے اوپر چادر لٹکا لیا کریں یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘

ترجمان القرآن حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لیے اپنے گھروں سے نکلیں تو سر کے اوپر سے اپنی چادر لٹکا کر اپنے چہروں کو ڈھانک لیا کریں اور صرف آنکھ کھلی رکھیں۔

صحیح بخاری و مسلم میں ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ صبح کی نماز پڑھاتے تو بعض عورتیں بھی آپؐ کی اقتداء میں نماز کے لیے چادروں میں لپٹی ہوئی آتیں نماز کے بعد وہ اپنے گھروں کو لوٹتیں تو اندھیرے کے سبب انھیں کوئی نہ پہچان سکتا۔ پردہ کرنا اور اپنے جسم کو مکمل طور پر ڈھانپنا صحابہ کرامؓ کی عورتوں کی عادات میں سے تھا۔ صحابہ کرامؓ کا زمانہ تمام زمانوں سے بہتر اور اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ منزل رکھتا ہے۔ وہ اخلاق و آداب میں بلند، ایمان میں کامل اور اعمال میں زیادہ صالح تھے۔ اللہ تعالیٰ نے خواتین کو مخاطب کرکے فرمایا:

وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرُّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الاُوْلیٰ وَاَقَمْنَ الصَّلوٰۃَ وَاٰتَیْنَ الزَّکـــوٰۃَ وَاَطَعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْراً۔ (الاحزاب:۳۲-۳۳)

’’اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابقہ دور جاہلیت کی طرح سج دھج دکھاتی نہ پھرو۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک صاف کردے۔‘‘

اس آیت کریمہ سے یہ بات واضح طور پر ہمارے سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلم خواتین کو بلا ضرورت اورفضول گھر سے نکل کربازاروں اور عام مقامات پر گھومتے پھرنے کو پسند نہیں کرتا۔ اور باہر نکلنے کی جو صورت پسند فرماتا ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی انہیں نکلنا ہو جاہلیت کے دور کی طرح عیاں لباس اور اپنے اعضاء کی نمائش کرتی ہوئی نہ نکلیں۔

اور ان تمام ہدایات کے پیچھے جو مقصد کارفرما ہے وہ یہ ہے کہ اہل ایمان کے ذہن و فکر سے وہ پراگندہ خیالی نکال ڈالی جائے جو ایام جاہلیت میں تھیں اور ان کی زندگیوں کو پاک و صاف بنادیا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی معاشرہ اور سماج اس وقت صاف ستھرا سماج نہیں بن سکتا جب تک اس معاشرہ کی خواتین کے اندر شرم و حیا کا زیور نہ ہو جس کا لازمی مظہر پردہ ہے۔ اسی طرح اس معاشرہ میں برائیوں، بدکاریوں اور بے حیائی کے اعمال کو فروغ پانے سے نہیں روکا جاسکتا جب تک وہاں کی عورتوں کو با حیا اور با پردہ نہ بنادیا جائے۔ گویا پردہ صاف ستھرے، صحت مند اور مضبوط و مستحکم معاشرہ کی بنیاد ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
شبانہ اقلیم فلاحی، ککرالہ

تبصرہ کیجیے