جینڈر گیپ انڈیکس اور ہندوستان

ورلڈ اکانک فورم (WEF) سوئزر لینڈ کا ایک آزاد ادارہ ہے، جس کا ہیڈ آفس جنیوا میں ہے۔ یہ ادارہ ۱۹۷۱ میں قائم ہوا۔ یہ ادارہ مختلف موضوعات پر ریسرچ اور تحقیق کاکام انجام دیتا ہے۔ گزشتہ دنوں مذکورہ ادارہ نے جینڈر گیپ انڈیکس ۲۰۲۰ نامی رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ میں سیاست، معیشت، تعلیم اور صحت کے میدانوں میں اس خلا کا جائزہ لیا گیا تھا جو دنیا بھر میں مردوں اور خواتین کے درمیان موجود ہے۔

اس طرح کے تحقیقی رپورٹ شائع کرنے والے ادارے اگرچہ ایک خاص ایجنڈے کے تحت کام کرتے ہیں اور ایک خاص فکر کو دنیا بھر میں پروان چڑھانے کے لیے کوشاں ہیں، ان میں سرفہرست خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں حصہ داری کا ایجنڈا اہم ہے جو بنیادی طور پر سرمایہ دار صنعت کاروں کے لیے افراد کار فراہم کرنے میں معاون ہوتا ہے۔ اسے موجودہ دور میں خواتین کا معاشی امپاور منٹ کہاجاتا ہے۔

ان تمام باتوں کے باوجود اس طرح کی تحقیقات کا مثبت پہلو یہ ہے کہ یہ سماج اور حکومتوں کو اس بات کا جائزہ لینے میں معاونت کرتی اور خواتین کی زندگی کو بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کی طرف مائل کرتی ہیں جو عین انسانی، سماجی، اخلاقی اور حکومتی ذمے داری ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں کچھ ممالک خواتین کو مختلف النوع مواقع فراہم کرنے میں سر فہرست ہیں۔ ان سرفہرست ممالک میں بالترتیب آئی لینڈ، ناروے، فن لینڈ، سویڈن، انکاراگوا اور نیوزی لینڈ ہیں جب کہ ہمارا ملک ہندوستان نیپال، بھوٹان اور بنگلہ دیش جیسے پسماندہ تصور کیے جانے والے پڑوسی ممالک سے بھی پچھڑا ہوا ہے۔ اس رپورٹ کی خاص بات یہ ہے کہ مسلم ممالک جن پر ’اسلامی‘ ہونے کا ٹیگ لگا ہوا ہے وہ اپنی کارکردگی میں دیگر ممالک سے بہت پیچھے ہیں۔ ان میں کئی ممالک تو ایسے ہیں جو پسماندہ افریقی ممالک سے بھی کافی پیچھے ہیں۔ یہ بات مسلم ممالک کے لیے یقینا قابل توجہ ہونی چاہیے۔ ان میں کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جنھوں نے ان میدانوں میں بہتری کر کے اس خلا کو کم کیا ہے۔

ہمارے نزدیک اس رپورٹ کے یہی دو پہلو ہیں جن پر بات کرنا اہم ہے۔

سب سے اہم پہلو ہمارے اپنے وطن ہندوستان کا اس رپورٹ میں مقام ہے۔ ہندوستان ۱۵۳ ممالک کی فہرست کے درمیان اس رپورٹ میں اوسطاً ۱۱۲ واں مقام رکھتا ہے جب کہ گزشتہ سال اس کا مقام ۱۰۸ واں تھا۔ گویا ہمارے ملک نے نہ صرف یہ کہ اس میدان میں کوئی بہتری نہیںدکھائی بلکہ چار پائیدان نیچے آگیا۔ اس رپورٹ پر سیاست سے زیادہ غور و فکر اور احتساب کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی نصف آبادی کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوئی کوشش نہ کرسکے بلکہ جو گزشتہ سال کا مقام تھا وہ بھی جاتا رہا۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ WEF کے معیارات کے مطابق ہمارے یہاں کیا صورتِ حال ہے:

٭اقتصادیات میں شراکت اور مواقع کے میدان میں ۱۴۹ واں نمبر رکھتا ہے۔

٭ایک ہی کام کے لیے مرد و خواتین کی اجرت میں فرق کے محاذ پر ہندوستان کا ۱۱۷ واں مقام ہے۔

٭ تعلیم اور تعلیمی مواقع کے محاذ پر ۱۱۲ واں مقام ہے۔

٭ صحت اور بقائے حیات کے محاذ پر مرد و عورت کے درمیان خلا کے اعتبار سے ہم ۱۵۰ ویں درجہ پر ہیں۔

مذکورہ اہم پوائنٹس کے علاوہ ایک اور اہم اور قابل تشویش بات یہ مانی جاسکتی ہے کہ مذکورہ ادارے نے جب ۲۰۰۶ مین اپنی پہلی رپورٹ شائع کی تھی اس وقت ہندوستان کا مقام ۹۸ واں تھا۔ اور اب پندرہ سالوں بعد نہ صرف یہ کہ ہم بہ حیثیت ملک اس محاذ پر آگے نہیں بڑھ سکے بلکہ پندرہ سال سے جو مقام حاصل تھا اسے بھی برقرار نہ رکھ سکے۔ اس محاذ پر بہتر کارکردگی ظاہر کرنے والے ٹاپ ممالک میں البانیا، ایتھوپیا، مالی، میکسیکو اور اسپین شامل ہیں۔ جب کہ ۴۸ ممالک ایسے ہیں جو اپنی پوزیشن ہی برقرار رکھ سکے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی معاشرے کی سماجی و معاشرتی بیداری اور اس کی تہذیبی و ثقافتی سطحکو جاننے کے لیے اتنا کافی ہے کہ اس سماج کی خواتین کی صورتِ حال کا جائزہ لے لیا جائے۔ اوپر دیے گئے محاذوں پر ہماری جو سطح ہے وہ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ہم ابھی تک نہ اکیسویں صدی کے ہندوستان میںجینے کے لیے خود کو تیار کر پائے ہیں اور نہ ہی ہمیں اکیسویں صدی کے حقیقی چیلنجز کا اندازہ ہے۔ اگر اندازہ ہوتا تو ہماری سیاسی قیادت ملک میں مذہب کا کھیل کھیلنے کے بجائے سماج و معاشرے کے ارتقا اور ان کی تعمیر و ترقی کے لیے کوشاں ہوتی مگر ایسا نہیں ہوا اور نہآگے امکانات نظر آتے ہیں۔ یہ بات ایسے وقت میں کہی جا رہی ہے جب سیاسی گروپس خواتین کی بہتری کے نام پر اقتدار حاصل کر رہے ہیں اور اسے اپنا ایجنڈا باور کراتے رہے ہیں۔

اس رپورٹ کا دوسرا اور اہم پہلو مسلم ممالک سے متعلق ہے جنہیں باقی دنیا اسلام کا نمائندہ تصور کرتے ہوئے ان کے پچھڑے پن کا سبب اسلام اور اس کی تعلیمات کو بتاتی اور دنیا کو یہی باور کراتی ہے۔ مسلم ممالک، جن میں عرب ممالک خاص طور پر شامل ہیں ایک عجیب قسم کی تہذیبی کشمکش سے دوچار ہیں۔ ایک طرف ان کی اپنی سماجی و معاشرتی اقدار ہیں جن کو کچھ لوگ دانتوں سے پکڑے رہنا چاہتے ہیں اور کچھ لوگ انہیں جھٹک دینا چاہتے ہیںـ۔ ان روایات کو لوگوں نے اسلام کے نام پر بہ طور سیڑھی معاشرے میں استعمال کیا ہے اور لوگوں کا خصوصاً خواتین کا استحصال کیا ہے جب کہ وہ نہ اسلام ہیں اور نہ اسلام کی تعلیمات سے میل کھاتی ہیں۔

جینڈر گیپ کا یہ تصور جو ابھی نصف صدی سے بھی کم کی پیدوار ہے سیاسی، سماجی، اقتصادی اور معاشرتی اعتبار سے دنیا میں زیر بحث ہے۔ مگرہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی محمدﷺ نے چار صدیاں قبل یہ تصور دیا تھا اس دور میں اگرچہ سیاسی اور حکومتی نظام اس قدر ترقی یافتہ نہیںتھا جتنا آج ہے، مگر اس کے باوجود عورت کو تعلیم یافتہ بنانے اور اسے سماج اور معاشرہ کے لیے کارآمد ترین بنانے کی منصوبہ بندی کر کے ایک عملی ماڈل دنیا کے سامنے پیش کیا تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی عہد میں ترقی پاتا رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس سماج میں جینڈر گیپ جیسی کسی بھی چیز کا وجود ختم ہوگیا جب کہ وہ دور اور ماحول ایسا تھا جہاں عورت کو زندگی جینے تک کا حق حاصل نہ تھا اور کئی لوگ بیٹی کو پیدا ہوتے ہی قتل کردیتے تھے۔ اس دور میں حضور پاکؐ نے اسلامی تعلیمات کے ذریعے نہ صرف باعزت زندگی جینے کا حق خواتین کو دیا بلکہ تعلیم یافتہ بنایا معاشی امپاورمنٹ دیا اور انہیں سیاسی و سماجی قیادت کے لائق بنایا کہ بعد کی دنیا میں انھوں نے علم و فن اور تہذیب و ثقافت کے میدان میں کارنامے انجام دیے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی ایسے معاشرے میں جہاں اسلام کی تعلیمات رائج ہوں وہاں جینڈر گیپ جیسی ناانصافی کا وجود ہو ہی نہیںسکتا۔ اگر کہیں ایسا ہے تو یہ اسلام کی تعلیمات کو نہ سمجھنے اور انہیںعمل میں نہ لانے کے ہی نتیجے میں ہوسکتا ہے یا اسی صورت میں ممکن ہے جب لوگ دین سے زیادہ اپنی فرسودہ سماجی روایات کو ترجیح دیتے ہوں اور فی زمانہ مسلم دنیا میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔l

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی