4

دوسری زندگی

پندرہ برس پہلے عاصم رونٹ کیمیکلز فیکٹری کی مزدور کالونی میں کرانے کی دکان پر منشی کی حیثیت سے ملازم تھا۔ سامان منگواتا اور فروخت کا حساب کتاب رکھنا اس کے فرائض میں شامل تھا۔

پہلے چھ مہینے تو وہ بڑے اطمینان سے اپنے کام میں منہمک رہا۔ پھر جیسے جیسے اس پر کاروبار کے بھید کھلتے گئے، ویسے ویسے ایک بے نام سی بے چینی پیدا ہوتی اور بڑھتی گئی۔

جب وہ دیکھتا کہ تُلا رام زیادہ منافع کمانے کی ہوس میں ضروری اشیا کا توڑ پیدا کردیتا ہے اور کالونی کے مزدور ضروریات کے حصول کے لیے کس قدر پریشان ہوتے ہیں، تو اس کے دل میں غصہ ابھر آتا۔ جی چاہتا کہ مزدوروں کے سامنے تلارام کا بھانڈا پھوڑ دے، پھر باآواز بلند اسے گالیاں دے کر اور حساب کتاب کے رجسٹر منہ پر مار کر دکان سے نکل جائے۔ اسے مزدوروں سے دلی ہمدردی تھی۔

ایک طرف کارخانے کے مالک انھیں بیوقوت بنانے میں مصروف تھے، دوسری طرف وہاں کے اہلکاران پر رعب جمانے کی لذت میں مدہوش رہتے۔ تیسری طرف ان کے اپنے لیڈر ذاتی مفاد کے لیے انھیں استعمال کررہے تھے۔ چوتھے کالونی کے دکاندار خود پیدا کردہ مہنگائی سے لوٹ رہے تھے۔

کئی مرتبہ اسے خیال آتا کہ کارخانے کے رابطہ افسر سے مل کر تلا رام کی ذخیرہ اندوزی کی شکایت کرے۔ اس نیت سے وہ ایک بار مینیجر کے پاس گیا بھی، لیکن بات کرنے کی ہمت نہ ہوئی، اس لیے لوٹ آیا۔

ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ مینیجر نے اسے پکڑ لیا، بولا: ’’کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘

اس پر عاصم کے اوسان خطا ہوگئے۔ شکایت کرنے کی ہمت نہ پڑی لیکن اتفاق سے ایک بات سوجھ گئی۔ بولا ’’جناب میں تلا رام کی دکان پر منشی ہوں۔ اگر آپ کالونی میںمجھے ایک دکان الاٹ کردیں، تو میں اس بات کا ذمہ لیتا ہوں کہ مزدوروں کو بازار سے سستی چیزیں فراہم کروں گا۔‘‘

مینیجر نے ہنس کر کہا ’’تم بازارہی سے چیزیں خریدوگے نا، پھر کالونی میں لاکر بازارسے سستی کیسے بیچوگے؟‘‘

’’جناب یہ ہوسکتا ہے؟‘‘ عاصم نے کہا

’’تم اس بات کی ضمانت دو گے؟‘‘

’’جناب! مجھے تین مہینے کے لیے دکان دے دیجیے۔ اس دوان اگر بھاؤ کے متعلق ایک بھی شکایت ہو تو الاٹ منٹ منسوخ کردیجیے۔‘‘

ان روز مینیجر اچھے موڈ میں تھا۔ سوچا، چلو آزما کر دیکھو، اس میںکیا ہرج ہے۔ یوں عاصم کو کالونی میں ایک دکان مل گئی اور مینیجر نے اعلان کردیاکہ اگر دکان سے چیزیں بازار کی نسبت سستی نہ ملیں، تو ہم سے شکایت کی جائے۔

عاصم نے کہنے کو تو یہ بات کہہ دی لیکن تفصیلات پر کبھی نہ سوچا تھا۔ اب دفعتاً اس پر ایک ذمہ داری آن پڑی، توبیچارہ سوچ سوچ کرپاگل ہوگیا کہ کون کون سی چیز دکان کے لیے منگوائے اور کہاں سے منگوائے، جو وہ بازار سے کم قیمت پر فروخت کرسکے۔

عاصم کے دوست ریاض نے اس کی ہمت بندھائی۔ بولا ’’مرا کیوں جاتا ہے تو! میں تیرا بازو بنوں گا۔ اللہ کے نام سے کام تو شروع کر! نیک نیتی سے کام کیا جائے تو اللہ خود راستے پیدا کردیتا ہے۔‘‘

پھر وہ دونوں کام پر جٹ گئے۔ سب سے پہلے انھوں نے گھی کے کارخانے سے براہ ِ راست بناسپتی گھی کے ڈبے منگوائے اور قیمت خرید پر ہی بیچ دیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں ڈبے بک گئے۔ یہ ڈبے لکڑی کے بڑے بڑے ڈبوں میں بند کر ہو آتے تھے۔ انھوں نے وہ ڈبے بیچ دئیے۔ یہی ان کا منافع تھا۔ پھر انھوں نے اعلان کردیا کہ جو شخص دکان سے گھی کا ڈبا خریدے، اس پر لازم ہوگا کہ ڈبا خالی ہونے پر واپس دے جائے۔ یوں دکان میں خالی ڈبے آنے شروع ہوگئے جو وہ کارخانے والوں کے ہاتھ بیچ دیتے۔

گھی کے ڈبوں کی فروخت چل نکلی تو انھوں نے چائے کے ڈبے منگوانے شروع کردئیے۔ چند ہی دنوں میں گھی کے ڈبوں اور چائے کے پیکٹوں کی مانگ اس حد تک بڑھ گئی کہ گرد و نواح کی کالونیوں سے خریدار آنے لگے۔ اس پر گھی اور چائے کی فیکٹری والوں نے انھیں خصوصی کمیشن دینا شروع کردیا۔ ساتھ ہی عاصم کے کہنے پر انھوں نے دکان پر بڑے بڑے اشتہاری بورڈ آویزاں کردئیے اور ان کا ماہوار کرایہ دینے لگے۔ یوں باقاعدہ آمدنی کی صورت پیدا ہوئی اور قیمت خرید ہی پر اشیا فروخت کرنے کی رسم پکی ہوگئی۔

دکان چل نکلی۔ پھر بھی عاصم ہر وقت سوچتا رہتا کہ کونسی نئی چیز ہے جسے وہ کم قیمت پر بیچ سکتا ہے! کچھ دنوں کے بعد انھوں نے تمام مسالہ جات خریدے اور انھیں چکی میں پسوا کر رکھ لیا۔ پھر دیہات سے مرغی اور انڈوں کا انتظام کیا۔ جنگل سے خالص شہد منگوا کر بوتلوں میں بھر لیا۔ یوں آہستہ آہستہ ان کی دکان مختلف چیزوں سے بھرتی گئی۔ صرف تین مہینے میں انھیں اتنی کامیابی ہوئی کہ مینیجر نے دکان کی الاٹمنٹ پکی کردی اور ساتھ ہی عاصم کو ایک رہائشی کوارٹر بھی دے دیا جہاں وہ اپنی بیوی عائشہ اور تینوں بچوں جاوید، نوید اور عرشی کو کولونی میں لے آیا۔

ان دنوں عاصم اور ریاض بے حد خوش تھے۔ اس لیے نہیں کہ کاروبار چل نکلا بلکہ اس لیے کہ وہ مزدوروں کو سستی چیزیں فراہم کررہے تھے۔

مزدور کالونی کی یہ دکان اس قدر کامیاب ہوئی کہ جلد ہی انھیں نئی کالونی میں ایک شاخ کھولنی پڑی۔ عاصم نے نئی کالونی کی دکان ریاض کی تحویل میں دے دی۔

پھر ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ نئی کالونی کی دکان کے متعلق شکایات موصول ہونے لگیں۔ صارفین نے الزام لگایا کہ مرچوں کے پیکٹوں میں ملاوٹ ہورہی ہے۔ اس پر مینیجر نے باقاعدہ تحقیق کی۔ ملاوٹ ثابت ہوگئی۔ گو قصور دکان میں کام کرنے والے کارکن کا تھا مگر عاصم نے مجبوراً ریاض کو برطرف کرکے دکان کسی اور کے حوالے کردی۔ یوں دونوں دوستوں کا ساتھ چھوٹ گیا۔

بہر حال جلد ہی فیکٹری ایریا میں عاصم کی دکان کی تعداد چار تک جاپہنچی اور ان کی ساکھ بن گئی۔

٭٭

اب ’عاصم جنرل اسٹوروں ‘ کی تعداد تیس تک پہنچ چکی تھی جن میں دو ڈھائی سو آدمی کام کررہے تھے۔ عاصم کے دونوں بیٹے جوان ہوچکے تھے اور بی۔ اے۔ کرنے کے بعد دکانیں جدید اصولوں کے مطابق چلا رہے تھے۔ بڑا بیٹا جنرل مینیجر اور چھوٹا نوید سیلز مینیجرتھا۔ ہر روز عاصم کو ایک مختصر رپورٹ پیش کردی جاتی جس میں روز کی سپلائی اور فروخت کے گوشوارے درج ہوتے۔ عاصم ان گوشواروں کا مطالعہ کرتا اور مناسب احکام جاری کردیتا۔ اس کے علاوہ کبھی کبھار وہ کسی دکان کا معاینہ کرنے چلا جاتا اور اپنی تخلیق دیکھ کر خوشی محسوس کرتا۔

لیکن اس روز، اس ظالم لمحے نے گویا اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ وہ اپنے روبرو ننگا ہوگیا۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ ایک کاروباری ہے، ایک عام کاروباری، جس کا عوام سے ربط ٹوٹ چکا ہے۔ جسے زندگی سے کوئی لگاؤ نہیں، انسانیت سے کوئی واسطہ نہیں اور جو صرف پیسہ کمانے کے لیے جیتا ہے۔ پیسہ، پیسہ اور پیسہ!

اس سے پہلے عاصم نے ایک خوش فہمی پال رکھی تھی کہ وہ وہی پرانا عاصم ہے جس کا مقصدِ حیات پیسہ کمانا نہیں بلکہ عوام کو سستے داموں ضروریاتِ زندگی فراہم کرنا ہے۔ اس لمحے اس کی یہ خوش فہمی پاش پاش ہوگئی۔

اس رات جب وہ اپنی خواب گاہ میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ پلنگ پر ایک اور لاش پڑی ہے۔ ریشم میں لپٹی ہوئی گوشت کی گٹھڑی، آنکھیں پھولی ہوئی، گال لٹکے ہوئے، ٹھوڑی جیسے گوشت کا تھل تھل کرتا ٹکڑا۔

عاصم کی بیوی عائشہ عرصہ دراز سے اس گھر میں اپنی حیثیت کھوچکی تھی۔ باروچی خانے میں نوکروں کا راج تھا۔ گھر کا انتظام بچوں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ اگر کبھی عائشہ دخل دیتی تو جاوید، نوید اور ارشی تینوں ہنس کر ٹال دیتے ’’ممی! آپ نہیں سمجھتیں۔‘‘ یہ جملہ سن کر وہ سمجھنے لگی تھی کہ وہ واقعی نہیں سمجھتی۔

اس روز عاصم کو پہلی مرتبہ شدت سے محسوس ہوا کہ وہ دونوں مردہ لاشیں ہیں جو افراط کے کوڑے کے ڈھیر پر یوں پڑی ہیں جیسے پلاسٹک کے ٹوٹے ہوئے کھلونے، جنھیں بچوں نے کھیل کر پھینک دیا ہو۔اس روز عاصم کے دل میں آرزو نے کروٹ لی کہ وہ پھر سے جی اٹھے۔

اس رات جب مینیجر نے روزانہ کی مختصر رپورٹ پیش کی تو عاصم نے دیکھا کہ دکانوں میں قیمتی سامان کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ عوامی اشیا کم ہوتی جارہی ہیں اور اسٹوروں کا نعر ہ بدل کر ’دی ایلیٹ اسٹور‘ رکھ دیا گیا ہے۔ یہ آخری دھکا تھا۔ عاصم تلملا اٹھا۔

’’یہ کیا ہے؟‘‘ وہ غصے سے بولا۔

’’جناب پالیسی بدل گئی ہے۔‘‘ مینیجر نے جواب دیا۔

’’کیوں؟‘‘ وہ غرایا۔

’’جاوید صاحب کا حکم ہے جناب!‘‘

کچھ دیر بعد جاوید اس کے رو برو کھڑا اسے سمجھا رہا تھا ’’ڈیڈی! آپ کو کاروبار کے جدید اصولوں کا پتہ نہیں۔ آج کل کم قیمت کا کوئی تصور نہیں۔ ہمیں یہ نہیں دیکھنا کہ چیز کی کیا قیمت ہونی چاہیے بلکہ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم چیز کو کس قیمت پر فروخت کرسکتے ہیں۔ ڈیڈی! قیمت خرید کا قیمت فروخت سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر دو روپے کی چیز ہم دس روپے میں فروخت کرسکتے ہیںتو کیوں نہ کریں! بہت سی چیزیں ایسی ہیں ڈیڈی، جو صرف اس لیے بکتی ہیں کہ ان کی قیمت زیادہ ہے۔ مہنگی چیز اب اسٹیٹس سمبل بن گئی ہے۔ ڈیڈی آج کی خریداری ضروریاتِ زندگی پر مبنی نہیں بلکہ ’معیارِ زندگی‘ کی ضرورت پر مبنی ہے۔ اگر ہمارے اسٹوروں کو ترقی کرنی ہے، توہمیں یوٹیلٹی اسٹور نہیں بلکہ اسٹیٹس اسٹور بنانے پڑیں گے۔ آپ سمجھتے کیوں نہیں!‘‘

عین اس وقت ڈرائیور داخل ہوا اور بولا ’’بڑے صاحب! ہوائی اڈے جانے کا وقت ہوگیا ہے۔‘‘

معاً اسے یاد آیا کہ اسے عائشہ کے ساتھ دہلی جانا ہے جہاں ایک عزیز کی شادی ہے۔

ہوائی اڈے پر عاصم بکنگ سے فارغ ہوکر عائشہ کے پاس آیا، تو اس نے دیکھا کہ وہ وردی میں ملبوس ایک اجنبی سے باتیں کرنے میں مصروف ہے۔ اجنبی اسے دیکھ کر آگے بڑھا اور لپٹ گیا۔ وہ اس کا پرانا ساتھی ریاض تھا۔

لاؤنج میں وہ تینوں ایک طرف بیٹھ کر باتیں کرنے لگے… بیتے ہوئے زمانے کی باتیں۔ اور وہ بیتی ہوئی یادوں کو ازسرِ نو تازہ کرنے میں اس قدر مصروف ہوگئے کہ جہاز بھی اڑ گیا اور انھیں خبر ہی نہیں ہوئی۔

ریاض نے پھر ضد کی کہ وہ رات اس کے گھر بسر کریں۔ ریاض کا کوارٹر چھوٹا سا تھا لیکن زندگی کی جدوجہد اور جذبات سے بھرا ہوا تھا۔ وہاں پہنچ کر عاصم نے سوچا شاید جدوجہد ہی زندگی ہے جسے افراط چاٹ کر لاش میں بدل دیتی ہے۔

ریاض کے کوارٹر میں بسر کی ہوئی رات عاصم اور عائشہ دونوں کے لیے زندگی بخش بن گئی۔ عائشہ بھی بے حسی کے خول سے باہر نکل آئی اور چہک چہک کر باتیں کرنے لگی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس میں سوجھ بوجھ پیدا ہوگئی ہے، وہ باتیں سمجھنے لگی ہے۔‘‘

اگلے روز جب وہ بیدار ہوئے، تو سرہانے رکھے ہوئے اخبار کو دیکھ کر عائشہ چونکی اور بولی’’دیکھیں تو اخبار میں ہماری تصویر چھپی ہے۔‘‘

عاصم نے اخبار اٹھالیا۔ شہ سرخی میں لکھا تھا ’’ایئر سروس کا جہاز جل کر فنا ہوگیا۔ مسافروں اور عملے میں سے کوئی نہیں بچا۔‘‘ ذیلی سرخی میں لکھا تھا۔ ’’اس جہاز میں ’عاصم چین اسٹورز‘ کے مالک اور ان کی بیگم بھی سوار تھے۔‘‘

عین اس وقت ریاض کمرے میں میں داخل ہوا اور بولا ’’تم نے خبر سنی؟‘‘

عاصم نے ریاض کے منھ پر ہاتھ رکھ دیا۔ وہ بہت تلملایا اور بولا ’’جلدی چلو، تمہارے بیٹے تمہارا سوگ منا رہے ہوں گے۔‘‘

’’آرام سے بیٹھ جاؤ۔‘‘ عاصم نے کہا: ’’جو ہونا تھا ہوگیا۔‘‘

’’لیکن … وہ سمجھیں گے کہ عاصم مرگیا ہے۔‘‘

’’انھیں سمجھنے دو۔‘‘ عاصم بولا :پھر آہ بھر کر بولا ’’ریاض!عاصم تو دیر کا مرچکا، صرف ایک ڈھانچہ باقی تھا… ایک لاش، اسے دفن ہوجانے دو… ورنہ مجھے کبھی دوبارہ زندگی نصیب نہیں ہوگی۔‘‘

٭٭

ایک سال بعد جاوید اپنے دفتر میں بیٹھا روزانہ کی مختصر رپورٹ دیکھ رہا تھا۔ وہ چونک اٹھا، ’’مینیجر صاحب! ہمارے انڈسٹریل ایریا والے چاروں اسٹور جام ہوئے جارہے ہیں۔‘‘

’’ہاں‘‘ اس نے اثبات میں سرہلایا۔

’’اگر یہی صورت رہی تو شاید انھیں بند کرنا پڑے گا۔‘‘

’’جناب انڈسٹریل ایریا میں ایک نیا اسٹور قائم ہوا ہے … کم قیمت پر سامان فروخت کرنے والا۔ وہ روز بروز کاروبار پھیلاتا جارہا ہے۔

’’کس کا اسٹور ہے وہ؟‘‘ جاوید نے پوچھا۔

’’پتہ نہیں جناب! کوئی ریاض اینڈ برادرز ہیں۔‘‘

’’اسے خرید کیوں نہ لیں؟‘‘ جاوید بولا۔

’’وہ نہیں بیچیں گے جناب!‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’وہ پیٹی شاپ کیپر (گھٹیا دکان دار) ہیں، تاجر نہیں۔‘‘

’’چلو!‘‘ جاوید بولا ’’ایک نظر اس اسٹور کو دیکھ لیں۔‘‘

کچھ دیر بعد جاوید اور مینیجر دونوں گاڑی سے سے اتر کر اسٹور میں داخل ہوئے۔ کاؤنٹر پر ایک بڈھا کھڑا پیکٹوں میں چائے کی پتی بھر رہا تھا۔ قریب ہی ایک ادھیڑ عمر کا آدمی گھی کے خالی ڈبوں کے چِب نکال رہا تھا۔

جاوید کو دیکھ کر بڈھے نے منہ موڑ لیا۔ جاوید فہرست میں درج قیمتوں کا مطالعہ کرنے لگا۔ دفعتاً اس نے کہا ’’تم ان قیمتوں پر چیزیں کیسے بیچتے ہو؟‘‘ تمھیں تو کاروبار کے اصولوں کا پتہ ہی نہیں۔‘‘

’’ہم کاروبار نہیں کررہے جناب۔‘‘ ریاض بولا ’’ہم صرف سستی چیزیں بیچ رہے ہیں۔‘‘

’’یہ تو سراسر حماقت ہے۔‘‘ جاوید نے کہا۔

’’معاف کیجیے، آپ کے والد صاحب نے بھی تو انہی اصولوں پر کاروبار شروع کیا تھا۔‘‘ ریاض نے کہا۔

’’جاوید چونکا پھر بولا: ’’والد صاحب کاروباری آدمی نہیں تھے، وہ تو پیٹی شاپ کیپر تھے۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
ممتاز مفتی

تبصرہ کیجیے