BOOST

’’ڈومیسٹک وائلنس بل‘‘ اس نئے قانون کی جھلکیاں جو خواتین اور بچوں کو گھریلو تشدد سے بچانے کے لیے بنایا گیا۔

خواتین اپنے گھر سے باہر تو غیر محفوظ ہیں ہی خود اپنے گھر کی چہار دیواری میں بھی غیر محفوظ ہیں۔ یہ عصر حاضر کااہم ترین مسئلہ ہے۔

ملکی و عالمی سطح پر ہونے والے واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ خواتین کے خلاف گھروں میں ہونے والے تشدد کے واقعات میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے جبکہ عورتوں کے ساتھ مارپیٹ، چھیڑ چھاڑ، قتل اغوا، عصمت دری ، جنسی استحصال، جہیز کے لیے جلا کر مارڈالنا جیسے واقعات آج عالمی سطح پر گفتگو کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ متعدد عالمی ادارے NGOsاور خواتین تنظیمیں کئی سالوں سے اس سمت میں کوشش کررہے تھے کہ گھریلو تشدد کے خاتمہ کے لیے مؤثر قانون بنائے جائیں تاکہ اس لعنت کو اور بنیادی حقوق کی پامالی کو روکا جاسکے۔ چنانچہ ہندوستان میں مرکزی کابینہ نے ’’دی پروٹیکشن آف وومین فروم ڈومیسٹک وائلنس بل‘‘ کو منظوری دی ہے۔ بنیادی طور پر اس کا مقصد عورت کو تمام طرح کے گھریلو تشدد سے بچانا اور قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

بنیادی طور پر اس بل کو کل سات حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بل کے ابتداء ہی میں یہ الفاظ درج ہیں: ’’یہ بل فیملی میں کسی بھی قسم کے ہونے والے تشدد سے متاثر خواتین کے حقوق کو محفوظ کرنے کے لیے اور اس سے متعلق معاملات کو ایک قانونی بنیاد فراہم کرنے کے لیے ہے۔‘‘

ان الفاظ سے اس بل کے اغراض و مقاصد کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد پیش لفظ میں اس بل کے بنائے جانے کی وجوہات کا ذکر ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان معاہدہ ’’کنونشن فار الیمی نیشن آف ڈسکریمی نیشن اگینسٹ ویمن‘‘ کا دستخطی ہے۔مزید اقوام متحدہ نہ بھی ایک معاہدہ ’’ایلیمنیشن آف آل فارمز آف وائیلنس اگینسٹ ویمن‘‘ (۱۹۹۳ء) اختیار کیا ہے۔ دستور ہند کی دفعہ ۱۴ بھی عورت کو قانونی سطح پر برابری اور مساویانہ حقوق فراہم کرتی ہے۔ دستور کی دفعہ ۲۱ عورت رائٹ ٹو لائف اور نجی آزادی کا حق دیتی ہے۔ چونکہ گھریلو تشددعورت کے استحصال کی ایک انتہائی بدترین شکل ہے اور یہ صورت حال سماج میں تیزی سے بڑھ رہی ہے جس سے خواتین کے بنیادی حقوق پامال ہورہے ہیں۔ دستور کی دفعہ ۱۵ عورت و بچوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے خاص قانون بنانے کی اجازت دیتی ہے اس لیے یہ ضروری ہے کہ عورت کو گھریلو تشدد سے بچانے کے لیے اور مشترکہ گھر میں تحفظ کے ساتھ رہنے کے لیے یہ بل پاس کیا جائے۔

اس کے پیش لفظ میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہندوستان کے سامنے عورتوں کی آزادی، تحفظ اور ترقی کا کون سا معیار ہے اور اس کا کیا وژن ہے۔

یہ بل سات حصوں پر مشتمل ہے:

حصہ اول: بل میں جس ٹیکنیکل زبان کا استعمال ہوا ہے اس کے حدود و قیود کو متعین کرنے کے لیے خاص خاص الفاظوں کے معانی و مفاہیم بیان کیے گئے ہیں۔

حصہ دوم: اس حصہ میں گھریلو تشدد کی تعریف بیان کی گئی ہے اس کے مطابق گھریلو تشدد ایسا عمل، کمی، کوتاہی یا برتاؤ ہے جو عورت کو نقصان پہنچانے یا زخمی کرنے یا صحت ، حفاظت، زندگی یا کسی جسمانی حصہ کو نقصان پہنچائے اس میں جسمانی، جنسی، جذباتی، معاشی اور ہر طرح کی زیادتیاں شامل ہیں اور جہیز کا بیجا مطالبہ بھی۔

حصہ سوم: اس میں گھریلو تشدد کا شکار عورت کو دئے گئے حقوق کا ذکر ہے جس میں ایسی عورتوں کو مشترکہ گھر میں رہنے کا حق ہوگا چاہے ان کا نام ملکیت نامہ میں شامل ہو یا نہ ہو۔ مذکورہ حق مجسٹریٹ کے حکم نامہ کے ذریعہ ہوگا۔

حصہ چہارم: اس حصہ میں تشدد کا شکار عورت کے لیے تحفظ حاصل کرنے کے طریقے کا ذکر کیا گیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ ایسی عورتیں یا ان کے سرپرست سیکشن ۹،۱۰،۱۱،۱۲ اور ۱۳ کے تحت تحفظ حاصل کرنے کے لیے عرضی دے سکتے ہیں۔ مجسٹریٹ سات دنوں کے اندر سنوائی کی تاریخ دے گا اور ۶۰ دنوں کے اندر اس معاملے کو نبٹایا جائے گا۔ گھریلو تشدد کے معاملے میں جاری کی گئی نوٹس فوجداری کے مقدمے (۱۹۹۴ کی شق ۲) ۱۹۷۳ کے طرز پر عمل میں لائی جائے گی۔ پھر اگر کورٹ معاملے سے متفق ہوگا تو تحفظ اور سکونت سے متعلق حکم جاری کرے گا جس میں:

٭ آدمی کو گھریلو تشدد سے روکا جائے گا۔

٭ عورت کے مقام روزگار اور اگر متاثر کوئی بچہ ہے تو اسکول سے اور ایسی جگہوں سے جہاں عورت باربار آتی جاتی ہے، آدمی کو روکا جاسکتا ہے۔

٭ متاثرہ کے گھر میں داخل ہونے سے آدمی کو روکا جاسکتا ہے۔

٭ کسی بھی شکل میں بات چیت کرنے سے بھی روکا جاسکتا ہے۔

اسی طرح کورٹ سکونت کے سلسلے میں حکم نامہ جاری کرسکتا ہے جس میں:

٭ مشترکہ گھر میں آدمی کو کسی قسم کی ہنگامہ آرائی سے روکا جاسکتا ہے۔

٭ اگر ضرورت پڑی تو آدمی کو گھر سے الگ بھیکیا جاسکتا ہے۔

٭ یا عدالت آدمی کو حکم دے سکتی ہے کہ گھریلو تشدد کا شکار عورت کے لیے دوسری جگہ سکونت کا انتظام کرے جس کاکرایہ آدمی کو ہی ادا کرنا ہوگا۔

٭ کورٹ معاوضہ کے لیے بھی حکم نامہ جاری کرسکتی ہے۔

اس حصہ میں کچھ قانون مستثنیات بھی ہیں۔

حصہ پنجم : اگر آدمی حصہ چہارم میں کورٹ یا مجسٹریٹ کے دئے حکم نامہ کی تعمیل نہیں کرتا ہے تو ایک سال کی قیدیا بیس ہزار روپئے جرمانہ یادونوں چیزیں عائد کی جاسکتی ہیں۔

حصہ ششم: اس حصہ میں تحفظاتی افسر کی نامزدگی اور ضروری اہلیت ان کے فرائض و ذمہ داریوں کا ذکر کرکے گھریلو تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کو یقینا بنایا گیا ہے۔

حصہ ہفتم: متفرقات میں بعض دیگر مسائل جیسے کورٹ کا دائرہ اختیار، قانونی طریقہ کار اور بل کے نفاذ میں حکومت کے فرائض وغیرہ کا ذکر ہے۔

بہر حال اس بل کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا امید ہے کہ خواتین کو گھریلو تشدد سے بچانے میں یہ بل ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا لیکن تاریخ و تجربات بتاتے ہیں کہ محض قانون سازی حصول انصاف کا متبادل نہیں ہوسکتی۔ مغربی ممالک میں جہاں اس طرح کے قوانین نافذ وہاں بھی خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات عام ہیں ہمارے ملک میں جہیز کے خلاف قانون تو موجود ہیں لیکن جہیز کے لیے قتل اور استحصال عام سی بات ہے۔ اس بات کے بھی واضح ثبوت ہیں کہ کبھی کبھی ان قوانین کا غلط استعمال بھی ہوتا ہے بلکہ اکثر ہوتا ہے۔ گھریلو تشدد میں جہاں آدمی کا رول قابل تنقید ہے وہیں عورت کا کردار بطور ظالم ساس، سوتیلی ماں اور گھمنڈی بہو کے بھی کافی اہم ہے۔ بلکہ اکثر و بیشتر اس طرح کے قوانین سے معاملات مزید پیچیدہ ہوجاتے ہیں اور طرفین کے درمیان ان کا ٹکراؤ شروع ہوجاتا ہے جو مسائل کو حل کرنے کے بجائے لاینحل کرنے کی طرف لے جانے کاذریعہ بنتا ہے۔

اس بل کی روح رواں وہ معاہدے ہیں جو UNOاور دوسری مغربی تنظیموں کے ذریعہ پاس ہوئے ہیں۔ ہندوستانی عورت کو مغربی تناظر میں دیکھنا اور مغربی اصولِ کار متعین کرنا بذات خود ایسا موضوع ہے جس پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔

خواتین کو گھریلو تشدد سے آزاد کرانا ہے تو ہندوستانی عوام کے ذہن و فکر، اور سوچ کو بدلنے کے ساتھ ساتھ موجودہ طرز معاشرت اور طرزِ زندگی کو بھی بدلنا لازمی ہے۔ جس پر کوئی توجہ نہ حکومت دینا چاہتی ہے اور نہ ہی وہ ادارے جو اس قانون کے پُر زور حامی تھے اس سمت میں کسی سنجیدہ کوشش کے لیے تیار ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ سماج اور معاشرہ میں مرد و عورت کے تعلقات کو صحیح سمت دینے کا اگر کوئی ذریعہ ہے تو وہ باہمی افہام و تفہیم یا انڈر اسٹینڈنگ ہے۔ اور یہ چیز کسی قانون کے ذریعہ پیدا نہیں کی جاسکتی۔ جب تک عوامی سطح پر انسانیت اورفلاح انسانیت سے معمور ایک صالح تعمیر پسند اور صحت مند سوچ پیدا نہیں ہوتی، اخلاق و عدل پر مبنی اقدار و روایات کا چلن عام نہیں ہوتا اور سماج مکمل طور پر حساس اور ذمہ دار نہیں ہوتا تب تک گھریلو تشدد کے واقعات کو کسی بھی صورت میں روکنا ناممکن ہے جس کا ثبوت خود ان ممالک کا معاشرہ ہے جن کی اتباع کرنے کے لیے ہماری حکومت اور ہمارا سماج مجبور نظر آتے ہیں۔ مغربی ممالک جہاں یہ قوانین پہلے سے موجود ہیں اگر ان کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ تمام قوانین کے باوجود وہاں کا گھریلو اور خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ اور معاشرہ مردو عورت کے درمیان عدم اعتمادی کا شکار ہے اور قوانین اس سلسلہ میں بے بس نظر آتے ہیں۔

اگرمعاشرہ کوایک مثالی اور آئیڈیل معاشرہ میں تبدیل کرنا ہے تو ان باتوں کو تو مرکزی اہمیت دینی ہی ہوگی مگر اس کے ساتھ ساتھ معاشرہ کو ان بنیادی اصولوں کا بھی پابند بنانا ہوگا جو مردوں اور عورتوں کو قانون کا راستہ سجھانے کے بجائے بقائے باہم اور الفت باہمی کا درس دیتے ہیں۔

اس بل میں بچوں پر تشدد بھی شامل ہے۔ جو یقینی طور پر غلط اور نازیبا ہے۔ مگر اس مسئلہ کو بھی محض قانون کے ہاتھ میں سونپ دینا درست نہ ہوگا بلکہ بہ حیثیت ذمہ داروالدین ان کے فطری حقوق کو بھی رعایت کے ساتھ قبول کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو صورت حال اس امریکن صورتحال کی مانند ہوجائے گی جہاں والدین کا بچوں پر کوئی کنٹرول نہیں اور نہ اس کا انہیں حق ہے۔ اور کیفیت یہ ہے کہ اگروالدین اپنے بچے یا بچی کو کسی غلط حرکت پر ڈانٹ دیں اور وہ پولیس کو فون کردے تو والدین کا جیل کی ہوا کھانا یقینی ہے۔

گھریلو تشدد کسی بھی قسم کا ہو اور کسی کے بھی ساتھ ہو غلط اور ناقابل برداشت ہے مگر اس کا حل قانون کے ذریعہ تلاش کرنا کسی نادانی سے کم نہیں۔ اس کے بجائے سماج و معاشرہ میں اعلیٰ اخلاق و کردار کا فروغ، ایک دوسرے کا عزت و احترام اور بالآخر یہ تصور ہے کہ ہر انسان کو اپنے انفرادی اور اجتماعی اعمال کے لیے ایک عظیم ہستی کے سامنے جواب دینا ہے اور اپنی ہر غلطی اور ہر زیادتی کا بدلہ پانا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ مجرم یاخطا کار یہاں سماج و معاشرے کی نظر سے بچ جائے یہاں تک کہ قانون کی گرفت سے بھی بچ نکلے مگر اس زندگی کے بعد کی زندگی میں قادر مطلق کی پکڑ سے نہیں بچ سکتا۔

یہی بنیاد ہے جو مسائل کا حل بھی ہوسکتی ہے اور ان کے خاتمہ کا ذریعہ بھی۔ دوسرے تمام ذرائع زندگی کو آسان بنانے کے بجائے مشکل بنانے کا ذریعہ ہی ثابت ہوں گے اور یہ بات حالات و تجربات سے ثابت ہوچکی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
عمار انس

تبصرہ کیجیے