2

لغزش

وہ دبلی پتلی، زرد رو اور نازک اندام خاتون تھی۔ اس کا غمگین اور اداس چہرہ ہر قسم کی زینت و آرائش سے پاک تھا۔ اس کے باوجود نہایت دلکش نظر آرہی تھی۔ اس کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں کی سیاہ پتلیوں کو قرار نہیں تھا۔ جب سے وہ میرے کمرے میں آئی تھی، کسی چیز پر اس کی نگاہ نہیں جمی تھی۔

میرے لیے ممکن نہ تھا کہ میں ایک نظر دیکھ کر اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کرلیتا۔ اگر وہ نہایت متوازن لہجے اور شائستہ انداز میں بات نہ کرتی، تو میں آسانی سے کہہ سکتا تھا کہ وہ پاگل ہے۔ اس کی ظاہری کیفیت اور شکل و صورت سے صحیح اندازہ لگانا مشکل تھا۔

وہ میرے سامنے ہلکے نیلے لباس میں اس طرح کھڑی تھی کہ اس کا سر کسی قدر اٹھا ہوا تھا۔ اچانک اس نے بڑے گمبھیر لہجے میں آہستہ سے کہا:

’’صبح بخیر ڈاکٹر!‘‘

’’صبح بخیر محترمہ! تشریف رکھیے، کیا تکلیف ہے آپ کو؟‘‘ میں نے ایک ہی سانس میں تینوں باتیں کہہ ڈالیں۔

اس نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ اپنا نازک ہاتھ اٹھا کر اپنے بائیں رخسار پر کان کی لو کے نیچے انگلیاں پھیرنے لگی گویا وہ تکلیف کی اصل جگہ تلاش کررہی تھی۔ پھر اس نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا:

’’یہاں، ڈاکٹر، اس جگہ درد، سوزش اور ایسی جان لیوا تکلیف محسوس ہوتی ہے جسے میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتی۔‘‘

میں نے اس کا معائنہ کیا، اسے دیکھنے کے بعد میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کیونکہ وہ بالکل ٹھیک تھی۔ کسی قسم کی تکلیف کا کوئی سبب یا ہلکا سا بھی اثر معلوم نہیں ہوتا تھا۔ میں اپنی جگہ واپس آکر بیٹھ گیا۔ میں حیران تھا۔ وہ میرے سامنے سر جھکائے مغموم بیٹھی تھی۔ میں نے قلم کی نوک کاغذ پر رکھتے ہوئے کہا:

’’عزیزہ! آپ بالکل ٹھیک ہیں۔ میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کوئی علامت ایسی نہیں پائی جو آپ کے لیے تکلیف کا باعث ہو۔ خیر اس کے باوجود میں یہ کہوں گا کہ آپ اپنے اطمینان کے لیے ایکسرے کروالیں اور رپورٹ لے کر میرے پاس آئیں۔‘‘

یہ سن کر اس پر مایوسی چھا گئی اور اس نے بڑی لجاجت سے کہا: ’’لیکن ڈاکٹر!میں زیادہ انتظار نہیں کرسکتی۔ میں دوسرا دورہ برداشت کرنے کی تاب نہیں رکھتی۔ اب تو بار بار دورے پڑتے ہیں، کوئی وقفہ نہیں ہوتا، پہلے تو ہفتے میں ایک بار دورہ پڑتا تھا اور اب آئے دن۔ مجھے موت سامنے کھڑی نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب، خدا کے لیے مجھے کوئی ایسی دوا دے دیجیے جس سے مجھے سکون ملے، میں بہت بے چین اور مضطرب ہوں۔‘‘

میں مرض کی نوعیت سمجھ ہی نہ سکا تھا، دوا کیا دیتا؟ لیکن دوا دئیے بغیر کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ میں نے اس کی نفسیاتی تسکین کے لیے ایک ایسی دوا لکھ دی جو کسی حالت میں مضر تھی نہ مفید۔

فوزیہ چلی گئی اور پھر چند روز کے بعد وہ ایکسرے رپورٹ لے کر آئی۔ اس دفعہ وہ پہلے سے زیادہ کمزور نظر آرہی تھی۔ میں نے ایکسرے کو روشنی میں اچھی طرح دیکھ کر کہا: ’’یقین مانئے! آپ بالکل ٹھیک ہیں، کسی قسم کے مرض کا کوئی احتمال نہیں، ایکسرے بالکل صاف ہے، کوئی داغ یا نشان نظر نہیں آتا۔ رپورٹ بھی اطمینان بخش ہے۔ آپ بالکل تندرست ہیں۔‘‘

’’تندرست! میں بالکل تندرست ہوں۔‘‘ وہ کسی قدر چیخ کر بولی۔

’’جی ہاں! آپ کی یہ حالت محض وہم کا نتیجہ ہے۔‘‘

’’وہم! آہ ڈاکٹر، تم یہ کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ اس نے دانت پیستے ہوئے کہا : ’’میں تندرست ہوں، میں کیسے مان لوں ڈاکٹر، ابھی کل ہی مجھے دورہ پڑا تھا۔ میرا جی چاہا میں خود کشی کرلوں۔ مہربان اور شفیق ڈاکٹر، مجھ پر رحم کرو، مجھے بچالو، بچالو مجھے۔ ڈاکٹر ! میں تم سے التجا کرتی ہوں، تم میرے مرض کی تشخیص کرو اور مجھے تکلیف سے نجات دلا دو۔‘‘

میں گھبرا کر کھڑا ہوگیا، مجھ سے اس کی یہ حالت دیکھی نہ جاتی تھی۔ میں نے پھر قلم اٹھایا اور ایک دوا لکھ دی۔ اس میں تو کوئی شک نہ تھا کہ مریضہ وہم کا شکار تھی اور وہم کا علاج وہم ہی سے ہوسکتا تھا۔ میں نے اس بار ایک تیل کا نام بھی لکھا اور اس کی مزید نفسیاتی تسکین کے لیے ہدایت کی کہ تیل کی مالش کرکے کپڑا لپیٹ لے تاکہ ہوا نہ لگے۔ اب وہ کسی حد تک مطمئن تھی۔

وہ تو چلی گئی لیکن میں سوچتا رہ گیا۔ کاش! میں اس کی کوئی مدد کرسکتا۔ ڈاکٹر کی حیثیت سے انسانیت کی خدمت کو میں نے ہمیشہ اپنا مقدس فریضہ سمجھا ہے اور اسی لیے میں اپنی بے بسی پر غمگین تھا کہ اس قابلِ رحم عورت کا میرے پاس کوئی علاج نہ تھا۔ میری جگہ کوئی لالچی ڈاکٹر ہوتا تو اس کے لیے یہ بڑا اچھا موقع تھا۔ وہ الٹی سیدھی معمولی سی دوا دے کر بھاری رقم وصول کرلیتا اور اس کاعلاج جاری رکھ کر اپنی جیب گرم کرتا رہتا، لیکن میں نے تو اپنی معالجانہ زندگی کی بنیاد ہی خلوص، خدمت اور سچی انسانی ہمدردی پر رکھی تھی اور دس سال سے میرا یہی اصول تھا۔ اس لیے ایسا نہ کرسکا۔

میں دوسرے دن مطب ہی میں تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے رسیور اٹھایا۔ ایک بوڑھی عورت گھبرائے ہوئے انداز میں بات کررہی تھی ’’ڈاکٹر صاحب، میری مالکہ کو دوڑہ پڑا ہے۔ آپ فوراً آئیے۔‘‘

اس نے پتہ بتایا ’’۱۹، محمد علی پاشا روڈ، قصرِ مصطفی احمد۔‘‘

میں نے مکان کا نام سنا، تو مجھے یا دآگیا۔ یہ شہر کے ایک بڑے دولت مند اور نیک تاجر کا مکان تھا، جو وفات پاچکے تھے۔ میں نے مریضوں سے معذرت چاہی اور گاڑی لے کر چلا گیا۔

قصر مصطفی کے دروازے پر میری گاڑی رکی، تو فوراً دربان آگے بڑھا اور دروازہ کھول دیا۔ اندر دوسرا ملازم ملا جس نے میرا بریف کیس میرے ہاتھ سے لے لیا اور ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ دوسری منزل پر ویٹنگ روم تھا۔ ملازم نے اطلاع دی تو ایک بوڑھی عورت سیاہ شال اوڑھے باہر آئی۔ مجھے پہچاننے میں دیر نہ لگی کہ یہی بوڑھی ملازمہ ہے جس نے مجھے فون کیا تھا۔ اس نے نہایت احترام کے ساتھ میرا استقبال کیا اور کہا:

’’میں نے آپ کو تکلیف دی ڈاکٹر صاحب! اُف کاش! آپ ان کی حالت دیکھ لیتے … آپ بھی اس منظر کی تاب نہ لاسکتے … ابھی چند لمحے قبل دورہ ختم ہوا ہے۔‘‘

وہ یہ باتیں کرتی ہوئی تیسری منزل پر پہنچی۔ میں کمرے کے دروازے پر کھڑاتھا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ سامنے وہی مریضہ بستر پرپڑی تھی، اس کی حالت اس وقت بھی ناگفتہ بہ تھی، چہرہ بالکل سفید پڑ گیا تھا، ہونٹ پیلے تھے اور اس کی خوبصورت آنکھیں نیم وا تھیں۔ تھوڑی دیر کے لیے تو میں پتھر بن گیا۔ مجھے ایسا لگا جیسے اس کی بے چین اور مضطرب روح قفس عنصری سے پرواز کرچکی ہے۔ اس کا بستر الٹا پڑا تھا، تکیے بے ترتیبی سے ادھر ادھر بکھرے تھے۔ میں نے اس کی نبض دیکھیتو رفتار سست تھی۔ اس کا ہاتھ برف کا ٹکڑا معلوم ہوتا تھا، سفید اور سرد۔ میں نے ابتدائی طبی امداد کے طور پر دو انجکشن لگائے اور اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی۔ اس کے اعضا میں اینٹھن کی کیفیت تھی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں۔ تکلیف کی شدت کا اثر اس کی حسرت بھری آنکھوں میں بھی تھا۔ اس کی نگاہوں میں التجا تھی، فریاد تھی … اس کے لب ہلے، میںنے سنا، وہ کہہ رہی تھی:

’’ڈاکٹر! میرے لیے کچھ کرو، ڈاکٹر کوئی تو تدبیر کرو۔‘‘

پھر اس نے اپنا ہاتھ بائیں رخسار پر رکھا اور کہا ’’اسے، ہاں اسے چیر ڈالو۔ کاٹ کر پھینک دو اسے۔ ڈاکٹر اس بھڑکتے شعلے کو میرے چہرے سے نکال دو۔ تم ڈرو نہیں، مجھے اس کی ذرا بھی پروا ہ نہیں کہ میرا چہرہ بدنما ہوجائے گا، مجھے حسن و دلکشی قائم رکھنے کی کوئی تمنا نہیں، مجھے سکون چاہیے ڈاکٹر، اٹھو ڈاکٹر، تم کیا سوچ رہے ہو، یہ حصہ کاٹ کر پھینک دو۔‘‘

’’ٹھہرو، ٹھہرو، گھبراؤ نہیں۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں، تم انشاء اللہ صرف دو اسے ٹھیک ہوجاؤ گی، اطمینان رکھو۔‘‘

’’نہیں، میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھ سکتی جب تک تم میرے لیے کوئی تدبیر نہ کروگے، ورنہ میں خو دکشی کر لوں گی۔ ڈاکٹر، اگر تم میری زندگی چاہتے ہو، تو اٹھو اور میرے لیے کچھ کرو۔‘‘

میری دانست میں جو بھی بہتر سے بہتر دوا ہوسکتی تھی، وہ میں نے اسے دی، لیکن چند لمحے نہ گزرے تھے کہ اسے پھر دورہ پڑگیا۔ دس سال کی پریکٹس میں میں نے اتنا کربناک اور ایسا روح فرسا منظر نہ دیکھا تھا۔ آہ! وہ منظر جسے دیکھنے پر میری آنکھیں مجبور تھیں، کیا بتاؤں وہ کیسا تھا۔ اگر مجھے خدا کا خوف اور قانون کا پاس نہ ہوتا تو میں خود اسے قتل کردیتا تاکہ وہ عذاب سے نجات پا جائے۔

بوڑھی آیا نے روتے ہوئے مجھ سے درخواست کی کہ اس کی مالکہ کی میں کسی نہ کسی طرح جان بچا لوں۔

میں تھوڑی دیر سرجھکائے سوچتا رہا، پھر میں نے ایک اور انجکشن دیا۔ اب دورہ ختم ہوگیا تھا اور وہ خاموش لیٹی تھی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں، میں سمجھا وہ سوگئی ہے۔ میں آہستہ سے اٹھا اور کمرے سے نکل آیا۔ ابھی میں نیچے اتر کر اس عظیم الشان محل کا برآمدہ ہی طے کررہا تھا کہ مجھے بڑی دردناک چیخیں سنائی دیں،مسلسل اور پیہم چیخیں۔ میرے قدم رک گئے۔ میں بے اختیار پلٹ آیا اور عجلت و بدحواسی کے عالم میں چار چار سیڑھیاں پھلانگتا ہوا اوپر پہنچا۔ مریضہ مچھلی کی مانند زمین پر تڑپ رہی تھی۔ اس نے اپنے تکیوں کے غلاف دانتوں سے نوچ ڈالے تھے اور اب اپنا منہ نوچ رہی تھا۔ شدتِ کرب سے اس کی آنکھیں باہر نکلی آرہی تھی۔ وہ اپنے ناخن پوری قوت سے بائیں رخسار میں پیوست کرنا چاہتی تھی۔ آہ! میں کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ اس قابل رحم عورت کی بار بار التجا کے باوجود میں اس کی اس جان لیوا تکلیف کا ازالہ کرنے سے قاصر تھا۔

میں اس کے قریب گیا اور جھک کر اس کو دیکھنے لگا۔ اب دورہ آخری مرحلے میں تھا اور مریضہ ایک بے جان لاش کی طرح سرد اور خاموش تھی۔ جونہی اسے ہوش آیا، اس کی پہلی نظر مجھ پر پڑی۔ اس نے مجنونانہ انداز میں میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا:’’میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی، تم کو میرا آپریشن کرنا پڑے گا، یہ میرا آگ میں جلتا ہوا رخسار اور میرے کان کی لو کاٹ کر پھینک دو۔‘‘

میں آپریشن کے بارے میں سنجیدگی سے غور کررہا تھا۔ اس ارادے سے اٹھا کہ جراحی کے آلات لے آؤں اور کسی دوسرے ڈاکٹر سے بھی مشورہ کرلوں، لیکن میں ابھی دوسری منزل کی سیڑھیاں ہی طے کررہا تھا کہ آیا نے مجھے آواز دی۔ وہ میرے پاس آئی اور مجھے خاموشی سے دوسرے کمرے میں لے گئی۔ اس نے مجھ سے درخواست کی کہ میں مرض کی اصل وجہ کے بارے میں اس کی بات سن لوں۔ وہ ایک حقیقت کا انکشاف کرنا چاہتی تھی۔ وہ کہہ رہی تھی: ’’ڈاکٹر صاحب! آپریشن کی کوئی ضرورت نہیں، اس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا، بلکہ یہ دورے اس کے بعد بھی یونہی پڑتے رہیں گے اور خواہ مخواہ اس کا خوبصورت چہرہ بدنما ہوجائے گا۔ میں اس تکلیف کا سبب جانتی ہوں۔ فوزیہ کا پہلا دورہ طمانچے کے بعد پڑا تھا۔‘‘

’’کیا کہا تم نے؟ طمانچہ … کیسا طمانچہ …؟ ‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔

اس نے کہا: ’’جی ہاں، سرکار، وہ طمانچہ جو اس کے بچے نے اسے مارا تھا۔‘‘

’’کیا اس کا کوئی بچہ بھی ہے؟‘‘

’’جی ہاں، اس کا بچہ ہے اور شوہر بھی، لیکن فوزیہ نے ان دونوں کو غصے اور طیش کے عالم میں نہیں، اضطراری اور جذباتی عالم میں چھوڑ دیا ہے۔ میری آقا زادی، یعنی فوزیہ نے ناز و نعم میں پرورش پائی ہے۔ اس کا گھرانا نہایت معزز، شریف اور نیک نام گھرانا تھا۔ اس کے باپ کا انتقال ہوگیاہے۔ اس نے اپنی بیوی اور اکلوتی بچی کے لیے بے حساب دولت اور جائداد کے ساتھ ساتھ شرافت اور انسانیت کی روایت بھی چھوڑی۔ جب فوزیہ بڑی ہوئی، تو ماں نے اسے شریک حیات کے انتخاب کی اجازت دی۔ اس نے ایک شریف، خوش اخلاق اور اپنے ہی جیسے خوبصورت اور مال دار نوجوان کو پسند کیا۔ شادی ہوگئی اور فوزیہ حسین مستقبل کے خواب لیے شوہر کے گھر چلی گئی۔ اس کی ازدواجی زندگی قابلِ رشک حد تک خوشگوار تھی۔ دونوں ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے۔ ان کا گھر جنت کا نمونہ تھا۔ اسی اثنا میں فوزیہ کو خدا نے ایک خوبصورت بیٹا دیا۔ کسی کو خیال و گمان بھی نہ تھا کہ اس آباد گھرانے پر اس قدر جلد بربادی کے سائے پڑنے لگیں گے۔ اس کے شوہر کے دوست، فیروز کی صورت میں شیطان آیا اور میری بھولی بھالی بچی اس کی جھوٹی محبت کے زہر میں بجھے ہوئے تیر کانشانہ بن گئی۔ فیروز شاعر اور ادیب تھا اور حال ہی میں لندن سے اعلیٰ ڈگری لے کر آیا تھا، لیکن کسی بھی حیثیت سے فوزیہ کے شوہر احمد سے اچھا نہیں تھا۔‘‘

’’میں اپنی بچی کو بچپن سے جانتی ہوں، میں نے اسے دودھ پلایا ہے، اسے اپنی گود میں کھلایا ہے۔ میں اس کی معصومیت اور پاک دامنی کی قسم کھاسکتی ہوں، میں یہ بھی جانتی ہوں کہ وہ اپنے لائق اور جان نثار شوہر سے بہت خوش تھی، لیکن افسوس، اچانک شیطان نے اسے بہکا دیا اور شیطان تو انسان کا دیرینہ دشمن ہے ہی۔ اب میری بچی پر عقل کی جگہ حماقت اور ناعاقبت اندیشی کا قبضہ ہوگیا، اس کی پرسکون زندگی میں ہلچل مچ گئی۔ سرکار اسے محبت نے نہیں، ہوس کے شیطان نے بہکایا تھا۔ انسان کبھی کبھی شیطان کے پھندے میں آکر اس کے تجربے کا سامان بنتا ہے۔ لیکن سب سے بڑا شیطانی تجربہ وہ ہے جو ہماری زندگی کی مضبوط عمارت کی بنیادیں ہلاکر رکھ دے۔‘‘

’’اگر اس سے یہ لغزش شادی سے قبل ہوئی ہوتی، تو اس کاازالہ شادی کی صورت میں نہایت آسان تھا، لیکن اب جب کہ وہ نہ صرف شادی شدہ بلکہ ایک بچے کی ماں بھی تھی، اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اپنے وفادار شوہر اور اس کے گھر کے ساتھ ساتھ اپنے جگر کے ٹکڑے کو بھی چھوڑ دے او ریہ وہ مصیبت تھی جس کے بعد دوسری مصیبت اس کا انتظار کررہی تھی۔‘‘

’’میں اسے خوب جانتی ہوں کہ وہ کتنی ثابت قدم اور صاف دل ہے۔ اس لغزش میں بھی اس نے خیانت یا چوری چھپے کوئی حرکت کرنے سے قبل اپنے شوہر کو صاف صاف بتا دیا کہ وہ طلاق چاہتی ہے۔‘‘

’’وفادار اور جاں نثار احمد کے دل پر بجلی گرپڑی، اس کا گھر برباد ہورہا تھا، لیکن اس نے بھی مردانہ جرأت سے کام لیتے ہوئے اس شرط پر کہ فوزیہ کا بچے پر کوئی حق نہ ہوگا، اسے طلاق دے دی۔ فوزیہ، جس کی آنکھوں پر پردہ پڑچکا تھا، جذبات میں آکر بچے سے دستبردار ہوگئی۔ اب اس نے نئی زندگی میں قدم رکھا۔ حقیقت کو چھوڑ کو وہ کچھ دن خوابوں کی رنگین دنیا میںکھوئی رہی، لیکن … محبت اور والہانہ شوق کے وہ جذبات جو بڑھتے ہوئے طوفان کی طرح آئے اور کشتی کو بہا لے گئے تھے، اب وقت کے ساتھ ساتھ اترنے لگے… آخر وہی ہوا جس کا مجھے اندیشہ تھا اور میں نے بار بار اسے سمجھانے کی ناکام کوششیں بھی کی تھیں۔

جلدہی وہ اپنی اس زندگی سے بیزاری اور اکتاہٹ محسوس کرنے لگی۔ پیرس کی رنگین شاموں کے حسین خواب اور مستقبل کے خیالی محل ایک غیر ذمے دار، عیاش اور جذباتی شخص کے ہاتھوں منہدم ہوتے گئے۔ اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے پہاڑ کی بلندی سے اسے زمین پر پھینک دیا ہے۔ اس کی زندگی ناکامی، حسرت اور یاس و حرماں کی تصویر بن گئی، وہ ایک ایسا درخت تھی جو اچانک خزاں کی نذر ہوگیا ہو۔ آخر ایک گھڑی ایسی بھی آئی جب وہ فیروز سے طلاق لے کر ناکامی و نامرادی، شکست اور ندامت کے احساسات کے ساتھ اپنے باپ کے گھر آگئی۔

یہاںمیں تھی اور اس کی بوڑھی والدہ… بدقسمتی سے ماں کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ اب صرف میں اور فوزیہ اس گھر کی عظمتِ رفتہ کا ماتم کرنے کے لیے رہ گئے تھے۔‘‘

بوڑھی آیا کی آنکھیں ماضی کے دریچوں سے جھانک رہی تھیں، اس نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا: ’’فوزیہ کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہ لائی، اس میں غرور کی حد تک خودداری اور خودشناسی تھی، لیکن ڈاکٹر صاحب، میں نے اسے گود کھلایا ہے، کیا میں اس کے غم کا سبب نہیں جانتی تھی؟ میں خوب سمجھتی تھی کہ اس خوبصورت آنکھیں کیوں نم رہتی ہیں، اس کا پھول سا شاداب چہرہ کیوں مرجھا گیا ہے، وہ روز بروز کمزور کیو ںہوتی جارہی ہے، وہ اپنے نرم بستر پر بے چینی سے کروٹیں کیوں بدلتی ہے؟ وہ چاند میں کسے تلاش کرتی ہے؟ ہاں سرکار، میں جانتی ہوں، وہ اپنے اکلوتے بچے کو تلاش کرتی ہے، اپنے وفادار شوہر کاخلوص اسے یاد آتا اور تڑپاتا ہے، وہ غیرت دار ہے، اپنی جان دے دے گی، لیکن اپنی غلطی پر پشیمان ہوکر اس کے دروازے پر نہیں جائے گی۔

’’میں ایک روز اس کے شوہر کے پاس گئی۔ میں نے اسے فوزیہ کے مرحوم باپ کا واسطہ دے کر کہا کہ وہ فوزیہ کو اپنے بچے عدنان کی صورت دیکھ لینے دے، لیکن وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ ایسا نہیں کرے گا، چنانچہ اس نے میری درخواست کو ٹھکرادیا اور یہ بھی کہا کہ میں اب اس ارادے سے اس کے گھرکبھی نہ آؤں۔میں ناکام و نامراد واپس آگئی۔ میں نے فوزیہ کو نہ بتایا ورنہ وہ مجھے ضرور برا بھلا کہتی۔‘‘

وقت گزرتا گیا اور بچے سے محرومی کا احساس بڑھتا رہا۔ آخر ایک دن وہ میرے پاس آئی اور بے اختیار میرے گلے میں بانہیں ڈال کر رونے لگی۔ میں اس کا مطلب سمجھ گئی… وہ میری مامتا کو جگا کر اپنے بچے کی مامتا کا احساس دلانا چاہتی تھی۔ میں نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا، میری بچی، میں تجھے ضرور تیرا بیٹا دکھا دوں گی، تو ہلکان نہ ہو۔ میں حقیقت بتا کر اسے دکھ پہچانا نہیں چاہتی تھی۔ میں نے ایک تدبیر سوچی جو کارگر ہوسکتی تھی اور احمد کو بھی خبر نہ ہوتی۔

میں وہ اسکول جانتی تھی جہاں عدنان پڑھتا تھا۔ میں ایک دن حلیہ بدل کر فوزیہ کو لے کر گئی۔ چھٹی کے بعد بچے اسکول کے دروازے سے نکل رہے تھے۔ آخر عدنان مجھے نظر آگیا۔ میں نے فوزیہ کو اشارہ کیا اور خود عدنان کو آواز دی۔ عدنان اپنا نام سن کرآگے بڑھا اور حیرت سے مجھے دیکھنے لگا۔ فوزیہ فرطِ مسرت سے کانپ رہی تھی… اس نے کہا:

’’آیا، میرا بچہ بڑا ہوگیا ہے۔‘‘

’’اس نے دیوانگی کے عالم میں آگے بڑھ کر عدنان کو اپنی بانہوں میں لے لیا اور وفورِ شوق میں اسے بے تحاشا پیار کرنے لگی۔ بچے نے اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا:

’’تم کون ہو؟ کون ہو تم؟‘‘

’’میں تمہاری امی ہوں، تمہاری امی۔‘‘

’’ماں۔‘‘

بچے نے نہایت حقارت سے دہرایا۔ ساتھ ہی اس کا ہاتھ بلند ہوا اور فوزیہ کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ پڑا…

’’میں تیری صورت نہیں دیکھنا چاہتا، میں تجھ سے نفرت کرتا ہوں۔ میری ماں تو مرگئی…‘‘

یہ کہہ کر بچہ، ماں کی گرفت سے نکل کر اس گاڑی میں جا بیٹھا جو اسے گھر لے جارہی تھی۔

حرماں نصیب فوزیہ ایک بار پھر غم کی تصویر بنی واپس آگئی۔ بس اس دن سے اسے چپ لگ گئی، اب وہ کمرے سے کم ہی نکلتی تھی، کھانا پینا بھی برائے نام رہ گیا۔

’’اچانک ایک دن اسے دورہ پڑا اور وہ مرگی کے مریض کی طرف پچھاڑیںکھانے لگی۔ وہ بار بار اپنے اس رخسار پر ہاتھ مارتی جس پر عدنان نے طمانچہ مارا تھا۔ وہ دن اور آج کا دن … پھر تو اسے دورے روز روز پڑنے لگے… کیا اب بھی اسے کسی آپریشن کی ضرورت ہے۔‘‘

میں نے نفی میں سر ہلایا اور کوئی جواب دیے بغیر کمرے سے نکل آیا۔ میرے ذہن میں خیالات کا ہجوم تھا۔

فوزیہ نفسیاتی مریضہ ہے، اس کا علاج دوا سے نہیں ہوسکتا۔ اسے دوا کی نہیں سکون کی تلاش ہے اور سکون … یہ لفظ سوالیہ نشان تھا… نہیں، میں صرف معالج نہیں ایک انسان بھی ہوں، حساس اور باشعور انسان، مجھے اس کی مدد کرنی چاہیے۔ یہ بھی انسانیت کی خدمت ہے، یہ بھی جان بچانے کا وقت ہے۔ انسانی جان کااحترام میرا شعار ہے، میں ضرور اس کی مدد کروں گا۔

آج میں اپنے مطب سے ذرا جلدی اٹھا اور احمدکے پاس پہنچا۔ اس سے مل کر مجھے اندازہ ہوا کہ وہ نہایت متوازن شخصیت کا مالک اور ایک سلجھا ہوا انسان ہے۔ میں نے کسی ہیر پھیر کے بغیر صاف صاف الفاظ میں سارا واقعہ سنادیا۔

’’اچھا، تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’تم اسے معاف کردو احمد۔ دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جس سے کبھی لغزش نہ ہوئی ہو اور پھر اسے سیدھا راستہ دکھانا ممکن نہ ہو۔ گمراہی کے اندھیروں میں ہدایت کا چراغ ہمیشہ جلتا رہا ہے۔ بھٹکتی ہوئی زندگی کو راہ دکھائی جاسکتی ہے۔ کتنا ہی بڑا گناہ گار کیوں نہ ہو، ایک نہ ایک دن اسے ندامت ضرور ہوتی ہے۔ ندامت اور پشیمانی کا تقاضا یہ ہے کہ اسے معاف کردیا جائے۔

میرے دوست تمہاری بیوی کی لغزش جذباتی اور وقتی تھی۔ تم برا نہ مانو، تو کہوں، اس میں بنیادی غلطی تمہاری بھی تھی۔ کاش تم نے اپنے دوست کو شرافت کا مجسمہ سمجھتے ہوئے اس پر اتنا اعتماد نہ کیا ہوتا کہ اپنی خوبصورت اور پاک دامن بیوی سے اسے ملانے لے آئے۔ خیر، جانے دو، اب تم ہی اسے سنبھال سکتے ہو۔ زمانے کی گردش نے اسے سزا دے ڈالی ہے، تم اسے موقع دو۔ میرے اچھے دوست! تم اسے اپنے پاس بلالو، اپنے بچے کی خاطر، خود اپنے لیے اور تڑپتی ہوئی انسانیت کی خاطر۔‘‘

لیکن فرض کرو، میں نے اسے معاف کردیا، تب بھی یہ اس کے مرض کا علاج تو ہونہیں سکتا؟‘‘ اس نے کہا۔

’’اس کا علاج تم مجھ پر چھوڑ دو، تم صرف اتنا کرو کہ اسے معاف کردو۔‘‘ میں نے کہا۔

’’آہ! میں نے تو اسے جبھی معاف کردیا تھا، آج تک اسی کی محبت کے سہارے جی رہا ہوں، اس کی نشانی عدنان ہے جس کی میں دوہری محبت سے پرورش کررہا ہوں۔ آج تک فوزیہ ہی میرے نزدیک میرے احساسات اور میرے گھر بار کی مالک ہے، ورنہ کیا میں دوسری شادی نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن اسے واپس کیوں کر لاؤں؟‘‘ احمد نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا۔

’’بس، بس ٹھیک ہے، میں یہی چاہتا ہوں، باقی معاملہ مجھ پر چھوڑ دو۔اتنا اور کرو کہ تم نے بچے کے دل میں فوزیہ کے خلاف نفرت کے جو جذبات پیدا کردئیے ہیں، ان کو کسی طرح بدل دو۔

’’میں یہ بھی کرلوں گا۔‘‘ میں اٹھا اور بڑی حد تک مطمئن ہوکر گھر چلا گیا۔

دوسرے دن مطب میں جاکر ابھی کرسی پر بیٹھا بھی نہ تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ فوزیہ کی بوڑھی آیا مجھ سے التجا کررہی تھی۔ اس نے روتے ہوئے کہا: ’’ڈاکٹر صاحب ، فوزیہ اپنے آپ کو ختم کرنا چاہتی ہے۔، فوراً آئیے۔‘‘

میں نے فون رکھا اور گاڑی لے کر سیدھا احمد کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے اسے اور عدنان کو ساتھ لیااور قصرِ مصطفی پہنچا۔ ہم تینوں نہایت عجلت میں اوپر گئے۔ اس وقت فوزیہ کا دورہ اپنی شدت پر تھا۔ میں نے سب سے پہلے جاکر اس کے کان کی لو پکڑ لی جسے وہ نہایت بے دردی کے ساتھ کھینچ رہی تھی۔ پھر احمد کو اشارہ کیا۔ وہ فوزیہ کی حالت سے اس قدر متاثر تھا کہ مبہوت کھڑا تھا۔ میں نے ڈرے اور سہمے ہوئے عدنان کو بلایا۔ جیسے ہی فوزیہ کی نظرعدنان پر پڑی، اس نے حیرت سے منہ کھولا اور فرطِ مسرت سے اس کی خوبصورت آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس کی چیخیں بند ہو گئیں اور اس نے پکار کر کہا:

’’عدنان! میرے بچے، میرے لعل۔‘‘

بچہ اس کی بانہوں میں آگیا۔ اس نے بچے کا ہاتھ اپنے رخسار پر اسی جگہ ہولے ہولے پھیرا جہاں اس نے طمانچہ مارا تھا اور والہانہ انداز میں اسے چومنے لگی۔ میں نے دیکھا اب اس کے چہرے پر التہاب و وحشت کی جگہ شادابی اور سکون کی جھلک تھی۔ فوزیہ نے عدنان کو سینے سے لگاتے ہوئے پشیمان نگاہوں سے احمد کی طرف دیکھا۔

احمد اب سنبھل چکا تھا، اس نے جھک کر فوزیہ اور عدنان کو بانہوں میں لے لیا۔ دونوں کی آنکھیں پُرنم تھیں،لیکن مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پر مچل رہی تھی۔ اسی روز عصر کی نماز کے بعد احمد کا فوزیہ سے دوبارہ نکاح ہوگیا۔

میں اس گھر کے تینوں افراد کو یکجا اور خوش و خرم دیکھ کر فاتحانہ انداز میں مسکرا پڑا۔ میں نے بوڑھی خادمہ کو دیکھا، وہ رب العزت کے حضور سجدئہ شکر ادا کررہی تھی۔ اب میرا فرض پورا ہوگیا تھا۔ اس لیے خاموشی سے مطب واپس آگیا۔ پھر کبھی میں نے نہیں سنا کہ فوزیہ کو دورہ پڑا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
یوسف السباعی ترجمہ: عطیہ خلیل عرب

تبصرہ کیجیے