6

کرن آرزو کی (۱)

آج پھر وقاص کے دونوں بھائیوں نے مار مار کر ایک دوسرے کو لہو لہان کردیا تھا۔ بڑی مشکل سے دونوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کیا گیا اور رسّیو سے باندھ دیا گیا۔ بڑی آپا آنسو پونچھتی ہوئی ان کی مرہم پٹی کررہی تھیں۔ اماں بی حسبِ معمولی اپنی قسمت اور اپنی ساس کے پورے خاندان کو کوس رہی تھیں۔ ’’باپ بھائی تو ان کے پاگل تھے پھر ان کی نحوست میری تقدیر کیسے بن گئی۔ اماں باوا نے نہ آگا دیکھا نہ پیچھا۔ جانے کس بات پر ریجھ کر میری قسمت دیوانوں میں جا پھوڑی۔ بڑی بی خود بھی آدھی پاگل تھیں۔ اور پھر وہ باقاعدہ رونے لگتیں۔

’’تم تو پاگل نہیں تھیں، تم ہی شادی سے انکار کردیتیں۔‘‘ ابا میاں جل کر بولے۔

’’انکار کردیتیں‘‘ انھو ںنے ابا میاں کی نقل اتاری۔ ’’آ ج کی طرح جیسے لڑکیاں اس وقت پڑ پڑ ہی تو بولا کرتی تھیں۔ ابا جان گلا نہ گھونٹ دیتے میرا۔ تم مرد تھے۔ تم تو جانتے تھے کہ تمہارے نانا پاگل ہوکر مرے تھے۔ ایک ماموں پیدائشی پاگل تھے۔ ایک خالہ زاد آج بھی پاگل خانے میں پڑا سڑ رہا ہے۔ تم نے کیوں شادی کی … کاہے کا انتقام لیا مجھ سے، تمہارے منہ پر کون سے تالے پڑے تھے۔ تم چاہتے تو انکار کرسکتے تھے۔‘‘

’’میں کیوں کرتا انکار۔ کوسنا ہے تو اپنے ماں باپ کو کوسو۔ ہم نے کوئی دھوکہ بازی نہیں کی تھی۔ سب کچھ صاف صاف کھول کر بتادیا تھا اور تمہارے ابا نے جواب میں کہا تھا کہ یہ تو سب کچھ من جانب اللہ ہوتا ہے انسان کے بس کی بات نہیں وہ جو چاہے پیدا کردے۔ پیٹ میں کیا چیز پرورش پارہی ہے اس کا علم صرف علیم و خبیر ہی کو ہے۔ پھر کون سا ایسا خاندان ہے جس میں ایسا ابنارمل کوئی نہ کوئی بچہ نہ ہواہو۔ اتنی گہری پڑتالیں کون کرتا پھرتا ہے۔ تم خود سوچو ساجدنانا اور ماموں ہی تو ایسے تھے۔ ہم سب بہن بھائی اللہ کے فضل سے بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں۔‘‘

اماں بی لا جواب سی ہونے لگتیں۔ ’’تم جو کہو درست ہے، یہ تو میری ہی قسمت کھوٹی تھی۔ تمہاری ماں کا دیا ہوا زہر مجھے پینا پڑا۔ ٹھیک ہے جاؤ تم اپنا کام کرو۔ اپنی کتابوں سے مغز پچی کرو، تمہاری بلا سے کوئی جیئے یا مرے۔‘‘

تم ہی بتاؤ آخر میں کیا کروں؟ میرا اس میں کیا قصور ہے؟ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یوں ہوگا تو بخدا میں کبھی شادی نہ کرتا۔ مگر اب وقت کا پہیہ الٹا تو نہیں گھمایا جاسکتا۔ ایک تو ان دو بیٹوں کا غم اوپر سے تمہاری زہر اگلتی زبان، چکی کے ان دو پاٹوں میں پس کر لگتا ہے کہ میں بھی پاگل ہوجاؤں گا۔‘‘

’’پاگل ہوں گے تمہارے دشمن، تم تو یوں ہی ہٹے کٹے رہو گے! دیکھ لینا۔ البتہ میرا حشر کیا ہوگا یہ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ لڑکوں کا غم تو اپنی جگہ ہے ہی۔ یہ جو تین پہاڑ راشدہ، زاہد اور فریدہ چھاتی پر دھرے ہیں۔ انھوں نے تو میری راتوں کی نیند اڑا دی ہے۔ بھائیوں کو دیکھ کر کوئی ادھر کا رخ ہی نہیں کرتا۔ یہ بے چاری بے گناہ ، بے خطا سزا بھگت رہی ہیں۔ یہ سب تمہاری اماں کا کیا دھرا ہے۔ انہی کو بیٹے کا سہرا دیکھنے کا بڑا ارمان تھا۔‘‘

ابا میاں گھبرا کر اپنی سٹڈی میں چلے جاتے۔ سارے گھر میں سناٹا چھا جاتا صرف اماں بی کی سسکیوں کی چنگاریاں اڑتی رہتی تھیں یا پھر ان دونوں کے وحشت زدہ قہقہے خاموشی کو توڑ دیتے تھے۔

وقاص اپنے بچپن سے یہ ڈرامہ دیکھتے چلے آرہے تھے۔ ان کی اماں بی جو عام حالات میں بہترین ماں اور بیوی تھیں اور جن کی زبان سے کبھی سخت کلمہ نہ نکلتا تھا ایسے ہنگاموں کے وقت بالکل بدل جاتی تھیں اور ان کے منہ سے پھولوں کی بجائے شعلے جھڑنے لگتے تھے۔

جوں جوں لڑکے بڑے ہوتے گئے شعلے برسنے کی رفتار تیز ہوتی گئی۔ اور گھر کا سکون میاں بیوی کی محبت اور بچوں سے پیار ہر چیز بھسم ہونے لگی اور اس دن وہ ہمت کرکے آہستہ سے بول ہی پڑے۔

’’اماں بی آپ ان دونوں کو کیوں مینٹل ہاسپٹل میں داخل نہیں کرنے دیتیں؟ آخر برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔‘‘

’’تو پاگل تو نہیں ہوگیا؟ میں اپنے جیتے جی ان کو اس قصاب خانے میں کیسے بھیج دوں۔ میں نے ان کو جنم دیا ہے وقاص۔ تو کیا جانے ممتا کی آگ کیسی کلیجہ جلانے والی ہوتی ہے۔ سارے بندھن ٹوٹ سکتے ہیں مگر ماں اور اولاد کی بیچ جوبندھن ہے وہ اٹوٹ ہے وہ چاہے کیسے بھی ہیں اسی کوکھ سے پیدا ہوئے ہیں، میرے ہی لہو سے پروان چڑھے ہیں، میں یہ کیسے برداشت کرسکوں گی کہ وہ پاگل خانے کی آہنی سلاخوں کے پیچھے خاک میں رِلتے رہیں۔ کون ان کا منھ دھلائے گا، کون سلائے گا، کنگھی کرے گا، کون اپنے ہاتھ سے نوالے ان کے منہ میں ڈالے گا۔ ذرا ذرا سے بات پر تو محافظ ہنٹروں سے کھال ادھیڑ دیتے ہیں۔‘‘ اماں بی کانپ اٹھیں ’’نہ بیٹا نہ اس طرح تو میں اور بھی دکھی ہوجاؤں گی۔‘‘

’’اب کون سی آپ سکھی ہیں، چند دنوں میں ان کی جدائی کی عادت پڑجائے گی۔ آخر آپ آپا راشدہ اور فریدہ کے بارے میںبھی ماں بن کر سوچئے۔ جب تک یہ دونوں یہاں رہیں گے ان کا بیاہ نہ ہوسکے گا۔ آنکھ سے اوجھل ہوں گے تو بات دوسری ہوگی۔‘‘

’’تم سچ کہتے ہو چندا مگرمیں اپنے دل کا کیا کروں۔‘‘

وہ ناگواری سے بولے ’’آپ صرف ان دو ہی کی تو ماں نہیں ہیں۔ ہم چاروں نے بھی آپ کے ہاں ہی جنم لیا ہے۔ کچھ ہمارا بھی حق ہے۔ ان سے کبھی آپ کو فرصت ہی نہیں ہوئی جو ہم پر دھیان دیتیں۔ ساری ممتا ان ہی کے لیے ہے۔‘‘

’’میرے چاند تم سب سمجھدار ہو۔ اپنا برا بھلا سمجھتے ہو۔ اپنا خیال خود کرسکتے ہو۔ ان کا بوجھ کون اٹھا سکتا ہے نہ نوکر چاکر نہ بہن نہ بھائی۔ میرے سوا ان کا دنیا میں اور کوئی نہیں ۔‘‘ وہ ایک آہ بھر کر وہیں برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئیں۔

’’میں کچھ نہیں جانتا۔ مجھے تو صرف اتنا پتہ ہے کہ ان کے ناکارہ وجود کی خاطر آپ باقی سب کے حقوق پائمال کررہی ہیں۔ ابّا میاں آپ کے شوہر ہیں۔ احترام و غم گساری کرنے کی بجائے ان کو آپ سخت سست سناتی ہیں۔ آخر وہ ہمارے باپ ہیں۔ ان کے دل پر بھی گھاؤ ہوں گے۔ آپ نے کبھی ان کے اندر جھانک کر دیکھا۔ اپنی محرومی اور تلخی کا انتقام ان کے زخم کھرچ کر کیوں لیتی ہیں؟‘‘

’’تو جو کچھ کہہ رہا ہے وقاص سب ٹھیک ہے۔ میں سب جانتی ہوں مگر مجبور ہوں آخر پھر کس کے آگے اپنا دکھڑا روؤں۔ اگر خاموش رہوں تو میرا دل نہ پھٹ جائے غم سے۔ مگر میرے بچے تم یہ نہ سمجھنا کہ تمہاری محبت میرے دل میں کسی سے کم ہے۔ تم ہی تو میرے گھر کا چراغ ہو۔ وہ تو بے تیل کے بجھے ہوئے دئے ہیں جو سدا ٹھوکروں میں رہیں گے اور ایک دن ٹوٹ پھوٹ جائیں گے۔ میں ان کا سہارا ہوں۔ تم میرا سہارا ہو۔ ان ٹھیکروں سے کیوں خار کھاتے ہو۔‘‘ اور وہ خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔ ان کے پاس اماں بی کی ان باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔

وقاص کے ننھیال میں کئی بچے دماغی لحاظ سے کمزور پیدا ہوئے جن کو لوگ مجذوب اور سائیں اور ان بچوں کے و الدین کو بے حد خوش نصیب سمجھتے تھے۔ لوگ دعا کرانے اور غیب کی باتیں معلوم کرنے آتے اور ان کی مار اور گالیاں کھا کر بڑے خوش ہوتے۔ خود ان کے والد کے ماموں بھی مینٹلی ریٹائررڈ تھے جن کی عمر چھ سات سال پر آکر رک گئی تھی۔ اپنے بچپن میں وقاص نے ان کو دیکھا تھا۔ وہ بالکل بے ضرر سے تھے۔ اچھے خاصے اونچے، لمبے اور داڑھی مونچھوں والے مرد تھے مگر حرکتیں ساری بچوں جیسی تھیں۔ بچوں کے ساتھ کھیلنے پر اصرار کرتے۔ کوئی تنگ کرتا تو بھوں بھوں کرکے رونے لگتے۔ وقاص کے کھلونوں سے کھیلنے پر ضد کرتے اور جب وہ کمر بند بندھوانے دادی اماں کے پاس آتے تو سارے بچے خوب مذاق اڑاتے۔ ویسے بھی وہ بچوں کے لیے تفریح کا اچھا خاص مشغلہ تھے، اپنی ماں کے انتقال کے بعداماں نے بھائی کی نگہداشت کی ذمہ داری سنبھال لی تھی۔ وہی ان کا منہ ہاتھ دھلاتیں، غسل کرواتیں، ناخن کاٹتیں۔ جب وہ مرے تب کہیں جاکر جان چھوٹی اور اتفاق ایساہوا کہ دادی کے والد کا بھی آخری عمر میں دماغ الٹ گیا تھااور وہ اسی حالت میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ عجیب بات یہ تھی کہ یہ ذہنی بیماری صرف اولاد نرینہ ہی پر حملہ آور ہوتی تھی۔ لڑکیاں ہمیشہ ٹھیک ہوتی تھیں۔ اب ان کے چچا کے ہاں ساری اولاد ٹھیک تھی۔ پھوپھی کے گھر ایک ہی بیٹا ہوا اور وہ ذہنی طور پر پس ماندہ تھا مگر نو عمری ہی میں مرگیا۔ لڑکیاں البتہ ٹھیک ٹھاک تھیں۔ خود ان کے والد کے گھر تین لڑکوں میں سے دو ایسے نکلے۔ وہ خود اور تینوں بہنیں ٹھیک ٹھاک تھیں بلکہ غیر معمولی طور پر ذہین بچوں میں ان کا شمار تھا۔ بڑی بہن نے فزکس میں ایم ایس سی کیا تھا اور وہ گورنمنٹ کالج میں لیکچرار تھیں۔ پھر وقاص تھے جو ہاؤس جوب کررہے تھے۔ پھر بھائی تھا۔ پھر زاہدہ تھی جو بی اے فائنل میں تھی۔ چھوٹی فریدہ ایف ایس سی میں تھی۔ راشدہ کے لیے جب بڑے چچا کے گھر سے رشتہ آیا تو سب سے پہلے وقاص نے مخالفت کی اور اڑ گئے کہ کسی صورت بڑی آپا کا رشتہ یہاں نہ ہونے دیں گے۔ وہ اماں بی سے الجھ پڑے۔

’’آخر آپ لوگ اتنی سی بات کیوں نہیں سمجھتے۔ کیا آپ کی سمجھ میں جینیٹک پروبلم نہیں آتا۔ آپس کی شادی کا یہ انجام ہوگا کہ بچوں میں اس خرابی کا اٹھانوے فیصد امکان ہوگا۔ آخر آپ ان دونوں کو اس جہنم میں کیوں جھونکنا چاہتے ہیں۔ جس میں خود جل رہے ہیں۔ رشتے بالکل غیر خاندانوں میں کریں تاکہ اس لعنت میں کمی واقع ہو۔‘‘

’’اور اگر غیر خاندانوں میں شادی کرنے سے بھی اس لعنت سے پیچھا نہ چھوٹا تو۔‘‘ اماں بی نے پوچھا۔

’’تو پھر کنوارے رہنا بہتر ہے۔‘‘ انھوں نے پٹاخ سے جواب دیا۔

’’تجھے غیب سے پیغام آگیا ہے کہ ایسا ضرور ہوگا۔ تو کب سے ولی اللہ ہوگیا ہے۔‘‘

’’خدا کو آنکھ سے نہیں عقل سے پہچانا جاتا ہے اماں بی۔ یہ سب جیتر کی خرابی کا شاخسانہ ہے۔‘‘

بہر حال بات ابّا میاں کی سمجھ میں آگئی۔ چچا بھی خاموش ہوگئے اور یوں چچا زاد کی شادی باہر ہوگئی اور بے چاری بڑی آپا وہیں کی وہیں رہ گئیں۔

وقاص ایف آر سی ایس کرنے انگلینڈ چلے گئے اور بڑے اعزاز کے ساتھ اپنی پڑھائی مکمل کرکے لوٹ آئے جب کہ ان کے ساتھ کے لڑکے پہلا امتحان بھی کلیئر نہ کرسکے اور وہیں نوکریاں کرکے بیٹھ رہے۔ انہیں اگر اپنی اماں کی یہ بات یاد نہ ہوتی کہ صرف تم ہی میرے گھر کا چراغ اور میرے بڑھاپے کا سہارا ہو تو شاید یہ بھی وہیں رہ جاتے کیونکہ ان کے سینئر سرجن اور کنسلٹنٹ ان سے بہت خوش تھے اور ان کی خواہش تھی کہ وقاص جیسا لائق اور ذہین ڈاکٹر وہیں رہے۔ وہاں ان کی ترقی، تجربے اور آگے بڑھنے کے بہت امکانات تھے۔ خدا نے ان کے اندر آپریشن کرنے کی فطری صلاحیت رکھی تھی۔ ان کی لمبی لمبی انگلیاں بڑی پھرتی، نفاست، خود اعتمادی اور صفائی سے اپنا کام کرتی تھیں۔ غالباًیہ ہاتھ نشتر تھامنے کے لیے ہی تخلیق کیے گئے تھے ان کے تقریباً تمام آپریشن کامیاب ہوتے تھے۔ ایسی قدرتی صلاحیت کم لوگوں میں ہوتی ہے۔ چنانچہ وطن لوٹ آئے اور کچھ ہی عرصہ بعد ان کی مہارت کے چرچے ہونے لگے۔ دولت، عزت اور شہرت ان کے قدم چومنے لگی۔ لوگ خود کو ان کے چابکدست ہاتھوں میں محفوظ سمجھتے تھے اور دور دراز سے آپریشن کرانے پہنچتے تھے۔ وہ ملک کے ایک بڑے اور مشہور ہسپتال میں نوکری کرتے تھے اور پرائیویٹ کیس بھی لیا کرتے تھے۔ صبح سات بجے سے رات گئے تک وہ مصروف رہتے۔ آپریشن، راؤنڈز، آؤٹ پیشنٹس، بس ان ہی چکروں میں وقت گزرتاتھا۔ گھر میں خوشحالی کا دور دورہ ہوگیا تھا۔ ابا میاں پہلے یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے اب ریٹائرمنٹ کے بعد گھر کے ہوکر رہ گئے تھے۔ زیادہ وقت مطالعے میں گزرتا تھا۔ اماں بی پہلے سے بوڑھی اورکمزور نظر آنے لگی تھیں۔ بڑی آپا کا شباب ڈھل رہا تھا۔ زاہدہ بھی اب لیکچرار ہوگئی تھی۔ فریدہ ڈاکٹر بن چکی تھی… دونوں لڑکوں میں غضبناکی اور تشدد کا رجحان بڑھتا جارہا تھا۔ سب ان کے قریب جانے سے بدکنے لگے تھے۔ اکثر زنجیروں میں جکڑے رہتے تھا۔ پہلے اماں بی کو کچھ نہ کہتے تھے مگر اب ان پر بھی خوخیانے لگے تھے۔ اور اب ان میں بھی اتنا کس بَل نہیں رہا تھا کہ ان کے اچانک حملوں سے اپنا بچاؤ کرسکیں۔ وہ عام مردوں سے زیادہ قوی ہیکل اور طاقت ور تھے ان کا سنبھالنا اتنا آسام کام نہیں رہا تھا۔ اماں بی کسی نہ کسی طرح ایک ملازم کی مدد سے ان کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔ کبھی کبھار تو بہت ہی تنگ آجاتیں اور بری طرح نڈھال ہوجاتیں مگر ان کو خود سے جدا کرنے کو تیار نہ ہوتیں۔ سب لوگ سمجھا بجھا کر اب خاموش ہوگئے تھے۔

آج اتوار کا دن تھا۔ وقاص ناشتے کے بعد برآمدے میں آرام کرسی پر دراز کچھ پڑھ رہے تھے۔ پورے ہفتے میں بس یہی ایک دن ہوتا تھا جب وہ ری لیکس ہوتے تھے۔ صرف دس بجے ایک چکر سرجیکل وارڈ کا لگاتے تھے۔ اگر کوئی ایمرجنسی کیس نہ آجاتا تو فرصت ہی ہوتی تھی۔ کچھ پڑھتے پڑھاتے یا جاکر کسی سے مل آتے۔ اماں بی ان کے پاس دوسری کرسی پر آبیٹھتیں۔ انھوں نے غور سے اپنی ماں کی طرف دیکھا۔ ان کا سر وقت سے پہلے سفید بھک ہوگیا تھا۔ سفید ملائم جلد لٹک آئی تھی۔ پیشانی کی لکیریں گہری ہوگئی تھیں۔ جب وہ غصے میں نہ ہوتیں تو ان کی آنکھوں سے بے پناہ نرمی و شفقت برستی تھی۔ یہ شفیق آنکھیں بڑی تھکی تھکی سی تھیں مگر جب وہ وقاص کی طرف دیکھتیں تو ان میں ایک چمک، خوشی اور فخر کی چمک جھلملا اٹھتی۔ اگر دو پاگلوں کو جنم دیا تھا تو اس لمبے چوڑے خوبصورت قابل اور ذہین جوان کو بھی انھوں نے ہی اپنے وجود سے تشکیل دیا تھا۔ درد سہہ کر دنیا میں لائی تھیں۔ خون جگر پلا کر بڑا کیا تھا اور جو خواب انھوں نے دیکھے تھے یہ ان سے بھی بڑھ کر ثابت ہوا تھا۔ بھلا اس سے بڑھ کر کسی ماں کے لیے اور خوشی کی بات کیا ہوسکتی تھی۔ اگر ان کی گردن میں ان دو دیوانوں کا طوق نہ ہوتا تو وہ کتنی پُرسکون اور کتنی خوش ہوتیں۔ انھوں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ وقاص کادل اپنی ماں کو دیکھ کر ایک عجیب سے دکھ سے بھر گیا۔ ان کا جی چاہا کہ وہ اپنی ماں کے کمزور اور تھکے ہوئے وجود کو اپنے مضبوط بازوؤں میں سمیٹ لیں۔ ان کے سفید بالوں والے سر کو اپنے سینے سے لگا کر ان کے سارے غم اور سارے مصائب دور کردیں۔ آسماں کی طرح ان پر چھا جائیں اور زمین کی طرح ان کے قدموں تلے بچھ جائیں۔ انھوں نے آہستگی سے پوچھا: ’’فرمائیے۔ یقینا آپ کچھ کہنا چاہتی ہیں۔‘‘

’’ہاں چندا ایک فرمائش کرنے آئی تھی۔ جانے پوری بھی کرسکوگے کہ نہیں۔‘‘

’’اماں بی آپ کے لیے تو میری جان بھی حاضر ہے۔ آپ حکم تو کیجیے۔ اگر میرے امکان میں ہوا تو ضرور پوری کروں گا۔‘‘

’’میرے بچے بات یہ ہے کہ دنیاوی لحاظ سے ایک آدمی جو کامیابیاں حاصل کرسکتا ہے وہ اللہ کے فضل سے تم نے حاصل کرلیں، میرے بھی جو فرائض تھے برے بھلے میں ادا کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ ایک فرض اور رہ گیا ہے اس سے بھی سبکدوش ہونا چاہتی ہوں۔ بے شمار لوگ تمہیں اپنی چاند سی بیٹیاں دینے کے آرزو مند ہیں۔ تم اجازت دو تو میں بات چیت کا سلسلہ شروع کروں۔ خاندان میں تو تم کروگے نہیں۔ باہر کرنے کے لیے کچھ وقت زیادہ درکار ہوتا ہے۔ اگر تمہاری نظر میں کوئی لڑکی ہے تو بتاؤ تاکہ میں وہاں جاؤں ورنہ …‘‘

وقاص نے بات کاٹ دی۔ ’’آپ کو میری شادی کا خیال کیسے آگیا۔ پہلے آپا، زاہدہ اور فریدہ کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔‘‘

’’بیٹا لڑکیوں کی شادیاں تو میرے اختیا رکی بات نہیں۔ میں خود تو پہل نہیں کرسکتی۔ صرف انتظار کرسکتی ہوں۔ کوئی مناسب رشتہ آیا تو ایک لمحے کی دیر نہیں لگاؤں گی۔ تمہاری شادی ضرور میرے اختیار کی بات ہے۔‘‘

’’اماں بی مجھے شادی نہیں کرنی ہے۔‘‘ وہ کتاب پر جھک گئے۔

’’یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ میری زندگی کی سب سے بڑی آرزو یہی ہے کہ تمہاری دلہن بیاہ کر لاؤں۔ تمہارے بچے اپنی گود میں کھلاؤں۔‘‘

وہ اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ ’’بچے کھلانے کی حسرت ابھی تک باقی ہے۔ ان دونوں کو کھلاتے کھلاتے ابھی جی نہیں بھرا۔ آپ چاہتی ہیں کہ ان جیسے کچھ اور پیدا ہوجائیں اور یہ چکر کبھی ختم نہ ہو۔‘‘

اماں بی نے بڑے دکھ سے ان کی طرف دیکھا اور آہستگی سے کہا۔

’’کیا یہ ضروری ہے کہ یہ منحوس چکر تمہارے ہاں بھی چلے۔ جو ہوتا ہے اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ انسان تقدیرِ الٰہی سے نہیں لڑسکتا مگر اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

’’یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ! وہ حیرت سے چلاّ اٹھے۔ ’’میں ابا میاں کی طرح اپنی زندگی جہنم نہیں بنانا چاہتا۔ میں اسی طرح ٹھیک ہوں۔ خوش ہوں۔ مجھے شادی کی ایسی کوئی خواہش نہیں۔ میں کبھی شادی نہیں کروں گا۔ آپ بھول گئیں آپ کس طرح ابّا میاں کا کلیجہ چھلنی کرتی تھیں۔ آپ نے ان کو کیسا کیسا لتاڑا ہے کہ وہ مرد تھے بااختیار تھے۔ حالات سے با خبر تھے شادی نہ کرتے اور اب مجھ سے مطالبہ کررہی ہیں کہ میں وہی غلطی دہراؤں۔ آپ چاہتی ہیں کہ ایک اور لڑکی آپ کی طرح اپنی جوانی کے خوبصورت ماہ و سال دیوانوں کے ساتھ سر پھوڑتے گزار دے۔ ازدواجی زندگی کی مسرتوں کو تلخی، چڑچڑے پن اور زہریلی باتوں سے تہس نہس کردے۔ اپنے باقی بچوں کی محبت کو پسِ پشت ڈال کر گوشت پوست کے ایسے لوتھڑوں کی خبر گیری کرتی رہے جن کو اس کی محبت کااحساس ہوسکتا ہے اور نہ قدر۔ جو احساس کی دولت سے مالا مال ہوں وہ یتیموں کی سی زندگی بسر کریں اور اپنی ماں کے پیار کو ترستے ترستے بڑے ہوجائیں۔ نہیں اماں بی یہ نہیں ہوسکتا۔ میں ابا میاں کی طرح ساری زندگی احساسِ جرم کی صلیب پر لٹک کر نہیں گزار سکتا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کی یہ فرمائش پوری نہ کرسکوں گا ہوسکتا ہے کہ کاتبِ تقدیر نے یہی لکھا ہو۔‘‘

وہ بے حد مضطرب تھے اور ہاتھ پشت پر باندھے ٹھل رہے تھے۔ اماں بی سہم سی گئیں اور ان میں مزید کچھ کہنے کا یارا نہیں رہا۔ وہ آنسو پونچھتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئیں۔ وقاص ان کے قدموں میں جھک گئے۔

’’اماں بی آپ کو میری باتوں سے دکھ پہنچا ہے۔ میں واقعی قابل گردن زدنی ہوں آپ مجھے معاف کردیجیے۔‘‘

اماں بی نے ان کی پیشانی پر بوسہ دیا اور کوئی جواب دیئے بغیر اندر چلی گئیں۔ جذبات کی شدت سے وقاص کا رواں رواں کانپ رہا تھا ذہن کسی صورت یک سو نہیں ہوپارہا تھا۔ اماں بی نے ان کی دکھتی رگ پر انگلی رکھی تھی۔ ٹیس تو اٹھنی ہی تھی۔ اب نہ پڑھنے میں جی لگ رہا تھا نہ گھر میں ٹھہرنے پر طبیعت مائل تھی۔ انھوں نے گیراج سے گاڑی نکالی، پورچ میں ابا میاں کھڑے تھے۔

’’کہاں جارہے ہو وقاص ایک کام تھا تم سے۔‘‘

’’جی فرمائیے۔‘‘ انھوں نے بے دلی سے کہا۔

’’ذرا غضنفر صاحب کے پاس ہو آنا۔ تم جانتے ہو وہ میرے بڑے گہرے دوست ہیں۔ وہ کچھ عرصے سے بیمار چلے آرہے ہیں۔ ڈاکٹر آپریشن تجویز کررہے ہیں اور وہ آپریشن سے بہت گھبراتے ہیں۔ بوڑھے بھی ہیں اور کمزور بھی۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ وقاص آپ کو دیکھ لے گا اور صحیح مشورہ دے گا۔ آپ کی تسلی اور تشفی کرادے گا۔‘‘

’’ابا میاں میں بھلا … کسی اور روز دیکھ آؤں گا۔‘‘

’’نہیں بیٹا تم آج ہی دیکھ لو تو اچھا ہے۔ تمہیں ویسے بھی فرصت کہاں ہوتی ہے اور انہیں واقعی تکلیف زیادہ ہے اور پھر بڑی عمر میں وقت کا کیا بھروسہ۔‘‘

’’میں تو ان کا گھر بھی نہیں جانتا کہ کہاں ہے۔‘‘

’’ارے میاں وہی گھر ہے سمن آباد والا تم نے کئی بار مجھے لیا اور چھوڑا ہے۔‘‘

’’اچھا ابا میاں‘‘ اور انھوں نے تیزی سے گاڑی نکالی اور چلے گئے۔

(جاری)

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ یاسمین نجمی