5

عمرانہ کیس سے اٹھے سوالات

گذشتہ دنوں مظفر نگر کی ایک عورت عمرانہ کا مسئلہ میڈیا پر چھایا رہا اور تقریباً ملک کے سبھی اخبارات اور ٹی وی چینلوں نے اسے خوب چٹخارے لے لے کر بیان کیا۔ ایسا لگتا تھا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ عمرانہ ہی کا مسئلہ ہے۔ اور پھر دیکھتے دیکھتے ملک کے میڈیا نے کئی اور عمراناؤں کا پتہ لگالیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ مسلم سماج میں عمراناؤں کی بھیڑ ہے۔ علماء نے فتوے اور بیانات دینے شروع کردئے۔ ٹی وی چینلوں میں اس مسئلہ پر ڈسکشنز شروع ہوگئے اور نام نہاد مسلم دانشوران، جن میں شبانہ اعظمی اور اس قبیل کے بہت سے مرد وخواتین شامل ہیں، نے مسلم سماج کی پسماندگی پر رونا شروع کردیا۔ کچھ لوگوں نے اسلامی شریعت کی ’’بزعم خود ناانصافی‘‘ پر بھی صدائے احتجاج بلند کی۔ علماء اور شریعت اسلامی کو ہدف تنقید بنایا۔ اور جی کھول کر اپنی دانشوری کی داد قبول کی۔

مسلم خواتین اور شریعت اسلامی سے متعلق جب بھی کوئی مسئلہ میڈیا کے ہاتھ لگ جاتا ہے تو دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ بیان باز مولانا حضرات، اور روشن خیال مفکرین و دانشوران اچانک اس طرح ابھرنے لگتے ہیں جیسے موسم کی پہلی بارش کے بعد مینڈک سطح زمین پر آجاتے ہیں۔ اس سے زیادہ تیزی اور زور کے ساتھ خواتین کی وہ تحریکات سامنے آتی ہیں جو مسلم خواتین کو ’’اسلام اور مسلم سماج کی تنگ نظری‘‘ سے نکالنے کے لیے زندگی لگادینے کا عہد کرتی ہیں۔ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ عمرانہ کے مسئلہ کو لے کر کمیونسٹوں کی تحریک سے لے کر بھگوا تحریکوں تک نے عمرانہ کو انصاف دلانے کی لیے تحریک شروع کردی۔ ادھر دوسری طرف سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے یوپی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ علماء کے فتوے ہی کو نافذ کرے گی۔ اور تیسری جانب کچھ لوگوں نے یہ کہنا اور لکھنا شروع کردیا کہ اس طرح کے مسائل کا حل اور خاتمہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ملک میں تمام شہریوں کے لیے یکساں قانون ہو جس کا واضح مطلب مسلم پرسنل لاء کا خاتمہ اور یکساں سول کوڈ کا نفاذ ہے۔ یہی بات بدنام زمانہ مصنف اور توہین رسالت کے مجرم سلمان رشدی نے بھی کہی اور دنیا بھر کے اخبارات نے اس کا پرچار کیا۔

بہ ہر حال یہ جو کچھ ہوا وہ مسلم سماج کے لیے نہایت سبق آموز اور قابل عبرت ہے اور اس سے کئی اہم اور بڑے سوالات ابھر کر مسلم سماج کے سامنے آتے ہیں اور ضروری ہے کہ ہمارے علماء دانشوران، اسلامی تحریکات اور وہ لوگ جو واقعی ملت کی اصلاح حال کے لیے سنجیدہ ہیں ان پر غور کرکے ازالہ کی تدابیر نکالیں۔

سب سے پہلی چیز جو غوروفکر کے بعد ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلم سماج میں ایک بڑا یاقابل ذکر طبقہ ایسا موجود ہے جس کی زندگی اور عام غیر مسلموں کی زندگی میں عملی طور پر کوئی فرق نہیں ہے۔ رسوم و رواج اور رہن سہن ہی نہیں بلکہ طرز فکر و عمل میں بھی کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ حلال و حرام کی تمیز اور معاشرتی زندگی میں پائی جانے والی برائیوں میں دونوں یکساں ہیں۔ غیر مسلموں میں تو خدا اور دین کا تصور ہے نہیں، ان کے یہاں بھی خدا اور رسول کی تعلیمات سے یکسر ناواقفیت ہے۔ چنانچہ اس ضرورت کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ مسلم سماج کے ان ناخواندہ، جاہل اور دین سے یکسر نابلد خاندانوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے آگاہ کرنے کی مہم چلائی جائے اور ا ن کی معاشرتی زندگی کو دین کے سائے میں لانے کی کوشش ہو اور اس کے لیے اسلامی تحریکات و تنظیمیں اور ہمارے علماء، اساتذہ اور مساجد کے خطیب حضرات اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مسلم معاشرے کی اصلاح اور دینی بیداری کے لیے کام کریں۔

دوسری بات ہمارے علماء کرام کا غیر محتاط رویہ ہے جو میڈیا اور اسلام دشمن قوتوں کی سازش کو سمجھنے میں اکثر ناکام رہا ہے۔ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ اخبارات میں علماء اور مذہبی قائدین کے نرم گرم بیانات آنے شروع ہوئے اور پھر میڈیا نے انہیں اپنے غلط مقاصد کے حصول کے لیے پوری طرح استعمال کیا اور شریعت اسلامی کو یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ کوئی مستحکم اور مضبوط شئے نہیں ہے بلکہ خود علماء کے درمیان شدید قسم کا اختلاف ہے۔ اور اس مسئلہ میں تو میڈیا نے پورا زور اس بات پر صرف کردیا کہ یہ کیسی شریعت ہے جس میں ایک ہی چیز کو ایک طبقہ حرام اور دوسرا حلال قرار دیتا ہے۔ علماء اور مفتیان کے اس رویہ سے میڈیا نے یہ تاثر دیا کہ اسلام مظلوم عمرانہ کے ساتھ ہمدردی نہیں بلکہ اس کے خلاف ظالمانہ رویہ رکھتا ہے۔ جہاں اس میں ان کے فقہی اختلاف کا دخل ہے وہیں حالات و صورتحال سے ان کی ناواقفیت بھی شامل ہے۔

ایک خاص بات جس کا بڑی شدت سے احساس ہوتا ہے یہ ہے کہ مسلمان عورت عمرانہ کے مسئلہ کو لے کر کوئی بھی مسلم عورتوں کی تنظیم آگے نہ آسکی اور آتی بھی کہاں سے کیوںکہ اس کا کوئی معلوم وجود تو ہمارے سماج میں ہے ہی نہیں۔ چنانچہ اخبارات میں چھپی تصویروں میں ہم نے دیکھا کہ کمیونسٹوں، اور بھگوا دھاری عورتوں کے ساتھ ساتھ مسلم خواتین بھی شامل تھیں اگرچہ یہ وہ خواتین تھیں جنھیں محض چند روپیوں کے عوض بہ طور مزدور لے جایا گیا تھا۔ مگر میڈیا نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اس مسئلہ پر مسلم خواتین بھی ان تنظیموں کے ساتھ ہیں۔

ہندوستانی مسلمانوں کی یہ بدقسمتی ہے کہ ان کے یہاں مسلم خواتین کی کوئی ایسی فعال جمعیت نہیں جو ان کی شیرازہ بندی کرکے ان کے ذہنی، فکری، اور سماجی ارتقاء کے ساتھ ساتھ انہیں سماج و معاشرہ کی تعمیر و تشکیل کی مہم میں لگا سکے۔ اور حقیقت میں جب تک اس طرح کی کوئی فعال اور مضبوط جمعیت قائم نہیں ہوتی مسلم معاشرہ کی اصلاح کا کام ایک خیال اور ایک خواب ہی رہے گا اور اس کی تعبیر ممکن نہ ہوسکے گی۔

اور آخری بات یہ ہے کہ اس طرح کے مسائل کا اٹھایا جانا اسلام اور مسلم سماج کو بدنام کرنے کی سازشوں کے تانے بانے ہیں جو بڑی ہوشیاری اور چابک دستی کے ساتھ بنے جاتے ہیں اور عام لوگ ان واقعات کو محض واقعات سمجھ کر نظر انداز کردینا چاہتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلم سماج اپنے ذہن و فکر کو ہر وقت حاضر رکھ کر حوادث و واقعات کو دیکھیں اور ان کی جڑ میں کام کررہی ذہنیت کا پتہ لگانے کے بعد انہیں ناکام بنانے کی جدوجہد کرے کہ وہ پھر سر نہ اٹھا سکیں۔ لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم مومنانہ فراست کے ساتھ حالات کا جائزہ لینے کے قابل ہوں اور یہ قابلیت اس وقت تک ہم اپنے اندر پیدا نہیں کرسکتے جب تک اپنی زندگی کو اسلام کے سر رشتہ سے نہیں جوڑتے کیونکہ وہی حکمت و معرفت کا خزانہ ہے۔

یہاں ہم اپنے قارئین اور امت کے باشعور طبقہ سے یہ کہنا چاہیں گے کہ تنقید کرنا اور مشورے دینا بہت آسان عمل ہے اور ہماری کمزوری بھی یہی ہے کہ عمل اور کوششوں کو چھوڑ کر اسی کو ہم نے اپنا شیورہ بنالیا ہے۔ چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ امت کا ہر طبقہ اپنی انفرادی ذمہ داری کو محسوس کرے اور اپنے انفرادی رول کا بھی ادراک کرے۔

ہماری خواتین و طالبات کو چاہیے کہ وہ امت کی اس صورت حال کی اصلاح کے لیے آگے آئیں اور دبے کچلے، معاشی و تعلیمی طور پر پسماندہ مسلم خاندانوں میں اسلامی بیداری کے کام کو بطور مشن اور بہ طور چیلنج قبول کریں۔ اور اپنی دن بھر کی مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر اس کے لیے فارغ کریں۔ اپنے پڑوس اور اپنے محلے ہی سے شروعات کی جاسکتی ہے۔ مگر بیٹھے رہنا ہمارے مسائل اور پسماندگی میں اضافہ کا سبب تو ہوسکتا ہے لیکن حالات کی تبدیلی کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے