BOOST

زوجین کی نفسیاتی ضروریات

ہر انسان امن، محبت، سکون اور اس طرح کی دیگر نفسیاتی و جذباتی ضروریات کی تسکین چاہتا ہے۔لیکن مرد بعض ضروریات کی تسکین کے سلسلے میں عورت سے مختلف ہوتا ہے اور اس اختلاف سے ناواقفیت میاں بیوی کو بعض مشکلات میں مبتلا کردیتی ہے۔

میاں اور بیوی کی جذباتی ضروریات جن کی تسکین ضروری ہے بڑی حد تک انسان کے طرزِ عمل کو متاثر کرتی ہیں۔ انسان کا طرز عمل انھی کے زیر اثر ہوتا ہے سوائے اس صورت کے کہ مرد کی جذباتی ضروریات مکمل طور پر عورت کی ضروریات سے مختلف ہوں۔ افسوس یہ ہے کہ مردوں اور عورتوں کی اکثریت ایک دوسرے کی جذباتی ضروریات کے اختلافات کو نہیں سمجھتی۔ اس عدم واقفیت کے نتیجے میں وہ ایک دوسرے کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور نہیں جانتے کہ اس کو سمجھنے کا مثالی طریقہ کیا ہو، نیز وہ مطلوب تعاون کس طرح پیش کریں اور مشکلات سے کیسے بچیں۔ ان میں سے ایک اہم مشکل غلط فہمی ہے۔

زوجین میں سے ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ اس نے دوسرے کی ضروریات کی خاطر بہت کچھ پیش کیا ہے اور بڑا ایثار کیا ہے لیکن اس سے کوئی سود مند نتیجہ برآمد نہیں ہوا بلکہ جو کچھ پیش کیا گیا وہ سارے کا سارا ضائع ہوگیا اور حسن سلوک کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر زوجین نیک نیتی کے ساتھ محبت، مہربانی، شفقت اور معاونت کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن غلط انداز متوقع حسنِ سلوک کو بیگانگی میں تبدیل کردیتا ہے۔ جو چیز معاملات کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے وہ یہ کہ دونوں میں سے کوئی یہ خیال کرلے کہ یہ پریشانیاں دوسرے کی جان بوجھ کر پیدا کردہ ہیں۔ جیسے کہ مرد کوئی کام بیوی کی خوشنودی اور بھلائی کے لیے کرے لیکن وہ بیوی کے سامنے اس انداز سے پیش کرے، گویا کہ وہ کسی دوسرے مرد کو پیش کررہا ہے، نہ کہ بیوی کو۔ اسی طرح سے عورت اپنے شوہر کو اس انداز سے پیش کرے جیسا کہ اس کی ضرورت مند کوئی عورت ہو، نہ کہ مرد۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ فریقین میں سے ہر ایک کو دوسرے فریق کی ضروریات اس طرح نظر آئیں جیسے کہ وہ اس کی اپنی ہوں۔ وہ ضروریات حسبِ ذیل ہیں:

مرد کی ضروریات

(۱) اعتماد: میاں، بیوی کے ساتھ معاملات میں شرکت اور تعاون کرتا ہے، اس کی حفاظت و پاسبانی کے لیے مستعد رہتا ہے، اور جو کچھ بھی وہ خرچ کرتا ہے وہ بیوی اور خاندان کی خوشنودی اور خوش حالی کے لیے خرچ کرتا ہے، نیز یہ کہ وہ ہمیشہ اپنے خاندان کی بہتری کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ لہٰذا اسے محسوس ہونا چاہیے کہ اسے اپنی بیوی کا اعتماد حاصل ہے اور وہ اس کی قدردان ہے۔

(۲) قبولیت: بیوی کی طرف سے میاں کو کسی اصلاح و تبدیلی کی شرط کے بغیر قبول کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کامل فرد ہے، جب کہ کمال تو صرف اللہ وحدہٗ سبحانہ و تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ لیکن وہ قبولیت، اس بات کی دلیل ہوگی کہ بیوی شوہر سے مطمئن ہے، اور وہ باور کرتی ہے کہ شوہر اپنی غلطیوں کی اصلاح کا اہل ہے اور بیوی کی دائمی نصیحتوں کا حاجت مند نہیں ہے۔ اس صورت میں بیوی کے لیے سہولت پیدا ہوجائے گی کہ شوہر اس کی بات پر دھیان دے اور اس کی رائے کو قبول کرلے۔

(۳) تحسین و قدردانی: شوہر بیوی کی طرف سے تحسین و قدرانی محسوس کرے۔ جب بھی وہ خاندان کے لیے زبانی یا عملی طور پر کوئی چیز پیش کرے تو بیوی کی طرف سے احسان مندی، شکر گزاری اور حسن سلوک کے اعتراف کا اظہار ہونا چاہیے، اور اسے شوہر کی شخصیت اور اس کی رائے کو قدرومنزلت کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔

(۴) پسندیدہ نگاہ: شوہر کی عملی زندگی میں کامیابی کی بنیاد، اس کے خاندان میں اندرونی امن و سکون، اس کی بیوی کی طرف سے اس کی شخصیت، اور اس کی دادودہش کو پسندیدہ نگاہوں سے دیکھنا شوہر کی اپنی ثابت قدمی اور پختہ ارادے پر منحصر ہے۔ یہ سب کچھ مل کر شوہر کی زندگی میں اہم اور بنیادی مقاصد کی تسکین کا باعث بنتا ہے۔

(۵) تائید: یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ہر شوہر ایسا مردِ میدان بننے کا خواہش مند ہوتا ہے جو اپنی بیوی کی تمناؤں کا مصداق ہو۔ یہ مقام حاصل کرنے کی وہ سرتوڑ کوشش کرتا ہے، اور بہترین حوصلہ افزائی جو شوہر کو اس دوران حاصل ہوسکتی ہے وہ اس کی بیوی کی تائید ہے۔ البتہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بیوی کی تائید کا مطلب شوہر کے ہر کام میں دائمی موافقت نہیں بلکہ یہ موافقت اور تائید ان اسباب اور نیک ارادوں پر بھی ہوسکتی ہے جو شوہر رکھتا ہے۔

(۶) حوصلہ افزائی: بیوی کی طرف سے شوہر کی حوصلہ افزائی اور بلند خواہشات کے حصول کے لیے ثابت قدمی پر اس کے عزم و ارادے کو تقویت دینے سے شوہر سمجھتا ہے کہ بیوی پورے طور پر اس کی مزاج شناس ہے، نیز شوہر کی کامیابی کے لیے بیوی کا خواہش مند ہونا ایک ایسا امر ہے جو بیوی اور اس کے خاندان کی کامیابی کو یقینی بنادیتا ہے۔

بیوی کی ضروریات

(۱) توجہ اور دلچسپی: بیوی اپنے میاں کی طرف سے توجہ کے اظہار اور دلچسپی کی ضرورت مند ہوتی ہے۔ اسے آگاہی ہونی چاہیے کہ وہ میاں کی نظر میں ایک ممتاز شخصیت ہے اور شوہر کی زندگی میں اسے ایک قابل ذکر مقام حاصل ہے۔

(۲)ہمدری: بیوی محسوس کرے کہ اس کا شوہر اس کی نسوانی حالت سے باخبر ہے اور اس کے احساسات کو اپنے اوپر گزرنے والی کیفیات سمجھتا ہے، اور یہ کہ وہ اس کا ہمدرد ہے۔

(۳) احترام: بیوی کی ضروریات میں سے ایک اہم ضرورت شوہر کی طرف سے بیوی کے اس احساس کو پختہ کرنا ہے کہ وہ بذات خود ایک قابل احترام اور آزاد شخصیت ہے، اور دلیل کے طور پر وہ اس کی بات کو دلچسپی سے سنتا ہے اور اس کی رائے اور خیالات کو اہمیت دیتا ہے۔

(۴) ترجیح: جب شوہر بیوی کی ضروریات کو ترجیحاً پورا کردیتا ہے اور پوری مستعدی کے ساتھ اس کی تائید اور اس کے ساتھ تعاون کرتا ہے، تو بیوی اپنی ضروریات کو پالیتی ہے اور اپنے لیے اپنے شوہر کے جذبہ محبت کو محسوس کرتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ وہ شوہر کی منظور نظر ہے حتیٰ کہ شوہر اسے اپنی ذات پر ترجیح دیتا ہے ایسے میں وہ اس سے متاثر اور خوش ہوکر پورے اعتماد کے ساتھ اپنی زندگی کو اپنے شوہر اور خاندان کے لیے وقف کرتی اور اپنے احساسات کو ان پر نچھاور کردیتی ہے۔

(۵) اظہار احساسات کی آزادی: شوہر کی طرف سے بیوی کو اسے تمسخر کا نشانہ بنائے بغیر اظہار ناراضگی اور اسے اپنے احساسات کے اظہار کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔

(۶) مستقل یقین دہانی: اکثر شوہر یہ سمجھتے ہیں کہ شوہر کی اپنی بیوی کے ساتھ طویل رفاقت اور بیوی کے حسن سلوک کا مطلب لازماً یہ ہے کہ وہ اس کے اخلاص اور ایثار کے باعث اسے ایک مثالی شخص تصور کرتی ہے جو اس کے احساسات اور وفاداری کا ثبوت ہے اور یہ کہ وہ اس کے جذبات کی سچائی کی دلیل ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیوی مستقل یقین دہانی چاہتی ہے کہ وہ شوہر کے جملہ احساسات کی مالکہ ہے، اس کی توجہ اور دلچسپی کا محور و مرکز ہے اور شوہر کے دل میں وقت گذرنے کے ساتھ اس کی قدرومنزلت میں کوئی کمی نہیں ہوئی، بلکہ بڑھی ہے۔ یہ جو اب ہے جو بیوی اپنے شوہر سے سنناچاہتی ہے۔ جب وہ ایک عمر کے بعد اس کے احساسات کی سچائی کے متعلق سوال کرنا چاہے تو شوہر کی طرف سرد مہری کی کیفیت اسے صدمے سے ہم کنار کر دیتی ہے۔

عوامل اور روکاٹیں

اس میں کوئی شک نہیں کہ میاں بیوی میں سے ہر ایک ان کی جملہ کیفیات کا ضرورت مند ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میاں توجہ، دلچسپی، احترام، ترجیح وغیرہ کا حاجت مند نہیں ہوتا اور نہ یہ کہ بیوی اعتماد و تائید وغیرہ نفسیاتی حاجات سے بے نیاز ہوتی ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ میاں اپنی مخصوص حاجات حاصل کرلے، وہ دوسری قسم کی حاجات ہرگز نہیں حاصل کرسکتا اور یہی صورت بیوی کے بارے میں ہے کہ جب تک وہ اپنی بنیادی حاجات کو حاصل نہیں کرلیتی، دوسری قسم کی حاجات حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔ طرفین میں سے ہر ایک جب اپنی اپنی ضروریات حاصل کرلے گا تب ہی وہ دوسری جانب سے بڑے پیمانے کی تحسین و تائید حاصل کرنے کے قابل ہوگا۔

اختلافات کے لیے فیصلہ کن محرک کیا ہے؟

اللہ عزوجل نے میاں بیوی کی نفسیاتی ضروریات میں اس اختلاف کو اسی وقت پیدا فرمادیا جب اس نے آدم و حوا کو پیدا فرمایا اور تخلیق کے اس اختلاف کی بنیاد پر دیگر اختلافات مرتب ہوئے اور یہی دونوں کی جسمانی ساخت اور نشوونما کی بنیاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں مرد و عورت کی حیثیت سے متعین ذمہ داریاں ودیعت فرمائیں۔

نفسیات، تربیت، عادات و روایات کے اس بنیادی اختلاف نے ضروریات میں اختلاف پیدا کردیا۔ ہمارا اس سے اتفاق نہیں کہ اختلاف زندگی کے بگاڑ کا باعث ہے، بلکہ وہ تو اس کا خدمت گار ہے کیوں کہ طرفین ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور ان کے درمیان نفسیاتی یکسانیت تکمیل پاجاتی ہے۔

ان ضروریات کے لیے خاص باتیں ہیں جن کی تکمیل کا طریقہ، فطری طریقۂ کار سے مختلف ہوگیا ہے۔ لہٰذا اس نے ماں کی مامتا، بیوی کی زندگی اور عورت کی کامیابی کے معاملے کو بگاڑ کر رکھ دیا۔ نتیجتاً توازن بگڑ گیا ہے۔

پہلے ماں اپنی بیٹی کی تربیت اس حیثیت سے کرتی تھی کے پہلے اس کو بیوی بننا ہے، اس کے بعد ماں۔ مراحل کی یہ وہ ترتیب ہے جس کا اسے نفسیاتی طور پر اہل بنایا گیا ہے۔ مراحل کے توازن کا بگاڑ بہت بڑی غلطی ہے۔ لہٰذا ہمیں نہ صرف نفسیاتی ضرورتوں کا مطالعہ کرنا ہے بلکہ ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم باہمی کشمکش کے مراحل، جو میاں بیوی کے درمیان دوری پیدا کرتے ہیں، کو جان کر حسن عمل کو اختیار کریں۔

ازدواجی زندگی سے متعلق مردو عورت کا تصور الگ الگ ہوتا ہے لیکن بنیادی طور پر ضروریات میں کوئی اختلافات نہیں ہوتا جیسا کہ ضروریات پوری کرنے کے سلسلے میں بھی کوئی متعین ضابطہ نہیں ہوتا۔ البتہ بعض حالات میں بیوی اعتماد، توجہ یا تائیدوغیرہ کی زیادہ مقدار کی حاجت مند ہوسکتی ہے۔

ایسے امور جو ان دونوں کے درمیان نفسیاتی مطالبات کے پورا کرنے میں رکاوٹ بن سکتے ہوں، درج ذیل ہیں:

(۱) زوجین کے حقوق یا ان میں سے کسی ایک کی حاجات کا نظر انداز کردینا۔ اگر ان کی تکمیل کا براہ راست اور فوری طور پر اہتمام نہ کیا جائے تو وہ درد انگیز احساسات اکٹھے ہوتے اور ایک لمبے عرصے تک تہ بہ تہ جمع ہوتے رہتے ہیں حتی کہ وہ کسی غیر مناسب وقت پر پھٹ پڑتے ہیں۔ لہٰذا فریقین کا فرض ہے کہ وہ بلا تاخیر معاملات کو نمٹا لیں۔

(۲) دونوں میں سے کوئی ایک اپنی بہت سی خواہشات کو ایثار و قربانی کے نام پر ترک کردے تاکہ وہ ایثار کرنے والا بن جائے، جب کہ وہ ان خواہشات کو پورا کرنے کی استطاعت بھی رکھتا ہو۔ ہاں، اگر ان میں سے کسی ایک پر ہی ایثار کرنا لازم معلوم ہوتا ہو تو ضرور کیا جائے اور پھر دونوں اپنا نصب العین بنالیں کہ وہ جو کچھ بھی اپنے خاندان کے لیے کریں، وہ ایک ہی نہر میں ڈالا جائے گا جو ان کے خاندان کی سعادت مندی اور خوشحالی کی نہر ہے۔

اگر میاں یا بیوی میں سے کوئی ضرورت سے زیادہ قربانی اور ایثار بطور عطیہ پیش کرتا ہے تو ان کے درمیان تائید، حوصلہ افزائی اور خیر خواہی کے سبب ایک مثالی تعلق پیدا ہوجائے گا۔ لیکن اگر معاملہ ایسا نہیں ہوتا تو دونو ںاپنی اپنی جگہ الجھن اور بوجھ محسوس کریں گے۔ میاں اپنی گھریلو اور بیرونی ذمہ داریوں کو لے کر پریشانی میں مبتلا رہے گا بالآخر تھک جائے گا۔ اس دوران میں بیوی کو شکایت رہے گی کہ خاندان میں ہر شے کے بارے میں وہی مسئول اول بن کر رہ گئی ہے۔ لہٰذا ذمہ داریوں کو مل بانٹ کر ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

(۳) زوجین کو یہ حقیقت معلوم ہوجانی چاہیے کہ مرد اپنے فیصلے میں تائید کا طلب گار ہوتا ہے، جب کہ عورت اپنے فیصلے میں شرکت کی خواستگار ہوتی ہے۔ مرد کی فطرت آزادی اور خود اعتمادی پر مشتمل ہوتی ہے، جب کہ عورت شرکت کی طرف مائل ہوتی ہے اور شرکت بھی اس کی، جسے وہ پسند کرتی ہو۔

(۴) سوئے ظن اور بدگمانی ازدواجی زندگی کی رفتار میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ قرآن حکیم اور سنت مطہرہ میں ہمیں لوگوں سے بدگمان ہونے سے منع فرمایا گیا ہے اور میاں کی بیوی سے یا بیوی کی میاں سے بدگمانی تو ازدواجی رشتہ کے لیے زہر قاتل ہے۔ لازم ہے کہ بیویاں اپنے شوہروں اور شوہر اپنی بیویوں کے ساتھ حسن ظن کا رویہ اختیار کریں، کمال تو یہ ہے کہ دونوں اپنے رائے میں اختلاف کے باوجود باہمی اشتراک اور فکری ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں۔

(انٹرویو: ایمان الشوبکی، ترجمہ: خدا بخش کلیار)

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر وفا عبدالجواد

تبصرہ کیجیے