3

شکر کی فضیلت

شکر کا مطلب ہے کہ نعمت کو نعمت سمجھیں اور دینے والے کا احسان مانیں اور اس کی حمدوثنا کریں۔ اسی کیفیت اور جذبے کا نام شکر ہے۔ انسان کے اندر یہ شعور یا یہ جذبہ جتنا زیادہ ہوتا ہے اتنا ہی آدمی خدا کی فرمانبرداری میں آگے ہوتا ہے اور جب یہ شعور دب جاتا ہے تو ناشکری کے جذبات ابھرنے لگتے ہیں جو بعض اوقات گناہ کی طرف لے جانے کا سبب بنتے ہیں۔

ہوا جو انسان کو بلا قیمت میسر ہے کتنی قیمتی ہے۔ اگر ہوا نہ ملے تو انسان کا دم گھٹ جاتا ہے اور زندگی تمام۔ پانی انسانی زندگی کی بقا کا ضامن ہے۔ ہمارے ملک میں صرف دو تین ماہ ہ خشکی کے آتے ہیں، مئی، جون، اور اس کے آس پاس کا وقت۔ ان مختصر دنوں میں ہی پورے ملک میں کہرام مچ جاتا ہے۔ اور جب بارش ہوجاتی ہے تو سکون ہوجاتا ہے۔ کون دیتا ہے یہ بارش اور کون خشک کرتا ہے اگر اللہ تعالیٰ پانی کو زمین کی گہری تہ میں پہنچادے تو کون ہے جو بہتا پانی ہمیں فراہم کرے۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو شمار کرنا چاہیں تو ساری زندگی میں بھی یہ کام پورا نہیں ہوسکتا لیکن افسوس! اتنی زبردست نعمتوں سے مالا مال ہونے کے بعد بھی ہمیں کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ کتنی بڑی نعمتیں ہیں؟ اور کس نے بخشی ہیں؟ ان چیزوں کے نعمت ہونے کا اندازہ تو ہمیں اس وقت ہوتا ہے جب ان میں سے کوئی نہ رہے یا خراب ہوجائے۔ خراب کو درست کرانے کے لیے کتنے علاج معالجے کیے جاتے ہیں، کتنا روپیہ خرچ کیاجاتا ہے، اور اس خرابی کو کتنی بڑی مصیبت سمجھا جاتا ہے۔ لہٰذا ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے مالکِ حقیقی کو پہچانیں اور اس کی عطا کردہ نعمتوں کو نعمت سمجھ کر اس کا شکر بجا لائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَاِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ (اگر تم شکر کروگے تو میں اضافہ کروں گا۔)

ایک اچھا مومن کہلانے کا مستحق وہی ہے جو اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو اس کا انعام جانتا ہے اور اپنے رب کا شکر بجالاتا ہے۔ اور دعا کرتا ہے کہ وہ ان سبھی نعمتوں کا استعمال اچھے مقصد کے لیے کرے۔ مومن کا یہ طرزِعمل کسی ایک چیز کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتا بلکہ ہر نعمت پاکر وہ یہی سوچتا ہے اور اسی طرح دعا کرتا ہے۔ مومن کا طرزِ عمل یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر قدم پراللہ کی نعمتوں کا ادراک کرتا ہے اور اس کے سامنے جذبہ شکر سے بچھ جاتا ہے۔ اللہ کے رسول نے مومنین کو اس بات کی تلقین کی ہے کہ وہ ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کریں اور اپنی زندگی کی ہر ضرورت اسی سے طلب کریں۔ ایک مرتبہ آپؐ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا کہ اگر تمہارے جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹ جائے تو اللہ ہی سے مانگو۔اور اسی طرح ہر نعمت پاکر اسی کا شکر ادا کرو۔ آپ نے نشان دہی فرما کر اللہ کی بعض نعمتوں کی طرف اشارہ کیا اور ان کے ملنے پر خاص طور پر شکر کرنے کی تلقین فرمائی۔

اسلام کی نعمت

انسان پر اس ذات پاک کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے راہِ ہدایت کھول کھول کر بیان فرمادی اور اہل ایمان پر اسلام کی نعمت دے کر سب سے بڑا احسان کیا ہے۔ کہ اگر یہ نہ ہوتا تو دنیا و آخرت تباہ ہوجاتے۔ چنانچہ مومن اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان جانتا ہے کہ اس نے اسے اسلام جیسی نعمت سے سرفراز کیا۔ اس احسان کی عظمت اور اہمیت کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوتا جب ہم نو مسلم افراد کے قبول اسلام کی داستان پڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس نعمت تک رسائی کے لیے انہیں کتنی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا اور کتنی قربانیاں دینی پڑیں۔ بلال حبشیؓ ، حضرت سمیہؓ، عمار بن یاسر اور ابوذرغفاریؓ کے واقعات ہمارے سامنے ہیں۔

لباس

لباس اللہ کی نعمت ہے۔ اگر یہ میسر نہ ہو تو انسان کی عزت و آبرو اور شرم و حیا داؤ پر لگ جاتی ہے۔ یہ موسم کی شدت سے بجا کر انسان کو سکون فراہم کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سردی کے سخت موسم میں کتنے ہی لوگ ہر سال زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ہم نے جگہ جگہ دیکھا ہوگا کہ سڑک کے کنارے کوئی شخص سخت سردی میں بیٹھا ٹھٹھر رہا ہے۔ اس وقت ہمیں اس پر کتنا ترس آتا ہے۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ ہمیں سوئیٹر، جرسی، جیکٹ اور شال میسر ہیں کہ سردی کی شدت سے اپنا بچاؤ کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کپڑے کو خدا کا انعام جانتا ہے اور اس کے ملنے پر خدا کا شکر ادا کرتا ہے کبھی مغرور نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ نعمت اللہ کی عطا کردہ ہے۔ اللہ کے رسول نے ہمیں لباس میسر آنے پر جو دعا سکھائی ہے وہ سراسر شکر ہے۔

الحمد للہ الذی کسانی ما اواری بہ عوراتی والجمال بہ فی حیوتی۔

’’سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے پہنایا جس سے میں اپنے اعضا جسمانی کو چھپاتا ہوں اور اس سے میں زینت حاصل کرتا ہوں۔‘‘

صحت

صحت و تندورستی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اس پر اس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ اس نعمت کی اہمیت کا اندازہ انسان کو اس وقت ہوتا ہے جب بیمار پڑجاتا ہے۔ یا خدانخواستہ معذور ہوجاتا ہے۔ ہم سرِ راہ چلتے کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہیں جس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر کٹ گئے ہوں۔ اس وقت ہمیں اس کی حالت پر کتنا ترس آتا ہے۔ مگر اس بات کا خیال کم ہی ہوتا ہے کہ یہ عظیم نعمتیں ہمیں حاصل ہیں اس پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے۔ ذرا ہم دیکھیں کہ آج ہماری دونوں آنکھیں سلامت ہیں۔ لیکن تصور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی آنکھوں کی روشنی چھین لی ہے۔ یقینا آپ دہل جائیں گے اور آپ کی زندگی کا خاتمہ ہوتا نظر آئے گا۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں کتنے ہی لوگ ہیں جو دیکھ نہیں سکتے، اور کتنے ہی لوگ ہیں جو چل نہیں سکتے اور ایسے بھی لوگ ہیں جو اپنے آپ کھا پی نہیں سکتے۔ پھر کیوں نہ ہم صحت کی اس نعمت پر اپنے رب کا شکر ادا کریں۔

مال ودولت

روپیہ پیسہ بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کا شکریہ ہے کہ ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرو۔ صدقہ، خیرات اور زکوٰۃ ادا کرو۔ قرض مانگنے والوں کو بلا سود قرض دو۔ملک اور ملک کے کاموں میں روپیہ خرچ کرو، احسان ہر گز مت جتاؤ کیونکہ تم نے اپنا فرض پورا کیا ہے اور قرض ادا کرنے میں کسی پر احسان نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے واما بنعمۃ ربک فحدث (اور اپنے رب کی نعمتوں کا بیان کرو) کہہ کر اس بات کی طرف واضح اشارہ کیا ہے کہ نعمت کا ذکر اور اس پر شکر لازم ہے۔ اسی طرح اللہ کی نعمت کے شکر کی اور شکل یہ ہے کہ اس کا اظہار کیا جائے اور اظہار کی شکل ضرورت مندوں پر خرچ اور اللہ کی راہ میں اسے صرف کرنا ہے۔

شکر کا فائدہ:

اگر ہم نے کسی پر احسان کیا ہے اور وہ ہمارا احسان مانتا ہے یعنی ہماری عزت کرتا ہے اور ہمیں خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے تو ہمارا دل کتنا خوش ہوتا ہے ہمارا دل چاہتا ہے کہ ہم اس کے ساتھ اور احسان کریں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور احسان مانیں جس نے ہمیں ان گنت نعمتوں سے نوازا تاکہ اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہوکر ہمیں زیادہ سے زیادہ نوازے۔ اور اس بات کا اعلان خود اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے: لان شکرتم لازیدنکم۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان قدم قدم پر اپنے رب کی نعمتوں اور اس کے احسانات سے گھرا ہے۔ اور ان نعمتوں اور احسانات میں کم سے کم تر بھی اس قدر اہم ہے کہ زندگی بھر میں اس کا شکر ادا کیا جائے تو ادا نہ ہو۔

اللہ کے رسول نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم اپنے رب کی نعمتوں کو سمجھنے اور ان پر شکر ادا کرنے والے بنیں۔ یہ ہمیں مزید کا حق دار بھی بنائے گا اور اللہ کی خوشنودی کے حصول کا ذریعہ بھی ہوگا۔ چنانچہ آپ نے امت کے لوگوں کو اس بات کی تلقین کی: انظروا الی من اسفل منکم، ان لوگوں کو دیکھو جو تم سے کم تر ہوں۔ جو لوگ محروم ہیں اور جو نعمتوں میں ہم سے کم تر ہیں ان کی طرف دیکھنے سے ہمیں شکر کی توفیق ہوگی۔

شیئر کیجیے
Default image
شادماں پروین، دہلی

تبصرہ کیجیے