4

جنرل ڈبہ

جنرل ڈبے میں ہندوستان سفر کرتا ہے۔ ریزرویشن اور اے سی ڈبوں میں بھی ہندوستان ہی سفر کرتا ہے۔ فرق اگرچہ کرائے کا ہے لیکن ان کے نزدیک یہ فرق کرائے کا نہیں بلکہ زندگی کے حقائق کا ہے۔اسی لیے انہیں ضد تھی کہ وہ سفر کریں گے تو صرف جنرل ڈبے میںکریں گے۔ انکا خیال تھا کہ گاندھی جی اور بہت سے عظیم رہنما جنرل ڈبے میں ہی سفر کرتے تھے حالانکہ اس بات کی انکے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔بہار اور مشرقی ہندوستان سے آنے والی ٹرینیں بطور خاص انکے مطالعے کا موضوع تھیں۔ ان ٹرینوں میں انسان نما کتابیں ان کے غور وفکر کا موضوع ہوتا تھا۔

ایک بار بنارس سے دلی کے سفر میں کسی طرح انہیں جنرل ڈبے میں داخل ہونے کا موقعہ مل گیا جو عام طور پر کسی بھی جنرل مسافر کے لیے سفر کی پہلی کامیابی ہوا کرتی ہے۔ اس پر یہ کہ ایک سیٹ پر بیٹھے نوجوان نے انکی حالت پر رحم کھا کر انہیں اپنی سیٹ کا تھوڑا سا حصہ عنایت کر دیا۔پھر کیا تھا ڈبے میں کھڑے ہوکر سفر کرنے والے بہت سے مسافروں نے سمجھا کہ ضرور یہ کوئی بڑا آدمی ہے۔کچھ نے سوچا انہیں اگر بغیر مانگے جگہ مل سکتی ہے تو انہیں مانگ کر کیوں نہیں مل سکتی۔ ہمت کرکے ایک صاحب نے اوپر کی سیٹ پر آرام فرما رہی ایک محترمہ سے بڑے حوصلے کے ساتھ جگہ کی فرمائش کی۔ لیکن یہ پانسہ الٹا پڑا۔ محترمہ نے کچھ اور سمجھا اور آگ بگولہ ہوگئیں۔ غالبا یہ ڈبے میں جاری دھینگا مشتی اور ہنگامہ آرائی کا نتیجہ تھا۔ لیکن اتنی سی بات پر ڈبے میں ڈائیلاگ بازی شروع ہوگئی۔ ’’کیا کر لوگے‘‘ اور ’’کیا کر لوگی‘‘ کے جملے سن سن کر کئی لوگ خوف زدہ ہو گئے۔ ایک آدھ لوگوں نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش میں نوجوان کو خاموش رہنے اور وہاں سے چلے جانے کا مشورہ دیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ مشورہ اس لیے تھا کہ کہیں وہ نوجوان انکی بھی سیٹ پر دعوی نہ کر دے۔

ٹرین چلی تو پتہ چلا کہ ابھی قیامت نہیں آئی ہے۔ سانسوں کی گھٹن اور توتو میں میں،ٹرین کے چلنے سے کم ہو گئی۔کھڑے لوگوں نے اخبار اور چادریں تانیں اور بیچ کے راستے پر پورے حق سے بچھا دیا۔ایک گروپ نے وقت گذاری کے لیے تاش کی گڈی نکالی۔بے روزگاری سے پیری تک کا سفر طے کرنے والے ایک ضعیف نے کئی بار بازی ماری اور جب جب بازی ماری تو اس بڈھے چیمپین نے پورے ڈبے کو سر پر اٹھا لیا۔زندگی کی چند کامیابیوں میں شاید سب سے بڑی کامیابی تاش کے میدان کی یہ فتح بھی تھی۔ انکے نزدیک مسافروں کا یہ گروپ جمہوریت کا آوارہ ریوڑ ہے۔جسے نوم چومسکی نے رائج الوقت جمہوریت کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔

جنرل ڈبے کے بارے میں انکی کی تشریحات کافی دلچسپ ہیں ۔جیسے یہ کہ جنرل ڈبہ سب سے آگے اور سب سے پیچھے ہی ہوتا ہے۔ تاکہ کسی بھی حادثے میں سب سے پہلے اس ڈبے کے مسافر ہی ڈھال کا کام دے سکیں۔اسٹیشنوں کا اقتصادی نقشہ اتنی مہارت سے تیار کیا گیا ہے کہ یہ جنرل ڈبے اصل اسٹیشن کا منہ دیکھ ہی نہ سکیں۔ کیا کریں گے دیکھ کر، کیوں کہ انکے لیے انکی قوت خرید پر قوت تماشبینی مجبوری کی شکل میں غالب ہے۔انکی جیب کا پورا خیال رکھا گیا ہے ۔

اسٹیشن پر میلے کچیلے کپڑے پہنے بہت سے کم عمر لڑکے پیٹھ پر ٹھنڈی بوتلیں لادیں جنرل ڈبوں میں لوگوں کی پیاس کم پیسوں میں بجھاتے ہیں۔کسی مسافر کو اس بات سے کیا لینا دینا کہ یہ بوتلیں کہاں سے اٹھائی گئیںہیں اور پانی کہاں سے بھرا گیا ہے۔اسی طرح کھانے کے لیے ہندوستان کی سڑکوں پر سب سے مقبول لیکن سب سے سستا آلو پوری صرف پانچ روپئے میں جنرل ڈبوں کے باہر دستیاب رہتا ہے۔پیپسی ،برگر ،پزا،سوپ اور کٹلیٹ وغیرہ کی سرحد جنرل ڈبوں سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہے۔

لیکن ہمیشہ کی طرح انہیں ایک بار جنرل ڈبے میں بھی جگہ نہیں ملی ریزرویشن ڈبے میں جانے کے لیے انکے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ لیکن سفر کی ضرورت، جیب کی مفلسیاور دھکے کھانے کی عادت نے انکے حوصلے بڑھا دئیے تھے۔جنرل ڈبے سے قریب سلیپر ڈبے میں انہوں نے دروازے پر پناہ لی۔ گاڑی چلی تو سلیپر ڈبے کے مسافروں کی شک بھری نگاہیں انہیں زخمی کرتی رہیں۔لیکن معلوم ہوا کہ ٹی ٹی نے انکی اس جرأ ت کے خلاف جی آر پی پولس کو ذمہ سونپا۔خبروں سے صرف اتنا پتہ چل سکا کہ انکی موت چلتی ٹرین سے گر کر ہوئی۔میڈیا نے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے جمہوریت کے قانونی رکن کے خلاف زبان بند رکھی۔کیوں کی مرنے والا کسی وزیر اعظم یا سیاسی نیتا کا رشتہ دار نہیں بلکہ جنرل ڈبے میں سفر کرنے والا جمہوری ریوڑ کا بھٹکا ہوا جانور تھا۔

شیئر کیجیے
Default image
عمیر انس

تبصرہ کیجیے