6

جاہلانہ رسمِ جہیز

زندگی کے تمام امور و معاملات میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مکمل اطاعت کا نام اسلام ہے۔ اللہ کی نازل کردہ ہدایات اور محمد ﷺ کی سنت دونوں سے مل کر شریعت بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’جو لوگ اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ نہ کریں ایسے ہی لوگ دراصل کافر ہیں۔‘‘

یعنی کسی مسلمان کے لیے اس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وہ اللہ کی نازل کردہ تعلیمات کی خلاف ورزی کرے۔

اسی طرح نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ:

’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشِ نفس اس شریعت کے تابع نہ ہوجائے جسے میں لے کر آیا ہوں۔‘‘ (حدیث)

ہر صاحب ایمان کا اپنے تمام امور و معاملات کو اسی شریعت کے تابع کردینا لازمی ہے۔ اگر وہ مسلمان رہنا اور مسلمان ہی مرنا چاہتا ہو تو اسے ان تمام جاہلانہ اور غیر اسلامی رسوم و رواج اور طور طریقوں کو چھوڑ دینا ہوگا جو شریعتِ اسلامی کے خلاف ہوں اور اسلامی تعلیمات سے ٹکراتے ہوں۔ یہی ترک جاہلیت اسلام میں مطلوب ہے۔

شادیوں میں جن جاہلانہ اور غیر اسلامی رسوم کا رواج ہوچکا ہے، ان میں ایک ’’جہیز‘ بھی ہے۔ جو مہر کی ضد میں شریعت اسلامی کے خلاف پروان چڑھ چکی ہے۔

شریعت میں لڑکی پر کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی ہے۔ مرد کو اپنی حسبِ حیثیت ضروری امور میں مال خرچ کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’مرد عورتوں پر قوام ہیں … اس بنا ء پر کہ وہ اپنے اموال خرچ کرتے ہیں۔‘‘

مال خرچ کرنے میں کپڑے، زیور، مہر، ولیمہ اور نفقہ شامل ہے۔ ان میں مہر فرض ہے۔ اس کی ادائیگی اگر نقد (معجل) ادا کردی جائے تو یہ افضل ہے۔ ورنہ اگر ادھار (مؤجّل) ہو تو وعدہ کرنا چاہیے کہ وہ کب اور کس طرح ادا کرے گا۔ لیکن اگر نیت یہ ہو کہ لکھ لیا جائے کون دیتا ہے۔

تو ایسے شخص کے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا:

’’جس نے کسی مال مہر کے بدلے کسی عورت سے نکاح کیا اور نیت یہ رکھی کہ اس مہر کو ادا نہ کرے گا وہ دراصل زانی ہے۔‘‘ (حدیث)

غور فرمائیں، مہر ادا نہ کرنے کی نیت کتنا سنگین گناہ ہے۔ اس وقت معاشرہ میں مہر کی حیثیت جہیز کے سبب ثانوی کردی گئی یا گھٹا دی گئی ہے۔ مہر برائے نام اور سادگی سے رکھ لیا جاتا ہے۔ جب کہ جہیز جو حرام ہے نقد وصول ہوتا ہے۔ اس مالِ حرام کی نمائش ہوتی ہے جسے لوگ دیکھنے کے لیے آتے ہیں اور اس کا چرچا ہوتا ہے۔ مال جس قدر ملتا ہے حرص اور لالچ میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقوں سے مت کھاؤ۔‘‘

جہیز کی رسم کو رواج دینے اور پروان چڑھانے میں دینی رہنماؤں اور دانشوروں کا خاص کردار رہا ہے۔ یہ حضرات جہیز کے خلاف دھواں دھار تقریریں کرتے ہیں، اس کی برائیاں بھی بیان کرتے ہیں اور دوسری ہی سانس میں اس کو سنت ثابت کرنے لگتے ہیں۔ اور دلیل میں حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے نکاح کی مثال پیش کی جاتی ہے کہ آپؐ نے ان دونوں کو نکاح کے وقت یہ جہیز دیا تھا اور اس کی تفصیلات یہ بتائی جاتی ہیں کہ ’’چادر، تکیہ، مشک، بستر، چکی وغیرہ۔‘‘

اگر نبی ﷺ نے یہ چیزیں جہیز میں دی ہیں تو وہ سنت رسول اور شریعت اسلامی کا ایک جز ء بن گئیں! اس کے خلاف بولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس بات کو عام کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ یہ واقعہ بیان کرکے ایک جاہلانہ رسم کوکمالِ حکمت سے سنت رسول ﷺ بنادیا جاتا ہے۔

اصل واقعہ اس طرح ہے:

ابوطالب معذور، کثیر الاولاد اور تنگ دست تھے۔ اس لیے ان کی اولاد کو نبی ﷺ نے اپنے خاندان بنو ہاشم میں تقسیم کردیا تھا۔ اور حضرت علیؓ کو اپنے پاس رکھا تھا۔ جب آپؐ نے حضرت فاطمہؓ کا نکاح حضرت علیؓ سے کرنے کا فیصلہ کیا تو حضرت علیؓ سے دریافت کیا کہ آپ کے پاس کیا ہے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ گھوڑا اور زرہ۔ محمدﷺ نے فرمایا: زرہ بیچ دو۔ حضرت عثمان نے یہ زرہ ۴۸۰ درہم میں خریدی تھی۔ اس رقم سے مندرجہ بالاچیزیں خریدی گئیں جو اس وقت کی ضرورت اور معیار زندگی تھا۔ بقیہ رقم مہر اور ولیمہ وغیرہ میں استعمال کی گئی۔ اگر نبی ﷺ یہ چیزیں اپنے پاس سے دیتے بھی تو اس کی حیثیت جہیز کی نہ ہوتی کیونکہ حضرت علیؓ خود نبیؐ کے زیرِ پرورش تھے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک گروہ نے حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ اور ان کی اولاد کو مرکزِ دین بنا کر سارا نظامِ دین انہی کے گرد گھمادیا ہے۔ اس لیے نبیؐ کی دیگر صاحبزادیوں کو بھلا دیا گیا۔ یا ان کا ذکر نہیں آتا کہ محمدﷺ نے ان کو کیا جہیز دیا تھا۔ اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو خود محمدﷺ نے کئی نکاح کیے، اپنی دیگر صاحب زادیوں حضرت زینبؓ، حضرت رقیہؓ، حضرت ام کلثومؓ کی شادیاں کیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ، خلفائے راشدین، تابعین، سلف صالحین، قرون اولیٰ اور وسطیٰ میں کہیں دور دور تک یہ رسمِ جاہلانہ جہیز نظر نہیں آتی۔ اگر جہیز سنت رسولؐ ہے تو ان ادوار میں اس کے نمونے اور مثالیں ملنی چاہئیں تھیں۔ اور خود رسول ﷺ کی دوسری بیٹیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ’’جہیز‘‘ دیا جانا چاہیے تھا۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔

پھر یہ بات لڑکے کی مردانگی کے بھی خلاف ہے کہ وہ صنفِ لطیف کے دئے ہوئے لباس پہن کر عقد کرے، اس کی لائی ہوئی چیزوں پر عیش کرے، ہونے والی شریکِ حیات سے مانگے یا لے۔ یہ اس کے فقیر ہونے کی علامت ہے۔یا کم از کم اخلاقی دیوالیہ پن کا اعلان تو ہے ہی۔ لڑکیوں پر دوسرا ظلم ان کے والدین کرتے ہیں۔ وہ جاہلانہ رسم جہیز کو تو خوش دلی سے ادا کرتے ہیں لیکن وراثت میں لڑکی کا حصہ ادا نہیں کرتے ہیں جو حقوق العباد میں سے ہے اور جسے دنیا میں نہیں ادا کیا گیا تو آخرت میں نیکیوں کی شکل میں ادا کرنا ہوگا۔

آخر اس برائی کے خلاف کون آواز اٹھائے گا؟

معاشرہ کی وہ لڑکیاں جو عدم جہیز کی وجہ سے بوڑھی اور برباد ہورہی ہیں؟

وہ والدین … جو لڑکی کی پیدائش کے وقت سے ہی جہیز کے تصور سے پریشان اور بعد میں جہیز کے لیے رقم جٹانے میں مقروض اور تباہ ہوجاتے ہیں؟

مسلم معاشرہ ۔۔۔جو بے حسی کا شکار ہے۔

وہ دولت مند لوگ… جو دولت کی نمائش کرنا چاہتے ہیں؟

وہ واعظ … جو جہیز کے خلاف وعظ اور تقریریں کرتے تو ہیں لیکن اسے ’’لینے اور دینے‘‘ میں ’’وسعتِ قلب‘‘ رکھتے ہیں؟

یاوہ دینی رہنما … جنھوں نے کمالِ حکمت سے جہیز کو سنتِ رسولؐ اور شریعت کا جزء بنادیا ہے؟

اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

شیئر کیجیے
Default image
غلام رسول دیشمکھ

تبصرہ کیجیے