4

بچوں کی تربیت کے نفسیاتی پہلو(۲)

نشو ونما اور شخصیت سازی کی اس عمر میں، گھر کا خوشگوار ماحول، ماں باپ کی شفقت اور گرمجوشی بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بدلے میں بچے بھی ماں باپ سے نری محبت کرتے ہیں، ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، ان کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے ہیں اور والدین سے بے جھجک اپنے مسائل بیان کرتے ہیں۔ ورنہ ایک گونہ دوریاں حائل ہوجاتی ہیں۔

اس کی شروعات بچے کو اپنے ہاتھ سے اٹھا کر پالنا ہوتا ہے۔ بوسہ دینا اظہارِ پیار ہے۔ پیارے نبیؐ بچوں کو بوسہ دیتے تھے، ایک صحابی نے کہا کہ یا رسول اللہ میں تو اپنے بچوں کو بوسہ نہیں دیتا تو آپؐ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں دل نہ دے تو میں کیا کرسکتا ہوں۔ تم اللہ تعالیٰ سے ایک دل مانگو۔

بچوں کی تربیت کے لیے خود ذمہ داری قبول کرنی ہوگی ورنہ بیوی کے بجائے ٹی وی ہمارے بچوں کی تربیت کرے گا۔ مالدار گھرانوں میں نوکرانیاں اسی غرض سے رکھی جاتی ہیں۔ یہ ایک انتہائی غلط کام ہے جو مائیں کرتی ہیں۔ وجہ یہ بتاتی ہیں کہ بچے کو نوکرانیوں کے حوالے کردینے سے کچن کا کام، گھر کی صفائی اور کپڑوں کی دھلائی وغیرہ یکسوئی سے کرپاتی ہیں۔ ایسی ماؤں کو معلوم ہونا چاہیے کہ نوکرانیاں بے سلیقہ پن، بدخلقی، بھونڈی زبان اور الھڑپن کے علاوہ اور کس چیز کی تعلیم دیں گی۔ وہ بچوں کی پاکی صفائی بھی ٹھیک سے نہیں کرتیں، مارپیٹ بھی کردیتی ہیں اور بری عادتیں بھی سکھا دیتی ہیں۔ اس کے بجائے کھانا پکانے، گھر صاف کرنے اور کپڑے دھونے کے لیے چاہیں تو نوکرانیاں رکھ لیجیے مگر ماں اور باپ دونوں مل کر بچے کی پرورش کریں،کام والیوں کے حوالے ہرگز نہ کریں۔ اس ضمن میں مندرجہ ذیل امور پر توجہ دیں:

(۱) ان کے کام کریں

بچوں کی ضروریات کا خیال رکھیں، وقت پر کھانا، وقت پرپانی، وقت پر دودھ اور وقت پر دوا کھلائیں۔ اپنے ہاتھ سے نہلائیں، بچے ۸ یا ۱۰ سال کے ہوجائیں تب بھی کبھی کبھی زیادہ صفائی کے لیے اپنے ہاتھ سے نہلا دیں۔ اسکول کی ضروریات انہیں ساتھ لے جاکر خود خرید کر لائیں۔ یونیفارم اور جوتے پہننے میں تعاون کریں۔ ان سب سے ایک جذباتی لگاؤ پیدا ہوتا ہے، یہ احسانات ظاہری ہوتے ہیں اور بچے پر اثر کرتے ہیں۔ حالاںکہ ماں نے پیٹ میں رکھ کر دکھ سہہ کر جنم دیا تھا، باپ بڑی مشقت کے ساتھ کما کر لاتا ہے لیکن یہ کاوشیں غیرمحسوس ہوتی ہیں۔اس طرح کے ظاہری کام کرنے سے بچوں کے ذہن میں جذبات کے کھاتے میں ماں باپ کے لیے عظمت و عزت جمع ہوتے رہتے ہیں جسے نفسیات کی زبان میں Emotional Basic Depositکہا جاتا ہے۔ جیسے بینک میں رقم جمع کرتے ہیں اور چیک سے رقم واپس لیتے ہیں۔ اس طرح ان کے ساتھ وقت بتا کر، ان کی ضروریات پوری کرکے اور ان کے کام اپنے ہاتھ سے کرکے قدردانی اور احترام ان کے معصوم احساسات کے بینک میں جمع ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی ڈانٹ اور سختی ہوتی ہے تو یہ چیک سے رقم واپس لینے کے برابر ہے۔ پھر بھی ڈپازٹ اتنا جمع رہے کہ کھاتا خالی نہ ہونے پائے۔

(۲) لوری یا کہانی سنائیں

بچہ جب جھولے میں ہوتا ہے تو ماں باپ اس سے جو باتیں کرتے ہیں وہ بھی اس کے ذہن میں نقش ہوتے ہیں۔ جدید سائنس تو یہ کہتی ہے کہ حمل کے دوران بچہ آوازیں سنتا ہے، نیز روشنی پیٹ پر پڑتی ہے تو بچے کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ اس لیے ماؤں کو اچھی اچھی لوریاں یاد کرکے بچوں کو ترنم سے سنانا چاہیے۔ ترنم اور غناء کا ایک نفسیاتی اثر بھی پڑتا ہے۔ سمجھنے کی عمر کو پہنچے تو انہیں سبق آموز کہانیاں سنانا چاہیے۔ ان سب سے بچوں کو دنیا کی وسعت، حالات کی پیچیدگی، دنیا میں انسانوں کے مختلف کردار اور اچھے اوصاف سے آگہی ہوتی ہے۔ کہانیوں سے قوت متخلیہ (Imagination) بھی پختہ ہوتی ہے۔ والدین کی اس میں آزمائش ہے۔ اس لیے کہ ہر ایک کو اتنی معلومات نہیں ہوتیں۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہر رات آدھا گھنٹہ بچوں کے ساتھ بتائیں، کہانی کی کوئی منتخب کتاب لیں اور پھر کہانیاں سنائیں۔

(۳) کھیلیں

کھیل نہ صرف ورزش کا عمل ہے بلکہ Socialization (سماج میں کھپنے) کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ کھیل میں دوستی ہوتی ہے اور ٹیم اسپرٹ پیدا ہوتی ہے۔ کھیل سے ذہانت، نشانہ بازی وغیرہ جیسی صلاحیتیں بھی نشو ونما پاتی ہیں۔کھیل کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بچے جب مل کر کھیلتے ہیں تو آوٹ ہوا کہ نہیں ہوا اس پر اختلافات بھی ابھرتے ہیں۔ اختلافات کے درمیان اتفاق کی راہ ڈھونڈنی ہوتی ہے۔ یہ سب وہ کھیل کھیل میں سیکھ لیتے ہیں۔ اس لیے کبھی کبھار بچوں کے ساتھ کھیلنا بھی ان کی تربیت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

نبی رحمتؐ ایک مرتبہ حضرت علیؓ کے گھر تھے۔ حضرت علی گھر میں داخل ہوتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ دونوں پیارے نواسے حسنؓ و حسینؓ سوار بن کر آپؐ کی مبارک پیٹھ پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ سوار ی بن کر چار پیروں سے انہیں لیے پھر رہے ہیں۔ اللہ اللہ! یقینا آپؐ زندگی کے ہر معاملے میں ہمارے لیے اسوہ ہیں۔

(۴)مسابقت کرائیں

موجودہ دنیا حد درجہ مسابقتی اور مقابلہ ہے۔ اس میں وہی کامیاب ہوتے ہیں جن میں مسابقت کی صلاحیت ہوتی ہے ورنہ وہ زندگی کے کھیل میں آوٹ ہوجاتے ہیں۔ مقابلے اور مسابقت صلاحیتوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔ مسابقت کے لیے کبھی کوئی نشست بھی ہوسکتی ہے، کبھی کوئی ہدف بھی۔ مثلاً کسی دن، کسی نشست میں قرأت ،نغمہ گوئی، کہانی، لطیفے وغیرہ سنانے پر شاباشی اور انعامات دئے جاسکتے ہیں۔ کبھی مسابقت اس طرح سے کہ اس ہفتہ جو زیادہ باجماعت نماز ادا کرے گا، یا اس رمضان جو پورے ۳۰ روزے رکھے گا، یا جو پارہ عم پورا حفظ کرے گا اس کے لیے ایک ڈریس اضافی ملے گا وغیرہ۔ انشاء اللہ اس طرح بچوں کے اندر جذبہ مسابقت بھی بڑھے گا اور دینداری بھی نشوونما پائے گی۔

(۵)اسباق پڑھائیں

کسی زمانے میں دو کتاب اور دو نوٹ بک لے کر بچے اسکول جایا کرتے تھے۔ اب دنیا بدل گئی ہے۔ اسباق کی بہتات ہے۔ ٹسٹوں کی کثرت ہے۔ایسے میں بچوں کو ٹیوشن لگادینا ان کے ذہن کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔ مائیں بالخصوص ساتھ بیٹھ کر اگر پڑھائیں تو بات جلد ذہین نشین ہوتی ہے۔ وجہ صاف ہے کہ بچہ ماں کی زبان جلد سمجھتا ہے اور ماں بچے کی نفسیات بہتر سمجھتی ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اساتذہ کے علاوہ تعلیم میں ماں باپ کا کردار بھی اہم ہے بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ ماں باپ ہی پہلے استاد ہوتے ہیں۔

کسی باغیچہ میں دو افراد کام کررہے تھے۔ ایک فرد ایک قطار میں گڑھے کھودتا جارہا ہے۔ پیچھے ایک دوسرا فرد کھودی ہوئی مٹی سے گڑھا بند کررہا ہے۔ یہ دیکھ کر ایک شخص نے تعجب سے پوچھا کہ ارے صاحبو! یہ کیا فضول کام کررہے ہو۔ تو انھوں نے بتایا کہ اصل میں درخت لگانے کا کام جاری ہے۔ تین افراد اس کام پر لگائے گئے۔ پہلے کا کام کھودنا، دوسرے کا کام بیج ڈالنا اور تیسرے کا کام گڑھا بند کرنا تھا۔ دوسرا شخص نہیں آیا، اس لیے ہم دونوں اپنا اپنا کام کررہے ہیں۔

بالکل اسی طرح تعلیم میں بچہ، ماں باپ اور اساتذہ پہلے، دوسرے اور تیسرے شخص کا رول ادا کررہے ہیں۔ بچہ اپنا ذہن کھولتا ہے ماں باپ علم و اخلاق کا بیچ ڈالتے ہیں۔ اساتذہ اسے پانی دے کر نگہداشت کرتے ہیں۔ ماں باپ تعلیم کے لیے وقت نہ دے سکیں تو حصولِ علم کی زنجیر کی ایک کڑی ٹوٹ جائے گی۔

(۶) دعائیں پڑھائیں

بندہ مومنین کے اوصاف کے بارے میں آل عمران کے آخری رکوع میں بتایا گیا ہے کہ ’’(عقلمند وہ لوگ ہوتے ہیں) جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں۔‘‘ اس کی عملی تشریح پیارے نبیؐ کی زندگی ہے۔ صبح بستر سے اٹھنے سے لے کر رات بستر میں واپس لوٹنے تک تقریباً تیس چالیس دعاؤں کے اوقات اور مرحلے آتے ہیں۔ ماں باپ بچوں کو جب اٹھائیں، اس وقت دعا پڑھائیں، حاجت کے لیے جاتے آتے ہوئے دعا پڑھائیں، کپڑے پہنتے ہوئے، ہوم ورک کراتے ہوئے، گھر سے نکلتے ہوئے، اسکول وین پر چڑھاتے ہوئے … غرض مختلف مرحلوں کی دعاؤں کو سکھائیں۔

اس طرح ان کی نفسیاتی نشوونما اور جسمانی ضرورتوں کاخیال رکھنا ہے Caring(تربیت و نگرانی) ہے تو مسابقت کرانا، اسباق پڑھانا، اور دعائیں سکھانا Sharing(شرکت) ہے جس میں والدین نہ صرف وقت بلکہ جذبات، احساسات اور علم میں شرکت کرتے ہیں۔

(۷) نمونہ بنیں

انسانی اعمال کا %۹۰ فیصد نقل شدہ ہوتا ہے۔ بولنا، ہنسنا، چلنا، کھانا، پینا، بات کرنا… وغیرہ۔ سب افعال و حرکات بچے اپنے والدین سے سیکھتے ہیں۔ انسان برتاؤ کے علاوہ اقدار بھی والدین سے سیکھتا ہے۔ سچ بولنااور جھوٹ بولانا، دنیا پرستی اور آخرت پسندی، ڈینگیں مارنا اور قول سدید وغیرہ بھی بچے اپنے والدین ہی سے اخذ کرتے ہیں۔ اس لیے تربیت کے مرحلے میں والدین کا کردار نہایت ہی اہم ہوتا ہے۔ ہم نئی نسل کی دین سے دوری، اخلاق باختگی کا رونا تو ضرور روتے ہیں لیکن اپنے گریبانوں میں منھ ڈال کر دیکھنے کا موقع کم ہی ملتا ہے۔

حضرت زید بن حارثہؓ کے خاندان پر کوئی افتاد پڑی اور وہ غلام بناکر مکہ لاکر بیچ دئے گئے۔ خدیجہؓ نے خریدا اور حضورؐ نے ان سے لے لیا۔ حضورؐ کی خدمت میں رہے۔ آپؐ کے اخلاق حسنہ اور عادات عالیہ سے متاثر تھے۔ زیدؓ کے والدین اپنے لخت جگر کو تلاش کرتے ہوئے مکہ پہنچ گئے اور حضورؐ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ بچے کو دیکھ کر بغل گیر ہوکر باپ اور چچا کی مسرتوں کی کوئی انتہا نہ رہی۔ آخر میں ساتھ چلنے کے لیے کہا تو حضرت زیدؓ نے والدین پر حضورؐ کو ترجیح دی۔ آپؐ نے بھی فیصلہ حضرت زیدؓ پر چھوڑ دیا۔ آخر کار باپ اورچچا لوٹ گئے۔ پیارے نبیؐ کی ذات اقدس ایسی تھی کہ متبنی (لے پالک لڑکا) کی نگاہ میں قابل تقلید بن گئی۔ یہ آپ ؐ کی نبی بننے سے پہلے کا واقعہ ہے۔

بچے شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے لیے ایک رول ماڈل منتخب کرلیتے ہیں۔ کہیں سلمان خان اور عامر خان تو کہیں سچن اور عرفان پٹھان، کسی کی نگاہ میں لتا اور آشا تو کسی کے پیش نظر بل گیٹس اور نارائن مورتی!!!

ماں باپ کی شفیق ہستیاں اتنی جاذب و متاثر کن ہوں کے بچے شعوری طور پر بھی والدین کو ہی اپنا اسوہ یا رول ماڈل بنائیں۔ یہ اس وقت ہوگا جب ہم دیندار، بااخلاق، عمیق علم، سادہ مزاج، حق گو، انسان دوست اور متحرک داعی کی حیثیت سے ان کے سامنے آئیں۔

زندگی کے آداب اور سلیقہ مندی بھی بچے ماں باپ سے ہی سیکھتے ہیں۔ کھانے سے قبل ہاتھ صاف کرنا، کھانے میں نکتہ چینی نہ کرنا، پانی رک رک کر پینا، کھانے کے بعد ہاتھ دھوکر کلی کرنا اور تولیہ سے (نہ کہ بنیائن یا لنگی سے) ہاتھ صاف کرنا، ایک ایسا روز کا عمل ہوگا جس میں بچوں کو کھانے کے آداب سکھانے کی ضرورت ہی نہیں۔ بلکہ والدین کو دیکھ کر خود بخود بچے سیکھ جائیں گے۔ اسی طرح اٹھنے بیٹھنے، مبارکباد دینے ، کمرے میں داخل ہونے، ملنے جلنے، بات چیت کرنے، طنز و مزاح کرنے، مریض کی عیادت کرنے اور موت پر تعزیت وغیرہ کے آداب کے لیے والدین ہی نمونہ بنیں گے۔

تربیت کے ان چار امور کے ساتھ سب سے اہم دعا ہے۔ بچوں کے لیے صبح و شام دعا کی جانی چاہیے۔ عموماً بچے جب بیمار ہوتے ہیں تب بھی ہم ان کے لیے دعا کرنے سے زیادہ کسی ’’حضرت‘‘ کے پاس دعا کروالیتے ہیں۔ حالانکہ بچوں کی ذہانت، حصول علم، اساتذہ کے دل میں ان کے لیے محبت، سلامتی و عافیت، اخذ و استفادہ کی صلاحیت، تابناک مستقبل، خوشحالی، اخلاقی کی پختگی، ہدایت و توفیق، صالحیت و صلاحیت جیسے تمام امور کے لیے ہر دن دعا ضرور کرتے رہنا چاہیے۔ اس لیے کہ توفیق ہی کو تربیت پر فوقیت ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ایس امین الحسن

تبصرہ کیجیے