4

سنتھیاسے آمنہ تک

میں مسلمان کیوں ہوئی؟

اس سوال کا جواب بڑے سکون اور اطمینان سے دینا چاہیے — میرے گھریلو حالات اور امریکہ میں حبشیوں کی مجموعی حالت سے زیادہ میری معذوری اور اپاہج پن نے مجھے اسلام کی طرف راغب کیا۔ اس کی تفصیل بھی سن لیں، ایک اخبار میں کام کرنے کی وجہ سے میں ہر روز میلکم ایکس اور مسلمان ہونے والے حبشیوں کی اصلاحی تحریک کے بارے میں پڑھتی تھی۔ چونکہ پولیوں کی وجہ سے میں معذور و اپاہج ہوچکی تھی اور سوائے مطالعہ کے میرا کوئی شغل نہ تھا، اس لیے میری غوروفکر کی عادت بہت بڑھ گئی تھی۔ جب میں پڑھتی کہ میلکم ایکس اور اس کے رضا کار ساتھی لوگوں سے منشیات کی عادت چھڑانے میں کامیاب ہورہے ہیں تو مجھے بڑی حیرت ہوتی، میں سمجھتی یہ صرف ایک خبر ہے جس میں صداقت نہیں ہے لیکن پھر میں سوچتی کہ یہ خبر کس طرح جھوٹی ہوسکتی ہے اور کس حد تک جھوٹی ہوسکتی ہے؟

اس زمانے میں میں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ مجھے اسلام کے بارے میں کچھ پڑھنا چاہیے۔ میں نے کچھ کتابیں حاصل کیں اور پڑھنے لگی، اسلام کے بارے میں ان کتابوں نے مجھے خاصا متاثر کیا۔ جب میں نے یہ کتابیں پڑھ لیں تو میرے دل میں قرآن پڑھنے کا خیال پیدا ہوا اور میں نے انگریزی میں ترجمہ قرآن کا ایک نسخہ حاصل کرلیا۔قرآن پاک کے اس ترجمے نے مجھے عجیب طرح کا روحانی سرور بخشا، جسے میں بیان نہیں کرسکتی۔ آج میں سمجھتی ہوں کہ اگر کوئی بھی شخص دلچسپی، انہماک اور لگن سے قرآنِ پاک کا مطالعہ کرے تو وہ اس مقدس کتاب کی حقانیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

قرآن پاک کے مطالعے نے مجھے کئی دن بے چین رکھا اور میرے دل میں ایک عجیب طرح کا جذباتی مدو جرز پیدا ہوگیا تھا۔جی چاہتا کہ اب میلکم ایکس سے ملوں مگر وہ اس شہر سے بہت دور تھے۔ میں نے اخبار کے ذریعے یہ پتہ چلایا کہ یہاں ہمارے شہر میں کون ایسا شخص ہے جو مسلمانوں کی رہنمائی کرتا ہے، پھر اس کاپتہ مجھے جلد ہی مل گیا۔ میں نے اس شخص، محمد یوسف کون فون کیا اور اس سے ملاقات کے لیے وقت مانگا۔ دوسری طرف سے مجھے بڑی ہمدرد اور نرم آواز سنائی دی۔ محمد یوسف نے مجھے کہا کہ میں جس وقت چاہوں اس سے مل سکتی ہوں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں کل بعد دوپہر ان سے ملوں گی۔ وقت طے ہوجانے کے بعد میں نے اطمینان کا سانس لیا۔

جب میں اگلے دن محمد یوسف سے ملنے گئی تو وہ مجھے دیکھ کر کچھ پریشان ہوگئے۔ میں نے ان کی پریشانی کے سبب کو بھانپ لیا وہ کسی صحت مند اور توانا لڑکی سے ملنے کی توقع رکھتے تھے مگر جب انہیں وھیل چیئر میں بیٹھی، حرکت سے معذور مجھ جیسی لڑکی دکھائی دی تو وہ کچھ پریشان سے ہوگئے مگر میری مسکراہٹ اور خوشدلی نے ان کی پریشانی کو جلد ہی ختم کردیا۔

محمد یوسف میری ہی طرح حبشی تھے —کبھی ان کا نام جانی بلیگڈن تھا— اب وہ محمد یوسف جیسے خوبصورت نام کے مالک تھے۔ وہ اس شہر کے مسلمانوں کے سربراہ یا امام تھے۔ وہی مسجد میں نماز پڑھاتے اور وہی قرآنی تعلیمات کا درس دیتے تھے۔ وہ ہمدردی بھرے لہجے میں مجھ سے میرے بارے میں گفتگو کرتے رہے۔ باتوں باتوں میں بڑے غیر محسوس انداز میں انھوں نے مجھ سے میرے اور میرے کنبے کے بارے میں سب معلومات حاصل کرلیں میں نے ان سے پوچھا کہ وہ مسلمان کیوں ہوئے تھے؟

محمد یوسف مسکرا دئیے پھر انھوں نے دھیمے سے بڑے میٹھے لہجے میں جواب دیا — ’’میں ان لیے مسلمان ہوا کہ خدا تعالیٰ کی یہ مرضی تھی کہ وہ مجھے سیدا راستہ دکھائے۔‘‘ ان کا وہ جواب میں آج تک نہیں بھولی ہوں اور زندگی بھر نہ بھول سکوں گی کیونکہ میں بھی یہی سمجھتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ جس انسان کو سیدھے راستے پر لانا چاہتا ہے اس کے دل میں اسلام کے لیے محبت پیدا کردیتا ہے۔

اسلام کے ساتھ ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک ہی برس میں انھوں نے کلام مجید عربی میں پڑھ لیا۔ اس راہ میں انہیں بہت سے دقتیں اور پریشانیاں آئیں مگر وہ کسی پریشانی سے نہ گھبرائے۔ قرآن مجید کی تعلیم کے بعد وہ اسلامی زندگی اور طرزِ زندگی کو اپنانے میں کامیاب ہوگئے۔ چار سال کے بعد انہیں اس علاقے میں مسلمانوں کا امام مقرر کردیا گیا۔ امام بننے کے بعد انھوں نے اپنی تگ و دو سے زمین کے لیے چندہ جمع کیا اور وہاں ایک چھوٹی سی مسجد تعمیر کرادی۔ اس مسجد کے تعمیر میں خود انھوں نے اور دوسرے مسلمانوں نے حصہ لیا تھا وہ خود مزدوری کرتے اور اس کا معاوضہ نہ لیتے تھے۔

میں محمد یوسف کی زندگی اور ان کی باتوں سے بے حد متاثر ہوئی اور ان سے کہا کہ میں مسلمان ہونا چاہتی ہوں۔ محمد یوسف صاحب نے پہلی بار مجھے بھر پور نظروں سے دیکھا اور بولے : ’’خدا مبارک کرے مگر مسلمان ہونا بہت مشکل ہے۔‘‘

’’میں ہر مشکل پر قابو پالوں گی۔‘‘

’’الحمداللہ‘‘ انھوں نے کہا : ’’کیا تمہیں کلمہ اور نمازآتی ہے؟‘‘

میں نے نفی میں سرہلایا۔ انھوں نے مجھے ایک چھوٹی سی کتاب دی۔ اس میں رومن حروف میں کلمہ اور نماز لکھی ہوئی تھی۔ کہنے لگے ’’اسے یاد کرلو اور اگر ہوسکے تو سہ پہر کو میرے پاس تھوڑی دیر کے لیے آجایا کرو۔ میں نے چند دنوں میں نہ صرف کلمہ اورنماز ازبر کرلی بلکہ ان کے معنی بھی سمجھ لیے۔ اس دوران میں محمد یوسف سے بھی ملتی رہی اور ان سے دین اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرتی رہی۔

جمعہ کا دن تھا، مسجد میں تمام مسلمانوں کے سامنے میں نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہوگئی، میرا نام آمنہ رکھ دیا گیا۔ مسلمان ہونے کے بعد میں نے پہلا کام یہ کیا کہ کھانے کے ساتھ تھوڑی بہت شراب پینے کی جو عادت تھی اسے ترک کردیا۔ میں سگریٹ بھی پی لیا کرتی تھی یہ بھی چھوڑ دی اور مسلمان عورتوں جیسا لباس سلنے کے لیے دے دیا۔ میں سمجھتی تھی کہ جب میں مسلمان عورتوں کی طرح لمبے چغے میں اپنا جسم چھپاؤں گی اور سر کو بھی ڈھانپوں گی تو وہیل چیئر میں بیٹھی ہوئی خاصی مضحکہ خیز دکھائی دوں گی۔ میں نے ہر طنز اور مذاق کا سامنا کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ جب میں پہلی بار مسلمان عورتوں کا لباس پہن کر گھر سے نکلنے لگی تو میری ماں نے مجھے حیرت سے دیکھا۔

’’سنتھیا! یہ کیا پہن رکھا ہے تم نے ؟‘‘

اس کے چہرے پر طنز تھا۔ میرے والد نے بھی جو رات بھر شراب پینے کے بعد اب کرسی پر بیٹھے اونگھ رہے تھے اپنی سرخ آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور قہقہہ لگایا۔

’’ممی! میں نے کہا یاد رکھئے میرا نام آمنہ ہے سنتھیا نہیں۔‘‘

’’آ – منہ— کیا نام ہوا یہ بھلا۔‘‘ ماں نے کہا ’’لڑکی تیرا دماغ تو نہیں چل گیا؟‘‘

میں نے اپنی والدہ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ میں انہیں بتا چکی ہوں اور اب میں مسلمان کی طرح باقاعدہ زندگی کا آغاز کررہی ہوں۔ ’’تمہاری جگہ جہنم میں ہے، تم نے —‘‘ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتیں میں نے ان کی بات کاٹ کر کہا ’’ممی آپ کو میرے معاملات میں دخل دینے کی ضرورت نہیں، اگر کوئی بات کرنی ہے تو جب میں دفتر سے آؤں گی تو کرلینا، اس وقت مجھے دیر ہورہی ہے۔‘‘ میں وہیل چیئر کو دھکیلتی ہوئی باہر نکل گئی۔ حبشیوں کی اس گندی بستی میں جس کسی نے مجھے اس لباس میں دیکھا وہ پہلے تو حیران ہوا پھر مذاق اڑانے لگا مگر میں نے کسی کی ایک نہ سنی اور اپنی راہ چلتی رہی۔ جب میں اپنے اخبار کے دفتر پہنچی تو وہاں بھی شدید رد عمل پیدا ہوا، بہت سے لوگ میرے ارد گرد جمع ہوگئے، جب میں نے انہیں بتایا کہ میں مسلمان ہوگئی ہوں اور مسلمان عورتیں ایسا ہی لباس پہنتی ہیں تو بعض لوگوں نے خاموشی اختیار کرلی اور بعض لوگ بڑبڑاتے ہوئے چلے گئے۔ اتفاق سے اس روز تنخواہ کا دن تھا، تنخواہ ملی تو میں نے اس کا ایک چوتھائی حصہ اپنے علاقے کی مسجد کے فنڈ میں جمع کر ادیا۔ جب میں گھر لوٹی تو میری والدہ میرا انتظار کررہی تھیں، میرے والد بھی گھر پر موجود تھے۔ میں تنخواہ کا نصف حصہ اپنی والدہ کو دے دیا کرتی تھی اوراس رقم سے میرے والد اپنے نشے کے لیے کچھ پیسے اینٹھ لیا کرتے تھے۔ میں نے جب اپنی تنخواہ کی کچھ رقم اپنی ماں کو دی تو اس نے حیرت سے مجھے دیکھا اور پوچھا — ’’تم نے اس بار دس ڈالر کم دئے ہیں۔‘‘

’’ہاں! اب ہر ماہ آپ کو اتنی ہی رقم ملے گی، میں نے اپنی تنخواہ کا ایک چوتھائی مسجد کو دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔‘‘ میری یہ بات سنتے ہی وہ مجھے، مسلمانوں اور مسجد کو کوسنے لگیں۔ میں نے کوئی جواب دینا مناسب نہ سمجھا اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔ میں بہت دیر تک اپنی والدہ کو بکتے جھکتے سنتی رہی، بیچ بیچ میں میرے والد کی آواز بھی سنائی دیتی تھی۔ ’’اب سنتھیا ہمارے ہاتھ سے نکل گئی۔ مسلمانوں نے اس کا دماغ خراب کردیا ہے۔ تم نے تو کبھی گرجے کو چندہ نہیں دیا یہ تنخواہ کا ایک چوتھائی مسجد کو دینے لگی ہے۔‘‘ میرے والد اور والدہ کے نزدیک مسلمان لٹیروں سے کم نہ تھے جو ان کی بیٹی کی کمائی لوٹ کر لے گئے تھے۔

آہستہ آہستہ میں نے اپنی زندگی اسلام کے قوانین و ضوابط کے مطابق ڈھال لی۔ وہ لوگ جو پہلے مجھ پر انگلیاں اٹھاتے تھے اب مجھ سے لاپرواہ ہوگئے اور میرے اور اسلام کے خلاف زہر اگلنے سے بھی، اور پھر کرسمس کا تہوار آگیا۔ ہم خواہ کتنے ہی غریب اور بدحال کیوں نہ ہوں کرسمس کو ٹھاٹھ باٹھ سے منانے کا اہتمام ضرور کرتے ہیں۔ کرسمس کے روز شراب پانی کی طرح بہائی جاتی ہے۔ جب میں نے مہمانوں کے ساتھ شراب کے جام کو چھونے سے ہی انکار کردیا تو ہمارے گھر میں قیامت برپا ہوگئی۔ والد تو صبح سے ہی نشے میں دھت تھے، والدہ بھی دو ایک بار مہمانوں کے ساتھ پی چکی تھیں، نشے کی حالت میں وہ مجھ پر برسنے لگے، مہمان بھی نشے میں تھے وہ بھی جوان کے منہ میں آیا بکنے لگے۔

ان سب کی حالت قابل رحم تھی۔ میں نے سوچا کہ مجھے اس کمرے سے چلے جانا چاہیے مگر جب میں اپنی وہیل چیئر کو دھکیل کر جارہی تھی تو ایک مہمان لڑکا اور میرے والد میرے پیچھے لپکے اور وہیل چیئر کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ ’’راستہ چھوڑ دیں‘‘ — میں نے کہا — ’’مجھے جانے دیں۔‘‘

’’یہ پی لو پھر چلی جانا۔‘‘ لڑکے نے میرے راستے سے ہٹے بغیر شراب کا جام میرے آگے کیا۔

’’میں لعنت بھیجتی ہوں اس پر‘‘

میرے منھ پر ایک زور دارطمانچہ لگا جو میرے والد نے مارا تھا، میرا سر چکرا گیا آنکھوں میں آنسو آگئے مگر میرے والد اور اس لڑکے میں تو جیسے شیطان کی روح حلول کرگئی تھی وہ مجھے پیٹنے لگے اور انھوں نے مجھے روئی کی طرح دھنک دیا۔ میں خاموشی سے یہ ظلم برداشت کرتی رہی۔ وہ گالیاں بک رہے تھے، نشے میں ان کے منہ سے جھاگ بہہ رہا تھا۔ جب وہ تھک کر بیٹھ گئے تو میں کسی نہ کسی طرح اپنے کمرے میں پہنچ گئی۔ اس رات میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔

میرا پہلا ردعمل یہ تھا کہ مجھے اپنے امام مسجد محمد یوسف کو ساری بپتا سنانی چاہیے اور پھر یہ گھر چھوڑ دینا چاہیے لیکن جوں جوں میرا غصہ اور جوش ٹھنڈا ہوتا گیا میری سوچ بدلتی گئی۔ میں نے سوچا کہ مجھے اپنی پریشانیاںلے کر محمد یوسف کے پاس نہیں جانا چاہیے ان کا حل خود ہی تلاش کرنا چاہیے اور اپنے والدین کے ساتھ ہی رہنا چاہیے۔ ان کا مجھ پر حق ہے اور میرا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ میں ان کی زندگی بدلنے کی کوشش کروں۔ چنانچہ اس روز میں نے ایک اہم فیصلہ کیا اور اگلے روز میں نے اپنے اس فیصلے سے امام مسجد محمد یوسف کو مطلع کردیا۔

میں نے اخبار کی ملازمت چھوڑدی اور رضا کار بن گئی۔ مجھے معمولی سا گزارہ الاؤنس ملنے لگا۔ جب میرے والدین کو میرے اس فیصلہ کا علم ہوا تو بہت سٹپٹائے۔ وہ یہ سوچ ہی نہ سکتے تھے کہ میں اچھی بھلی ملازمت چھوڑ دوں گی۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ فکر نہ کریں ان کو ان کا حصہ ملتا رہے گا۔ میں اخباروں کے لیے دن میں لکھوں گی اور جو معاوضہ مجھے وہاں سے ملے گا وہ میں ان کو دے دیا کروں گی۔ میری اس عملی زندگی کا آغاز اس وقت ہوا جب میں مسلمان رضا کار بن گئی۔

محمد یوسف نے مجھے بہت سی ہدایات دیں اور جس کام کے لیے مجھے چنا گیا اس کے خطرات سے آگاہ کیا۔ مجھے خود بھی اندازہ تھا کہ یہ راستہ پُر خطر ہے مگر اسلام نے مجھے حوصلہ بخشا۔ اس کی وجہ سے میں کسی خطرے کو خاطر میں نہیں لارہی تھی۔ میں جیلوں میں جانے لگی، وہاں میں قیدیوں سے ملتی ان کے سامنے اسلام کی عظمت بیان کرتی ان کو ان کی زندگی کے گھناؤنے پہلو دکھا کر ان کو بہتر زندگی بسر کرنے کا مشورہ دیتی۔ کچھ قیدی وقت کاٹنے کے لیے میری باتوں کو توجہ سے سنتے اورکچھ میرا مذاق اڑاتے۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے میری جسمانی معذوری پر بھی قہقہے لگائے مگر میں مطلق ہراساں نہ ہوئی نہ میری ہمت نے جواب دیا۔

ان قیدیوں میں سے ایک حبشی قیدی اربنٹو بھی تھا، اس نے میری باتوں سے خاص اثر قبول کیا اور ایک دن کہنے لگا — ’’ تم بڑی باہمت لڑکی ہو اگر تم واقعی یہ چاہتی ہو کہ برائی کا خاتمہ ہوجائے تو برنارڈو کا خاتمہ کردو؟‘‘

’’برنارڈو کون ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’برنارڈو اس شہر میں ایک بڑی مافیا فیملی کا سربراہ ہے، وہی شخص ہے جو اس شہر میں منشیات کا اجارہ دار ہے،اگر وہ نہ ہو تو لوگوں کو منشیات نہ ملیں اور نہ لوگ ان کے عادی ہی ہوں، وہ بڑا خطرناک آدمی ہے — آج میں جس حالت کوپہنچا ہوں اس کا ذمہ دار بھی برنارڈو ہے۔‘‘

’’میں برنارڈو سے کیسے مل سکتی ہوں؟‘‘

اس نے میرے کان میں مجھے برنارڈو کا پتہ بتادیا۔ جب میں جانے لگی تو اربنٹو کا لہجہ یکسر بدل گیا تھا وہ ندامت کے ساتھ کہنے لگا ’’مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں نے تم سے برنارڈو کا ذکر کیا تم اس سارے واقعے کو بھول جاؤ۔ تم اندازہ نہیں کرسکتی ہو کہ برنارڈو کتنا خطرناک آدمی ہے۔‘‘

’’مگر میں اس سے ملنے کا فیصلہ کرچکی ہوں۔‘‘ میں نے عزم سے کہا ۔ ’’تم اس سے مل کر کیا کرو گی؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’اس کو سیدھا راستہ دکھانے کی کوشش کروں گی۔‘‘

وہ ہنسنے لگا، اس کے قہقہے دور تک میرا پیچھا کرتے رہے۔

صبح کا وقت تھا جب میں وقت طے کیے بغیر برنارڈو کے عالیشان گھر کے اندر داخل ہوئی۔ اس گھر کو دیکھ کر کوئی شخص اندازہ نہ کرسکتا تھا کہ اس گھر میں رہنے والا شخص کوئی بہت بڑا مجرم ہے۔

’’تم یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘ ایک ملازم نے مجھے روک کر پوچھا۔ وہ میرے لباس اور میری وہیل چیئر کو غور سے دیکھ رہا تھا۔

’’مجھے مسٹر برنارڈو سے ملنا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔

’’نہیں —‘‘ اس نے قہقہہ لگا کر کہا — ’’مسٹر برنارڈو سے ملنا اتنا آسان نہیں۔‘‘

’’آخر کیوں؟‘‘ میں نے کہا — وہ بھی انسان ہے اور انسان انسانوں سے ملا جلا کرتے ہیں۔‘‘

ہم دونوں میں تو تکرار ہونے لگی، اسی وقت ایک ادھیڑ عمر کا مضبوط جثّے والا آدمی ایک کمرے سے باہر نکلا اور غصے سے بولا — ’’یہ کیا ہورہا ہے؟ شور کیوں مچا رکھا ہے؟‘‘ ملازم نے اس شخص کے سامنے سرجھکا کر کہا۔ ’’یہ لڑکی آپ سے ملنے پر اصرار کررہی تھی۔‘‘

’’مجھ سے؟‘‘ اس نے پوچھا ’’کیا کام ہے؟‘‘ میں آپ سے علیحدگی میں بات کرنا چاہتی ہوں‘‘ میں نے کہا۔ برنارڈو نے کچھ تعجب سے میری طرف دیکھا پھر ملازم کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا۔ جب ملازم چلا گیا تو برنارڈو نے بڑی نخوت سے کہا ’’میں اس طرح کسی سے ملاقات نہیں کرتا ہوں، تم معذوں ہو اس لیے رک گیا ہوں، کہو میں تمہاری کیا مدد کرسکتا ہوں؟‘‘

میں نے اس کی طرف دیکھا اوراس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا — ’’مسٹر برنارڈو! کیا واقعی آپ اس معذور لڑکی کے کسی کام آنا چاہتے ہیں؟‘‘

اس نے جواب دینے سے پہلے کچھ سوچا پھر مسکرا کر کہا — ’’ہاں کہوں میں تمہاری کیا مدد کرسکتا ہوں؟‘‘

میں نے پھر اس کی آنکھوں میںآنکھیں ڈال دیں۔ میں نے محسوس کیا کہ مسٹر برنارڈو کچھ بے چینی محسوس کررہا ہے، وہ میری نظروں سے نظریں چرا رہا تھا۔

’’مسٹر برنارڈو!‘‘ — میں نے کہا — ’’اللہ نے آپ کو سب کچھ دیا ہے اب آپ کو ہدایت کی ضرورت ہے، سچی ہدایت کی۔‘‘

’’لڑکی!— میں نہیں جانتا تم کون ہو میرا وقت بہت قیمتی ہے دو منٹ میں اپنی بات ختم کرو۔‘‘

میں نے جب بات شروع کی تو برنارڈو کا چہرہ طیش اور غصے سے سرخ ہوگیا، اس نے غصے کو دبا کر کہا — ’’تم پاگل ہو نکل جاؤ یہاں سے تمہیں کس نے بتایا کہ میں یہ کام کرتا ہوں؟ میں تمہیں اور تم کو یہ بتانے والے کو زندہ نہ چھوڑوں گا۔‘‘

میں نے بڑے اطمینان سے کہا ’’آپ کے اس غصے اور جوش ہی سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ مجھے آپ کے بارے میں جو اطلاع ملی ہے وہ درست ہے۔‘‘

’’تم بکتی ہو، چلی جاؤ یہاں سے مجھے تمہارے اپاہج پن کا خیال آرہا ہے ورنہ …‘‘

’’میں جانتی ہوں مسٹر برنارڈو آپ بہت طاقتور ہیں سارا شہر آپ کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے۔‘‘

’’آخر تم چاہتی کیا ہو؟‘‘ برنارڈو نے گرج کر کہا۔

’’میں چاہتی ہوں کہ آپ خلق خدا کے فائدے کے لیے اپنا یہ دھندا چھوڑ کر کوئی اور کام کریں اور اگرآپ سے یہ ممکن نہیں تو پھر مجھ معذور لڑکی پر کرم کریں مجھے ہر روز پانچ منٹ ملاقات کا وقت دے دیا کریں۔‘‘

وہ حیرت سے میرا منھ تکنے لگا، پھر اس نے قہقہہ لگایا اور بولا : ’’تم ضد کی پکی ہو … تم کل پھر آسکتی ہو اسی وقت۔‘‘

میں وہاں سے نکلی تو بے حد مطمئن تھی۔

برنارڈو اطالوی نژاد تھا، دل کا کھلا، اس کو زندگی میں شاید ہی مجھ جیسا کوئی انسان ملا ہو، وہ میری ذات میں دلچسپی لینے لگا،ایک دن کے بعد دوسرا دن… وہ مجھے ہر روز بلاتا مجھ سے باتیں کرتا پانچ منٹ کی گفتگو کا دائرہ پھیل کر گھنٹوں تک پہنچ گیا، میں اس کے سامنے انسانوں کی بدحالی کا ذکر کرتی۔ منشیات کی تباہ کاریاں بیان کرتی اوراسلام کی حقانیت کا ذکر کرتی۔ آہستہ آہستہ اس کے خیالات میں کچھ لچک پیدا ہونے لگی۔

’’آمنہ‘‘ … ایک دن اس نے مجھ سے کہا … ’’میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو؟ مسلمان کیا ہوتے ہیں؟ مگر میں ایک بات جان گیا ہوں کہ تم انسان کی نفسیات کو خوب سمجھتی ہو۔‘‘

’’اسلام انسان کا مذہب ہے مکمل دین‘‘ … میں نے جواب دیا … ’’اس لیے اسلام مسلمانوں کو انسانی نفسیات پر گہری نظر رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔‘‘

’’میں نے محسوس کیا کہ اب جب میں اس سے ملنے جاتی ہوں تو وہ کچھ بے چینی محسوس کرنے لگتا ہے، اس نے ایک دن مجھ سے کہا … ’’آمنہ! واقعی انسان کی زندگی فانی ہے اور انسان کو دنیا میں اچھے کام کرنے چاہئیں اور دوسروں کا بھلا سوچنا چاہیے۔‘‘

الحمدللہ … میں نے جواب دیا … ’’خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ بات آپ کے ذہن میں سما گئی ہے۔‘‘

چند دنوں بعد برنارڈو نے اپنا دھندا چھوڑ دیااور راہ راست پر آگیا۔ اس نے بلا ہچکچاہٹ قبول کرلیا کہ وہ مافیا کارکن ہے اور پھر اس نے مافیا کے سربستہ رازوں کو کھول کر رکھ دیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ صدر فورڈ کے عہد صدارت میں برنارڈو کے اس عمل سے امریکہ میں کتنا تہلکہ مچا تھا! برنارڈو نے اخبار نویسوں سے کہا تھا … ’’ایک اپاہج اور چلنے پھرنے سے معذور لڑکی نے مجھے یہ طاقت پرواز بخشی ہے کہ میں نے برائی کی زنجیروں کو توڑ دیا اور اب کھلی آزاد فضاؤں میں اڑنے کی ہمت اپنے اندر محسوس کررہا ہوں۔‘‘

اس روز میں بہت روئی تھی جب مجھے خبر ملی کی برنارڈو کو جیل میں گولی مار دی گئی ہے، اس کو مافیا کے آدمیو ںنے قتل کردیا تھا، اس کا زندہ رہنا ان کے لیے خطرناک ثابت ہوگیا تھا کیونکہ وہ ایک ایسا انسان تھا جو راستی کی راہ پر چل نکلا تھا اور اگر وہ زندہ رہتا تو بڑا مصلح ثابت ہوسکتاتھا۔

برنارڈو کے تائب ہونے کی وجہ سے مجھے پریس نے بڑی شہرت دی۔ میری تقریریں شائع ہونے لگیں، اخباروں اور رسالوں میں میرے انٹرویو شائع ہوئے، ٹی وی اور ریڈیو پر مجھے بلایا گیا اور میری خدمات کو بے حد سراہا گیا۔

عالمی ہیوی ویٹ چیمپین محمد علی مجھ سے ملنے آئے، انھوں نے میری بڑی تعریف کی۔ صدر فورڈ نے مجھے وائٹ ہاؤس میں بلایا اور میری تعریف کی۔ اس شہرت اور عزت کے باوجود مجھ میں تکبر پیدا نہیں ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تکبر پسند نہیں ہے۔

اسلام نے میری زندگی میں جو انقلاب پیدا کیا میں ساری دنیا میں پھیلانا چاہتی ہوں اور اگر یہ میرے بس میں نہیں تو میرے دل میں یہ خواہش ضرور ہے کہ اسلام کی برکات اور فیوض سے امریکہ کے سیاہ فام ضرور فیض یاب ہوں۔

میرے والد شراب سے توبہ کرکے ہر نشہ چھوڑ چکے ہیں، میری والدہ میری عزت کرتی ہیں اگرچہ انھوں نے اپنا مذہب نہیں چھوڑا مگر ان کی زندگی میں بڑی تبدیلی رونما ہوچکی ہے۔

پچھلے چند برسوں میں میری کوششوں کی وجہ سے ساڑھے تین سو افراد نے منشیات سے توبہ کی ہے اور اکیس مردوں اور عورتوں نے اسلام قبول کیا ہے۔

میں ایک اپاہج عورت ہوں مگر میں اپنے آپ کو اپاہج نہیں سمجھتی کیوں کہ میرا ایمان ہے کہ جو شخص مسلمان ہوجائے وہ کبھی اپاہج نہیں ہوسکتا کیونکہ خدا اس کا سہارا بن جاتا ہے … میری زندگی اسلام کے لیے وقف ہوچکی ہے۔ میں اسلام ہی کے لیے کام کروں گی اور اسلام کی روح انسانوں میں پھونک دینا چاہتی ہوں۔

جب بھی کوئی انسان برائی کا راستہ ترک کرتا ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ اسلام کی فتح ہوئی ہے۔ تو یہ ہے میری کہانی … سنتھیا سے آمنہ بننے کی!!

شیئر کیجیے
Default image
Jamil Sarwer

تبصرہ کیجیے