BOOST

ہوس کی شکار

’’نہ جانے شہزان کب گھر جائے گا؟‘‘ نشرہ نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے سوچا۔

’’نشرہ چلو چل نہیں رہی ہو۔‘‘ رشمی نے فائل اٹھاتے ہوئے کہا۔

’’ہاں رشمی چلو، نہ جانے یہ شہزان کدھر چلا گیا؟‘‘ اس نے اٹھتے ہوئے کہا۔

’’کہیں تمہارے لیے آسمان سے تارے تو توڑنے نہیں گیا۔‘‘ رشمی کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی۔

’’وہ دیکھو سامنے اسکوٹر اسٹارٹ کررہا ہے۔‘‘ اس نے اسکوٹر کے قریب کھڑے شہزان کی طرف اشارہ کیا۔

’’شہزان میں تو تمہارا آفس میں انتظار کررہی تھی ایک بار مجھ سے کہا تو ہوتا۔‘‘ اس نے شکایت کے انداز میں کہا۔

’’او کے نشرہ میں چلتی ہوں، اب تم تو اسکوٹر سے ہی آؤ گی۔‘‘ اس نے چٹکی لی۔

’’نشرہ میں اسکوٹر بہت دیر سے اسٹارٹ کرنے کی کوشش کررہاہوں لیکن یہ اسٹارٹ ہی نہیں ہورہا ہے۔‘‘

’’روز کا ڈرامہ تمہارے اسکوٹر کا۔‘‘ اس نے ناگواری سے کہا۔

’’اوہ کتنے خوش قسمت ہیں یہ لوگ۔ ان کو کسی بات کی فکر ہی نہیں۔‘‘ اس نے برابر سے گذرتی ہوئی چمکدار کار کو دیکھ کر ایک گہری سانس لی۔

نشرہ، شہزان کے چچا کی اکلوتی بیٹی تھی۔ اور جب وہ پیدا ہوئی تھی تبھی شہزان کے والد نے اسحاق احمد سے اس کے لیے مانگ لیا تھا۔ ارشد صاحب کے دو بچے شہزان اور لبنیٰ تھے۔ لیکن ارشد صاحب کی اچانک موت سے ساری ذمہ داری شہزان کے کندھوں پر آگئی تھی۔ لیکن رضیہ بیگم اپنے شوہر کے وعدے کو نہیںبھول پائی تھیں۔ اور پھر شہزان اور نشرہ بھی ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔

’’آنٹی شہزان کہاں ہے؟‘‘ نشرہ نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔

’’نشرہ آپی! کبھی ہمارے پاس بھی بیٹھ جایا کرو۔‘‘ رضیہ بیگم کے بولنے سے پہلے ہی لبنیٰ نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’شہزان بھیا! دیکھئے موسم کتنا اچھا ہے۔‘‘ اس نے کالے کالے بادلوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’’شہزان میں تم سے ایک بات کہوں مانوگے۔‘‘

’’اگر ماننے کے لائق ہوگی تو ضرور مانوں گا۔ بولو کیا کہنا چاہتی ہو۔‘‘

’’تم دبئی چلے جاؤ۔‘‘ اس نے بنا کسی تمہید کے کہا۔

’’نشرہ تم پاگل تو نہیں ہوگئی ہو۔‘‘ وہ کھڑا ہوگیا۔

’’نہیں میں سیریس ہوں۔ تمہارے دبئی جانے سے ہم سب کی زندگی سنور جائے گی۔‘‘

’’لیکن امی اور لبنیٰ؟‘‘

’’تمہاری غیر موجودگی میں میں ان کا خیال رکھوں گی۔‘‘

’’لیکن نشرہ دبئی جانا اتنا آسان تو نہیں اور پھر میں ایم۔بی۔ اے۔ کررہا ہوں۔‘‘ اس نے دبئی کی چمک سے آنکھ بچاتے ہوئے کہا۔

’’ضروری نہیں ایم۔بی۔اے۔ کرکے بھی اچھی نوکری مل ہی جائے۔ اور اگر مل بھی گئی تو صرف دس پندرہ ہزار سے زیادہ تو یہاں ملنے سے رہے۔ جبکہ وہاں تو بیشمار دولت ملے گی۔ فیصل کو دیکھو جو ہمارے ساتھ کالج میں پڑھتا تھا۔ دو سال کے بعد وہ دبئی سے آیا ہے۔ پہچاننے میں نہیں آرہا تھا۔ اس نے گاڑی خریدی ہے۔ تم کہو تو میں اس سے بات کروں؟ ویسے میں نے اس سے بات کی بھی تھی۔‘‘

’’نشرہ تم دولت کی چمک میں اندھی ہورہی ہو۔ تم نے میرے بغیر کہے فیصل سے بات بھی کرلی۔‘‘

’’میں تمہیں اپنا سمجھتی ہوں اس لیے میں نے بات کی ہے۔ کیا تم مجھے اپنا نہیں سمجھتے؟‘‘

’’بس کرو نشرہ‘‘ وہ اٹھا تو اس کے پیچھے پیچھے نشرہ بھی چل دی۔

٭٭٭

’’بیٹی! شہزان کو نہ جانے کیا ہوگیا ہے۔ نہ کچھ صحیح سے کھا رہا ہے نہ پی رہا ہے۔ بس ایک ضد لگائے ہے میں دبئی جاؤں گا۔‘‘ اس کی ماں نے بڑے درد بھرے انداز میں کہا۔

’’پلیز نشرہ آپی آپ ہی بھائی جان کو کچھ سمجھائیے۔ ہم لوگوں کا کیا ہوگا؟‘‘ لبنیٰ کہہ رہی تھی۔ اس کے لہجے میں بلا کا کرب اور بڑی مایوسی تھی جبکہ نشرہ کو اندر سے بے حد خوشی تھی۔اور اسے لگ رہا تھا کہ جیسے اس کی دلی مراد بر آگئی ہو۔

’’ٹھیک ہے میں سمجھاؤں گی۔‘‘ اس نے انہیں ظاہری طور پر تسلی دی۔

’’ہاں نشرہ اسے سمجھاؤ پاگل ہوگیا ہے وہ۔‘‘ اسحاق صاحب نے داخل ہوتے ہوئے کہا۔

اور پھر ایک مہینے کے بعد وہ اپنی ماں اور بہن کو تسلیاں دے کر چلا گیا۔ اسحاق صاحب بھاوج کی خیر خبر کو روز آتے اور بھابی و بھتیجی کی ضروریات کا بھی خیال رکھنے کی کوشش کرتے۔ نشرہ بھی اپنی چچی اور بہن کا خیال رکھتی اور ساتھ ہی شہزان کو خط لکھنے اور اس کی خبر گیری کرنے کا خیال رکھتی۔اس دوران وہ اسے پابندی سے خط لکھتی رہی اور وہ بھی برا بر خط لکھتا تھا۔

٭٭٭

’’رشمی یہ گاڑی کس کی ہے؟‘‘ اس نے آفس گیٹ پر کھڑی لمبی چمچماتی کار کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔

’’ہمارے آفس میں نئے مینیجر آئے ہیں۔ سنا ہے لندن سے پڑھ کر آئے ہیں۔‘‘

’’اوہ بہت خوب یہ کہہ کر وہ اپنی سیٹ پر چلی گئی۔‘‘

’’میڈم! آپ کو صاحب بلا رہے ہیں۔‘‘ چپراسی نے آکر کہا۔

’’جی سر!‘‘ اس نے روم میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔

’’آپ کا نام؟‘‘

’’نشرہ!‘‘

مس نشرہ! آپ پورے پندرہ منٹ لیٹ آئی ہیں اور مجھے لیٹ آنے والے لوگ بالکل پسند نہیں ہیں۔

’’وہ … وہ سر…‘‘

’’چلو آج تو چلے گا۔ لیکن آج کے بعد آپ ہمیشہ ٹائم پر آئیں گی۔ جو لوگ وقت کی قدر نہیں کرتے وہ کامیاب نہیں ہوتے۔ اب آپ جاسکتی ہیں۔‘‘

’’اوکے سر۔‘‘ وہ خاموشی سے باہر نکل آئی۔

’’جو لوگ وقت کی قدر نہیں کرتے کامیاب نہیں ہوتے۔‘‘ اس نے کئی بار یہ جملہ دہرایا۔ ’’کتنا اچھا انداز ہے بولنے کا۔‘‘

’’ارے کیا سوچ رہی ہو؟‘‘ رشمی کے کہنے پر وہ اپنی فکر سے باہر آئی۔

’’رشمی نئے بوس تو بہت ہینڈسم ہیں۔‘‘

’’ارے اتنی تعریف کررہی ہو۔ وہ بوڑھے ہیں بوڑھے۔‘‘

’’ارے کیا بوڑھے ہیں۔ تیس پینتیس سال کی عمر ہوگی ان کی۔‘‘

اب زندگی معمول کے مطابق گزرنے لگی تھی۔ وہ مینیجر زہیب حسن سے کافی متاثر تھی۔ انہیں آئے ہوئے پورے دو مہینے ہوگئے تھے۔ اس دن اسے بس اسٹاپ پر کھڑے آدھا گھنٹہ ہوگیا تھا۔ وہ بار بار گھڑی کی طرف دیکھ رہی تھی۔

تبھی اس کو آواز سنائی دی ’’ارے مس نشرہ ابھی تک یہیں ہیں۔‘‘ سامنے زہیب حسن اپنی گاڑی میں بیٹھے تھے۔

’’جی سر ابھی بس نہیں آئی ہے۔‘‘

’’آئیے میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘

’’نہیں سر! آپ کو زحمت ہوگی۔‘‘ اس نے سٹپٹا کر کہا۔

’’نہیں تمہیں رات ہوجائے گی آؤ بیٹھو۔‘‘

اور پھر یہ معمول ہوگیا۔ وہ آفس سے روز زہیب حسن کے ساتھ گھر جانے لگی۔

اس دن بھی وہ زہیب حسن کے ساتھ آفس سے گھر جارہی تھی۔ تبھی انھوں نے گاڑی کو ایک کافی پوائنٹ پر روکا۔ ’’نشرہ میں کافی پینا چاہتا ہوں۔ کیا تم میرے ساتھ چلوگی؟‘‘

’’جی سر!‘‘ کتنی بار اس نے شہزان سے یہاں چلنے کے لیے کہا تھا۔ وہ ہر بار یہ کہہ کر منع کردیتا تھا کہ یہ سب بڑے آدمیوں کے چونچلے ہیں۔

’’کیا سوچ رہی ہو؟‘‘ نشرہ

’’جی سر کچھ نہیں۔‘‘

’’یہ تم سر سر کیا لگائے رہتی ہو، میں آفس میں تمہارا بوس ہوں لیکن یہاں پر ہم ایک اچھے دوست کی حیثیت سے آتے ہیں۔اور پھر تم مجھے صرف زہیب کہہ سکتی ہو۔‘‘

’’صرف زہیب ، اچھا اب چلیے۔‘‘ نشرہ نے کافی کا مگ رکھتے ہوئے کہا۔

’’تھوڑی دیر اور رکو نشرہ۔ اچھا یہ بتاؤ نشرہ تمہارے گھر پر اور کون کون ہے؟‘‘

’’میری امی اور ابو۔‘‘

’’اور بہن بھائی؟‘‘

’’نہیں میں اکیلی ہی ہوں۔‘‘

’’میں بھی اکیلا ہی رہتا ہوں۔‘‘

’’آپ کی وائف؟‘‘

’’نہیں میں نے ابھی شادی نہیں کی ہے۔‘‘

’’ابھی تک آپ نے شادی نہیں کی۔ اس نے حیرانی سے کہا۔

’’ہاں ابھی تک کوئی اچھی لڑکی نہیں ملی۔ پھر میں بھی اپنے کیرئیر کو بنانے کے سلسلے میں ادھر ادھر گھومتا رہا۔‘‘

اس دن نشرہ معمول کے خلاف آفس سے جلدی نکل گئی تھی۔ زہیب حسن اسے جاتا دیکھ کر تیزی سے آفس سے باہر آگئے۔

’’کہاں جارہی ہو نشرہ؟‘‘

’’گھر جارہی ہوں۔‘‘

’’آؤ میں چھوڑدیتا ہوں۔‘‘

تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ ایک بڑے ریسٹورینٹ کے سامنے تھے۔

’’زہیب مجھے گھر جانا ہے۔‘‘

’’نہیں تھوڑی دیر کے لیے آجاؤ۔‘‘ اور اسے مجبوراً جانا پڑا۔ اب وہ لوگ کھانا کھا چکے تھے۔

’’نشرہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ زہیب نے بنا کسی تمہید کے کہا۔

’’لیکن زہیب …‘‘ وہ بس اتنا ہی کہہ پائی تھی۔ اور اگلے ہی دن یہ بات پورے آفس میں پھیل گئی۔

’’بیٹی ایسا کیوں کرنا چاہتی ہو تم؟‘‘ روبینہ بیگم نے مایوسی سے کہا۔

’’امی یہ میری زندگی ہے اور جس زندگی کے میں نے بچپن سے خواب دیکھے تھے وہ مجھے مل رہی ہے۔ تومیں کیوں ٹھکرادوں۔‘‘ اس کے لہجے میں تکبر تھا۔

’’لیکن ہم نے ارشد بھائی اور زاہدہ بھابی کو زبان دی ہے۔ اور شہزان دبئی سے آئے گا تو…‘‘

’’میں کچھ نہیں جانتی۔‘‘ اس نے ماں کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا۔

اور سب کی مخالفت کے باوجود وہ مسز زہیب حسن بن گئی۔

پورے ایک مہینے کے بعد وہ سوئٹزرلینڈ سے لوٹی تھی۔ اس کا امی ابو کو دیکھنے کا بہت دل چاہ رہا تھا۔ بھاری زیور سے لدی ہوئی وہ اپنے گھر پہنچی لیکن اس سے کسی نے ٹھیک سے بات بھی نہیں کی۔

’’امی میں یہ آپ کے لیے لائی ہوں۔‘‘ اس نے خوبصورت سونے کا سیٹ نکالا۔

امی آپ کو معلوم ہے زہیب کا امریکہ میں بہت بڑا بزنس ہے۔ وہ تو مجھے انھوں نے بتایا ہی نہیں تھا۔ روبینہ کسی بات کا جواب نہیں دے رہی تھیں۔ امی میں لبنیٰ کے پاس ہوکر آتی ہوں اس نے اٹھتے ہوئے کہا۔

’’کوئی ضرورت نہیں ہے ان لوگوں کے جلے پر نمک چھڑکنے کی۔‘‘ اسحاق نے ناگواری سے کہا۔ جو بہت دیر سے اس کی باتیں سن رہے تھے۔

’’کیا ہوا؟ نشرہ! آج کچھ اداس لگ رہی ہو۔‘‘ زہیب حسن نے اس کے برابر میں بیٹھتے ہوئے کہا۔

’’زہیب! امی ابو ابھی تک مجھ سے ناراض ہیں۔ انھوں نے مجھ سے ٹھیک سے بات بھی نہیں کی۔ ‘‘اس کی آواز میں زمانے بھر کی شکایت تھی۔

تبھی درواز ے کی گھنٹی بجی۔ غفور دیکھنا کون ہے۔ اس نے وہیں سے آواز لگائی۔

ایک پندرہ سال کی لڑکی اور بارہ سال کا لڑکا داخل ہوئے۔

ارے فاریہ اور ساحل تم نے بتایا ہی نہیں آنے کا۔ زہیب نے آگے بڑھ کر دونوں کو سینے سے لگالیا۔

’’بس ڈیڈی! ہم آپ کو سرپرائز دینا چاہتے تھے۔‘‘

’’ڈیڈی!‘‘ اس نے حیرانی سے دہرایا۔

’’نشرہ حیران نہ ہو جس طرح سے میں نے تمہیں امریکہ کے بزنس کے بارے میں نہیں بتایا اسی طرح میں نے روزی کے بارے میں بھی نہیں بتایا تھا۔ وہ میری پہلی بیوی ہے۔ یہ اسی کے بچے ہیں۔‘‘ نشرہ کو لگا جیسے اس کے دماغ میں بم کا دھماکہ ہوا ہو۔

’’ہاں ایک بات اور میں اگلے ہی مہینے امریکہ جارہا ہوں۔‘‘

’’لیکن زہیب میں یہاں اکیلی رہوں گی۔‘‘

اس میں کیا۔ روزی کو دیکھو وہ پورے ایک سال سے امریکہ میں اکیلی ہے۔ بڑے گھر کی عورتیں اکیلی ہی رہتی ہیں۔ اب تم ایک بڑے بزنس مین کی بیوی ہو۔ تمہارے ساتھ غفور رہے گا۔ تمہیں کسی چیز کی بھی ضرورت ہو بینک سے پیسہ نکال لینا میں نے تمہارے اکاؤنٹ میں پچاس لاکھ روپیہ ڈال دیا ہے۔

اور نہ جانے وہ کیا کیا کہہ رہا تھا لیکن نشرہ کو ایسا لگ رہا تھا کہ چاروں طرف بم پھٹ رہے ہوں اور خطرناک اور مہیب آوازوں کے درمیان وہ کہیں سے اپنے ضمیر کی دبی دبی آواز سننے کی کوشش کررہی ہو۔

اب اسے یقین ہوچکا تھا کہ وہ غیر محسوس طریقے سے ہوس کا شکار ہوچکی ہے۔ اپنے اندر کی ہوس کا اور ایک دولت مند تاجر کی ہوس کا بھی۔ جس نے جھوٹ اور مکاری کا حسین لبادہ اوڑھ رکھا تھا۔

شیئر کیجیے
Default image
نشاں خاتون سیتھلی