5

گناہ کا بوجھ

میں نے صرف چونتیس برس کی عمر میں موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

لیکن جب میں شدید سردی میں ٹھٹھرتا ہوا ڈک کے چھوٹے سے فلیٹ میں داخل ہوا تو یہ بالکل نہیں جانتا تھا کہ میں کیا فیصلہ کرنے والا ہوں۔ اس وقت مجھے پناہ کی ضرورت تھی اور ایک گرم بستر کی بھی جس میں آرام سے لیٹ کر میں آنے والے دنوں کے بارے میں منصوبہ بنا سکوں۔

ڈک گھر میں موجود نہیں تھا۔ اس کے بیٹے رسل نے مجھے بتایا کہ ابو آج رات کی ڈیوٹی پر ہیں اور وہ صبح آئیں گے۔ رسل جانتا ہے کہ میرے اور ڈک کے تعلقات کتنے گہرے ہیں۔ میں نے کہا: ’’میں رات یہیں بسر کروں گا۔‘‘

رسل نے کوئی جواب نہ دیا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔ چند منٹ بعد واپس آتے ہی بولا:

’’چچا! میں نے آپ کے لیے بستر لگادیا ہے۔‘‘

رسل کی عمر تو دس گیارہ برس ہے، لیکن بعض اوقات وہ اپنی عمر سے بڑا دکھائی دیتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے چہرے پر ایسی سنجیدگی اور متانت نظر آتی ہے جو بڑے بوڑھوں کے چہروں ہی پر بھلی لگتی ہے۔

میں اس کمرے میں چلا گیا جہاں اس نے میرے لیے بستر لگایا تھا۔ جلدی جلدی جوتے اتارنے کے بعد کپڑے تبدیل کیے بغیر ہی بسر پر لیٹ گیا۔ بستر ابھی ٹھنڈا تھا اور میرا جسم بالکل سرد۔ میں نے رسل کو آواز دی۔ وہ میرے پاس آکر کھڑا ہوگیا ۔ میں نے پوچھا:

’’گھر میں تھوڑی سے برانڈی ہوگی؟‘‘

اس نے اپنے مخصوص تاثر کے ساتھ نفی میں سر ہلایا۔

’’ہوں!‘‘ میرے منہ سے نکلا۔ پھر میں نے رسل کو یہ تاثر دیا کہ میں کوئی اہم بات سوچ رہا ہوں، حالانکہ رسل کے منہ سے نہیں کا لفظ سنتے ہی میں فیصلہ کرچکا تھا کہ اب مجھے کیا کرنا ہے۔

’’رسل! تمہیں زحمت تو ہوگی، مگر میری مجبوری ہے میری طبیعت ٹھیک نہیں۔ تم مجھے برانڈی کی ایک بوتل لادو۔ مجھے اس کی اشد ضرورت ہے۔‘‘

وہ کچھ کہے بغیر مڑا۔ میں نے اسے روکنے کے لیے آواز دی پھر بستر کے اندر ہی لیٹے لیٹے اپنی پتلون کی پچھلی جیب سے ایک پونڈ کا نوٹ نکالا اور رسل کی طرف بڑھا دیا۔

’’پیسے تو لیتے جاؤ۔‘‘

اس نے کسی تاثر کے بغیر نوٹ میری انگلیوں میں سے لے لیا اور کچھ کہے بغیر قدم بڑھا دئیے۔

ڈیڑھ گھنٹے تک میں برانڈی پیتا رہا۔ بوتل نصف کے قریب خالی ہوگئی۔ میرا اندازہ غلط نکلا۔ میں نہ مستقبل کا کوئی منصوبہ بناسکا نہ شراب کے نشے میں دھت ہوکر سوسکا۔ رسل اپنے کمرے میں سونے جاچکا تھا۔ اب میں اکیلا ہی تھا۔ میرے ذہن کو اب تک صاف ہوجانا چاہیے تھا مگر میں اپنے آپ سے الجھ رہا تھا۔ کوئی بات پوری طرح ذہن کی گرفت میں نہیں آتی تھی۔ ہر سوچ کا تار کہیں بیچ ہی میں ٹوٹ جاتا۔ میں جو واقعہ بھلانا چاہتا، وہی مجھے بار بار یاد آرہا تھا۔ میں پھر بیجنی کے بارے میں سوچنے لگا۔

اس کا نام تو بینجمن شیفرڈ تھا لیکن یار دوست اسے بیجنی ہی کہا کرتے تھے۔ کل شام وہ مجھے جوئے خانے میں ملا، تو میرا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا کہ میں ……

اس شام بیجنی کی قسمت زوروں پر تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے بارہ سو پونڈ جوئے میں جیت لیے۔ جونہی اس نے بارہ سو پونٹ جیب میں رکھے اور نیا داؤ لگایا، تو میں ایک فیصلہ کرچکا تھا۔ میں چپکے سے قمار خانے سے باہر نکل آیا۔ میں جانتا تھا کہ بیجنی ساڑھے چھ بجے ہر حال میں قمار خانے سے نکل آئے گا اور سیدھا اپنے گھر کا رخ کرے گا۔ وہ سات بجے سے پہلے اپنے بیوی بچوں کے پاس ہر حالت میں پہنچنے کا عادی تھا۔ ہم اس کی اس عادت کا اکثر مذاق اڑایا کرتے تھے۔

میرے ذہن میں اچانک پلنے والا منصوبہ پختہ ہوچکا تھا۔

سردی کی سخت لہر نے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ ہلکی ہلکی بارش بھی ہورہی تھی۔ میں اس تنگ اور ویران گلی کے ایک نکّڑ پر سائے میں کھڑا ہوگیاجہا ںبیجنی کا گھر تھا۔ مجھے علم تھا کہ اس وقت وہاں کسی طرح کی مداخلت کی امید نہیں اور میں اپنا کام خاموشی سے کرکے نکل کھڑا ہوں گا اور ایسا ہی ہوا۔ جونہی بیجنی میرے قریب سے گزرا، میں نے اس کی گدی پر ایک زور دار ہاتھ مارا۔ وہ نیچے گرپڑا۔ اس اچانک حملے نے اسے حواس باختہ کردیا۔ اس سے پہلے کہ وہ صورتِ حال کا اندازہ لگا کر سنبھل پاتا، میرے ہاتھ اس کا گلا دبانے لگے۔ وہ تھا بھی منحنی سا، زیادہ مزاحمت نہ کرسکا۔ چند منٹوں میں وہ میرے سامنے ایک لاش کی صورت میں چت پڑا تھا۔ میں اسے مارنا نہیں چاہتا تھا لیکن ہونی ہوکر رہی۔ میں نے جلدی سے اس کی جیب سے رقم نکالی اور دوڑ لگادی۔

راستے ہی میں میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ مجھے ڈک کے ہاں رات بسر کرنی ہے اور صبح سے پہلے مستقبل کا منصوبہ بنا کر لندن سے رفوچکر ہوجانا ہے۔ اب میں اپنا منصوبہ طے کرنا چاہتا تھا، لیکن ذہن کام ہی نہیں کررہا تھا۔ میں نے جسم ڈھیلا چھوڑ دیا اور نجانے کب سوگیا۔

اچانک کھٹکا ہونے پر میں ہڑبڑا کر اٹھا۔ میرے سامنے رسل کھڑا تھا۔ میں نے بوکھلا کر پوچھا:

’’رسل!کیا ہوا؟ خیریت تو ہے؟‘‘

میں نے گھڑی پر نگاہ ڈالی۔ رات کے دو بجے تھے۔

’’چچا ۔ وہ…‘‘

’’رسل کیا بات ہے؟‘‘ میں جھنجھلا اٹھا۔ میرے دل کی دھڑکن وسوسوں اور خوف سے تیز ہوچکی تھی۔

’’چچا میں شرمندہ ہوں۔‘‘

’’رسل! پہیلیاں نہ بجھواؤ۔ رات کے دو بجے تم کس شرمندگی کا اعتراف کرنے آئے ہو؟ بڑی مشکل سے آنکھ لگی تھی…‘‘

’’چچا! میں سو نہیں سکا۔‘‘ رسل کہہ رہا تھا۔ ’’میں نے سوچا آپ کو سچ سچ بتادوں اور آپ سے معذرت کرلوں۔‘‘

میں حیرت سے اس کی طرف تکنے لگا۔ رسل نیچی نگاہیں کیے بولا: ’’چچا! آپ نے مجھے برانڈی لانے کے لیے ایک پونڈ دیا تھا۔ میں نے آپ کو ریزگاری واپس کی تھی نا؟‘‘

’’ہاں تو پھر؟‘‘ میری سمجھ میں کچھ بھی نہ آرہا تھا۔

’’چچا، میں شرمندہ ہوں کہ میں نے آپ کو ریزگاری کم دی اور ایک پینی اپنے پاس رکھ لی۔‘‘

’’اوہ! میرے خدا!!!‘‘ میں نے اپنے آپ سے کہا۔

’’یہ لڑکا کتنا عجیب ہے؟ پہلے تو اس نے ایک پینی کی بے ایمانی کی، اب میری نیند خراب کرچکا ہے۔‘‘

’’اپنی اس حرکت پر شرمندہ ہوں۔‘‘ رسل بولے جارہا تھا۔ ’’میں نے سونا چاہا لیکن نیند نہ آئی جیسے کسی نے میرے دل پر بڑا بوجھ رکھ دیا ہو۔ چچا! میں برا لڑکا نہیں۔ جانے کیسے میں نے آپ کی پینی اپنے پاس رکھ لی؟ یہ اپنی پینی واپس لے لیں اور مجھے معاف کردیں۔ اب میرے دل سے بوجھ اتر گیا ہے۔ اب میٹھی نیند سوسکوں گا۔‘‘

پینی کا سکہ میرے سامنے رکھ کر وہ میری طرف ملتجیانہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا شکریہ! چچا! شب بخیر!‘‘

اس کے جانے بعد میں سو نہ سکا، کروٹیں بدلتا رہا ہے۔ میری جیب میں بارہ سو چھپن پونڈ موجود تھے جو میں نے بیجنی کو قتل کرکے اس کی جیب سے نکالے تھے۔ ایک پونڈ اور کچھ ریزگاری میری اپنی تھی۔ میں نے سوچا ’’رسل ایک پینی کی بے ایمانی کرکے سو نہ سکا۔ وہ محض ایک پینی کے بوجھ تلے اتنا دب گیا کہ جب تک اس نے مجھ سے معافی نہ مانگ لی، اسے قرار نہ آیا۔ اور میں بھی تو انسان ہوں …… جانور نہیں۔ بارہ سو چھپن پونڈ کا بوجھ اپنے دل پر کس طرح برداشت کرسکوں گا؟ کس طرح میٹھی اور گہری نیند سو سکوں گا؟

اس بات نے میرے ضمیر پر اتنے کچوکے لگائے کہ اب میں نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کردینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ میں چونتیس برس کی عمر ہی میں موت کو گلے لگانے والا ہوں۔

اور میں اپنے فیصلے پر نادم نہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
انگریزی سے ترجمہ: نشاط زیدی

تبصرہ کیجیے