5

حجاب کے نام!

’’گوشہ نو بہار‘‘ سدا بہار رہے۔ میں رضیہ بانو سدا بہار کمپلیکس پونے سے آپ سے مخاطب ہوں۔ جل گاؤں کے اجتماع میں تحریکی سفر کے تعلق سے ہمارا تعارف آپ کو یاد ہوگا۔ آپ نے میرا پورا تحریکی سفر حجاب کے لیے طلب کیا تھا۔ میں اس وقت صرف ایک پوری نظم قارئین حجاب کی نذر کررہی ہوں۔ اگر میرے اس جہاد بالقلم میرے لیے سرمایہ دینا اور ذخیرہ آخرت بننے کی گواہی قارئین کرام نے دی، تو ان شاء اللہ پورا سفر پیش خدمت ہوگا۔

جنوری کی طلب جون میں پوری کررہی ہوں۔ باعثِ تاخیر سنئے۔ انتہائی خراب طبیعت کی حالت میں مجھے دو تین پروگراموں میں حصہ لینا پڑا۔ ۶۰، یا ۶۱عیسوی میں سہ روزہ دعوت میں چھپی میری اس نظم کے دو بند یاد آگئے۔ الحمدللہ ان کو سندِ قبول حاصل ہوئی۔ اکثر قدردان صاحبان وہیں اجتماع اور بعد میں اس کی طلب پیش کی۔ اس صورت حال کے پیش نظر لازم ہوگا کہ پوری نظم پیش کردوں۔ سوئے اتفاق وہ سہ روزہ نہ مل سکا جس میں نظم تھی۔ چنانچہ میں نے یادداشت کے سہارے نظم پوری لکھی۔ مثال سورہ الحج کی آیت نمبر ۵ کے حوالے سے سمجھئے۔

وَتَرَیَ الاَرْضَ ہَامِدَۃً فَإِذَا اَنْزَلْنَا عَلَیْہَا الْمَائَ اہْتَذَّتْ وَرَبَتْ وَاَنْبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ بَہِیْجٍ۔

زمین مردہ یعنی حافظہ سے گم نظم پر جب اخلاص نیت کی پھوار بڑی تو اشعار ’’زوج بھیج‘‘ کی طرح ذہن سے صفحات پر آگئے۔ امید ہے اسے نذر حجاب کرکے وعدہ وفا ہوجائے گا۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس کے ملتے ہی رسید بذریعہ خط ارسال فرمائیں کیونکہ آپ کیا پتہ کس شمارے میں اسے جگہ دے سکیں۔ اور ڈاک کی بدنظمی کے پیش نظر میں پریشان ہوں۔ حجاب سے میرے تعلق کے بارے میں جنم جنم کا ساتھ محاورہ کہا جاسکتا ہے۔ آکولہ میں صفہ کے نام سے حجاب کی ایجنسی میرے پاس تھی اور اب یہاں بھی الحمدللہ پرچہ برابر پہنچ رہا ہے۔ اسے بڑی دلچسپی اور انہماک سے پورا پڑھتی ہوں۔ سلمیٰ نسرین، اسماء اور شعیب سلمہم اللہ تعالیٰ کو خصوصاً بزم حجاب میں دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی ہے۔ اصل میں ان کی دادی جان معظمہ و مکرمہ نے مجھے بیٹی بنایا ہے۔ بڑی مشفق اور مہربان بزرگ ہیں۔ آپ کے لیے دعا کرتی ہوں۔

رضیہ بانو، شورکرروڈ، پونہ

توجہ طلب امر

توجہ طلب امر یہ ہے کہ گزشتہ مراسلے کے ذریعہ ’’عورت بہ حیثیت مومنہ بیٹی، ماں، بہن، بیوی، بہو اور ساس وغیرہ‘‘ کے عنوان سے مستقل طور پر ایک مضمون شائع کرنے کا سلسلہ جاری کرنے کی طرف متوجہ کرچکا ہوں۔ اس ضمن میں آپ کے موقف کا علم نہیں ہوسکا تا حال انتظار ہے۔

دراصل آج معاشرے کی اصلاح لازمی ہے۔ اور اس میں اگر کوئی کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے تو وہ ہے عورت کی ذات۔ اس کے لیے حجاب کے صفحات بہت مناسب اور موافق ہیں۔ براہ کرم اس ضمن میں اپنی رائے سے مطلع کرنے کی زحمت فرمائیں۔

روشن صدیقی، گورکھپور

]محترم روشن صاحب آپ کا خط ہمارے لیے یقینا رہنما ہے۔ اس ضمن میں عرض ہے کہ ان شاء اللہ ہم بہت جلد ایک خصوصی شمارہ شائع کرنے والے ہیں اور اس کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اس کا موضوع ہوگا ’’مسلم خاتون اور اس کی شخصیت کا ارتقاء‘‘ اس کا مکمل خاکہ تیار ہوچکا ہے اور مزید کام جاری ہے۔ اس خصوصی شمارہ میں اس عنوان پر الگ الگ مستقل تحریریں ہوں گی۔ جنھیں پڑھ کر آپ یقینا خوش ہوں گے۔ مدیر[

اچھوتی کہانی

الحمدللہ حجاب اسلامی دن بہ دن اچھا ہوتا جارہا ہے۔ سرِ ورق سے تصویر ہٹاکر آپ نے مستحسن کام کیا ہے۔ مرحوم مائل خیر آبادی کی کہانی ’’ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ پسند آئی۔ امید ہے کہ ایسی اچھوتی کہانیاں شائع فرماتے رہیں گے۔ سوال و جواب کا سلسلہ بھی شروع فرمائیں تو بہتر ہوگا۔

شفیق الرحمن، لکھنؤ

حجاب ہر گھر اور ہر فرد کی ضرورت

ویسے توہم حجاب کے بہت پرانے قاری ہیں۔ اللہ کے فضل سے ہمارے یہاں مائل خیر آبادی صاحب کے وقت سے حجاب آتا ہے اور ابھی بھی حجاب اسلامی جارہی ہے اور اللہ کرے تا قیامت جاری رہے۔ حجاب اسلامی ہمیں بہت پسند ہے۔ جب حجاب بند ہوگیا تھا تو میں اللہ سے ہمیشہ دعا کرتی تھی کہ حجاب دوبارہ شروع ہوجائے اور جب سے حجاب اسلامی نئی صورت میں آرہا ہے وہ بہت دلچسپ ہے۔ ہر ماہ ایک نیا رنگ لے کر آتا ہے اور ہر ماہ ہمیں اس کا بے صبری سے انتظار رہتا ہے۔ حجاب بہت ہی خوبصورت اور مفید معلومات سے بھرا پرا گلدستہ ہے۔ حجاب ہر گھر کی ضرورت ہی نہیں بلکہ گھر کے ہر فرد کے لیے ضروری ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ حجاب اسلامی کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی دے اور قیامت تک اسے ایک چمکتے ستارے کی طرح چمکاتا رہے۔ حجاب میں تمام ہی مضمون اچھے ہوتے ہیں۔ خاص طور پر تذکیر، سائنسی معلومات اور گھریلو نسخے، مائدہ، لطیفے وغیرہ یہ سب مفید باتیں ہمیں گھر بیٹھے موصول ہوتی ہیں۔ مریم باجی کا انداز تحاطب ’’پیاری بہنو!‘‘ بہت ہی پسند آتا ہے۔ کیونکہ ہر مہینے وہ نئی نئی معلومات ہمںی دیتی رہتی ہیں۔ اس کی وجہ سے ہم آپ کے بہت شکر گذار ہیں۔ بہت سی عورتوں اور لڑکیوں کو میں حجاب اسلامی پڑھنے کے لیے دیتی ہوں زیادہ خریدار بن جائیں اور میری کوشش بھی یہی ہے کہ حجاب کے خریدار بہت زیادہ ہوں۔ ہر مہینے کم از کم ایک خریدار بڑھے۔ اور حجاب کے سبق آموز مضامین میں خواتین کے اجتماع اور GIOکے اجتماع میں بھی پڑھتی ہوں تاکہ ہماری تمام بہنوں تک یہ معلومات پہنچ جائیں اور وہ بھی فائدہ اٹھائیں جیسے تذکیر اور سیرت صحابہ، دعوت الی اللہ، قرآن اور ہماری عملی زندگی جیسے مضامین وغیرہ۔ جون کا رسالہ اجتماعی طور پر پسند آیا۔ ویسے تو پورے کا پورا رسالہ بہت مفید اور سبق آموز ہے۔ تذکیر،آنحضرت ﷺ بحیثیت شوہر، اسلام اور خواتین ، کہانی عظیم نابینا، لفافہ، خالی رومال ،بہت خوب! بہت پسند آئے۔ افسانے بھی بہت پسند آئے بحث و نظر بھی بہت پسند آئے۔ ایس امین الحسن نے خوشگوار رشتے مستحکم خاندان کے تحت بہت مفید معلومات دیں اور رشتے کیسے بنائیں رکھیں اس کا آئیڈیا بھی دیا۔ مسائل میں سید سعادت اللہ حسینی نے پرسنل لا بورڈ کا نکاح نامہ بھی اچھا پیش کیا۔ گھریلو نسخے بھی مفید ہیں جو بہت ضروری ہیں۔

نکہت فاطمہ، بلڈانہ

مضامین پسند آئے

حجابِ اسلامی آپ کی ادارت میں ماشاء اللہ خوب سے خوب تر ہوتا جارہا ہے۔ جون ۲۰۰۵ء کا شمارہ ایک ہی دن میں پورا پڑھ لیا۔ ایک خوشگوار احساس ہوا کہ انشاء اللہ مغربی تہذیب کی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ ایک مؤثر وسیلہ ثابت ہوسکتا ہے بشرطیکہ بڑے پیمانے پر اس کی اشاعت و تشہیر ہوسکے۔ ابن ہدایت اور ایم اجمل فاروقی صاحبان کے مضامین خاصے کی چیز ہیں۔ آپ کا اداریہ بھی ماشاء اللہ قابلِ داد ہے۔ سید سعادت حسینی کا مضمون غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔ افسانے اور کہانیاں معیاری، اصلاحی اور بامقصد ہیں۔ خطوط کے کالم میں قارئین کی بڑھتی دلچسپی امید افزاء ہے۔

اللہ کرے آپ کی کاوشیں جاری رہیں اور رسالہ اردو دنیا میں مقبول ہوجائے۔

ایم حنیف، بھساول

افسانے اور کہانیاں اچھے لگے

تازہ حجاب نظر نواز ہوا۔ بہت مسرت ہوئی اور اطمینان ہوا کہ میرا خط ردی کی ٹوکری میں نہیں گیا۔ حجاب آپ کی زیر نگرانی بڑا عمدہ اور معیاری نکل رہا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ حجاب کو دن دونی رات چوگنی ترقی عطا کرے۔ حجاب کے افسانے اور کہانیاں اچھے لگتے ہیں۔ مضامین بھی خوب ہوتے ہیں۔ میں مائدہ کالم کے علاوہ ایک مضمون بھی روانہ کررہی ہوں امید ہے کہ آپ اسے ضرور شامل کریں گے۔ یہ خط آپ کو کافی پہلے مل چکا ہوتا مگر میری غلطی کے سبب واپس آگیا۔ امید ہے کہ اب آپ کو ضرور مل جائے گا۔

نزہت شاہین، بنت بسم اللہ خان، بلڈانہ

]اب کی بار تو آپ کا خط مل گیا۔ مگر اس میں ’’مائدہ‘‘ کے لیے کچھ نہیں ہے۔ آپ کا مضمون ہم نے پڑھ کر ایک لفافے میں رکھ کر آپ کے پتہ پر ارسال کردیا ہے۔ وہ اس لیے کہ آپ نے ’’انتردیشی پر لکھ کر ہی بھیج دیا تھا اور وہ بھی بہت باریک کہ اس پر قلم چلانا دشوار تھا۔ آپ اس مضمون کو سادہ صفحات پر دوبارہ لکھ کر بھیجئے اور صفحہ کے صرف ایک طرف لکھئے۔ پھر انشاء اللہ ہم اسے شائع کریں گے ایسا کہ آپ دیکھ کر خوش ہوجائیں گی۔ اور ہاں، لکھتی رہیے لکھتی رہیے مگر یوں ہی نہیں بلکہ پڑھ کر۔ کتابیں پڑھ کر لکھا کیجیے۔ ایڈیٹر[

شعری کالم

میں حجاب اسلامی کا تقریباً ایک سال سے مطالعہ کررہی ہوں اس رسالہ کو دیکھ کر میرا دل خوش ہوجاتا ہے میرا مشورہ ہے کہ حجاب اسلامی میں شعری کالم بھی شروع کیا جائے جس میں معیاری اشعار شائع ہوں۔ اتنا عمدہ رسالہ نکالنے پر میں آپ کو مبارک باد دیتی ہوں اور میں اپنی ان باجیوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنھوں نے حجاب مجھے ہدیہ میں دیا اور انھوں نے ہی مجھے مشورہ دیا کہ حجاب ہمارے بھائی صاحب نکالتے ہیں لہٰذا تم حجاب کی قاری بن جاؤ اور میں نے حجاب کے لیے پیسہ جمع کردیا اور یہ اس وقت ہوا جب جامعۃ الفلاح میں انجمن طالبات قدیم کا جلسہ تھا اور ٹھیک اسی دن میری ملاقات عائشہ باجی سے ہوئی تھی جنھوں نے بک اسٹال لگا رکھا تھا۔ اتفاقاً میں وہاں پہنچ گئی اور سمیہ باجی سے ملی انھوں نے حجاب کا تعارف کرایا اور پیسہ جمع کروایا۔ اس کے بعد سے حجاب ہمارے گھر پابندی سے آنے لگا گھر کے سبھی لوگ پڑھتے ہیں۔ حجاب کا سالانہ زر تعاون بھیجنے میں تاخیر ہوگئی، جس کے لیے معذرت چاہتی ہوں۔ آپ نے مجھے آگاہ کردیا اس کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ۔

تمنا مبثور ، اعظم گڑھ

]عزیز بہن! ان اچھے جذبات کی ہم قدر کرتے ہیں اور آپ کے شکرگزار بھی ہیں کہ خط لکھنے کی زحمت اٹھائی۔ ورنہ اردو رسالوں کے قارئین کہاں خط لکھتے ہیں۔ حجاب میں اشعار اور غزلیں و نظمیں تو شائع ہوتی ہیں۔ شاید آپ اس میں اور زیادہ بہتری کی خواہش مند ہیں۔ انشاء اللہ ہم اسے اور بہتر بنائیں گے۔ آپ کا مضمون مل گیا ہے۔ انشاء اللہ آئندہ شمارے میں آئے گا۔ آپ برابر لکھتی رہیں۔ ایڈیٹر[

معلوماتی اور فکر انگیز تحریریں

ماہنامہ حجاب اسلامی بہت خوب ہے۔ اس میںجہاں ہمیں اچھے افسانے اور کہانیاں پڑھنے کو ملتی ہیں وہیں بڑے معیاری فکری مضامین بھی نظر آتے ہیں جو کہیں اور نظر نہیں آتے۔

اس وقت جون اور جولائی کے شمارے پیش نظر ہیں۔ سید سعادت اللہ حسینی کی تحریریں بڑی معلومات اور فکر انگیز ہوتی ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ان کے زورِ قلم میں اضافہ فرمائے۔ آپ ان کی تحریریں مستقل شائع کرتے رہیں تو ہم لوگوں کو بڑا فائدہ ہوگا۔

ایس امین الحسن صاحب کا مضمون بڑا عملی ہے۔ اگر اس طرح کے مضامین آپ شائع کرتے رہیں تو لازماً ہمارا خاندانی نظام مستحکم ہوگا اور جنت کا نمونہ بن جائے گا۔ میں اور میری ساتھی حجاب کی ترقی کے لیے دعا کرتی ہیں۔

زافرہ حنا، سوپور (کشمیر)

ایک بہن کا خط

عرض یہ ہے کہ بندی حجاب کی اس محفل میں پہلی بار شریک ہورہی ہے۔ حجاب کو دیکھ کر مجھے جو خوشی ہوتی ہے اسے بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔ حجاب ایک خوبصورت باغ کی مانند ہے جس کے پودوں کی خوبصورتی اور پھلوں پھولوں کی مہک اور رنگینی اپنی طرف کھینچتی ہے۔ میں حجاب کی ترقی کے لیے دعا کرتی ہوں۔ اور اپنے احساسات کو درج ذیل اشعار کی شکل میں قارئین کے لیے پیش کرتی ہوں:

جس کے پڑھنے کو میرا دل ہے بے تاب

ایسا دل کش ہے ، پیارا پیارا حجاب

صرف معمولی سی کتاب نہیں

ہے حجاب ایک بحرِ معلومات

ہر مہینے نئے نئے مضمون

پیش کرتا ہے دل سے پیارا حجاب

ہیں بہت سے رسالے بھارت میں

اے ثمینہ مگر ہے نیارا حجاب

شمینہ مرزا، آکولہ

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے