bank-1

ہندوستان کے بینکنگ سیکٹر کا مستقبل

اگست 2017 میں بی جے پی حکومت نے Financial Resolution and Deposit Insurance کے نام سے لوک سبھا میں ایک بل پیش کیا تھا جو بعد میں پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کو مشاورت کے لئے بھیج دیا گیا. بل کے مسودہ اور تجاویز کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستانی بینکوں میں ڈپوزٹرس کے ذریعے مجموعی طور پر لاکھوں کروڑ جمع کئے گئے پیسوں سے بیل اِن (Bail-In) کا کام لیا جائے۔

بیل اِن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایسے مالیاتی ادارے بطور خاص بینک جو لاکھوں کروڑ کی شکل میں بڑے کارپوریٹس کو قرض دیتے ہیں، اگر وہ اس قدر بڑے قرضوں کی بھرپائی نہ کر پائیں تو انہیں بینکوں کے کھاتے داروں اور ڈپوزٹروں کی جمع شدہ رقوم سے سہارا دیا جائے اور ان کے قرض کی واپسی کو معاف کر دیا جائے. اس کا براہ راست اثر یہ ہوتا ہے کہ بینکوں میں جمع شدہ کھاتے داروں اور ڈپوزٹروں کی پونجی کارپوریٹ سیکٹر کے ذریعے استعمال کر لی جاتی ہے اور پھر ایسے بینک یہ اعلان کر دیتے ہیں کہ کھاتے داروں اور ڈپوزٹروں کا پیسہ واپس کرنے کے لئے ان کے پاس سرمایہ نہیں ہے اور وہ دیوالیے پن کی دہلیز پر ہیں.

یہ بیل اِن (Bail-In) پیکیج بیل آؤٹ (Bail- Out) پیکج کا بالکل الٹا ہے. بیل آؤٹ پیکیج میں ڈوبنے یا عنقریب ڈوبنے یا دیوالیہ ہونے والے بینکوں کو حکومت باہر سے سہارا دیتی ہے. اور حکومت عوام سے ٹیکسوں کے ذریعے حاصل کی گئی رقوم کا استعمال کرتی ہے تاکہ ان پیسوں سے ڈوبنے والے بینکوں یا دوسرے مالیاتی اداروں کو ڈوبنے سے بچایا جا سکے۔ گویا کہ بیل اِن کرتے وقت اندرونی طور پر اکاونٹ ہولڈرس کے پیسوں کو استعمال کیا جاتا ہے اور بیل آؤٹ کے وقت بیرونی طور پر عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں سے مدد کی جاتی ہے۔

جیسے ہی 10 اگست 2017 میں (FRDI) بل لوک سبھا اور پھر پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی میں پیش کیا گیا، بینک کھاتے داروں کے درمیان یہ افواہ پھیلنا شروع ہو گئی کہ اب عوام کے پیسے کو مذکورہ بالا مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اس کی زبردست مخالفت ہوئی۔ خود مشترکہ کمیٹی میں شامل کئی افسران نے بھی کھل کر اس بل کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ بل عوام مخالف ہے اور اس بات کا پورا اندیشہ ہے کہ بیل اِن کے نام پر بینک اکاؤنٹ ہولڈرس کی جمع شدہ رقوم کا غلط استعمال کیا جائے گا، چنانچہ اس بل کو فوراً واپس لیا جانا چاہیے۔ نتیجے کے طور پر 2018 میں بی جے پی کے مالیاتی امور کے وزیر پیؤش گوئل نے اس بل کو واپس تو لے لیا لیکن ساتھ ہی اس بات کا اشارہ بھی دیا کہ چند تبدیلیوں کے ساتھ اس بل کو دوبارہ لایا جا سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ کے موسم سرما کے اجلاس سے پہلے پھر سے یہ بل دوسرے نام "FinancialSector Resolution Development and یعنی FSDR کے نام سے پیش کیا گیا۔ حکومت کی منشاء یہ تھی کہ موسم سرما کے پارلیمنٹ سیشن میں اس بل کو پیش کیا جائے اور پاس کرا لیا جائے لیکن غیر دستوری اور انسانیت سوز Citizenship Amendment Act کو لانے اور اس میں حد درجہ مشغولیت کے باعث بی جے پی حکومت یہ بل پیش نہ کر سکی۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ بل کابینہ کی منظوری کے بعد حکومت اگلے بجٹ سیشن میں پیش کرے گی اور اسے قانونی طور پر نافذ کرنے کی کوشش کرے گی۔

حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے یا کرنے جا رہی ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس مالیاتی بحران کی طرف پلٹنا اور اسے سمجھنا ہو گا جو 2008 میں امریکہ میں شروع ہوا اور پھر دیکھتے دیکھتے یورپ سمیت تقریبا پوری دنیا میں پھیل گیا۔ اس بحران اور اس سے نمٹنے کی ایک خاص بات یہ رہی کہ اس بحران سے چھٹکارا پانے کے لیے امریکی حکومت نے بڑے پیمانے پر بیل آؤٹ پیکج سے کام لیا اور لاکھوں کروڑ کے عوامی ٹیکس کے سرمایہ سے کئی عالمی سطح کے امریکی بینکوں کو ڈوبنے سے بچایا۔

لیکن چند مہینوں یا سالوں بعد ’’جی سیون ممالک‘‘ کی آپس میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں انہوں نے Financial Stability Board قائم کیا۔ بعد میں "جی سیون ممالک” نے کئی دیگر ممالک جن میں انڈیا بھی ہے FSB میں شامل کیا۔ ان سب ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر مستقبل میں مالیاتی ادارے جیسے بینک وغیرہ کے ڈوبنے یا مالیاتی اداروں کے بحران کا کوئی موقع آتا ہے تو حکومت ایسے اداروں کو بچانے کے لیے بیل آؤٹ پیکیج سے کام نہیں لے گی جیسا کہ 2008 کے شدید مالیاتی جھٹکوں اور بحرانوں کے وقت امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک نے کیا بلکہ اس کی جگہ بینک اکاونٹ ہولڈرس کے جمع شدہ پیسوں کا استعمال کیا جائے گا۔

یہاں دیکھنے اور سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ہندوستان مغربی ممالک کے برعکس ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں پرائیویٹ سیکٹر بینک کے مقابلے پبلک سیکٹر بینک کا غلبہ ہے اور یہ پبلک سیکٹر بینک حکومت کی تمام پالیسیوں کی نہ صرف پیروی کرتے ہیں بلکہ حکومت کو مالیاتی امور میں مشورہ بھی دیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مختلف اداروں کو بڑے بڑے قرض دینا بھی ان ہی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ چنانچہ کئی اسباب کی بنا پر اب تک عوام کا ان بینکوں پر کافی اعتماد ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ 1969 کے بعد سے اب تک کوئی پبلک سیکٹر بینک دیوالیہ پن کا شکار نہیں ہوا ہے۔ دو ایک بینکوں کی حالت دگرگوں ہوئی بھی تو حکومت نے ان کا الحاق دوسرے بینک میں کر دیا۔

بہرحال مذکورہ بالا بل (FSDR) کے پارلیمنٹ میں پیش ہونے اور پھر قانون بن جانے کے بعد یہ صورتحال باقی نہیں رہ جائے گی، کیونکہ اس بل میں مذکور ریزولیوشن اتھارٹی جسے ریزرو بینک آف انڈیا پر بھی فوقیت حاصل ہو گی) کو مندرجہ ذیل اہم ترین اختیارات حاصل ہوں گے۔

1- بنیادی معاہدے کو ہی ختم کر دینا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ بنیادی معاہدہ جس کے تحت ایک اکاونٹ ہولڈر جو اپنا پیسہ بینک میں ڈپوزٹ کے طور پر رکھتا ہے اسی کو مذکورہ بالا ریزولیوشن اتھارٹی ختم کر دے اور پھر اس کے پیسے کو جزئی یا کلی طور پر کسی بھی دوسرے مد میں استعمال کرکے اور وہ بھی بغیر کسی جوابدہی کے۔

2- ہزاروں کروڑ کے قرضوں کو معاف کر دینا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ ہزاروں لاکھوں کروڑ کے قرض جو بینک کارپوریٹ سیکٹر کو دیتے ہیں ان قرضوں کو معاف کر دیا جائے جس کا خمیازہ بینک کھاتے داروں کو اٹھانا پڑے گا۔ واضح رہے کہ حالیہ رپورٹوں کے مطابق ہندوستان میں بینکوں کے ذریعے دیئے گئے ہزاروں لاکھوں کروڑ کے قرض میں 86 فیصد امبانی اور اڈانی جیسے بڑے کارپوریٹس کو دیا گیا ہے لیکن اس پر حکومت کے ذریعہ خاموشی برتی جاتی ہے اور فقط 14 فیصد قرض غریب کسانوں وغیرہ کو دیا گیا ہے لیکن اس کا خوب پرچار کیا جاتا ہے اور واویلا مچایا جاتا ہے۔

3- بینک کھاتے دار جو رقم بینک میں جمع کرتے ہیں اس کے تئیں جو ذمہ داریاں بینک پر ہوتی ہیں ان میں تبدیلی کر کے ان ذمہ داریوں کو ہلکا کرنا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ بینک کھاتے داروں کو اپنا پیسہ بینک سے واپس لینے میں سخت دشواری پیش آ سکتی ہے اور پیسہ ڈوبنے کا خطرہ ہر وقت منڈلاتا رہے گا.

4- بریج انسٹیٹیوشنز کا قیام عمل میں لائے۔

بریج انسٹیٹیوشنز ایسے وقتی مالیاتی ادارے کو کہتے ہیں جو کسی ڈوبتے ہوئے بینک یا مالیاتی ادارے کو بچانے کے لیے قائم کیا جائے تاکہ ناکام ہونے اور ڈوبنے والے ادارے یا بینک کے اثاثے اور واجبات پر کام کر کے فوائد حاصل کیے جا سکیں۔

یاد رہے کہ (FSDR) بل اگر پارلیمنٹ سے پاس ہو کر قانون بن جاتا ہے تو اس بات کا سخت ترین اندیشہ ہے کہ مذکورہ بالا منصوبوں اور بہانوں کے تحت ہندوستان کے کئی اہم ترین بینکوں میں جمع شدہ ہزاروں لاکھوں کروڑ کی رقم کو امبانی اور اڈانی جیسے بھیانک کارپوریٹس کو سیاسی مفادات کے لئے دے کر بینکوں کو لیکویڈیٹ کر دیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہندوستانی عوام، جنکی بہت بڑی تعداد اپنا پیسہ بینکوں میں محفوظ رکھتی ہے، اس کا اعتماد بینکوں سے اٹھ جائے گا۔ آج تک عوام بینکوں پر اندھا اعتماد کرتے آئے ہیں اس یقین کی بنیاد پر کہ وہ جب چاہے اپنا پیسہ جمع کر سکتے ہیں اور جب چاہے واپس لے سکتے ہیں۔

ایسے وقت میں جب ملک کے عوام بینک کے ذریعے مختلف طرح کے اضافی چارجز کے لاگو ہونے پر پہلے سے ہی پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ انہیں کم سے کم رقم کی جو حد ہے وہ انہیں بینک میں برقرار رکھنی پڑتی ہے تاکہ وہ پینالٹی سے بچ سکیں۔ یہ بل اگر قانون بن گیا تو اس کا براہ راست اثر دوسرے قوانین پر بھی پڑے گا جیسے بینکنگ ریگولیشن ایکٹ اور نیشنلائزیشن ایکٹ وغیرہ کیوں کہ مالیاتی امور سے متعلق یہ تمام قوانین بھی تبدیل ہوںگے۔

آج ہندوستان جیسے ملک میں جہاں ملک کی ایک چوتھائی آبادی دانے دانے کو محتاج ہے کارپوریٹس نے حکومت اور قانون کی سرپرستی میں لوٹ کھسوٹ کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اس میں مذکورہ بالا بل تیل پر جلتی کا کام کرے گا۔ یہ بڑے کارپوریٹس جو اب تک قرضوں کی شکل میں بینکوں کو لوٹتے رہے ہیں ان کا لوٹ کھسوٹ کا کام اور بھی آسان ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ مذکورہ بالا بل جب جنوبی امریکہ کے چیلی جیسے بعض ممالک میں لاگو کیا گیا تو کھاتے داروں کو اپنی جمع شدہ رقم کا 42 سے 50 فیصد پیسہ ہی واپس مل سکا۔ جب کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس میں عوام اپنی کمائی ہوئی آمدنی پربچت کا خاص اہتمام کرتی ہے تاکہ برے وقت کام آ سکے۔ انہیں چھوٹی چھوٹی جمع شدہ رقم کی وجہ سے بینک لاکھوں کروڑ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں جی ڈی پی کا 78 فیصد انہی محتاط طریقے سے بچائی گئی آمدنی سے حکومت کو حاصل ہوتا ہے۔

ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ اگر ایسی آفت آتی ہے کہ عوام بینکوں میں اپنا پیسہ نہ رکھنے پر مجبور ہو جائیں تو اس کا براہ راست اثر حکومت کے مختلف اداروں پر بھی پڑے گا. حکومت کے صرف و خرچ کی شرح کافی حد تک متاثر ہو گی.

خلاصہ یہ کہ ہم ایک بڑے مالیاتی بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کا حکومت اور عوام یکساں طور پر سامنا کریں گے. مزید برآں حکومت یہ کہہ کر انگنت ذمہ داریوں سے ہاتھ کھینچ سکتی ہے کہ چونکہ اس کے پاس فنڈز نہیں ہیں اس لیے وہ تمام چھوٹے بڑے حکومتی اداروں کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دے رہی ہے. اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ صورتحال ایک بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے جس کے سبب معیشت پر زبردست منفی اثرات مرتب ہوں گے اور انارکی ایک عام بات ہو جائے گی۔

اس خطرناک صورتحال سے بچنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ بینکنگ اور فانینشیل سیکٹر میں موجود ٹریڈ یونین اور عوام الناس کی بڑی تعداد اس بل کی پر زور مخالفت کرے جو آنے والے کسی سیشن میں حکومت پارلیمنٹ میں پیش کر سکتی ہے۔

یہ بات ہم دھیان میں رکھیں کہ ہندوستان کی 26 فیصد آبادی معاشی طور پر خط افلاس، جو کہ ایک نیچی لائن ہے، کے تحت زندگی گزارتی ہے اور عملی طور پر ہر وقت معاشی بدحالی کے جہنم میں رہتی ہے البتہ ملک کا کریمی لیئر جو کہ کل آبادی کا صرف ایک فیصد ہے اس کی آمدنی ہر سال انتہائی حیرت انگیز طور پر بڑھتی ہی جا رہی ہے، مزید یہ کہ اسے بینکوں سے قرض کی بھی ہر وقت سہولت ہے جس کے لیے مذکورہ بالا بل اور اسے قانون بنانے کا حکومت کی طرف سے انتظام کیا جا رہا ہے۔

یہ جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی کہ صرف گزشتہ پانچ سالوں میں چار لاکھ کروڑ روپیہ (جو درحقیقت عوام کا ہی پیسہ تھا) بڑے کارپوریٹس کو بطور قرض دے کر بعد میں معاف کر دیا گیا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سراج الدین فلاحی

تبصرہ کیجیے