6

گجراتی نومسلمہ بھارتی

آج میں آپ کا تعارف ایک ایسی ہستی سے کرانے جارہی ہوں جنھوں نے اپنی زندگی میں تاریکی سے روشنی کا سفر طے کرنے میں بڑی آزمائشیں اور مشقتیں اٹھائیں۔ ان کا یہ انٹرویو چند دنوں قبل ان کی بڑودہ آمد پر لیا گیا۔ اس میں ہماری ان بہنوں کے لیے جنھوں نے اسلام کو وراثت میں پایا ہے، بڑا سبق اور ایمان کو گرمانے کا سامان ہے۔ اس وقت ہمارے ملک میں نہ جانے کتنی خواتین ایسی ہیں جنھوں نے دین اسلام کو بڑی جدّوجہد اور محنت سے حاصل کیا ہے۔ اور ابتلا و آزمائش سے گذرتے ہوئے بھی ان کے پائے ثبات میں لڑکھڑاہٹ نہیں آئی۔ دنیا کی تمام رکاوٹیں، مال و زر اور عزیز و اقارب کی محبت بھی انھیں راہ حق سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کرپائی۔یہاں تک کہ جان کی پرواہ بھی نہیں رہی۔ اور یہی ثابت قدمی اور عزم و حوصلہ انھیں راہ حق پر ڈٹے رہنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ذیل میں ایسی ہی ایک بہن کی زندگی کی داستان کو ایک خاص بات چیت کے دوران قارئین کے لیے انٹرویو کی شکل میں پیش کیا جارہا ہے۔

س: آپ کا تعارف؟

ج: آمنہ خاتون نام ہے، میں نے آنند کالج گجرات سے ایم اے بی ایڈ کیا ہے۔

س: آپ دین اسلام سے کب، کہاں اور کیسے واقف ہوئیں؟

ج: غالباً یہ ۱۹۷۲ء؁ کی بات ہے جب میرا بی ایڈ کا پہلا سال تھا۔ میں نے بی اے میںWorld Religionخصوصی سبجیکٹ کے طور پر لے رکھا تھا۔ جس میں دیگر تمام مذاہب کے ساتھ ساتھ اسلام کا بھی مطالعہ کرنا تھا۔ ان تمام مذاہب میں اسلام نے مجھے بہت اپیل کیا اور میں اس سے بے حد متاثر ہوئی۔

س: پھر اسلام کے تعلق سے آپ کی دلچسپی اور تشنگی کو پورا کرنے کے لیے آپ نے کیا راستہ اختیار کیا؟

ج: جی ہاں یقینا اسلام نے مجھے اپنی طرف دیوانہ وار کھینچ لیا اور میری دلچسپیاں بڑھنے لگیں۔ میں اس مذہب کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں لگ گئی اور کالج کے لائبریری کارڈ پر اسلامی کتابیں لے کر پڑھنے لگی۔ تاکہ میری معلومات میں اضافہ ہوسکے اور میری تشنگی کم ہوسکے۔ دھیرے دھیرے اسلام کی باتیں میرے دل میں اترنے لگیں اور اندر سے احساس ہونے لگا کہ یہی سچا مذہب ہے۔ پھر کیا تھا میں اس دین میں داخل ہونے کے لیے بیتاب ہو اٹھی۔ اب مجھے کسی ایسے دوست کی ضرورت تھی جو کہ میری اس الجھن کو دور کرسکے۔ اور اللہ نے میرا راستہ آسان کردیا۔

س: تعلیمی مصروفیات کے دوران آپ نے اسلام کے مطالعہ کے لیے کیسے وقت نکالا؟

ج: میں اپنے گاؤں سے آنند بس سے سفر کرکے جاتی تھی اس دوران مجھے ڈیڑھ دو گھنٹہ بس میں مل جایا کرتے تھے۔ اور یہ میرے لیے مطالعہ کا بڑا اچھا وقت تھا۔ ایک تو میں فضول باتوں اور ادھر ادھر دیکھنے سے بچ جاتی تھی۔ دوسرے یہ کہ ان کتابوں کو میں بڑی آزادی سے پڑھ سکتی تھی جن کو گھر میں پڑھنا میرے لیے مشکل کام تھا۔ میں نے تو اسی دوران آیۃ الکرسی اور سورہ یٰسین وغیرہ بھی یاد کرلی تھیں۔

س: یعنی آپ دل سے مسلمان ہوچکی تھیں تو پھر آپ نے خود ہی کلمہ پڑھا ، یا کسی نے اس کام کو انجام دینے میں آپ کی مدد کی؟

ج: جب میں نے یہ محسوس کیا کہ اسلام سچّا دین ہے اور مجھے یہ مذہب اختیار کرنا ہے تو پھر میری تڑپ دن بدن بڑھنے لگی اور میں جلد از جلد اسلام میں داخل ہونے کے لیے بے قرار ہوگئی۔ یہ میرا ایم اے کا آخری سال تھا۔ اس کے بعد میری تعلیم مکمل ہونے والی تھی۔ میں اس موقع کا فائدہ اٹھا کر اس کام کو جلد از جلد انجام دینا چاہتی تھی۔ اسی دوران بس میں سفر کرتے کرتے میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو کہ چہرے سے نیک، نمازی، پرہیزگار اور مذہبی انسان معلوم ہوتے تھے۔ میں نے اسلام سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لیے ان محترم سے مدد لی۔ اور انھوں نے توقع کے مطابق میری مدد کی۔ مجھے بہت سی باتیں بتائیں اور جو میری ذہنی الجھنیں تھیں ان کا تسلی بخش جواب دیا۔مزید رہنمائی کے لیے اپنے گھر والوں سے متعارف کرایا۔ میں وہاں بھی جانے لگی اور بہت سی باتیں دیکھیں اور سیکھیں۔ اور یہی نہیں کہ انھوں نے میری رہنمائی کی بلکہ اسلام قبول کرنے کے بعد انھوں نے مجھ سے نکاح کرکے مجھے بھر پور سہارا دیا۔ میں اپنے اس محسن اور مربی کی آج بھی احسان مند ہوں۔ اگرچہ اب وہ دنیا میں نہیں ہیں (یہ کہتے کہتے ان کی آنکھیں نم ہوگئیں)۔

س: اسلام قبول کرنے کے بعد یقینا آپ کو آزمائشوں سے گذرنا پڑا ہوگا؟ کیا آپ اس کا ذکر مناسب سمجھیں گی؟

ج: ہاں ہاں ضرور کیوں نہیں۔ انھوں نے ایک خاص انداز میں مسکرا کر کہنا شروع کیا۔ میں جب اسلام میں داخل ہوگئی تو گھر والو ںکو میرا رنگ ڈھنگ اور طور طریقے دیکھ کر شک ہوا۔ وہ میرے ہاتھ میں اسلامی کتابیں دیکھتے تو پوچھتے یہ سب کیا ہے؟ میں نے انھیں صاف صاف بتادیا کہ میں مسلمان ہوگئی ہوں۔ پھر کیا تھا گھر والوں کا عتاب مجھ پر نازل ہونے لگا۔ پہلے تو انھوں نے مجھے ڈرایا دھمکایا اور اپنی روش سے باز آنے کو کہا۔ لیکن میرے نہ ماننے پر تو وہ بہت غضبناک ہوئے اور مجھے گھر سے نکالنے کی دھمکی دی اور آخر میں مجھے جان سے مار ڈالنے کو کہا مگر میں ذرا بھی پیچھے نہیں ہٹی۔ میں نے ان سے صاف صاف کہہ دیا کہ اگر تم لوگ مجھے مار بھی ڈالو تو میں مسلمان بن کر مرنا پسند کروں گی۔ مجھے اس کا کوئی غم نہیں ہے۔ پھر کیا تھا میرا گھر سے نکلنا بند کردیا گیا۔ مجھے گھر کے اوپری حصے میں قید کردیا گیا۔ لیکن وہاں سے میں اپنی بھابھی کی مدد سے کسی طرح باہر نکل گئی میں نے شروع شروع میں رشتہ داروں کا سہارا لیا مگر میں وہاں بھی زیادہ دن ٹھہر نہ سکی۔ میں نے لڑکیوں کے ایک ہاسٹل میں وارڈن کی سروس کرلی اور وہیں پر رہنے لگی۔ اس وقت میرا نکاح ہوچکا تھا مگر ہم اپنی ازدواجی زندگی آزادی سے نہیں گذار سکتے تھے۔ گھر کے لوگوں، رشتہ داروں اور دوسرے لوگوں کو میرے نکاح کا علم نہ تھا ورنہ وہ انھیں بھی نہ چھوڑتے۔ میں نے جب گھر کو چھوڑا تو میں اپنے ساتھ کچھ بھی نہ لائی تھی سوائے میری ڈگریوں کے جس کی مجھے ضرورت تھی۔ آخر میں چھپ کر جینے سے بہتر تھا کہ میں اپنی زندگی اچھی طرح سے گذاروں اس لیے میں نے سروس کرکے کچھ پیسے اکٹھا کیے اور ایک مکان لیا۔ تاکہ میری ازدواجی زندگی پُرسکون طریقے سے گذر سکے۔

س: شادی کے بعد آپ کے شوہر کی پہلی بیوی اور بچوں کا رویہ آپ کے ساتھ کیسا رہا؛

ج: ان کا رویہ میرے ساتھ پہلے بھی اچھا تھا اور نکاح کے بعد بھی بہتر رہا۔ میرا نکاح ان سب کی مرضی سے ہی ہوا تھا اور انھیں بتا کر ہوا تھا۔ ان بچوں کے ساتھ میں کافی گھل مل گئی تھی۔ ان کی شادی بیاہ سب میرے ہاتھوں سے ہوا۔ والدین بھی مجھے بہت مانتے تھے۔ تیوہاروں پر میں برابر وہاں جاتی تھی۔ میں ان سب کو اپنا اور انھوں نے مجھے اپنا سمجھا۔ انھیں پاکر مجھے اپنوں کو چھوڑنے کا غم نہ تھا۔

س: اب جبکہ آپ کے سابق شوہر کا انتقال ہوچکا ہے آپ کی زندگی کیسے گذر رہی ہے؟

ج: مجھے اس بات کا بیحد صدمہ اور ملال ہے کہ شوہر کے انتقال کے بعد صرف عدت کی مدّت تک ہی مجھے انھوں نے رکھا اس کے بعد مجھے میرے مکان پر چھوڑ کر گئے تو آج تک میری خبر گیری نہ کی۔ ان بچوں کو میں اپنی سگی اولاد سمجھتی تھی۔ ان کے لیے ہی میں نے اپنی سگی اولاد کی خواہش ترک کردی۔ ان سے پراپرٹی اور فنڈ کا حصہ بھی نہ مانگا۔ انتقال کے بعد جبکہ میرے شوہر سروس میں ہی تھے اچھی خاصی رقم ملی تھی۔ اس میں سے بھی میں نے کچھ نہ لیا اور نہ انھوں نے دینے کی زحمت کی۔ مجھے کسی چیز کی خواہش یا لالچ کبھی نہ تھا۔میں تو دین کو پاکر ان سب کے ساتھ خوش تھی۔ مگر شوہر کے انتقال کے بعد ان کا آنکھیں پھیر لینا مجھے بہت گراں گزرا۔ لیکن اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔ (یہ کہہ کر ان کی آنکھیں نم ہوگئیں)۔

س: آپ نے اپنے لیے ایک شادی شدہ مرد کو کیوں پسند کیا آپ چاہتی تو اپنا شریک حیات کسی کنوارے اور ہم عمر کو بناسکتی تھیں؟

ج: جی ہاں آپ کی بات ٹھیک ہے۔ مگر میرے پاس سوچنے کے لیے وقت نہ تھا۔ مجھے فوراً کسی سہارے اور محرم کی ضرورت تھی۔ میں اکیلے اس مرحلے کو انجام نہیں دے سکتی تھی اس اہم کام کو انجام دینے میں جس نے اول سے آخر تک میری مدد کی اسی کو میں نے اپنا مستقل سہارا بنالیا۔ ان پر مجھے بھروسہ تھا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ دین کو حاصل کرکے ایسی خوشی ملی تھی کہ کسی اور چیز کی خواہش ہی نہ تھی۔ اس لیے مجھے اس کا کبھی بھی احساس نہیں ہوا۔

س: شوہر کے انتقال کے بعد جبکہ آپ کی عمر صرف ۴۲ سال تھی آپ کی زندگی کیسے گذری؟ اور اب آپ کا کیا حال ہے؟

ج: شوہر کے انتقال کے بعد میں بہت غم زدہ ہوئی۔ صدمے نے میری کمر توڑ دی، حوصلہ پست کردیا۔ عدت کے بعد بچوں نے مجھے میرے مکان پر چھوڑ دیا۔ میں وہاں اکیلی تھی تو میرے بھائی (جو کہ غیر مسلم ہیں) مجھے آکر لے گئے تاکہ میرا دل بہل جائے مگر وہاں میرا دل نہ لگ سکا۔اور یہ سچ ہے کہ دین کے سامنے دنیاوی رشتے بھی اچھے نہیں معلوم ہوتے خواہ وہ سگے ہی کیوں نہ ہوں۔ میں اپنے گھر واپس آگئی، میری پڑوسی مسلم بہنوں اور دوسری دینی بہنوں نے میری ہمت بڑھائی اور مجھے حوصلہ دیا۔ مجھے اپنے ساتھ دینی پروگرام میں لے کر جاتی رہیں وہاں میرا دل لگنے لگا۔ دھیرے دھیرے وقت گذرنے لگا۔ دین کی برکت اور اللہ کی رحمت نے مجھ پر ایک بار پھر سایہ کرلیا۔ اللہ نے میرے لیے ایک اور بہترین سائبان کا انتظام کردیا۔ میرے شوہر کے ایک پرانے دوست اور دینی جماعت کے اہم کارکن ہیں جنھوں نے مجھ سے نکاح کرلیا۔ انھوں نے آج کے اس دور میں یہ نیک کام انجام دے کر بیواؤں کے لیے ایک اہم راہ کھول دی ہے۔ جس راستے کو رسولؐ نے آج سے سیکڑوں سال پہلے کھولا تھا۔ اور بیواؤں کو سہارا دینا ثواب کا کام بتایا تھا اور صرف بتایا ہی نہیں کرکے بھی دکھایا تھا۔ میں ان کی سچے دل سے قدر کرتی ہوں اور ان کا بڑا احترام کرتی ہوں کہ انھوں نے مجھ ناچیز کو سہارا دیا۔ میں تو شاید اس کے لیے سوچ بھی نہ سکتی تھی۔ مگر اللہ جب مہربان ہوتا ہے اور اللہ جب عطا کرنا چاہتا ہے تو دنیا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ میں اپنے ربِّ کریم کی شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اکیلا نہ چھوڑا بلکہ مجھے ایک مضبوط سہارا عطا فرمایا۔ اللہ اس میں برکت عطا فرمائے۔ آمین۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر فاطمہ تنویر